ڈاکٹر ستیہ پال آنند، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 4 )

آؤ ساتھ چلیں ،پکڑ کے ہاتھ ، کہ اگلا سفر طویل نہیں۔۔۔ناصر علی سیّد

اباسین آرٹس کونسل پشاور کی چھوٹی سی لائبریری میں ایک بڑی ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھاجسے تقریب بہر ملاقات کہنا زیادہ مناسب ہو گا،کیونکہ یہ تقریب امریکہ میں مقیم اردو،پنجابی ،ہندی اور انگریزی زبان کے ممتاز شاعر، افسانہ←  مزید پڑھیے

پاؤں پاؤں چلتے آؤ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چوبیس اپریل کو مجھے 89 برس کا ہو جانا ہے۔ کتنے دن ، مہینے، سال آج کے بعد زندہ رہوں گا، اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن اس دن کے لیے میں گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ایک بچے کی طرح←  مزید پڑھیے

اِسکیؔ کی سالگرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 یہ کہانی کوئی بیس برس پہلے لکھی گئی۔سب سے پہلے پاکستان کے ایک رسالے سے اٹھا کر اسے اردو اور ہندی کی روسی مصنفہ لُدمیلا نے روسی زبان میں ترجمہ کیا۔ہندی میں اسےکئی بار مختلف رسائل نے شامل ِاشاعت کیا۔←  مزید پڑھیے

پار سال کا باسی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آنسو بہا بہا کر آنکھیں سوکھ گئی تھیں۔ کھارے پانی کا ایک ریلا کئی دنوں سے اُمڈا چلا آ رہا تھا، لیکن آخری انتم ایک دن اور ایک رات تو قیامت کاطوفان اٹھا تھا اور میں ہسپتال میں انٹینسو کیئر←  مزید پڑھیے

کام دیو (کیوپڈ) کے تیر۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(روی شنکر کی ستار دُھنوں کے صوتی انسلاکات پر ایک نظم) برلن میوزک فیسٹیول میں ستار نواز روی شنکر کے لیے ایک ہال تین گھنٹوں کے لیے مخصوص تھا۔ اس عالمی شو میں اس بے بدل کلا کار نے صرف←  مزید پڑھیے

نظم کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کئی برس پہلےساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی ، واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئے ایک سیمینار (جس میں اردو کوبھی شامل کیا گیا تھا) میں پیش کردہ راقم الحروف کے مقالے کا پہلا حصہ۔ اس مضمون سےطوالت کے خوف سے اشاریہ اور←  مزید پڑھیے

قانون ِ باغبانیِ صحرا نوشتہ ایم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنے شکستہ جسم سے کہتا ہوں میں جھک کر باغ ِ ارم ہے، ایک خیاباں ہے یہ جہاں تو مرغزار زیست کا وہ مرزبان ہے جو ذوق وشوق و تاب وتواں میں تھا مستعد جس میں قرار تھا نہ تعطل←  مزید پڑھیے

نہیں نہیں، ابھی جانا نہیں مجھے اے مرگ۔(گزشتہ نظم “میں چلا جاؤں گا” کا عاقبتہ الامر)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں، ابھی اے مرگ ابھی سراپا عمل ہوں، مجھے ہیں کام بہت ابھی تو میری رگوں میں ہے تیز گام لہو ابھی تو معرکہ آرا ہوں ، بر سر ِ پیکار یہ ذوق و شوق ،←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب کے اشعار پر مبنی نظم کہانیاں بجوکا رسیدن ہائے منقار ہما بر استخواں غالب پس از عمرے بیادم داد کاوش ہائے مژگاں را ———– (1) آدمی شاید رہا ہو گا ، مگر اب ایک دھڑ تھا، ایک سر تھا←  مزید پڑھیے