گنجے جانور کی قربانی۔۔۔علی اختر

نام تو انکا کچھ اور تھا لیکن سارامحلہ انہیں “ماموں” کے نام سے جانتا تھا ۔ خود صاحب اولاد نہ تھے لیکن ساتھ ایک بیوہ بہن اور اسکے تین عدد بچے رہتے تھے ۔ ان بھانجوں کو وہ بالترتیب”بڑا” “منجھلا” اور “چھوٹا ” کہ کر مخاطب کرتے۔ بھانجے بھی ماموں ماموں کہہ کر ا نکے آگے پیچھے گھومتے رہتے ۔ ان بھانجوں کی دیکھا دیکھی سارا محلہ ہی انہیں ماموں کہہ کر پکارنے لگا ۔ ،جدی پشتی کباڑیے تھے ۔ شیر شاہ میں اسکریپ کا گودام تھا ۔ بس خدا نے ہاتھ پکڑا اور ایک دو اچھے سودے بن گئے ۔ لیجیے ماموں جلال آباد کے کباڑیوں کی بستی سے سیدھا ناظم آباد کے ڈبل اسٹوری گھر میں شفٹ ہو گئے ۔ ،پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان خود کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے “بنڈی” اور “دھوتی” ترک کر چکے تھے ہمیشہ سفید کاٹن کا سوٹ زیب تن کیا کرتے لیکن کلائی سے لٹکتی راڈو کی بڑی سی گولڈن گھڑی، رانگڑی لہجے میں زبان کا غلط تلفظ اور عالم جلال میں لبوں سے جھرنے کی مانند جھڑتی موٹی موٹی گالیاں انہیں نو دولتیا اور انگوٹھا چھاپ بتانے کے لیے کافی ہو تھیں ۔ “چھوٹا ” اور “منجھلا” انگلش اسکولوں میں پڑھتے اور “بڑا” انکے ساتھ کام میں ہاتھ بٹاتا ۔ پیسہ نیا نیا تھا اور بہت سارا تھا سو محلے  والوں پر رعب ڈالنے کے لیے آئے دن کچھ خاص کرتے ۔ وہ الگ بات کہ  ہر بار ہی کچھ ایسا ہو جاتا کہ  بجائےرعب کے سارا محلہ انکے گھر کے سامنے سے منہ چھپائے ہنستے ہوئے گزرتا نظر آتا ۔ ،شرمندہ بھی ہوتے لیکن باز نہ آتے، کچھ دن کے بعد ہی اپنی حرکتوں سے پھر موقع دے ہی دیا کرتے، ۔ ایسا ہی ایک موقع پچھلے سال بڑی عید پر بھی آ یا۔

گو ماموں ہر سال ہی عید پر انوکھے جانور لاتے جیسے ایک سال وہ آٹھ سینگھوں والا بکرا لے آئے تھے جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آرہے تھے ۔ شامیانہ لگا ہوا تھا ۔ میلے کا سما ں تھا،۔ ماموں بکرے کے ساتھ فخریہ بیٹھ کر ہر آنے والے کو بتاتے کہ “بھایا ! پورے پانچ لاکھ کا ہے ۔ بادام ، پستہ اور دودھ کے سوا کچھ نہ کھائے ہے،۔ بس کیا کہیں لوگ تو حرامی دکھاوا ہی سمجھے ہیں لیکن خدا کی راہ میں قربانی کی نیت کے سوا میری اور کوئی مشنا (منشا) نہیں “۔ وہ تو پتا نہیں کہاں سے عین دو دن پہلے وہ کمبخت مولوی آدھمکا جس نے بتایا کہ  یہ نقص والا بکرا ہے اور عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ پھر کیا تھا لوگ دور دور سے پانچ لاکھ کی پنگی بجتی دیکھنے آتے ۔ ،منچلے آوازیں کستے “ماموں بارہ سنگھے کی قربانی ہو جاتی ہے کیا ؟ ” ۔ اور ماموں پشاوری چپل ہاتھ میں اٹھائے ماں ، بہن کی کہتے پیچھے دوڑتے ۔ غرض محلے والوں کے ہاتھ شغل آگیا تھا۔

پھر اگلاسال آیا، ۔ بجائے باز آنے کے انہوں نے ساہیوال سے ایک بتیس من وزنی بھینسا منگا لیا، ۔ بھینسے کا مالک خود اسے چھوڑنے ماموں کے گھر تک آیا۔ گھر کے سامنے موجود کھمبے سے اسکی رسی باندھی اور قیمت مبلغ پندرہ لاکھ روپے لے کر نم آنکھوں سے رخصت ہو ہی رہا تھا کہ ماموں نے احتیاطاً پوچھ ہی لیا ” ابے بات سن ! یہ شریف تو ہے نا ؟ ۔ مطلب بھاگے واگے گا تو نہیں نا ؟ “۔ “او نہیں صاب جی اے گھر دا پلا شریف کٹا اے،۔ ایہدا ناں ای “بھولا” سی ۔ فکر دی کوئی لوڑ نئیں توانوں ” ۔ یہ کہہ کر سابقہ مالک رخصت اور ماموں مطمئن ہو گئے ۔ لیکن ابھی سابقہ مالک گلی سے مڑا ہی تھا کہ “بھولا” کھمبا اکھاڑتا ایسا دوڑاجیسے “بھولا “نہ ہو “اڑن کھٹولا” ہو ۔ پھر کیا تھا ۔ عید کے دن تک کراچی کی سڑکیں تھیں ۔ آگے آگے بھولا تو پیچھے پیچھے گالیاں دیتے ماموں اور تینوں بھانجے ۔ ،ماموں خود کہتے ہیں کہ بھینسا اتنا بھاگا کہ اگر ایک ہی سمت اتنا بھاگتا تو بھولا حرامزادہ عید تک ساہیوال پیدل پہنچے جاتا ۔ خیر مختصر یہ کہ  قربانی تک کیلوریز برن ہونے کی وجہ سے بھینسا بھی آدھا رہ گیا تھا اور قربانی بھی پہاڑگنج کے علاقے میں کلاشن کوف کی گولی سے ہوئی کہ موصوف عید کے دن وہاں فرار ہو گئے تھے اور واپسی لانا ناممکن تھا یعنی لب لباب یہ نکلا کہ  اتنا بھاری بھینسا لانے پر واہ واہ کے بجائے الٹا تھو تھو ہو گئی ۔ یہ بھینسا منگوا نے کا آئیڈیا کیونکہ “بڑے” کا تھا تو اس بار ماموں کی ساری پیار بھری گالیاں اسے ہی پڑیں ۔

پھر اگلا سال یعنی وہ سال آگیا جس میں مضمون کا مرکزی واقعہ وقوع پذیر ہوا ۔ کیونکہ پچھلے سال کی عید کے موقع پر “بڑے” کے مشورے پر عمل کر کے “بھولا ” لایا گیا تھا اور اعلی پائے کی سبکی ہوئی تھی سو اس بار ماموں نے “چھوٹے” اور “منجھلے” کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ۔۔

یہ دونوں بھانجے کیونکہ اسکول کی شکل دیکھ چکے تھے سو پہلے کی نسبت قربانی کے طریقے میں کچھ جدت لے آئے اور ماموں کو اس بار یاک کی قربانی کرنے کا مشورہ دے ڈالا ۔ ساتھ ہی ساتھ مشورہ میں جان ڈالنے کے لیے یہ بھی بتایا کہ  بوجہ “یاک ” کیونکہ گلگت کے پہاڑوں میں پُر فضا صاف آب و ہوا میں پروان چڑھتا ہے اور نایاب جڑی بوٹیاں کھاتا ہے تو ناصرف گوشت میں شفا ہوتی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ بڑے بڑے بالوں کی وجہ سے عجیب الخلقت جانور لانے پر لوگ دور دور سے دیکھنے آئیں گے ۔ ماموں کو منجھلے اور چھوٹے کی یہ رائے بہتر لگی ۔ اب اگلا مرحلہ یاک کی دستیابی تھا ۔ یہ مسئلہ بھی چھوٹے اور منجھلے نے مل کر حل کیا اور منڈی۔میں ہی موجود ایک بیوپاری کو گلگت سے یاک منوانے پر رضامند کر لیا ۔

لیجیے صاحب! ادھر یاک سفر آخرت مطلب گلگت سے کراچی کا سفر شروع ہوا اور ادھر ماموں نے اپنے ہی انداز میں اسکی مارکیٹنگ شروع کی ۔ کبھی وہ کسی بیمار کو کہتے نظر آتے ۔” اے بھایا ! اب کے جو جنا ور ( جانور) منگایا ہے ۔ اسکا گوشت آپکی ہر طرح کی انرجی (انجری) دور کر دیگا ” تو کسی بوڑھے چچا کو راستہ روک کر بتا رہے ہوتے ۔ ” چاچا میاں ! بس جیسے ہی قصائی چھری پھیر لیوے اسکا بہتا خون گرم گرم اٹھا کر گٹھنے پر مل لینا ۔ ماں قسم گٹھنا اٹھرا سال کے لونڈے کے جوڑ جیسا مجبوت ( مضبوط) ہو جاوے گا “۔ غرض ، ببن کی لونڈیا   کی گرتی جلفوں (زلفوں) کا مسئلہ ہو کہ شمسو کے لمٹے (لڑکے) کی بے اولادی ۔ یاک کے کراچی آنے سے پیشتر ہی ماموں شفا و علاج کے نام پر دو تہائی یاک تو بیماروں اور پریشان حالوں میں تقسیم فرما چکے تھے ۔۔

اللہ اللہ کر کے عید سے کوئی تین دن پہلے ایک ڈاٹسن گلی میں رکی اور بچوں کے شور کے درمیان ایک بھورا سا بالوں بھرا عجیب سا جانور کھمبے سے باندھ دیا گیا ۔ گلی میں ایک بار پھر میلے کا سماں تھا ۔ اس عجیب الخلقت جانور کو دیکھنے کے لیے بھیڑ جمع تھی اور درمیان ماموں پھولے نہ سماتے تھے ۔ مسکراتے ہوئے ہر ایک کو بتاتے ۔ “بھایا جتے کا جانور نہ ہو ، اتے سے جیادہ تو کرایہ لگ گیا سسورے کا ” ۔ باقی لوگ بھی اس بار مطمئن تھے کہ سچی مچی اس بار تو ماموں بازی لے گئے لیکن نصیب کہاں بدلتے ہیں ۔

اگلی ہی صبح ماموں نے جانور کو اداس دیکھا تو “چھوٹے'” کو بلا بھیجا ۔ “ابے تیرے لیے اتی دور سے جانور منگایا ہے اور تولفٹ ہی نہیں کرا ریا ۔ جا ٹہلا کے تو لے آ اسے، ۔ دیکھ کتنا اداس دکھے ہے ” ۔ چھو ٹے نے بھی فوری حکم کی تعمیل کی ۔ کراچی میں رہنے والے یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں جانور کو گھمانے کا مطلب اسے شور مچا کر فل اسپیڈ میں دوڑانا ہوتا ہے ۔ سو ایسا ہی ہوا ۔ کل ایک گھنٹے بعد چھوٹا واپس آیا تو جانور بری طرح ہانپ رہا تھا ۔ لوگ سمجھے کہ یہ دوڑنے کا نتیجہ ہے لیکن معاملہ کچھ اور تھا ۔ گلگت کے سرد موسم میں پیدا ہونے والے یاک کو کراچی کی گرمی برداشت نہیں ہوئی تھی ۔ اسکا ہانپنا بند نہ ہوا بلکہ اب تو بیچارے کی نصف گز کی زبان بھی منہ سے باہر لٹک رہی تھی ۔

ماموں کی نگاہ پڑی تو فکر لاحق ہوئی اور موڈ بھی فوراً  خوشگوارسے بدل کر “فل آف گالی جلال آبادی” ہو گیا ۔ چھوٹے سے مخاطب ہوئے ۔” کیوں بے حرامخور ! کیا کرا لایا اچھے بھلے جانور کو ۔ دیکھ اب کتے کی طرح زبان نکال کر ہانپے ہے ۔ اب تو ہی ٹھیک کرے گا اسے ” ۔ بس پھر کیا تھا ۔ محلے کے تجربہ کار لوگ تھے اور ٹونے ٹوٹکوں کی بھرمار ۔ کوئی کہتا کہ اسے ٹھنڈے پانی سے نہلا دو ، کوئی اے سی لگانے کا مشورہ دیتا ۔ ایک منچلے نے تو برف کی سلی پاس رکھ کر پنکھا لگانے کا مشورہ دیا جس پر ماموں غصے سے بولے ۔ “جانور ہے ، حرامی میت نہیں جو برف کی سلی منگا لوں ” ۔ آخر کار سب کے بعد اسکے خاندان کے ایک بزرگ نے مشورہ دیا ۔ “بھایا ! یہاں چالیس ڈگری میں بھی اسے سویٹر پہناوگے تو گرمی تو لگے گی ہی ۔ بہتر ہے کہ اسے گنجا کرا دو ۔ خود ہی ٹھنڈا ہو جاوے گا ” ۔ یہ مشورہ سب کو بہتر لگا ۔ ،چلیے جناب فوری طور پر دنبہ چھلائی مطلب دنبہ کی اون اتارنے والے کو طلب کیا گیا جس نے مشین کی سی تیزی سے یاک کو گنجا کر ڈالا ۔

گنجا ہونے سے گرمی والا مسئلہ تو حل ہوا اور یاک ہشاش بشاش ہو کر چارہ کھانا شروع ہو گیا ۔ لیکن اب ایک اور مسئلہ درپیش تھا ۔ لمبے لمبے بالوں کے باعث جو جانور منوں وزنی لگ رہا تھا اب گنجا ہونے کے بعد عجیب کمزور سا ہڈیوں کا ڈھانچہ ٹائپ نظر آرہا تھا ۔ جسکی پسلیاں تک گنی جا سکتی تھیں ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ماموں رعب ڈالنے کے لیے اپنے جملہ رشتہ داروں کو بھی عجوبہ جانور دیکھنے کے لیے شام میں گھر آنے کی دعوت بھی دے چکے تھے ۔،

اس شام صورت حال بہت دلچسپ تھی ۔ خاندان کے لوگ جو بہت ارمان اور امید سے جانور دیکھنے آئے تھے دبلے پتلے لاغر سے جانور کو دیکھ کر مایوسی کے عالم میں جگتیں کس رہے تھے ۔ کو ئی کہتا تھا “ماموں ! یہ گائے کم لومڑی زیادہ لگے ہے ” تو کوئی بوڑھی پان چباتے کہتی ” شمسو ! دیکھ تو سہی ۔ یاک کہتا تھا اور ایہاں یاک کی بیبہ (بیوہ) باندھے بیٹھا ہے سسورا “اس صورتحال میں تینوں بھانجے تو موقع سے فرار ہو گئے تھے لیکن ماموں بیچارے، وہ کہاں جاتے ۔ ؟. وہ وائٹ کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ، ہاتھ میں تسبیح گھماتے جاتے تھے اور زیر لب گالیاں دیتے اس وقت کو کوس رہے تھے جب انہوں نے نمائش کے لیے اس گنجے جانور کو لانے کا فیصلہ کیا تھا ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گنجے جانور کی قربانی۔۔۔علی اختر

  1. چٹخارے دار تحریر ۔ ماموں کے کردار جیسے لوگ ہمارے معاشرے کا خاصہ ہیں ۔ مصنف کو بہت سی داد اور نیک خواہشات ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *