ادھوری جنس۔۔عین زہرا

کئی صدیوں سے غرورِ آدمیت اور حیاِ نسوانیت کے درمیان
پِس رہا ہوں یا رہی ہوں
میں ادھوری جنس ہوں مگر مکمل انسان ہوں
میرے ہونٹوں پر لالی اور ٹھوڑی پر داڑھی ہے
جسم کے نشیب و فراز
ثمر سے عاری ہیں
آدھی جنس میری خاندان پر گالی ہے
میرا مستقبل کیا فقط
شادی یا دعوت میں کسی بیہودہ گانے پر تھرکنا ہے؟
کسی اندھیرے بدبودار کمرے کا کونا ہے
کسی عیاش کی تنہائی
یا گرو کی مار سہنا ہے
کیا یہ ممکن ہے
مجھے شرف انسانیت میں حصہ ملے؟
زمین و آسمان کی نیابت کا ورثہ ملے
کیا یہ ممکن ہے
میرے آدھے ادھورے جسم پر عزت کا سائبان ہو جائے
میرے درد کا دردماں ہوجائے
کیا یہ ممکن ہے
کہ میں بھی تو،
ادھوری جنس کا مکمل انسان ہوں.

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *