سائنس کمیونٹی وہ ہے جنہوں نے موت سے پہلے کی زندگی کا “ڈیپارٹمنٹ” سنبھالا ہوا ہے۔ ان کا کام انسانیت کیلئے نت نئی ایجادات، دوائیاں، علاج، اربوں کروڑوں میل دور سیاروں کی دریافت، کائنات کے رازوں پر غور و فکر← مزید پڑھیے
ہمارا دماغ جہاں اور بہت کچھ ہے، وہیں ہمارا بہترین پرسنل سیکرٹری بھی ہے- تفصیل کبھی پھر سہی، ایک مثال پیش کرتا ہوں- آپ دن بھر کے تھکے ہارے کام سے واپس لوٹتے ہیں، گرما گرم چائے یا کافی کا← مزید پڑھیے
کئی صدیوں سے غرورِ آدمیت اور حیاِ نسوانیت کے درمیان پِس رہا ہوں یا رہی ہوں میں ادھوری جنس ہوں مگر مکمل انسان ہوں میرے ہونٹوں پر لالی اور ٹھوڑی پر داڑھی ہے جسم کے نشیب و فراز ثمر سے← مزید پڑھیے
پاکستان کی سیاست بھی انوکھا کار زار ہے، جہاں کبھی بھی “امن” نہیں رہا۔ سیاسی بدامنی کے باعث ہی کبھی کسی حکومت نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے اپنی← مزید پڑھیے
احساس کمتری ایک لعنت ہی نہیں بلکہ شکست خوردگی کی ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جس کا اگر بروقت مداوا نہ ہو سکے یہ تو خطرناک دماغی بیماری بن جاتی ہے ۔ یہ کیفیت انفرادی سے، گروہی اور گروہی سے← مزید پڑھیے
جدید دور میں انسان کے باطن میں موجود ایک تضاد نہایت کھل کر سامنے آیا ہے۔ انسان بلاشبہ ایک سماجی حیوان ہے جو معاشرے سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔ کائنات اور فطرت کے بارے میں ہمارا علم اور← مزید پڑھیے
میں جن زمانوں میں انگلستان میں ہوا کرتا تھا اور یقین مانیے ازمنہء قدیم میں ہواکرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم ابھی حال ہی میں اختتام پذیر ہوئی تھی یعنی کوئی دس بارہ برس پیشتر یہاں تک کہ دوچار برس یہاں← مزید پڑھیے
سونا ، چاندی ، پیتل اور دیگر ایسی دھاتیں جن سے بنی ہوئی کرنسی مختلف اوقات میں مختلف معاشروں میں رائج رہی ہے ، یہ سب ایسی بے فائدہ چیزیں ہیں جن کو کھایا ، پیا اور استعمال میں نہیں← مزید پڑھیے
عربی کے اہم ترین ادیبوں میں سے ایک زکریا تامر ہیں جو دو جنوری 1931عیسوی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں پیدا ہوئے۔ زکریا تامر نہ صرف افسانہ نگاری کے لئے مشہور ہیں بلکہ اُنھیں بچوں کا کہانی کار بھی← مزید پڑھیے
ریاست جموں و کشمیر کا تنازعہ دراصل تقسیم ہند 1947کے دوران پیش آنے والے سانحات میں سے وہ سانحہ ہے کہ جس کے جسم کے گہرے زخموں سے تاحال لہوٹپک رہا ہے۔ یوں تو قانون آزادی ہند کے تحت15اگست 1947کو← مزید پڑھیے
وہ جو اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا اس آوارہ دیوانے کو حبیب جالب کہتے ہیں۔ ۱۳ مارچ سنہ ء ۱۹۹۳ حبیب جالب اس دنیا سے چلے گئے، پچیس برس بیت گئے، حبیب جالب ایک آواز، ایک للکار ← مزید پڑھیے
جنا ب وزیر اعظم صاحب! عنوان :درخواست برائے اجازت سیاسی ہلہ گلہ جناب عالی! گزارش ہے کہ فدوی کوآپ جناب اور آپ کی پارلیمنٹ نے مملکت خداداد پاکستان کا صدر منتخب کیا ہوا ہے ۔چونکہ شہر اقتدار میں ان دنوں← مزید پڑھیے
ہمارے کئی قابل اور فاضل دانشوروں کی نظر میں قرارداد مقاصد ہمیشہ سے ایک ایسا کانٹا رہا ہے جو وطن عزیز میں سکیولرازم کے نفاذ کی کسی بھی کوشش کے وقت حلق میں چبھنا شروع ہوکر ان کی جرات مند← مزید پڑھیے
انسان ابتداء سے ہی کائنات کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے ، آسمان کو چھُونا ایسا خواب ہے کہ لٹریچر میں بھی انسان ہر کامیابی کو اسے چھونے سے تعبیر کرتا دِکھائی دیا ، کئی صدیاں پہلے تک← مزید پڑھیے
میاں بیوی کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا؟ وجہ صرف ایک ہے کہ دونوں سارا سال ایک دوسرے کو مناتے رہتے ہیں۔یہ جو محفلوں میں اور فیس بک پر میاں بیوی ایک دوسرے کی فرینڈ لسٹ میں ہوتے ہیں← مزید پڑھیے
ذہن میں جھّکڑ چل رہے ہیں، سوچ کے پر کٹے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں اور الفاظ شکست و ریخت کے بعد اس قدر گھس پھٹ گئے ہیں کہ اب سوچ کو الفاظ کا جسم میسر نہیں رہا۔ میں کوشش← مزید پڑھیے
دو چار روز قبل مکالمہ پر مدیر اعلی جناب انعام رانا صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا جو “لڑکیاں املی کیوں کھاتی ہیں ” کے عنوان سے تھا ۔ یہ وہ ایام تھے جن میں وہ سوشل میڈیا سے بوجوہ← مزید پڑھیے
یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ گزشتہ دس بارہ برس کے دوران اہل علم کے باہمی مباحثے کے نتیجے میں 12 مارچ 1949 کو منظور کی جانے والی قرارداد کی اہمیت اور معاشرے پر اس کے اثرات پر بات← مزید پڑھیے
عابد کو برسہ گروپ اسلام آباد میں ہیڈ، باورچی میں نے ہی رکھا، مری کے نواح کا تھا،صرف دو ہیلپرز کے ساتھ دو سو ورکرز کا لنچ، ڈنر تیار کرنا اس کے لیے مسئلہ ہی نہیں تھا، مگر اس← مزید پڑھیے
مبارک ہو قوم جاگ گئی، ایسا لگا مجھے کہ وقتی طور پر ایک سیاہی اور جوتے نے قوم کو یہ احساس دلا دیا کہ واقعی یہ نازیبا حرکت ہے، کوئی صاحب فرما رہے ہیں کہ ، “یہ سیاہی اور جوتا← مزید پڑھیے