علی اختر کی تحاریر
علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

نام “کراچی” اور شوق “لندن” والے۔۔۔علی اختر

ہمارے شہر کراچی میں بارش چار ، پانچ سال میں ایک ہی بار ہوتی ہے۔ گو اب تو مضافات میں بھی فصلیں ملیر کی مٹر، ہری مرچ اور بھنگ کی رہ گئی  ہیں اور اس میں بھی پانی ہم سیوریج←  مزید پڑھیے

سیاسی ٹیٹریاں اور “ٹی ٹیوں” کا حساب (ایک تجزیہ )

مکالمہ پر محترم حسن نثار صاحب کا کالم “سیاسی ٹیٹریاں اور ٹی ٹیوں کا حساب“ کے عنوان سے پڑھا ۔ حسن نثار صاحب کو میں پڑھنے سے زیادہ سننا پسند کرتا ہوں۔ سچ بولتے ہیں تو زیادہ تر کڑوا ہی←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔۔علی اختر/قسط 3

مجھے ترکی پہنچے ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا تھا ۔ تاریخ اور تاریخی عمارات سے مجھے عشق ہے تو استنبول دیکھنا اور وہاں رہنا میرے لیئے ایسا ہی تھا جیسا کسی عاشق کے لیئے اسکے محبوب کا دیدار ۔←  مزید پڑھیے

انھیں نیند کیسے آتی ہوگی۔۔۔۔علی اختر

برسوں پہلے میں نے مشہور مصنف “ہیرالڈ لیمب ” کی کتاب “tamerlane the earth shaker” (تیمور لنگ جس نے دنیا ہلا دی ) پڑھی تھی۔ اس کتاب میں جا بجا تزک تیموری یعنی تیمور کی سوانح حیات کے حوالے موجود←  مزید پڑھیے

کوہ نور ہیرا اور ننگے دادا ۔۔۔ علی اختر

میرے بچپن کے زمانے میں ایک فیملی ہمارے علاقے میں ایک اچھی ، بڑی بلڈنگ خرید کر شفٹ ہوئی ۔ ماں ، باپ دو بیٹے اور ایک بوڑھے سے لحیم شحیم چھ فٹ کے دادا جی۔ باپ کوئی کاروبار کرتا←  مزید پڑھیے

قانون کے آگے ۔۔فرانز کافکا یہ کہنا چاہتا ہے/علی اختر

مجھے سن 2007 میں کسی دفتری کام کے سلسلے میں تھر کا سفر کرنا تھا اور وہاں کچھ عرصہ قیام بھی کرنا تھا ۔ یاد رہے کہ  اس دور میں اینڈرائڈ موبائل بھی نہیں تھے اس لیئے وقت گزارنا بہت←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔علی اختر/قسط2

اس نے گھر سے نکل کر میرا پر تپاک استقبال کیا اور ہاتھ پکڑ کر گھر میں داخل ہو گیا ۔ تین کمروں پر مشتمل چھوٹے سے گھر کے پہلے کمرے میں وہ مجھے لے کر مختصر سے قالین کے←  مزید پڑھیے

نفاست , نظریہ اور شاکر”کنکھجورا”۔۔۔۔علی اختر

راقم پاپے ، ڈبل روٹی لے کر بیکری سے نکلا تو سامنے سے آنے والے آدمی کو دیکھ کر ٹھٹک گیا ۔ گندی ڈھیلی ڈھالی جینز اور کریم کلر کی میلے کالر والی شرٹ میں ملبوس بھاری بھرکم سیاہ رنگت←  مزید پڑھیے

قصہ “روغن و ماہی “۔۔۔علی اختر

راقم لڑکپن میں شکار کا شوقین رہا۔ یاد رہے کہ کراچی میں شکاری ، “شیر افگن” یا “چڑی مار” کو نہیں بلکہ ماہی گیر کو کہا جاتا یہ ہے کہ آسانی و سہولت کے ساتھ “مچھی” ہی وہ حیوان ہے←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔علی اختر/قسط1

(پاکستان میں مذہب بیزاروں اور بیرون ملک اسلام پسندوں کے درمیان گزرے کچھ وقت کی یادداشتیں ) یہ غالباً سن 2010 کی بات ہے ۔ مجھے کمپنی کی گاڑی آفس سے ٹھیک 7 بجے گھر پہنچا دیتی تھی۔ ہفتے میں←  مزید پڑھیے

عشق ممنوع اور خانقاہی شیلٹر۔۔۔علی اختر

ابھی پچھلے برس کی  بات ہے ۔ کراچی کے علاقے پی آئی  بی کا لونی سے ایک دوشیزہ غائب ہو گئی  ۔ گھر والوں نے بین کیا۔ “ہائے ہائے ! بچی لے گئے کمینے ” ۔ “اغواء کر لیا معصوم←  مزید پڑھیے

خاکوانی و تارڑ صاحب، آئیٹم سانگ اور سول ایوارڈز ۔۔۔۔علی اختر

میرے ایک بہت ہی پسندیدہ کالمسٹ جناب محترم خاکوانی صاحب نے پچھلے دنوں ایک کالم “سول ایوارڈ” سے متعلق لکھا ۔ یہ ایوارڈ ہر سال مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق لوگوں کو  23 مارچ کو صدر پاکستان کے ہاتھ←  مزید پڑھیے

قتل سے بڑا المیہ قاتل کا اطمینان ہے۔۔۔۔علی اختر

نیلی شرٹ میں ملبوس وہ دبلا پتلا نو عمر سا لڑکاہے۔ ہاتھوں  پرپٹیاں بندھی ہیں ۔ چہرے پر سکون جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ بظاہر بے ضرر سا نظر آنے والا یہ نو جوان تھوڑی دیر پہلے اپنی←  مزید پڑھیے

نیوزی لینڈ حملہ اور منافق دنیا۔۔۔علی اختر

نیوزی لینڈ کے شہر “کرائسٹ چرچ” میں ایک افسوسناک سانحہ ہوا جب “برنٹن” نامی ستائیس سالہ ایک جنونی انسان نے مسجد میں نماز جمہ کے اجتماع کے دوران بے گناہ نمازیوں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے کو←  مزید پڑھیے

پاکستان کی موزہ چور فیمینسٹس (پارٹ ٹو)۔۔۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کہ  جب انسان کی قسمت میں ہی ذلالت لکھی ہو تو آدمی جنگی طیارے پر بیٹھ کر آتا ہے اور جھانپڑ، لاتیں کھانے کے بعد چائے پی کر اطمینان کے ساتھ اگلے روز واپس گھر چلا جاتا ہے←  مزید پڑھیے

پاکستان کی موزہ چور فیمینسٹس۔۔۔۔علی اختر

مضمون کے شروع ہی میں عرض کرنا تھا کہ  مضمون نگار ایک غیر جانب دار معصوم سا انسان ہے جسکا لیفٹ اور رائٹ ونگ وغیرہ سے کوئی  تعلق نہیں مگر محض تحقیقی بنیادوں پر اپنا ناقص تجزیہ قارئین کے سامنے←  مزید پڑھیے

“میجر عدنان ” ہمیں تم پہ ناز ہے ۔۔۔۔علی اختر

ِمملکت خدا داد پاکستان کی حفاظت اور اسکے دشمنوں کے خاتمے کے لیے جہاں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں ، ہماری نیوی نے سمندر میں تو ہماری ایئر فورس نے فضائی راستوں کی حفاظت کے لیئے قربانیاں دی←  مزید پڑھیے

اصلی قیدی آزاد کرانے والے۔۔۔علی اختر

2 جولائی ، 1972 پاک بھارت جنگ ختم ہوئے ساڑہے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں ۔ تیرہ دن پر محیط جنگ جس کا اختتام 16؛دسمبر 1971 میں ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں عوامی سرنڈر کی صورت میں ہوا اور اب←  مزید پڑھیے

دشمن مرے تے خوشی نہ کریے۔۔۔علی اختر

ہاں وہ سپاہی تھے۔ اپنے ملک کے محافظ۔ ۔ اپنے ملک کے محافظ اور میرے ملک کے دشمن ۔ اس میں کوئی  شک نہیں ۔ لیکن یہ ملک ہے کیا۔ ایک چار دیواری ۔ کچھ لوگوں کا ہجوم ۔ چلیں←  مزید پڑھیے

ایسا تو ہوتا رہتا ہے ،اٹس نارمل۔۔۔۔۔علی اختر

دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ جی ہاں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ یہ دنیا ہے یہاں سب ممکن ہے ۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے ایسا کچھ ہوتا رہتا ہے۔ ایسا کئی  بار ہوا ہے←  مزید پڑھیے