لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں۔۔۔۔۔علی اختر

مجھے ملک سے باہر کافی مہینے گزر چکے تھے ۔ یہاں پاکستان کے ساتھ ساتھ کراچی کی مشہور ظالم ملیر کی مرچ بھی یاد آتی تھی ۔ ایک شام میں ایک کیفے پر ایک پاکستانی دوست جس کا تعلق کراچی کے علاقے لانڈھی سے تھا کے ہمراہ بیٹھا تھا ۔ ویٹر “شاورما ” کا آرڈر لے کر ٹیبل پر پہنچا ۔ ہم دونوں نے پہلے ہی بائیٹ میں یہ اندازہ لگا لیا کہ مرچ کے بغیر چکن شاورما بھی بھوسے سے کم نہیں ہوتا ۔ ویٹر سے مرچیں لانے کی درخواست کی ۔ وہ کچھ دیر میں ایک پیالی لے کر حاضر ہو گیا جس میں سرکہ میں ڈوبی ہوئی چھوٹی ہری مرچیں نظر آرہی تھیں۔ ویٹر نے پیالی ٹیبل پر رکھتے ہوئے متنبہ کیا کہ  ان مرچوں کو کم استعمال کیا جائے کیونکہ یہ بہت تیز ہیں ۔ ہم دونوں نے ہی ویٹر کی جانب مسکرا کر دیکھا ۔ شاورما کی تہیں کھولیں اور کانٹے کی مدد سے اسکے سامنے ہی مرچوں کی ایک قطار اس میں جوڑنا شروع کر دی ۔ ہماری اس حرکت پر ویٹر نے حیرت سے ہمیں تکنا شروع کر دیا ۔ جس وقت ہم اطمینان کے ساتھ اپنا لنچ ختم کر کے بل دے رہے تھے اس وقت ویٹر سمیت ہوٹل کا سارا اسٹاف ہمیں ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے ہم کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں ۔

ذرا غور کریں تو اس ویٹر کی حیرت کی صرف ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ  وہ پاکستان کے کلچر اور رہن سہن سے ناواقف تھا ۔ اگر وہ بھی ہماری طرح جب ہوش سنبھالتا تو والد کو ہر نوالے کے ساتھ مرچ کھاتے اور والدہ کو ہر سالن میں آدھا پاؤ مرچی جھونک کر لال بھبھوکا گریوی بناتے دیکھتا ۔ کھانے میں مرچوں کی چٹنی، مرچوں کا اچار ، تلی ہوئی  مرچیں ، مرچوں کے پکوڑے ، مرچوں کا سالن وغیرہ کھا کر جوان ہوتا تو کبھی بھی حیرت زدہ نہ ہوتا ۔ مختصر یہ کہ  یہ سب کچھ اس کے لیے نیا تھا لیکن ہمارے لیے محض معمول کی ایک بات ۔

اب یہ سب میں آپ لوگوں کو کیوں بتا رہا ہوں تو اسکی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہوا ایک واقعہ ہے ۔ واقعہ  کچھ یوں ہے کہ  فیصل آباد شہر میں اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چراتے ہوئے صلاح الدین نامی ایک چور کی وڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ دوران واردات اے ٹی ایم بوتھ میں لگے کیمرے کی جانب منہ  چڑاتا دیکھا گیا ۔ پھر اسے گرفتار کر لیا گیا اور اگلے ہی روز پولیس کسٹڈی میں اسکی موت واقع ہو گئی  ۔ پولیس نے موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتایا جبکہ چور کے مردہ جسم پر تشدد کے نشانات ملے ۔

اس واقعے کے بعد تو گویا سوشل میڈیا پر اس چور کے حق میں پوسٹوں کا سیلاب سا آگیا ۔ لوگوں نے اپنی ڈی پی کی جگہ صلاح الدین کی منہ چڑاتی تصاویر لگا دیں ۔ کچھ نے اسی انداز میں اے ٹی ایم بوتھ میں زبان چڑھی سیلفی پوسٹ کی تو کسی نے جسٹس فارصلاح الدین کمپیئن  میں حصہ ڈالا ۔کچھ نے دو بار اڈیالہ جیل کی ہوا کھانے والے عادی مجرم کو ذہنی معذور بتایا تو کچھ نے کہا کہ  جاتے جاتے سسٹم کو منہ چڑاتا چلا گیا ۔

چلیں جی حکومتی مشینری بھی حرکت میں آئی، پولیس کے دو اعلی افسران کو معطل کر دیا گیا ۔ ایس ایچ او اور انویسٹی گیشن آفیسر کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوا ۔ گورنر پنجاب مرحوم کے آبائی علاقے پہنچے جہاں اسکے والد نے سڑک کی مرمت اور صلاح الدین ٹیکنیکل کالج بنانے کی درخواست بھی کر دی۔

ایک ملزم کا پولیس کی کسٹڈی میں مر جانا، میرے لیے ایک عام سی خبر ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ مجھے کوئی  حیرت نہیں ۔ وجہ یہ نہیں کہ  میں ایک بے حس اور کمینہ قسم کا آدمی ہوں بلکہ وجہ یہ ہے کہ  میرا تعلق کراچی سے ہے اور بچپن سے ہی کراچی والے ملیر کی مرچ کی اس کڑوی ہری مرچ کے عادی ہیں ۔ میں اس جنریشن سے تعلق رکھتا ہوں جس نے کراچی میں 92 اور 94 کے آپریشنز کے دوران ہوش سنبھالا ۔ صبح کے اخبار میں جن کی گرفتاری کی خبریں پڑھیں ،دوپہر کے خصوصی ضمیموں میں انہی کے پولیس مقابلوں میں مرنے کی اطلاعات دیکھیں ۔ بڑے ہوئے تو کالعدم تنظیموں سے سہراب گوٹھ اور منگھو پیر میں مقابلوں کی خبریں تھیں ۔ تا زہ ترین معاملہ نقیب اللہ محسود کا تھا جو پورے ملک میں اس وجہ سے پذیرائی اور توجہ پا گیا کہ  مقتول سوشل میڈیا پر ایکٹو تھا ورنہ یہ معاملہ بھی سینکڑوں معاملوں کی طرح ہی دم توڑ دیتا ۔

جب ہمارے ہاں آگ لگی تو باقی ماندہ ملک میں پولیس مقابلوں میں مرنے والوں کی، تشدد کے دوران کی تصاویر پولیس اہلکاروں کے ساتھ فخریہ دیکھی جاتی تھیں ۔ انہیں ہیرو سمجھا جاتا تھا ۔۔ کہ  چلیں را کے ایجنٹوں کا صفایا ہو رہا ہے ۔ اب جبکہ یہ آگ ، یہ روایت آپ کے اپنے گھر پہنچ گئی  ہے تو افسوس کیسا۔۔۔ بقول شاعر “یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے” ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ  کراچی میں جعلی پولیس مقابلوں میں مرنے والے سب کے سب حاجی تھے ۔ لیکن بدترین مجرم کو بھی عدالت ہی سے سزا ہونی چاہیے ناکہ  سڑک پر ، عقوبت خانوں میں مار کر میڈل لیے جائیں ۔

ہاں مجھے اس واقعے کے بعد پولیس کے افسران کی معطلی، گورنر اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس پر حیرت ہے ۔ ہمارے مقتول تو لنگڑے ، ٹنٹے ، کانے وغیرہ کے القابات کے علاوہ کچھ نہ پا سکے اور صلاح الدین کا معاملہ دو دن میں ہی ٹیکنیکل کالج کی تعمیر تک پہنچ گیا لیکن شاید ٹینکر کے پانی اور پانچ دریاؤں کے پانی میں بہت فرق ہے ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *