خان صاحب کا کھیل ختم ہوا۔ بچپن میں نیڈ فار سپیڈ میں ایک گاڑی اتنی آہستہ دوڑتی تھی کہ سکرین پہ موجود نقشے پہ بھی اس کا نشان باقی نہ رہتا تھا۔ ممکن ہے خان صاحب سیاسی نقشے سے یوں← مزید پڑھیے
میری نسل کے صحافیوں کے ذہن میں یہ سوچ شدت سے بٹھادی گئی ہے کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر تبصرہ آرائی سے ہر صورت گریز کیا جائے۔ مذکورہ روایت کا عادی ہوا یہ کالم نگار لہٰذا اس جرأت← مزید پڑھیے
ہٹلر نے جرمن نیشنل ازم کا نعرہ لگایا، جرمنی کو عظیم ترین ملک بنانے کا، اس نے نعرہ لگایا کہ اس کے سیاسی مخالفین کمزور، کرپٹ اور ملک کا نام ڈبونے والے ہیں۔
ہٹلر نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے مخالفیں کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا۔← مزید پڑھیے
آج جو کچھ پاکستان میں ہوا ہے جس طرح آئین کیساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے وہ پاکستان کیلئے بہت زیادہ بدقسمتی ہے آج پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے وہ عمران خان جو خود← مزید پڑھیے
عمران خان صاحب نے ورلڈ کپ جیتا تو فائنل جیت کر ٹرافی اٹھاتے ہوئے ایک لفظ کہا جس لفظ سے انکی ساری شخصیت اور اندازِ فکر ظاہر ہوا اور اس پر انہیں بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا یہ وہی لفظ تھا جس کے جواب میں مجھے میری منزل ملی تھی اور یہ وہی لفظ ہے جسکی وجہ سے آج اس قوم کی راہ کھوٹی ہے← مزید پڑھیے
پاکستان کی رنگ بدلتی سیاست میں لگتا ہے کہ پچھلے ایک ہفتہ سے جیسے ٹی۔20کرکٹ میچ چل رہا تھا۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لیڈران اراکین پارلیمنٹ کی تعداد اور عوام ہمہ تن گوش پارٹیوں کے اسکور پر نظر← مزید پڑھیے
عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا میں نے صدر پاکستان کو مراسلہ ارسال کردیا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کر دیں ، عمران خان کے خطاب کے چند لمحات بعد صدر عارف علوی نے وزیر اعظم کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی برخا ست کر دی ،← مزید پڑھیے
بہت سالوں کے بعد اتوار 3اپریل 2022ء کی صبح تقریباََ انوکھی محسوس ہوئی کیونکہ بستر سے اُٹھنے کے بعد میں یہ کالم لکھنے نہیں بیٹھ گیا۔ گزشتہ جمعہ کے دن قومی اسمبلی کے سپیکر نے اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم← مزید پڑھیے
اگر حالات نارمل رہے تو آج تحریکِ عدم اعتماد کا فیصلہ ہو جائے گا اور لگ بھگ 2 ماہ سے جاری ذہنی خلجان بھی دور ہو جائے گا۔ متحدہ اپوزیشن تو ماہِ جنوری سے ہی وزیرِاعظم کے خلاف عدم اعتماد← مزید پڑھیے
عمران خان کو اللہ نے بے پناہ مقبولیت سے نوازا مگر وہ سسٹم میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرسکے، باقی سابق حکمران بھی ایسے ہی ہیں، سسٹم کی تبدیلی کے لیے ہمارے ہاں کوئی لائحہ عمل یا آپشن← مزید پڑھیے
میرا آج کا شہریاراں، ان چھ، سات سیاسی، تجزیاتی کالموں کی سیریز کے حوالے سے ہے جو میں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں نواز لیگ کی شکست کے بعد لکھے۔ یہ وہ وقت تھا جب نواز لیگ نے پہلے← مزید پڑھیے
ضمیر کی آواز۔۔ علی انوار بنگڑ/ماضی قریب میں ایمپائر کی مدد سے حکومت گرانے والے آج اسی ایمپائر کے گروپ بدلنے پر سیخ پا ہیں اور تب جو حکومت گرانے کو جمہوریت کشی قرار دے رہے تھے، آج حکومت گرانے کو نیک عمل قرار دے رہے ہیں۔← مزید پڑھیے
گزشتہ رات عمران خان کے خطاب کا کچھ حصہ سنا، ایک ہفتہ پہلے کے خطاب اور حالیہ خطاب کا موازنہ کر لیجئے ایک ہفتہ پہلے خان صاحب بہت پُر امید نظر آ رہے تھے کہ وہ اپوزیشن اور عوام کو← مزید پڑھیے
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے سکیورٹی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ وزراعظم عمران خان پر حملے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ فواد چوہدری نے مزید بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کے بعد حکومتی← مزید پڑھیے
عمران خان صاحب اگر خود کو دورِ حاضر کا ذوالفقار علی بھٹو ثابت کرنے کو تلے بیٹھے ہیں تو مجھے اس پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں۔ مجھ جیسے “لفافہ” صحافیوں کو ویسے بھی تاریخ بنانے کو بے چین دلاوروں کے← مزید پڑھیے
پاکستان کی سیاسی صورتحال اس وقت ایک نہایت نازک موڑ سے گزر رہی ہے۔ میں پاکستان کی سیاست پر تبصرہ کرنے سے عموماً گریز کرتی ہوں۔ مگر آج کل سوشل میڈیا پہ ہر شخص تجزیہ کار بنا ہوا ہے۔ بھئ← مزید پڑھیے
ذلت رہ گئی تھی۔۔انعام رانا/وزیراعظم عمران خان کو بلاشبہ اللہ نے بہت نوازا۔ عزت شہرت اور پیسہ اور پھر ایک مرد کا خواب، مسلسل میسر حسن و چاہت۔ اسی لیے وہ اپنے جلسوں میں فخریہ اور بطور دلیل یہ کہتے ہیں کہ مجھے تو اللہ سب دے بیٹھا تھا میں تو عوام کیلئے سیاست میں آیا۔← مزید پڑھیے
علم سیاسیات سے علم نجوم تک، سب ماہرین یہی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے اقتدار کی کہانی ختم ہوچکی ہے اور کوئی معجزہ ہی ان کی حکومت بچاسکتا ہے۔ ہماری تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس سے← مزید پڑھیے
27مارچ 2022ء کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ عمران خان صاحب نے اپنے چاہنے والوں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ملک کے ہر شہر اور گائوں سے باہر نکل کرقافلوں کی صورت اسلام آباد پہنچیں۔← مزید پڑھیے
غیر مقید جمہوریت ۔۔قادر خان یوسف زئی/ وزیراعظم عمران خان کے خلاف صف بندی کا سر درد مرحلہ اپنے منطقی انجام میں داخل ہوچکا ہے ۔ جمہوری نظام اراکین کو یہ حق دے رہا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں ، وہیں یہی نظام انہیں اس حق سے روکتا بھی ہے کہ پارٹی پالیسی کے برخلاف کوئی نہیں جا سکتا← مزید پڑھیے