سٹیفن ہاکنگ کی موت۔۔فرید قریشی

‎سائنس کمیونٹی وہ ہے جنہوں نے موت سے پہلے کی زندگی کا “ڈیپارٹمنٹ” سنبھالا ہوا ہے۔ ان کا کام انسانیت کیلئے نت نئی ایجادات، دوائیاں، علاج، اربوں کروڑوں میل دور سیاروں کی دریافت، کائنات کے رازوں پر غور و فکر اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔ یہ کائنات کی ابتداء ‘بگ بینگ’ اور تقریباً چار ارب سال پہلے اس پر زندگی کی شروعات اور ارتقاء کے بارے میں بتاتے ہیں, ہمارے دل کی شریانوں سے لے کر دماغ کے خلیوں تک پر نظر رکھتے ہیں، سکین کر کے  بتا دیتے ہیں پیٹ میں بچہ ہے یا بچی اور یہ ان کاموں کے ثمرات میں ہمیں پورا پورا حصہ دیتے ہیں، ہم میں سے کوئی بیمار ہو اس کی جان بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں، کسی بخل سے کام نہیں لیتے، زمین سے اربوں میل دور کسی سیارے کی تفصیلات کا پتہ چلے ہمیں فوراً بتاتے ہیں، موسم کی خرابی، سیلاب، برفباری کا پیشگی علم ہو، ہمیں آگاہ کرتے ہیں، موبائل، کمپیوٹر، گاڑی، جہاز ہر ایجاد سے ہمیں مستفید ہونے کا پورا موقع دیتے ہیں۔

الغرض یہ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ہمارے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے ہیں چاہے ہم ان کے خیالات سے متفق ہوں یا نہیں اور چاہے ہمارا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے، نسل یا علاقے سے ہو۔ سٹیفن ہاکنگ، کرسٹوفر ہچنز، لاورنس کراس، رچرڈ ڈاکنز، سیم حارث سمیت بڑے بڑے سائنسدان اس کمیونٹی کے سرخیل ہیں۔
‎یہ اختلاف رائے اور تنقید کو پسند کرتے ہیں اس پر قتل نہیں کرتے، اگر کسی نئی تحقیق کے  نتیجے میں کوئی پرانی بات غلط ثابت ہو جائے تو اپنی غلطی کو تسلیم کر کے نئے شواہد کو قبول کرتے ہیں۔ مگر ان کی اکثریت موت کے بعد کی زندگی کو نہیں مانتی، کہتے ہیں خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں، جنت جہنم کو من گھڑت کہانیاں کہتے ہیں اور صحیح یا غلط کا فیصلہ شواہد اور دلائل کی بنیاد پر کرتے ہیں، غیب پر ایمان نہیں لاتے۔

‎دوسری طرف ہم ہیں، جنہوں نے موت کے بعد کی زندگی کا “ڈیپارٹمنٹ” سنبھالا ہوا ہے۔ ہم جنت کی آسائشیں اور جہنم کے عذاب کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہم موت کے بعد کی زندگی کے ایک ایک لمحے کی تفصیل، قبر میں ہونے والے سوالات اور ان کے جواب، جہنم کی آگ کے ٹمپریچر اور شعلوں کی اونچائی، قبر کے سانپ کے زہر اور اس کے سائز، جنت کی حوروں کی خوبصورتی، ان کی آنکھوں اور جلد کی رنگت سمیت سب چیزوں سے آگاہ کرتے ہیں۔

ہم بتاتے ہیں کہ اگر ہمارے خیالات و عقائد سے اتفاق کرو گے تو جنت ملے گی، اختلاف یا تنقید کی صورت میں جہنم اور عذاب قبر تمہارا مقدر ہو گا، بلکہ بعض صورتوں میں تو تنقید یا اختلاف پر یہیں دنیا میں سزا و جزا کا فیصلہ کر کے سرعام نافذ بھی کردیتے ہیں۔ ہمارے پاس نہ ان باتوں کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہمیں اپنے ان عقائد و نظریات پر یقین کیلئے کسی دلیل کی ضرورت ہے بلکہ ہم غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔

‎کیا ایسے نہیں ہو سکتا کہ ہم بھی ان کے ساتھ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں تعاون کریں، جیسے یہ ہمارے ساتھ یہاں کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خیالات کا احترام کریں، اختلاف رائے کو برداشت کریں، اس دنیا کو جنت بنا کر، مل جل کر ہنسی خوشی رہیں اور وہاں موت کے بعد کی جنت میں بھی مل جل کر رہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *