بھورٹی (سندھ) کا ایک گمنام آرٹسٹ۔۔علی اختر

وبا کے دن ہیں ۔ اموات کی کثرت ہے ۔ ویسے موت کسی وبا کی محتاج نہیں ۔ وہ بر حق ہے اور آکے رہتی ہے ۔ جمع سے بخوبی واقف اور تفریق سے بے نیاز ۔ سفر کی عادی مسافر اور مسافر بھی وہ کہ  جسکی منزل خود چل کر اس تک پہنچتی ہے ۔ ہر چند کہ مسیحاؤں و تریاقوں کا انبار ہو ۔ نہیں پہنچ پاتا کچھ بھی کہ  جب وقت آ ن پہنچتا ہے ۔ پرانے بادہ کش تو اٹھتے ہی ہیں فقیہ شہر و صوفی و پرہیز گار کو بھی اٹھا لیجاتی ہے یہ ظالم ۔

جہاں بکثرت گمنام لوگ مرتے ہیں وہیں اکا دکا نامور بھی ابدی جہاں کو کوچ کرتے ہیں ۔ جہاں گمناموں کو رونے والے چند ایک وہیں ناموروں کے قصیدہ گو بیشمار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ نامور لکھنے والے ناموروں کے بارے میں ہی لکھتے ہیں ۔ ان سے اپنا تعلق فخر سے بیاں کرتے ہیں ۔ ۔ میں ایک گمنام لکھاری نوحہ بھی کہتا ہوں تو ایسے گمنام شخص کا جس کا نام میں نے بھی پہلی بار اسکی موت والے دن ہی سنا ہے ۔

مرحوم امان اللہ باٹ

امان اللہ باٹ ۔ سندھ دریا کے کنارے آباد چھوٹے سے شہر “بھورٹی” میں پیدا ہوا ۔ تعلیم حاصل کرکے پرائمری اسکول ٹیچر بھرتی ہو گیا ۔ باون سال کی عمر میں گردے کے مر ض کے ہاتھوں راہی عدم ہوا ۔ ۔ اور وہیں “بھورٹی ” میں ہی سپرد خاک کر دیا گیا ۔

غور کرنے والے یہ ضرور سوچتے ہونگے یہ اس مختصر تعارف میں ایسا تو کچھ نہیں جس پر سیاہی اور وقت برباد کیا جائے ۔ تو صاحبو مجھے یہ مضمون لکھنے کی تحریک ان ورثا کو دیکھنے پر ملی جنہیں امام اللہ باٹ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ۔ ان سوگواروں میں بیوی ، بچوں کے علاوہ وہ سینکڑوں پینٹنگز بھی ہیں جنکی صحیح تعداد سے مرحوم خود بھی نا واقف تھا ۔

اسکے آرٹ کا سفر اس وقت سے شروع ہوا جب انگلیاں قلم سے نا آشنا تھیں اس وقت اسکے فن پارے چار پائی کے بان کی بنائی میں استعمال رنگ برنگی رسیوں سے تیار کردہ دیدہ زیب ڈیزائن کی صورت تو کبھی کسی دیوار کی تعمیر کے دوران اینٹوں کی ترتیب سے تیار شدہ نقش و نگار کی صورت سامنے آتا ۔ گواڈنے آرٹ کی باقائدہ تعلیم کہیں سے حاصل نہ کی تھی لیکن سکول کے زمانے سے ہی باقائدہ مصوری شروع کردی ۔جان پہچان کے لوگ ، دوست احباب اس کے فن کی تعریف کرتے تو اپنی پینٹنگز بلا معاوضہ ان کو تحفتاً پیش کر دیا کرتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وقت رخصت چند ایک کے علاؤہ ساری تصاویر بانٹ چکا تھا ۔ دوست اپنی دکانوں کی دیواروں پر پینگنز بنواتے ، کئی نے اپنے اور اپنے بزرگوں کو پورٹریٹ بنوا کر آج بھی اپنی املاک میں ٹانگ رکھی ہیں ۔ بیرون ملک سے آئے رشتہ دار بھی فرمائش پر تصاویر بنواتے اور جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے جاتے ۔

ڈائری لکھنے کے شوقین اور سازو آواز کی پرکھ کے ماہر اس درویش نے تو کبھی اپنے فن کا معاوضہ طلب کیا اور نہ  ہی کبھی پذیرائی چاہی ۔ لیکن اسکے خستہ حال  مکان کی  دیواروں پر ٹنگے بے جان کاغذ جنہیں اس نے رنگوں کی مدد سے زندگی بخشی آج بھی اسکے فن کی گواہی دے رہے ہیں ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *