منطق کسی بھی استدلال کو پرکھنے کا علم ہے کہ کسی بھی معاملے میں اگر کوئی شخص کوئی دعویٰ کر رہا ہے یا اس کی دلیل دے رہا ہے تو وہ کتنی مضبوط اور مربوط ہے۔ منطق پڑھنے والوں کو← مزید پڑھیے
ہمارے پیارے دوست ندیم حیات گوندل صاحب مسکولر ڈسٹرافی کا شکار تھے۔ ندیم صاحب لمبے عرصے تک اپنے سارے کام خود ہی کر لیتے تھے۔ عمر کے ساتھ ساتھ مرض بڑھتا چلا گیا۔ زندگی کے آخری پندرہ سالوں میں نہ← مزید پڑھیے
یہ سن 2008 یا2009 کی بات ہے۔ بون یونیورسٹی میں ایک ساؤتھ ایشیا کانفرنس تھی۔ ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے یا بڑی تیزی سے اس جانب گامزن ہے۔ یونیورسٹی کا دور تھا، دماغ پر← مزید پڑھیے
فیمنسٹ خواتین کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ پاکستانی خواتین کے متعلق جو بھی بے بنیاد بات کریں گی تو وہ مان لی جائے گی ، کوئی جواب نہیں آئے گا ، ردِ عمل کی فضا قائم نہ ہو گی۔← مزید پڑھیے
اگر موجودہ حکومت واقعی آئین و قانون اور سول بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو پھر کچھ اقدام اس دعوے کے ثبوت میں بھی اٹھائے جانے چاہیے۔ جن لوگوں نے ظلم و جبر کے ماحول میں اپنے ذاتی مفادات کو← مزید پڑھیے
جب بھی کسی بینک جانا ہوتا ہے ہر بار یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ نجانے کیا ہوا ہمارے بینکرز اور ان کا عملہ یخ بستہ ماحول میں بیٹھے ہوئے بھی چہروں پہ اکتاہٹ لہجوں میں کڑواہٹ لئے ہوتے ہیں← مزید پڑھیے
“سائنس اور مذہب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ۔۔۔جب جہاں نئی شہادت میسر آئے گی، سائنسدان ایک لحظے کے توقف کے بغیر نظریے میں مناسب ترامیم کر ے گا۔۔۔اس کے مقابل مذہبی نظریات منجمد ہیں اور ان پر سوال کرنا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے وجائنا پر تالہ ڈالنے کے واقعات کے حوالے سے جو تحریر لکھی اُس میں انھوں نے ملتان، ژوب کے ساتھ ساتھ عورتوں کے ساتھ اس سلوک کی مثالیں قبائلی علاقوں میں پائے جانے کا زکر کرتے← مزید پڑھیے
کل سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی ایک تحریر پر بہت بات ہو رہی ہے ، ڈاکٹر طاہرہ ہمیشہ اچھوتے موضوعات پر قلم اٹھاتی ہیں جن پر عام طور پر دیگر لکھاری قلم اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔← مزید پڑھیے
جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مجھے علم ہے کہ آپ ملک کی سیاسی صورتحال و دیگر مسائل کی وجہ سے بہت مصروف ہیں لیکن میں آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم مسئلہ کی جانب← مزید پڑھیے
پانچ جولائی سے جنرل ضیاء الحق نے اپنی آمریت کا آغاز کیا۔ یہ سارا دورِ آمریت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس عہد وہ ہُوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ پانچ جولائی کو مارشل لا سے← مزید پڑھیے
برج حمل ، سیارہ مریخ، 21 مارچ سے 20 اپریل حالات کافی حد تک بہترہیں ۔ جس کام میں کافی عرصے سے رکاوٹ آرہی تھی،وہ آج ہوجائے گا ، آج کا دن مالی لحاظ سے بھی کافی اچھا رہے گا۔← مزید پڑھیے
گذشتہ کالم میں ہم نے 1984 میں گورنمنٹ ایم اے او کالج میں منعقد دانشوروں کے مذاکرے میں حضرت واصف علی واصفؒ کے ایک جملے ”پاکستان نور ہے، نور کو زوال نہیں“ کے سیاق و سباق پر سیر حاصل تبصرہ← مزید پڑھیے
شرکاء : احمد بلال، ثریا صدیق، مسلم انصاری پہلا حصّہ پڑھنے کے لیے لنک کھولیے ڈاکٹر حسن منظر اور لیو ٹالسٹائی/ ایک نشست، گفتگو اور مکالمہ/ جمع و ترتیب : مسلم انصاری آپ کا پچھلی نشست← مزید پڑھیے
یہ مضمون اقتباس ہے” اعظم معراج کی کتاب پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار” ( مجموعہ کتب)میں سے ۔ اٹھالیا اٹھالیا، دوستو یہ نعرہ ہماری رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں عام ہے، ہم میں سے اکثریت کے کانوں میں اکثر← مزید پڑھیے
ویسے تو میں سوانح حیات (memoir) پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی لیکن آج سے تین سال پہلے میں نے ایک نوجوان ڈاکٹر پول کلھانتی کی سوانح حیات “وین بریتھ بیکمس ایئر” (When Breath Becomes Air) کو نہ صرف پڑھا بلکہ← مزید پڑھیے
شاعری ایک تخفیفی (Reductionist) عمل ہے کہ اس میں ہر لفظ ایک نشان (sign) کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور کم سے کم الفاظ میں پوری بات کہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کسی شعر میں موجود ہر← مزید پڑھیے
زندگی محض سیکھنے اور آگے بڑھنے کا نام ہے، انسان حیوان چرند پرند سب زندگی کے ہر گزرتے پل کے ساتھ بس سیکھتے ہی رہتے ہیں اور جس پل انہیں زندگی گزارنے کے راز معلوم ہوجاتے ہیں اس پل انکی← مزید پڑھیے
ظہیر کی عمر پچپن سال تھی وہ گزشتہ کئی سال سے ٹرک ڈرائیوری کر رہا تھا اس کا خاندان گوشت کی ہڈیاں ایک فیکٹری کو ٹرک میں سپلائی کرتا تھا ۔ ایک حادثے میں ایک پاؤں سے لنگڑا ہوجانے کے← مزید پڑھیے