بادشاہ،خدا،اور آیا صوفیہ۔۔علی اختر

بادشاہ عالیشان محل بناکر رہتے تھے ۔ وہ ان محلوں میں باغ ، غلام گردشیں، ، آرام دہ خواب گاہیں ، سونے چاندی کے تخت و کرسیاں اور نجانے کیا کچھ تعمیر کیا کرتے تھے ۔ خدمت کے لیئے خدام کی ایک فوج ہمہ وقت حاضر ہوا کرتی تھی ۔ یہ سب کرنے کی ایک بڑی وجہ رعایہ کے دل و دماغ میں بادشاہ کا رعب و جلال قائم کرنا ہوا کرتا تھا

ایک عام سا نظر آنے والا انسان بادشاہ اس وقت بنتا جب لوگ اسے بادشاہ مان لیتے ۔ کوئی بادشاہی کو تخت نشین شخصیت کا خاندانی و پیدائشی حق سمجھتا ، کچھ اسے اپنی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتے تو کچھ موت کے خوف سے یہ سب ماننے کو تیار ہوجاتے ۔ اب اتنے سارے لوگوں کے دلوں میں بیک وقت یہ خیال، یہ نظریہ پیدا کرنا ہوتا کہ تخت پر بیٹھا یہ انسان عام انسان نہیں بلکہ بادشاہ ہے ۔ اسکی رگوں میں شاہی خون ہے ۔ اس سے غداری کی سزا موت ہے اور یہ سب کسی ایک انسان کے بس کی بات تو نہ ہوتی ۔ تو بس ہر بادشاہ کے پاس کچھ خاص با اثر لوگ ہوا کرتے جن میں کچھ زور بیاں و سیاست تو کچھ بزور شمشیر و قوت بادشاہ کی بادشاہی مضبوط کرنے پر معمور ہوا کرتے تھے۔ بادشاہ انکے لیئلے بھی محل تعمیر کر دیا کرتے تھے ۔ بس محل کا رقبہ ، غلاموں کی تعداد، مراعات ، محافظ وغیرہ اسکی پیش کردہ خدمات اور سلطنت کے لیے اسکی اہمیت پر منحصر ہوا کرتا۔ ان مراعات کے بدلے وہ با اثر افراد بادشاہ کے ہر ہر عمل کی توثیق کیا کرتے  تھے۔

وقت گزرتے بادشاہوں کو ادراک ہونا شروع ہوا کہ  جہاں وہ سلطنت کی مضبوطی کے لیے با اثر انسانوں سے اپنے جملہ احکامات کی توثیق کرایا کرتے ہیں وہیں اگر خدا کی بھی تصدیق میسر آ جائے تو سونے پر سہاگے کا کام ہو جائے ۔ دنیا میں خدا کے نائب یعنی انسان کی جانب سے دنیا میں ہونے والے ہر عظیم کام کی ابتدا ایک خیال کی صورت میں ہوتی ہے ۔ بادشاہوں کے تین پونڈ کے دماغ میں پیدا ہونے والے اس خیال کے نتیجے میں بھی سونے کے بتوں سے آراستہ بُت کدے، آسمان کو چھوتے مناروں والی مساجد، فن تعمیر کے شاہکار عظیم کلیسا وجود میں آئے ۔

شاہوں کی تعمیر کردہ ان عبادت گاہوں میں انکا اپنا خدا قیام پذیر ہوتا جو شاہ کے ہر ہر حکم پر چپ چاپ مہر تصدیق ثبت کر دیا کرتا ۔ یا چلیں ایسا کہتے ہیں کہ، شاہ کا ہر عمل خدا کے احکامات کے عین مطابق ہونا شروع ہو جاتا ۔ گاہے بگاہے رعایہ کو بھی عظیم معبدوں کا دیدار کرایا جاتا کہ آؤ دیکھو اس عظیم عمارت کو ، طلائی بت کو ، کبھی نہ بجھنے والے آتش کدے کو ، فلک بوس میناروں کو ۔ آ کر دیکھو اس عالیشان عمارت کو, عین ممکن ہے کہ خدا کی عظمت کے معترف ہوجاؤ۔ آؤ دیکھو تو سہی، اس عظیم عمارت کے زبردست مکیں نے کس کو تمہاری رہنمائی کے لیے اپنا نمائندہ بنایا ہے۔ یہاں کس کی تاجپوشی جاری ہے ۔ کس کے ماتھے پر تلک سجایا گیا ہے ۔

وقت ہے کہ  کبھی ایک سا نہیں رہتا ۔ فقیر و مفلس کی طرح بادشاہ بھی رزق خاک ہوجاتے ہیں ۔ بڑی بڑی سلطنتوں کا نام و نشاں مٹ جاتا ہے ۔ طارم افراسیاب پر الو بولتے ہیں اور مکڑی کے جالوں سے قصر قیصری کے جھروکوں کی پردہ داری ہوتی ہے ۔ بادشاہ مفتوح ہوتے ہیں ۔ محلات سے بیدخل کیے جاتے ہیں ۔ جن شہروں پر کبھی انکا سکہ چلتا تھا وہیں کوڑیوں کے محتاج ہو جاتے ہیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مفتوحہ بادشاہ کے ساتھ ساتھ اسکا خدا بھی مسکن میں مزید سکونت کے لیے فاتح کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اب فاتح کی مرضی کہ  وہ اس سے اپنے اعمال کے جائز ہونے کی تصدیقی مہر حاصل کرے یا اسکی جگہ کسی اور خدا سے یہ کام لے ۔ کبھی سازوسامن و خدمت گاروں کے ہمراہ تو کبھی خالی ہاتھ ۔۔ خدا کو بھی عالیشان معبد چھوڑنا پڑ جاتے ہیں۔ جہاں کبھی کوئی اور خدا منتقل ہوتا ہے تو کبھی بارود کی زخیرہ اندوزی کا گودام تو کبھی محض مویشی اور گھوڑے باندھنے کا کام لیا جاتا ہے ۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کی عمارت آج بھی سکھا شاہی دور میں اپنے استعمال کی گواہ ہے ۔

در اصل سچا خدا اپنی عظمت و جلالت کے اظہارکے لیئے کسی آیا صوفیا کا محتاج نہیں ۔ وہ آسمان، زمین اور پہاڑوں کے مشاہدہ سے پہلے محض اونٹ کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ دن ، رات کے بدلنے اور موسموں کے تغیر میں ۔ کہیں شہد کی مکھی تو کہیں مویشیوں سے حاصل کیے گئے دودھ میں اپنی قدرت کو ظاہر کرتا ہے ۔ انسان کی تخلیق کردہ ایک عمارت میں صلیب لٹکائی  جائے یا منبر محراب نصب ہوں ۔ خالق کائنات کو کوئی  فرق نہیں پڑتا !

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *