علی اختر کی تحاریر
علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

شیر خوار کو آفس لیجانا نقصاندہ ہے ۔۔۔۔علی اختر

ابھی چند دن پہلے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی  جسمیں ایک خاتون افسر اپنے بچے کو گود میں لیئے دفتری امور سر انجام  دیتے دکھائی  دیں ۔ یہ خاتون کوئی  عام سی افسر نہیں بلکہ انتہائی  بالا قسم←  مزید پڑھیے

بیڈ روک کیفے۔۔۔۔علی اختر

میں دروازے سے داخل ہوا تو منظر ہی کچھ اور تھا سامنے پوسٹر لگا تھا “بیڈ روک کیفے” ۔ داہنی طرف نظر اٹھائیں تو شوٹنگ ٹاگٹ کا بورڈ لگا تھا۔ جسکےسامںے اسنوکر کی میز موجود تھی۔ ساتھ ہی ایک فریج←  مزید پڑھیے

میڈ ان چائنہ ہیرو ز۔۔۔۔علی اختر

میں جس بلڈنگ کا رہائشی ہوں وہاں پچھلے ہفتے چوری کی ایک واردات ہوئی   ۔۔ہوا کچھ یوں  کہ  چوتھے فلور پر موجود ایک فلیٹ سے ایک بیگ غائب ہو گیا ۔بیگ اس فلیٹ میں رہنے والی ایک عورت کا←  مزید پڑھیے

لطیفہ ٹویٹ اور میڈیا۔۔۔علی اختر

کبھی کبھار مجھے  خبریں دیکھنے کا اتفاق بھی ہوتا ہے اور خبروں کے دوران اکثر و بیشتر لطیفہ خبریں بھی مل جاتی ہیں ۔ چلیں آپ کو  گزشتہ دو تین روز  کی خبروں پر مشتمل کچھ لطیفے سناتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

اصلی وقدیمی مرض۔۔۔علی اختر

آپ نے کچھ حکیمی ادویات کے ساتھ ٫اصلی و قدیمی” لکھا دیکھا ہوگا۔ اس عبارت سے مراد یہ ہوتی ہے کہ  مارکیٹ میں موجود اس نام یا   ملتے جلتے ناموں کی ادویات جعلی ہیں اور محض یہی دوا اصلی ہے۔←  مزید پڑھیے

پاکستانی معاشرہ شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور انکا تدارک۔۔۔علی اختر/مقابلہ مضمون نویسی

پاکستان  1947 میں دنیا کے خطے پر نمودار ہوا۔ یہ ملک برصغیر میں موجود مسلمانوں کی جدوجہد کانتیجہ تھا جو اپنے حقوق اور اسلامی تشخص کو محفوظ کرنے کے لیے ایک الگ ملک چاہتے تھے اور اس میں کامیاب بھی←  مزید پڑھیے

احتجاج یا لوٹ مار /وجوہات و تجاویز۔۔۔۔علی اختر

جلسے، جلوس ،مظاہرے، احتجاج، دھرنے، ہڑتالیں و بھوک ہڑتالیں یہ سب ہر معاشرہ کا حصہ ہیں لیکن کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کے احتجاج کے نام پر ایک مشتعل ہجوم سڑکوں پر نکلتا ہے اور پھر←  مزید پڑھیے

آسیہ”مولانا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی اختر

آج آفس میں کچھ بے چینی کا سا ماحول تھا۔ لوگ سہراب گوٹھ کے پچھلے دھرنے کو یاد کر رہے تھے جب نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کو بنیاد بنا کر کیئے جانے والے دھرنے میں ہماری آفس وین←  مزید پڑھیے

پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر ۔ ایک الگ تجزیہ۔۔۔علی اختر

مکالمہ پچاس لاکھ گھر ←  مزید پڑھیے

واش رومز نہیں ،کھیت ہی اچھے ہیں۔۔۔علی اختر

بچپن میں ایک کہانی پڑھتے تھے۔ جو کچھ یوں شروع ہوتی تھی۔ “صبح ہوئی  ، دادی اماں نے مرغیوں کا ڈربہ کھولا” ۔ آج بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  وہ کہانی←  مزید پڑھیے

درندوں کا معاشرہ یا شاید ایک خبر۔۔۔علی اختر

آج ایک وائرل ہونے والی وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک مولوی بلکہ مولوی کے بھیس میں چھپا بھیڑیا پہلے ایک جگہ کیمرہ  سیٹ کرتا ہے اور پھر ایک بچی جس نے اسکول کا یونیفارم پہنا ہوا ہے،←  مزید پڑھیے

ہیلمٹ پر جرمانہ۔۔۔علی اختر

ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ جو کہ  پوری دنیا میں اسکی پہچان بن جاتا ہے۔ باقی ممالک کی بات بعد میں پھر کبھی ہوگی لیکن ہمارا مزاج یہ  ہے کہ  یہاں کسی بھی ہدایت و پابندی کے بغیر←  مزید پڑھیے

گٹر۔۔۔علی اختر

آج بڑی مدت بعد دفتر کی چھٹی کی تھی ۔ بہت کوشش کی کے دیر سے  اٹھوں پھر بھی آنکھ 10 بجے جو کھلی تو پھر بہت کوشش کے باوجود نیند نہ آئی  ۔ اپنے پرانے دوست عبید کو فون←  مزید پڑھیے

منحوس۔۔۔علی اختر

وہ کمرے کی صفائی کر رہی تھی اور ماریہ اسکے سر پر کھڑی تھی۔” دیکھو کونوں سے اچھی طرح دھول نکالنا ورنہ تم تو چلی جاؤ گی لیکن اماں میری کلاس لے لیں گی” “جی باجی” نسرین نے مختصر سا←  مزید پڑھیے

نجس۔۔۔۔علی اختر

وہ بہت جلدی میں تھا ۔ تیز تیز قدموں سے بینک کی جانب بڑھ رہا تھا ۔ گو اکتوبر شروع ہو چکا تھا لیکن آج کراچی میں گرمی کچھ زیادہ ہی تھی۔ اسے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے تھے←  مزید پڑھیے

نئے پاکستان کے پرانے معاشی چیلنجز اور کچھ نئے حل۔۔۔علی اختر/مضمون برائے مقابلہ مضمون نویسی

نئے پاکستان کو بھی کم و بیش وہی پرانے ہی چیلنجز درپیش ہیں مہنگائی  ، بے روزگاری، اینرجی کرائسز، سفید ہاتھی پالنا،بیرونی قرضے وغیرہ لیکن۔۔۔ نئی بات یہ ہے کہ  نئے پاکستان کی نئی  حکومت ان مسائل سے کیسے نمٹتی←  مزید پڑھیے

مظلوم دنبہ اور ظالم پانڈے جی۔۔۔۔علی اختر

نام تو انکا کچھ اور ہے لیکن سبھی جان پہچان کے لوگ انہیں پانڈے جی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ لقب انہیں “منگل پانڈے ” یا ” چنکی پانڈے” سے نہیں بلکہ چائنا کے قومی حیوان←  مزید پڑھیے

انصاف ہر وقت ہر جگہ ،تبدیلی۔۔۔۔۔ علی اختر

ایک زمانہ تھا جب مملکت خداد  پاکستان میں انصاف ناپید تھا، مثال دی جاتی تھی کہ  کورٹ میں کامیاب وہی ہے جسکے ہاتھ سونے کے اور جوتے لوہے کے ہوں۔ معمولی کیسز سے لے کر قتل و چوری کے مقدمات←  مزید پڑھیے

بخشو! یو “ڈیم” فول۔۔۔۔علی اختر

میرے قارئین یہ جانتے ہیں کے میری سوچ بہت ہی چھوٹی اور تجربہ محدود ہے سو میری کہانیوں کے کردار بھی تقریبا ً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آج کی کہانی میں ہم یہ جانیں گے کے کس طرح نظریوں کا←  مزید پڑھیے

پرانا چورن۔۔۔۔ علی اختر

بچپن سے ایک قصہ سنتے آئے ہیں کہ  ایک مسافر جو  جنگل سے گزر رہا ہے۔ سنسان و بیابان جنگل سے ۔ ۔ہُو کا عالم ہے کہ اچانک “میں میں ” کی آواز سے چونک جاتا ہے ۔ ادھر ادھر←  مزید پڑھیے