مطالعہ کشمیر۔۔۔علی اختر

پاکستان کے نام میں لفظ  “ک”کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے اور اسی سے ظاہر ہے کہ  کشمیر ہماری شہ رگ ہے ۔ بد قسمتی سے گزشتہ ستر برس سے ہمارے کشمیری بھائی  ہندوستان کی قابض فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہیں ۔ حکمران کٹھ پتلی ہیں ۔ اصل قیادت کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے ۔ کوئی  حق کی بات کرے تو اسے غدار اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے ۔ بوڑھے والدین کے جوان بیٹے اچانک غائب کر دیئے جاتے ہیں جن کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے وہ برسوں انکی تلاش میں رہتے ہیں اور پھر کسی دن پتا چلتا ہے کہ  وہ دہشت گرد تھے اور ایجنسیوں سے مقابلے میں ہلاک ہو چکے ۔ قانون و انصاف نام کی شے ناپید ہے ۔۔ نو جوانوں کو شہر سے باہر لیجا کر جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے والے افسران کو میڈل، مراعات و ترقیاں دی جاتی ہیں ۔ سول بیوروکریسی اتنی کرپٹ ہے کہ  چھاپے کے دوران نوٹ گننے کی مشینیں منگوائی جاتی ہیں۔

تعلیم و تربیت کے فقدان اور قانون ، فاحشہ کے جسم کی مانند بکاؤ ہونے کی وجہ سے کشمیر کے لوگ سخت ترین اخلاقی و معاشرتی گراوٹ کا شکار ہیں ۔ آئے دن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کر کے انہیں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ کبھی کبھار ایک آدھ قاتل کو سزا دے دی جاتی ہے ورنہ زیادہ تر مجرم با اثر اور مالدار ہونے کی وجہ سے چھوٹ جاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ عورتوں پر تیزاب گردی ، اغواء برائے تاوان ، ڈکیتیاں، اسٹریٹ کرائم، سائیبر کرائم وغیرہ بھی معمول کی بات ہیں ۔

گو جنت نظیر کشمیر میں اللہ نے تمام نعمتیں وافر مقدار میں عطا کی ہیں لیکن کشمیر کی دولت کو بیدردی سے لوٹنے اور کرپشن کے سبب غربت کی سطح نہایت بلند ہے ۔ آپکو ننگ دھڑنگ بچے کچرے کے ڈھیروں سے روٹی چنتے با آسانی نظر آ جائیں گے ۔ تعلیم کے نام پر تعمیر کی گئی عمارتوں میں بھینسوں کے باڑے اور سرکاری ہسپتالوں میں جانوروں سے بھی بد تر علاج کی سہولیات ملیں گی ۔ سرکاری اداروں میں رشوت عام لی جاتی ہے ۔ تاجر ملاوٹ کرتے ہیں ، ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، پرائس کنٹرول اتھارٹی کی ریٹ لسٹ دکان پر لگا کر دھڑلے سے من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں اور اس سب کی روک تھام پر معمور ادارے محض تنخواہوں یا رشوت پر توجہ دیتے ہیں اور بس ۔

دیکھا جائے تو “سری نگر”جموں و کشمیر کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے جو کہ  معاشی حب ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ ریونیو بھی جنریٹ کرتا ہے لیکن ہندوستان کی کشمیر دشمن حکومت نے اسے جرائم اور گندگی کا ڈھیر بنا رکھا ہے ۔ ویسے تو یہاں وفاق، صوبے اور شہر تینوں کے حکومتی نمائندے موجود ہیں ، تنخواہیں لیتے ہیں ، حکومتی پروٹوکول انجوائے کرتے ہیں لیکن عوامی فلاح و بہبود کے کسی بھی کام کو کرنے کے بارے میں سوچتے کے ساتھ ہی ان سے اختیارات اور فنڈ وغیرہ چھین کر انہیں عملی طور پر اپاہج کر دیا جاتا ہے ۔ سپر ہائی وے سے سری نگر میں داخل ہوں تو بائیں ہاتھ آپکے ساتھ ساتھ غریب عوام کی جھگیوں کی آبادی اور داہنی جانب کچرے کے پہاڑ نظر آئیں گے ۔ اس شاہراہ کے اختتام پر ایک پل موجود ہے جسکے نیچے شدھ ہیروئن کا کاروبار برسوں سے جاری و ساری ہے جہاں کالے ہاتھوں اور میلے کچیلے چیتھڑوں میں ملبوس ہیروئن کے عادی لوگوں کے جتھے کے جتھے جا کر باآسانی ہیروئن کی پڑیا خریدتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ  اسی پل پر پولیس اسنیپ چیکنگ میں بھی مصروف ہوتی ہے لیکن اسکی نگاہوں سے یہ زہر کا کاروبار سالوں سے اوجھل ہے ۔ سرینگر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے عوام کا بھروسہ پوری طرح اٹھ گیا ہے ۔ انہیں کوئی  چور، ڈاکو مل جائے تو فوری قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ  کہیں پولیس کے ہتھے چڑھ کر دوبارہ کام پر نہ لگ جائے ۔ روڈ ، انفرااسٹرکچر، سیوریج، بجلی وغیرہ کا نظام دانستہ خراب کیا گیا ہے کیونکہ اتنی خرابی نا دانستہ طور پر ہو ہی نہیں سکتی ۔ ابھی پچھلے دنوں بارش کے دوران بیس افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے ۔ چلیں ہو گئے تو ہو گئے کشمیری ہی تو تھے۔ کیا ہوا۔ ۔

ابھی پچھلے جمعہ کو ہی ہم نے آدھے گھنٹے کھڑے  رہ کر کشمیری عوام سے اظہار یک جہتی کیا ہے ۔ آئیں مل کر دعا کریں کہ  کشمیر جلد سے جلد ہندوستان کے چنگل سے آزاد ہو کر پاکستان میں شامل ہو جائے تاکہ کشمیر کو اسکے شایان شان، عد ل و انصاف سے بھرپور قیادت نصیب ہو ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *