ڈاکٹر ستیہ پال آنند، - ٹیگ

اس لمحے کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہے ارتفاق یا اقران یا اخوان الزماں کہ جس میں حاضر و موجود بھی ہیں زنگ آلود رواں دواں کو بھی دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ منقضی ہے، فراموش کردہ، ما معنیٰ اگر یہی ہے ، “رواں”، “حالیہ” اے←  مزید پڑھیے

صوتی محاکات پر استوار ایک شعری تاثر/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مدھم مدھم دھیرے دھیرے صحرا میں سورج کی آڑی ترچھی کرنیں نالاں ، شاکی اپنے ترچھے سایوں کی پسپائی پر اب سبک سبک کر اُلٹے پاؤں چلتے چلتے دور افق میں ڈوب گئی ہیں ایک نئی ہلکی ’ ’ سُر←  مزید پڑھیے

ملامتی ہوں/ڈاکٹر ستیہ پال

A Short Note​ about the poem MALAMATI …… ملامتی In 1982 while supervising a doctoral student’s work on the poetry of the Puritan period in England, I was so engrossed in the subject that I started my search for self-abnegating←  مزید پڑھیے

آؤ گائیں ذات کا نوحہ/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آؤ  گائیں ذات کا نوحہ دانتوں میں اک تنکا رکھ کر روتے روتے سوگ منائیں آؤ گائیں اشک بہائیں خود کو پُرسا دیں رک رک کر دیتے جائیں سبک سبک کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں دھاڑیں مار مار کر ٹھنڈے←  مزید پڑھیے

تاریخ کا اک نا نوشتہ باب ہوں میں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اس جگہ ڈوبا تھا میں۔۔۔ ہاں، تین چوتھائی صدی پہلے یہیں ڈوبا تھا میں آج بھی میں تہہ میں اپنی آنکھیں کھولے ایک ٹک تکتا ہوا اس آسماں کو دیکھتا ہوں جس میں بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا ایک لمحے←  مزید پڑھیے

دہلی میں ایک شام ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے نام۔۔سہیل انجم

سہ ماہی ادبی جریدہ ’ادب ساز‘ کے مدیر نصرت ظہیر کہتے ہیں: ’ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے فکر و فن کی تفہیم اردو ادب میں ان کی اس انفرادیت کے سبب بھی ضروری ہو جاتی ہے کہ پہلے انہوں نے←  مزید پڑھیے

آسمانی ایلچی سے ایک مکالمہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

انت ہے کیا اب ہمارا؟ ہم جو ناطق ہیں ، مگر حیواں بھی ہیں ؟ حالِ حاضر سے پسِ ِ فردا، بالاآخر؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاوں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لاحاصلی←  مزید پڑھیے

مانند اور بے مانند/ اقلیدس اور الجبراء۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کیسے ہو سکتے ہیں ’بے مانند‘ او ر ’مانند ‘۔۔ایک؟ ایک یعنی ایک جیسے؟ ہاں ۔۔مگر، اک دوسرے کی حدّ و ضد بھی میر و غالب کو ہی دیکھیں ذرا ۔۔۔پرکھیں کہ دونوں میں کہیں ّ”مانند” ہونے یا نہ ہونے←  مزید پڑھیے

بول کر بھی کیا کروں گا ؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گو مگو کی کیفیت محسوس ، نا محسوس، ہونے یا نہ ہونے کا اعادہ سوچنے اور کر نہ سکنے کا ہراس و وسوسہ ماضی کی دادیں بھول جانے کی سزا میرا مقدر تو نہیں تھا! میں کوئی دُشینت یا ہیملٹ←  مزید پڑھیے

نور کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​یہ نظم کئی برس پہلے لکھی گئی تھی ۔ بوجوہ مکمل نہ ہو سکی کہ مدرسہ ہائے تصوف کے بارے میں جن کتابوں کی مجھے ضرورت تھی وہ امریکا میں دستیاب نہیں تھیں۔چھ  سات علما کو ، پاکستان اور ہندوستان←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بطور نقاد-ایک ذاتی تاثر(دوم،آخری حصّہ )-ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ڈاکٹر نارنگ کا قلم تمام عمر متحرک رہا ہے ۔ ان کی کتابوں کا اگر بالاستیعاب مطالعہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایک موضوع پر انہوں نے خدا جانے کتنا وقت صرف کیا ہو گا۔ جس عر←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بطور نقاد-ایک ذاتی تاثر( حصّہ اوّل)-ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایک ذاتی تاثر گذشتہ صدی کی ۱۹۵۰ء  کی دہائی میں جب ابھی میں ایم اے (انگریزی ادبیات) کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا تو کئی بار یہ خیال ذہن میں جاگزیں ہوتا ہوا محسوس ہوتا تھا کہ انگریزی کی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 ​ڈاکٹر گو پی چند نارنگ اب نہیں رہے لیکن ان کی یاداشتیں جا بجا مییرے فیس بک کے صفحات پر بکھری پڑی ہیں۔ یہ تحریر ایک تقریر کا متن ہے جو امریکا اور کینیڈا کے فاصلے کو عبور کرتی ہوئی←  مزید پڑھیے

گیارہ سروں والا اک راونؔ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دس سر والے راونؔ کے کندھوں پر میں نے اپنا سر بھی ٹانک دیا ہے اب دیکھیں، گیارہ سر والے نئے نویلے شکتی مان راون کو ہرانے کون آئے گا؟ رامؔ بھلا کیسے کاٹے گا راون کے دس کے دس←  مزید پڑھیے

آگ کیسے لگی؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مرنے والے تو سب یوکرینی ہیں، لیکن کوئی یہ بتائے کہ یہ آگ اس ملک میں کس عدو نے لگائی۔۔۔کہ ہے کون جو پھوس کے ڈھیر پرتیل لحظہ بہ لحظ چھڑکتا چلا آ رہا ہے؟ مغربی طاقتوں نےیہ ترغیب دی←  مزید پڑھیے

کابل سے آئی ایک لڑکی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گذشتہ برس کی اس نظم نے کئی دوستوں کو رُلا دیا تھا۔ میں تو اسے بھول گیا تھا لیکن کابل سے آنے والی تاذہ ترین خبروں میں عورتوں کے حقوق کی پامالی اب برداشت کی حد سے آگے بڑھ چکی←  مزید پڑھیے

اصلی چہرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنے چہرے پر ’مکھوٹا‘ ِسا چڑھانا ایک جھوٹی شخصیت سب کو دکھانا یہ تھا میرا ’’ـچھُپ چھُپاؤ ـ ‘‘ کھیل بچپن کا جسے میں کھیلتا آیا ہوں اپنی عمر ساری (اپنی اصلی شخصیت کی راز داری) پھر ہوا کچھ یوں۔←  مزید پڑھیے

​ بانوےبرسوں کا یہ بوجھ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کھول یہ گانٹھوں بھری پوٹلی، اے ستیہ پال جانے کیا اس میں ہے پوشیدہ تری نظروں سے آج کا ’’کل‘‘ تو نہیں؟ ہو بھی تو مخفی ہی رہے کل‘‘ تو ’’ایمائی‘‘ ہے، ’’اَن دیکھا ‘ہے، ’در پردہ‘ہے’ ’ تُو، سر←  مزید پڑھیے

مجھ سے پھر مانگ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

فیض احمد فیض کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ مجھ سے پھر مانگ وہ پہلے سی محبت ، مری جاں انقلاب آنے میں تاخیر تو تھی قاف تا قاف اور ہم نے اسے بس ایک درہ سمجھا تھا فیضؔ←  مزید پڑھیے

کلکتہ کا سفر، چند حقائق۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

فکر فی نفسہ (۷)غالب : Short Notes jotted down in India House Library, London, in 1972-73 ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۰ کلکتے کا سفر اگست 26 کو شروع ہوا۔ فروری 28 کو وہاں پہنچ گئے۔ نومبر 29 کو واپس دِلّی پہنچے۔ (ڈاکٹر←  مزید پڑھیے