گلشنِ سیاست میں جوتوں کا موسم۔۔تصور حسین شہزاد

پاکستان کی سیاست بھی انوکھا کار زار ہے، جہاں کبھی بھی “امن” نہیں رہا۔ سیاسی بدامنی کے باعث ہی کبھی کسی حکومت نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے اپنی مدتِ حکومت پوری کرلی، ورنہ پاکستان میں اُن سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ سیاست میں الزام تراشی اور حریفوں کو نیچا دکھانے کیلئے پاکستانی سیاست میں سب جائز ہے۔ جیسے جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے، ایسے ہی پاکستانی سیاست میں بھی سب جائز کا کلیہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں کوئی سیاست دان شرعی طریقے سے شادی بھی کر لے تو موضوع بحث بن جاتا ہے، جیسے اس نے کوئی سنت انجام نہ دی ہو بلکہ اس سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہو۔ اسی طرح اگر کسی سیاست دان کی کوئی بیٹی پسند کی شادی کر لے تو وہ بھی اس کیلئے عمر بھر کا طعنہ بن جاتا ہے۔ گویا یہاں کسی کیلئے کوئی معافی نہیں۔ اب پاکستانی سیاست میں ایک نئی رسم نے جنم لیا ہے اور بہت سے سیاستدان “شُو کلب” یعنی جوتا کلب کے ممبر بن رہے ہیں۔ یہ سلسلہ دھڑا دھڑ جاری ہے۔ اس نئے شروع ہونیوالے سلسلہ میں سب سے پہلے وزیر داخلہ احسن اقبال کو جوتا پڑا، ان کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینک کر اسے کالا کر دیا گیا۔ ابھی وہ سیاسی چہرے سے اتری بھی نہ تھی کہ لاہور کی جامعہ نعیمیہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جوتے کا نشانہ بن گئے۔

اب تک امریکی صدر بش سے لیکر جتنے بھی لوگوں کی جانب جوتا اچھالا گیا ہے، نواز شریف کو جوتا سیدھا اور زور سے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے فوری طور پر شریف میڈیکل کمپلیکس کے 3 سینیئر ترین ڈاکٹروں کو جاتی امراء طلب کروا کر والد محترم کا چیک اَپ کروایا اور ڈاکٹروں کی جانب سے میاں صاحب کو جب تک “مکمل فِٹ” قرار نہیں دیا گیا، انہیں اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مریم کا کہنا تھا کہ میرے والد کا بائی پاس ہوچکا ہے، اس لئے چیک اَپ ضروری تھا۔ میاں نواز شریف کے واقعہ کے دوسرے روز ہی فیصل آباد میں عمران خان کو جوتا مارنے کی کوشش کی گئی، مگر “کھلاڑیوں” نے ملزم کو دبوچ لیا اور اس کی خوب درگت بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا، جسے آج ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ عمران خان پر جوتا اچھالنے والے ملزم کا کہنا تھا کہ انہیں یہ ٹاسک وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے داماد نے سونپا تھا۔ گجرات میں تحریک انصاف کے جلسے میں عمران خان جب جلسہ ختم کرنے والے تھے، کسی نے عمران خان کو جوتا مارا لیکن وہ انہیں لگنے کی بجائے عبدالعلیم خان کو جا لگا، جو عمران خان کے پہلو میں کھڑے تھے۔ یوں علیم خان مفت میں جوتا کلب کے ممبر بن گئے۔

گلشن سیاست میں جوتوں کے موسم در آیا ہے۔ اب اگلا ہدف کون کون ہوگا، اس حوالے سے 2 خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 13، پاکستان تحریک انصاف کے 5 اور پیپلز پارٹی کے 6 رہنماؤں کیساتھ ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک گروپ واقعات کی ذمہ داری تحریک انصاف پر ڈال کر عمران خان، جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان، شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری پر بھی جوتا، سیاہی یا گندے انڈے پھینکوا سکتا ہے۔ فیصل آباد اور گجرات میں عمران خان کو جوتا مارنے کی کوشش اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اشتعال کی سیاست کو مزید تیز کرنے کیلئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ایسا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق، رانا ارشد، رانا مشہود خان، سید زعیم حسین قادری، عابد شیر علی، طلال چودھری اور دانیال عزیز بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔

خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسا گروہ بھی سرگرم ہے، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر بھی حملے کرسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی جلسے میں مریم نواز نے جامعہ نعیمیہ کے واقعہ کی ذمہ داری تحریک انصاف پر ڈال کر ایک طرح کا لیگی کارکنوں کو اشارہ دے دیا ہے کہ ایسے واقعات کے پیچھے تحریک انصاف ہے۔ دوسری جانب تمام سیاسی جماعتوں کے تمام قائدین نے اس نئے سلسلہ کے مذمت کی ہے۔ مبصرین کے مطابق تمام سیاستدان چونکہ کسی نہ کسی حوالے سے “چور” ہیں، اس لئے انہیں اپنی پڑ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاستدان اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ اب یہ سلسلہ ایک طرح سے چل نکلا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس سے شدت پسندی میں اضافہ ہوگا یا سیاسی قیادت اس حوالے سے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ سیاسی میدان میں تعصب اور شدت پسندی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ آنیوالے والا وقت ہی بتائے گا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *