عارف خٹک کی تحاریر
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

خواب/عارف خٹک

اس کو ہسپتال میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا اور میں ہر روز دفتر سے چھٹی کے بعد ملیر ہالٹ اس کی عیادت کرنے ہسپتال جاتا تھا۔ اس کے بوڑھے ماں باپ اپنی بیٹی کے سرہانے بیٹھے ملتے اور←  مزید پڑھیے

جوا/عارف خٹک

میں شیشے کے سامنے کھڑا حسرت سے اس شخص کو تک رہا تھا جو آئینے میں نظر آرہا تھا…اس کی آنکھوں میں بے خوابی کے ہلکے سرخ ڈورے تھے اور چہرے پر درماندگی کے نقوش…میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی…ایک←  مزید پڑھیے

خود اسیری/عارف خٹک

میں چاہتا ہوں یہاں بھاگ جاؤں۔ اپنے وجود کو گھسیٹ کر یہاں سے دفعان ہوجاؤں۔ میری آرزو ہے میں اپنے اصل کی طرف لوٹ جاؤں جہاں میں ہوں میرے اپنے ہوں۔ جہاں کی ہوائیں مجھ سے مانوس ہیں۔ میرے بالوں←  مزید پڑھیے

کرتوت(حصَہ چہارم)جناب سامنا کرنا سیکھیے/عارف خٹک

نائن الیون کے بعد جہاں عراق پر امریکی یلغار نے عرب دنیا کیلئے نئی کامیابیوں کے دروازے کھول دیئے وہاں افغانستان پر امریکی یلغار نے پاک فوج اور ان کے ذیلی خفیہ اداروں کو بے تحاشا پیسہ، بے ہنگم طاقت←  مزید پڑھیے

کرتوت(حصّہ سوم)سامنا کرنا سیکھیے جناب/عارف خٹک

نوٹ: میرے سلسلہ وار مضامین کے چھوٹے چھوٹے حوالے میری آنیوالی انگریزی کتاب “Beyond the border” سے لئے گئے ہیں۔ سن 1980 سے لیکر 2020تک افغانستان اور پشتون قبائلی پٹی میں جن بین الاقوامی قوتوں نے گُل کھلائے ہیں  یا←  مزید پڑھیے

کرتوت/حصّہ دوم(جناب سامنا کرنا سیکھیے)-عارف خٹک

عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد سال 1986میں خان عبدالولی خان اور ان کی زوجہ بیگم نسیم ولی خان نے رکھی۔ پارٹی کی نظریاتی اساس میں پوسٹ مارکس ازم،جمہوری سوشل ازم، لبرل سوشلزم، ترقی پسند نظریات (بائیں بازو) پشتون ولی اور←  مزید پڑھیے

کرتوت/حصّہ اوّل-عارف خٹک

جناب سامنا کرنا سیکھے! میرا مدعا ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں تاریخ کے اوراق میں اپنا آپ ڈھونڈوں بلکہ میں جس ٹاپک کی طرف لیکر جارہا ہوں اس کو سمجھنے کیلئے آپ کو یہ جزئیات ذہن میں رکھنی←  مزید پڑھیے

اب کیا کروں ؟۔۔عارف خٹک

بچپن سے سنا کرتے تھے کہ لکھنے والوں کی بڑی عزت ہوتی ہے۔ لڑکیاں لکھنے والوں پر مرتی  ہیں۔ سو ہم نے جاوید چودھری کو دیکھا کیا اور کالم نگاری کے میدان میں کود پڑے کہ چلیں اب ہم ہوں←  مزید پڑھیے

زنا بالجبر۔۔عارف خٹک

اپنی آج تک نہ شاعر سے بنی ہے ،نہ شاعری سے۔ یہ صنف ہی ایسی  ہے جو آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی ۔ شاعری سے اپنا چھتیس کا آنکڑہ میٹرک سے پہلے شروع ہوا تھا، جب استاد عباس←  مزید پڑھیے

بے عزتی خراب ہوتی ہے۔۔عارف خٹک

میں یو اے ای، یورپ، روس یا نارتھ امریکہ جاؤں تو فیس بک پر اعلان کرکے نہیں جاتا کیونکہ میں اپنے پرستاروں سے مل کر ان کو مایوس نہیں کرنا چاہتا لہذا جو بھرم سوشل میڈیا پر ہے وہ قائم←  مزید پڑھیے

ناول “یہ پالا ہے” سے ماخوذ “بیوپار”۔۔عارف خٹک

روزینہ کی شادی تھی، اس لئے آج مجھے مویشی چرانے سے چھٹی مل گئی تھی۔ گاؤں کی عورتیں جمع تھیں۔ سب اماں کیساتھ بیٹھی تھیں۔ ایک سوگ کا سماں تھا۔ ہمارے ہاں شادی کے دن لڑکی کے گھر والے نئے←  مزید پڑھیے

نہلے پہ دہلہ۔۔عارف خٹک

انسان ہمیشہ اپنی کہی ہوئی باتوں میں کیسے پھنس جاتا ہے، یہ تو شاید آپ بھی جانتے ہوں گے۔ ہم زبان سے الفاظ نکالتے وقت قطعاً نہیں سوچتے کہ ہمارے آج کے الفاظ کا نتیجہ کل کیسے نکلے گا۔ میں←  مزید پڑھیے

حلیب کبیرہ۔۔عارف خٹک

عورتیں زرخیز اچھی لگتی  ہیں۔ دادا حضور کو اللہ جنت نصیب فرمائیں آمین، کہا کرتے تھے کہ عورت وہ ہے جس کو اپنا انگوٹھا نظرنہ آئے اور کولہے ایسے ہوں کہ پانی کا بھرا گلاس رکھ دو اور وہ سو←  مزید پڑھیے

پخش نگار۔۔عارف خٹک

پچھلے دنوں بنوں کے مشہور پلاؤ صدیق استاد کی دوکان میں داخل ہوا کہ بنوں کا پلاؤ چکھ لوں۔ سر پر اونی ٹوپی اوڑھے دوکان میں دیوار پر آویزاں قیمتیں دیکھ کر عمران خان کو بُرا بھلا کہنے کیلئے منہ←  مزید پڑھیے

یقین و ایمان۔۔عارف خٹک

ہسپتال کاؤنٹر پر دو لاکھ جمع کرواتے ہوئے میرے ہاتھ کپکپانے لگے۔ ریسیپشن پرموجود لڑکے نے جلدی جلدی کمپیوٹر انٹری کرکے مجھے وصولی کی رسید تھما دی اور میرے بقایاجات کا بل بنانے لگا۔ میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر←  مزید پڑھیے

خود کلامی۔۔عارف خٹک

دکھ، آزمائش، اور غیر متوقع حالات سے بھاگ کر ہم فطرت کی دنیا میں پناہ لینے کی سعی کرتے ہیں۔ ہمیں ترک دنیا نجات کا ذریعہ لگتا ہے۔ ہم انسانوں سے بھاگ کر تنہائی، اکیلےپن، اور خودی  کی کیفیت میں←  مزید پڑھیے

جھوٹ اور ادب۔۔عارف خٹک

پوری دنیا میں جھوٹے لوگوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ صدیوں سے ان درجہ بندیوں کیلئے مختلف ڈائنامکس کا استعمال کیا گیا ہے جس کیوجہ سے یہ درجہ بندیاں کی گئیں ۔ 1۔ ایک وہ جو بلاوجہ جھوٹ بولتے←  مزید پڑھیے

مداری۔۔عارف خٹک

مداری۔۔عارف خٹک/فیس بک پر موجود چھوٹے موٹے گروپس نہ تو علم بانٹ رہے ہیں نہ آپ کے یا ہمارے کسی کام کے ہیں۔ ان کا کام گاؤں دیہاتوں کے میلوں میں دکھائے جانے والے مداریوں کے تماشے جیسا ہے۔ چرب زبان اور انسانی نفسیات کو سمجھنے والے، جو آواز لگا کر آپ کو متوجہ کرتے ہیں کہ←  مزید پڑھیے

محافظ۔۔خٹک

وہ اپنے بھاری جسم کو جیسے گھسیٹ رہی تھی۔ چہرے پر دھرے ماسک کے پیچھے اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اسے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی۔ آ ج وہ آفس میں پھر پندرہ منٹ لیٹ تھی، اس←  مزید پڑھیے

فطرت۔۔عارف خٹک

آج کل رحیم گل چوکیدار کی حالت اتنی خراب تھی جتنی اس کی اپنی جیب کی تھی۔ رحیم گل کی حالت کچھ ایسی تھی جیسے عمران خان کی حکومت میں غریبوں کی ہے۔ میں روزانہ صبح نو بجے دفتر جانے←  مزید پڑھیے