جدیدیت اور فرد کا مسئلہ۔۔ابو بکر

جدید دور میں انسان کے باطن میں موجود ایک تضاد نہایت کھل کر سامنے آیا ہے۔
انسان بلاشبہ ایک سماجی حیوان ہے جو معاشرے سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔ کائنات اور فطرت کے بارے میں ہمارا علم اور تصورات بھی سماجی سطح پر پیدا ہوتے ہیں یہاں تک انسانی علم کے لیے لازمی شرط یعنی زبان بھی ایک سماجی فعل ہے۔جدید دور میں انسانی معاشرہ کو سمجھنے کے لیے ان گنت حوالوں سے تحقیق کی گئی ہے اور اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی ہےکہ کس طرح معاشرہ ایک بہتر شکل اختیارکر سکتا ہے۔

معاشرتی حالات کا سیاسی و معاشی نظام سے رشتہ بھی جدید فکر کا اہم موضوع ہے جس کے نتیجہ میں ریاست اورحکومت کےمتعددنظریات پیش کئے گئے ہیں۔ طبی میدان اور ادویات میں ہوئی پیش رفت اورٹیکنالوجی میں ترقی سے غذائی بحران ، قحط اور موذی امراض سے نجات نے پچھلی ڈیڑھ صدی میں انسانوں کی آبادی میں ہوشربا اضافہ کیا ہے۔صنعتی مراکز کے قیام سے بڑے بڑے شہر وجود میں آچکے ہیں جہاں مختلف پس منظر اور ثقافتی عادات کے حامل کروڑوں انسان ایک ساتھ سرگرم رہتے ہیں۔

جدید دور میں جس طرح انسانی معاشرہ وسیع ہوا ہے اسی طرح معاشرتی علوم کا کینوس بھی پھیلتا گیا ہے تاکہ اس پھیلتے ہوئے معاشرے کی تنظیم و ترتیب ممکن بن سکے۔یہ معاشرتی تنظیم ناصرف اس لیے ضروری ہوتی ہے کہ بڑے معاشرے سے حاصل شدہ کثیر فوائد کومحفوظ بنایا جا سکے بلکہ اس لیے بھی لازم ہوجاتی ہے تاکہ اس تنظیم کی مددسے یہ فوائد ممکنہ حد تک بڑھائے جا سکیں۔

جدید علوم کا مقصد یہی ہے کہ وہ شواہداتی انداز میں مظاہر کا مطالعہ کریں تاکہ ان میں ایسا ربط پیدا ہوسکےجس سے ناصرف گوناگوں مظاہر کی ایک باجواز تفہیم حاصل ہو سکے بلکہ اس تفہیم کی بنیاد پر عملی فائدہ بھی ممکن بنایا جا سکے۔ جدید علوم جس فضا میں پروان چڑھے ہیں اس فضا میں انسان کو سماجی اکائی تک محدود کر دیا گیا ہے اور ان علوم کا فرض ہے کہ وہ اس اکائی کو مشین کا فرمانبردار پرزہ بنائے رکھیں تاکہ پورا کارخانہ چلتا رہے۔نظم اجتماعی کا فیصلہ بھی معاشی مفادات کی روشنی میں کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں تشکیل پانے والے سیاسی نظام ،قانون اور ریاست کا کام ایک چوکیدار کی طرح فرد کی نگرانی کرنا ہے ۔

ریاست وہ گڈریا ہے جو گھاس چرتے ریوڑ کی نگرانی صرف اس لئے کرتا ہے تاکہ بعد میں ہر ایک سے اپنے حصے کا نفع حاصل کر سکے۔ معاشرہ ہمیں مہذب ہونے کی تربیت دیتا ہے کیونکہ مہذب ہونا بھی ہماری اس تربیت کا حصہ ہے جس کے نتیجہ میں ایک مثالی ورکر پیدا ہوتا ہے۔جدیددنیا وہ چھتہ ہے جہاں کی مکھیاں ناصرف شہد کی ترکیب کو فارمولہ کی صورت لکھنے پر قادر ہیں بلکہ اپنا تیار کردہ شہد ایک دوسرے کو بیچ بھی سکتی ہیں ۔معاصر لغات میں اس کیفیت کو خوش اسلوبی کہا جاتا ہے۔

لیکن انسان صرف یہاں تک نہیں ہے۔ وہ سماجی اکائی ضرور سہی لیکن تجرید نہیں ہے۔انسان کئی اعتبار سے آپس میں مماثل ہو سکتے ہیں لیکن انسان کا کوئی ایسا فارمولہ نہیں ہے جو تمام موجودانسانوں کو ٹھیک ٹھیک بیان کر سکے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان سماجی حیوان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک الگ اور منفرد شخصیت کا مالک بھی ہے جو اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ وہ باقی تمام انسانوں سے مختلف ہے۔انسان کا یہ انفرادی تشخص اس کی معاشرتی اور سماجی شناخت سے جدا ہے۔اس انفرادی وجود کی تشکیل میں ہمارے لاشعوری رجحانات کا کردار بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ یہ لاشعوری رجحانات ہمارے باطن کی گہرائیوں سے ہمارے فکر و عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں اورہمارے شعورکی مکمل گرفت میں بھی نہیں آتے۔

اس انفرادی وجود کا ایک اور پہلو موت کا مسئلہ ہے۔ میرے لیے یہ حقیقت سب سے بنیادی ہے کہ میں اپنی موت کے ساتھ ہی اس دنیا سے نفی ہوجاؤں گا ۔میرا وجوداپنے تمام میلانات سمیت فنا ہو جائے گا اور میرا سماجی تشخص ایک ختم شد قصہ کی مثال بن کر رہ جائے گا۔ موت کا مسئلہ فرد کے لیے اس قدر بنیادی ہے کہ صرف اسی معیار پر وہ اپنی انفرادیت اور خود مرکزیت کا ادارک پاسکتا ہے۔چاہے میری سماجی زندگی بے پناہ قابل رشک رہے یا پھر میرے حالات دن بدن بگڑتے جائیں ، موت اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتی۔ موت آتے ہی انسانی وجود کی بنیادی نفی ہوجاتی ہے اور یہ ساری باتیں یہیں رہ جاتی ہیں۔موت کے مسئلہ کی بنیاد اگرچہ انفرادی ہے تاہم اس کو سماجی سطح پر بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ باقی جانداروں کی طرح انسان بھی عمل تولید کے ذریعہ اپنا متبادل پیدا کرتا ہے جس کے سبب نوع انسانی کی کلی بقا ممکن رہتی ہے۔

باالفاظ دیگر انسانی معاشرہ اس عمارت کی طرح قائم و دائم رہتا ہے جس کی ہر اینٹ کچھ دیر بعد مساوی سائز کی دوسری اینٹ سے بدل جاتی ہے۔ اگرچہ ہر اینٹ کا مقدر ٹوٹنا ہی ہے تاہم عمارت برقرار رہتی ہے۔ موت کو شکست دینے کی یہ عیاری صرف انسانوں سے مخصوص نہیں بلکہ خود زندگی کا بنیادی فعل ہے۔ تمام جاندار اپنی نسل میں توسیع کے ذریعہ سے بقا پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

البتہ موت پر قابو پانے کے بعض طریقے صرف انسانوں کی دسترس میں ہی ہیں۔ ان میں مذہب، بقائے روح اور حیات بعدالموت کے تصورات سرفہرست ہیں۔یہ تصورات سماجی اور انفرادی ہر دوسطح پر لاگو ہوتے ہیں اور دور قدیم سے انسانی اجتماع میں نظم و ضبط بحال رکھنے میں مددگار سمجھے جاتے رہے ہیں۔ بقائے روح اور حیات بعد الموت کے توسط سے فرد اپنی ذاتی سطح پر بقا کی ضمانت پا لیتا ہے۔اسی تصورکو معاشرتی سطح تک بڑھانے سے مذہب کی ایک بڑی تصویر بن جاتی ہے۔

قابل غور پہلو یہ  ہے کہ جدید دور میں بقائے روح ، حیات بعد الموت اور مذاہب کو عمومی علمی سطح پر ہزیمت اٹھانا پڑی ہے جس کی وجہ سے جدید دنیا میں ان کا دائرہ کار قدیم دور کی طرح وسیع نہیں رہا ۔ مذہب مرکزیت کے خاتمہ سے بشر مرکزیت کے ان تصورات کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے جو فرد کو انفرادی و سماجی سطح پر میسر ہوتے تھے۔ اگرچہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ جدید دور میں انسانی شخصیت کا خارجی پہلو (معاشرہ )ایک خاص رخ میں نہایت منظم کیا جاچکا ہے تاہم انسانی شخصیت کا داخلی پہلو اس قدر ترقی سے محروم رہا ہے۔

اس داخلی بحران کے حل کے لیے جدید علوم کی بے بسی اسی بات سے واضح ہے کہ ان علوم میں انسان کے خارجی پہلو یعنی معاشرتی حیوانیت کو ہی موضوع بنایا جاتا ہے۔یہ علوم سماجی سطح کے مسائل کےلیے تشکیل دئیے گیے ہیں اور ان کا کام محض یہ ہے کہ قابل ورکرز پر مبنی ایک پرامن معاشرہ بنایا جا سکے جس میں روزمرہ کاروبار کے امکانات بہتر سے بہترین ہوں۔فرد کے داخلی بحران کے لیے دور قدیم میں مذہب اور تصوف کارآمد رہا ہے تاہم جدید تصور علم کے وسیع کینوس میں ان دونوں کی جگہ نہیں اور اگر ہے تو یوں ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

دراصل یہ اب کارآمد ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ جس دنیا اور انسان کے لیے بنے تھے وہ اب باقی نہیں۔ تاریخی طور انسانی معاشرت نے ارتقا کے کئی دور دیکھے ہیں۔ایک ڈھیلی ڈھالی ترتیب میں دور ما قبل تاریخ ، دور قدیم ، ازمنہ وسطیٰ اور دور جدید سمیت چار ایسے ادوار ہمارے سامنے ہیں۔ ان ادوار میں انسانی معاشرت،اس کی ترتیب ، نوعیت اور دائرہ کار بدلتا رہا ہے تاہم فرد اور اجتماع کا تعلق اسی صورت میں رہا ہے۔انسانی معاشرہ اپنی خارجی صورتیں بدلتا رہا ہےتاہم انسانی فرد اور اس کے بنیادی مسائل کی نوعیت آج بھی وہی ہے۔دور جدید سے پہلے تک خارجی اور داخلی کی تقسیم زیادہ واضح نہیں تھی بلکہ زیادہ تر انہیں ایک سمجھا جاتا تھا یا ان کی بنیاد کو مشترک قرار دیا جاتا تھا۔

اسی وجہ سے مذہب ،تصوف اور ماورائی فلسفہ و فنون خارجی و داخلی دونوں پہلوؤں پر احکامات رکھتے تھے۔ جدید دور میں خارج اور داخل کو نہایت باریکی سے جدا کیا گیا ہے اور پھر خارج کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔جدید علمیات میں اس کا اظہار انسانی استعداد علم کو حسیات اور عقل تک محدود کردینے سے ہوا ہے۔صرف وہی شے حقیقت ہے جو ان ذرائع سے پکڑ میں آسکتی ہو۔اس رخ سے دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ایک بڑی سطح پر خارج اور داخل کی تقسیم کی گئی ہے اسی طرح انسانی نفس کو بھی تقسیم کیا گیا ہے اور اس کے صرف اس پہلو ( تعقل) کو اہمیت دی گئی ہے جو خارج سے متعلق ہے۔ جدید علمیات سے وجدان اور تعقلی عرفان کی نفی دراصل نفس انسانی کے اس حصہ کی نفی ہے جو جدید دور سے ہم آہنگ نہین ہے۔ جدید دور اپنا سانچہ ساتھ لایا ہے جس سے یہ اپنی ترکیب سے انسان تشکیل دیتا ہے۔
اس پوری صورتحال میں فرد داخلی سطح پر بے پناہ لاچارگی کی حالت میں رہ گیا ہے۔

ستم تو یہ ہے کہ نہایت وسیع جدید دور میں اب اس کے پاس وہ قوتیں بھی نہیں جن کی مدد سے وہ دور قدیم کی مختصر دنیا میں اپنا کام چلا لیا کرتا تھا۔ دور جدید نے فرد کو دیوار سے لگا دیا ہے تاکہ اس سے ورک ایگریمنٹ پر دستخظ لیے جا سکیں۔
لیکن کیا جدید دور نے فرد کو شکست دے د ی ہے؟
اس سوال کے جواب کی آسان ترین صورت تو یہ ہے کہ جدید دور کا فرد ہسپتال میں داخل وہ مریض ہے جو دواؤں سے ٹھیک تو نہیں ہوسکتا لیکن ہسپتال کاعملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ( جو اخلاق کی جدید شکل ہے ) کی وجہ سے اس کا علاج ترک نہیں کر سکتا اور اس دوران مریض کھانس کھانس کرسار ا فرش گندہ کر رہا ہے۔ ( فرش کی صفائی کا مستقل نظام الگ سے کام کرتا ہے۔)

دور جدید کو معلوم ہے کہ اگر اس مریض کو رخصت دے دی گئی تو یہ بیماری کسی چھوت کی طرح پھیلتی جائے گی یہاں تک کہ ایک دن کارخانے بند ہوجائیں گے۔اس مریض کو ٹھیک کرنا اس حد تک ضروری ہوگیا ہے کہ اگر اس دوران اس کی شناخت آپریشن سے بھی بدلنا پڑے تو مضائقہ نہیں۔ فرد اگر اچھا ورکر نہیں بنتا تو اسے مکمل مشین سے بدل دو۔انسان کا داخلی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو انہیں خودکار آلہ بنا دیا جائے۔مشین کو کوئی وجودی بحران لاحق نہیں ہو سکتا۔اسی فائدہ کو سامنے رکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ دور جدید میں آرٹیفیشل ذہانت کی قدر کیوں بڑھتی جارہی ہے۔مشین ناصرف کارخانے میں بہترین کام کرتی ہے بلکہ نرخ اور مزدوری پر ہڑتال بھی نہیں کرتی۔ سیاسی میدان میں بھی ایسا ہی فرد چاہیے۔
لیکن سوال قائم ہے۔ کیا فرد کو شکست دی جا چکی ہے ؟
ہمارا جواب ہے کہ ابھی تک نہیں۔ شاید اس دن تک نہیں جب تک مشینیں مکمل طور پر ہماری جگہ نہ لے لیں۔

ہمارے داخل سے خدا دور کر دیا گیا لیکن ایک لامحدود تنہائی اب بھی ہمارے باطن کو بھرے رکھتی ہے۔ ہم سے حیات بعد الموت کی سرشاری چھین لی گئی تو کیا ، ہماری دنیا تو اب بھی لاچارگی اور وحشت سے اٹی پڑی ہے۔ مجھے مشین بنانے کا جو سفر دور جدید کی صبح سے شروع ہوا تھا اس کی منزل مجھے کمپیوٹر کوڈ بنانا ہے۔ابھی وہ منزل نہیں آئی۔ ابھی فرد باقی ہے۔ اپنے تمام مسائل اور سوالات کے ساتھ جن کا جواب دور جدید کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔ خوبصورتی ، اطمینان اورتکمیل کا اشتیاق آج بھی میری ذات کا حصہ ہیں۔ فرد کا وجود سائنسی مسئلہ سمجھ کر سلجھایا جاتا رہے لیکن میری ذات کے تاریک حصے میرے وجود کی گواہی ہیں۔ آج بھی مجھ میں کچھ ایسا ہے جو معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک یہ معلوم نہ ہو سکے میری ٹھیک ٹھیک پیمائش ممکن نہیں۔ اور تب تک میں مشین بھی نہیں بن سکتا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *