یہ تو ہوگا۔۔علی اختر

ضمیر اختر نقوی سن 1944 کو یو پی کے مشہور شہر لکھنؤ میں ایک شیعہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ گریجویشن تک کی تعلیم وہیں حاصل کی اور 1967 میں کراچی آگئے ۔ یہ ہندوستان سے آئے ہوئے  تعلیم یافتہ  لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے آ ج بھی قلم اور کتاب سے رشتہ استوار رکھا ہے ۔ یہ تین سو سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور ساتھ ہی انکے ہزار سے زائد لیکچرز مختلف موضوعات پر موجود ہیں ۔ یہ آج سے کچھ عرصہ پہلے تک ایک علمی شخصیت اور دینی اسکالر ہونے کے باعث حلقہ احباب میں نہایت احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔ پھر اچانک انکی چند وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شروع  ہوئیں جن میں لڈن جعفری اور نیپال والی وڈیوز قابل ذکر ہیں اور پھر بد تمیزی و بد تہذیبی کا وہ طوفان شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ۔ آج سوشل میڈیا پر انکی ایڈٹ کی گئی  لا تعداد وڈیوز ، گانے ، مزاحیہ خاکے اور تصاویر موجود ہیں ۔

ان ساری نازیبا حرکات اور بدتمیزی کی مذمت اپنی جگہ لیکن دوسری جانب یہ سب ہو جانے کے بعد بھی ضمیر اختر صاحب کا رویہ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ پچھلے دنوں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر آموجود ہوئے ۔ اس بار انکا دعویٰ  تھا کہ  انکے پاس کرونا کا علاج موجود ہے ۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا کے بدتمیز “لونڈوں” کی وجہ سے انہوں نے وہ علاج بتانے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ  مجھے مزید مذاق نہیں بنوانا  اپنی تحقیق کا، وغیرہ وغیرہ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا ضمیر اختر صاحب کا یہ رویہ اور ردِ عمل سستی شہرت حاصل کرنے لیئے ہے تو جناب اس کا جواب نفی میں ہے ۔ اللہ نے انہیں شہرت اور علم سے پہلے ہی نوازا ہوا تھا وہ اس بدنامی و مذاق کا نشانہ شہرت کے لیے نہیں بن رہے بلکہ وہ کتاب کے آدمی ہیں ۔ ساری زندگی کتاب کے ساتھ گزار کر آج انکا دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ  یہ سب مبالغہ آرائی  بھی ہو سکتی ہے ۔ آج بھی وہ سو سالہ پرانی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں جس کے مطابق آج بھی نیپال میں لوگ صبح مرتے اور شام زندہ ہو جاتے ہیں ۔ یہی نہیں وہ  ان کتب سے کرونا کا بھی علاج اپنے تئیں دریافت کر چکے ہیں اور وہ اس پر بھی اسرار کریں گے کہ  یہ علاج سو فیصد درست ہے۔ ضمیر صاحب کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کمپرومائز کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ۔ اور بس !

ویسے ضمیر اختر صاحب ہمارے معاشرے کی صرف ایک مثال ہیں ۔ مشہور ہو گئے تو میں نے یہاں بیان کر دیا ورنہ حالیہ دنوں میں غور کرنے پر آپ کو بہت سے ضمیر اختر ملیں گے جو اپنے نظریات پر، کتابوں پر کمپرومائز کے لیے تیار نہیں ،جیسے ۔۔ہم یہ ماننےکے لیے تیار نہیں کہ  غلاف کعبہ اور حجر اسود کو چومنے سے بھی کبھی کوئی  بیمار ہو سکتا ہے ۔ اب زم زم کے ساتھ شفا کے بجائے موت بھی گلے میں اتر سکتی ہے ۔ ہم مسجد حرام اور مسجد نبوی میں طواف و اجتماعات کی پابندی پر حیران ہیں ۔ ہمارا ذہن یہ ماننے کو تیار نہیں کہ  جن زیارات پر جا کر لڈن جعفری کو نئی  زندگی ملی، کبھی وہاں سے جان لیوا بیماری بھی مل سکتی ہے ۔ ہم مزارات کی تالہ بندی پر ناراض ہیں ۔ ہم نہیں مان سکتے کہ  تبلیغی جماعت والے اسلام کم اور کرونا زیادہ پھیلا رہے ہیں ۔ ہمیں یہ لگتا ہے کہ  کرونا شرونا کا سارا ڈرامہ  محض مساجد میں عام نمازوں و جمعہ کے اجتماعات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے ۔ وہ الگ بات کہ  جب کل اس کی ویکسین مارکیٹ میں آئے گی تو وہ ہمیں مسلمانوں کو نامرد کرنے کی سازش ہوگی۔

Advertisements
julia rana solicitors

آخر میں میں  جملہ دینی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ  خدارا اپنے مکتبہ فکر کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں انکی صحیح رہنمائی  فرمائیں ۔ ٹی وی شوز میں یہ نہ کہیں کہ  کرونا امتیاز سپر مارکیٹ میں نہیں پھیلتا اور مسجد میں پھیلتا ہے ۔ کیونکہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ  ہم سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، ان کی سیرت کو دیکھیں ۔۔ ااتنا وقت بھی نہیں کہ  قرآن مجید کھول کر اس کی تفسیر پڑھیں ۔ اتنی سمجھ نہیں کہ  شعب ابی طالب کے سوشل بائیکاٹ کی مشکلات کے مقاصد سمجھیں۔ ہم بدر و عہد کے غازیوں اور شہیدوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ تبوک کے بے سروساماں سفر کا ہمیں کچھ علم نہیں۔ہم کم علم کربلا میں نواسہ رسول کی مظلومیت کو پڑھ  کر اسلام کے آفاقی پیغام کو نہیں سمجھتے ۔۔۔۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ  ہم  آپ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ، آپکے بیان کردہ واقعات، توجیہات، معجزات، دلائل سنتے ہیں اور اسی کو اسلام سمجھ لیتے ہیں ۔ لوگوں کی صحیح رہنمائی فرمائیں۔ جمع کریں تقسیم نہ کریں ۔ حالات دیکھیں اور نظریات پر کمپرومائز کریں۔ شکریہ

Facebook Comments

علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”یہ تو ہوگا۔۔علی اختر

  1. نہایت ہی اچھے انداز میں معاشرہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے. مجھے خوشی ہے کہ ہمارا آج کا نوجوان ایک وژن رکھتا ہے اور اس میں ہمت ہے کہ وہ اپنا موقف پیش بھی کر سکتا ہے. شاباش علی اختر، کوئی تو تمہیں سمجھے گا اور تمہاری گفتگو کو سمجھ پائے گا.

    سجاد حسین کھوسہ

Leave a Reply