ڈاکٹر ستیہ پال آنند، - ٹیگ

آغا جی” سید امجد حسین”(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ان گنت خوبیوں کے مالک، لا تعداد گُنوں کی گُتھلی، بے مثال انسان اور بندہ پرور دوست، ڈاکٹر سید امجد حسین شاعر نہیں ہیں، افسانہ نگار نہیں ہیں، انشائیے نہیں لکھتے، لیکن جو کچھ بھی وہ لکھتے ہیں ان میں←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سلطنت دست بدست آئی ہے جام ِ مئے خاتم ِ جمشید نہیں ———- نوٹ۔مر زا غالب کے شعرکی تقطیع “فاعلاتن فعلاتن فعلن”سے ممکن ہے۔ میں نے اپنی جد ت طراز طبعیت کی تسکین کے لیے اس مکالمے میں بحرخفیف مسدس←  مزید پڑھیے

غالب کا ایک شعر اور اس کا منظوم تنقیدی جائزہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود کسے خبر ہے کہ واں جُنبش ِ قلم کیا ہے (غالب) —————— ستیہ پال آنند “لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود” حضور، “کوئی” سے آخر مر اد کیا ہے یہاں؟←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب۔۔ڈاکٹر ستیہ پا ل آنند

غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ِ ناسخؔ اپ بے بہرہ ہے جو معتقد ِ میر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو، غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند مدح میں←  مزید پڑھیے

گلزار کی ننھی منی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) انیس سو ساٹھ ستر کے عرصے میں فرانس میں “پتیت پوئمز” کی ایک تحریک شروع ہوئی، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سطروں پر مشتمل ایسی نظمیں پیش کی گئیں، جو نرم رو تھیں، صرف ایک استعارے کی مدد←  مزید پڑھیے

یہ میری آنکھ ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​آج آٹھ برسوں کے بعد مرحوم لطف الرحمن کا تحریر کر دہ ایک مضمون جو شاید انڈیا کے کسی رسالے اور الحمرا (لاہور) میں شامل اشاعت ہوا تھا، نظر سے گزرا۔ یہ مضمون اس قدر بلیغ تھا کہ میرے دل←  مزید پڑھیے

یہ بھی ہے انداز غزل کا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا دیکھ اپنا آئنہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پیکر ِ عشّاق ساز ِ طالع ِ ناساز ہے نالہ گویا گردش ِ سیارہ کی آواز ہے ——————- ستیہ پال آنند مت ہنسیں، اے بندہ پرور ، میرے استفسار پر جسم عاشق کا بھلا کیا اک سریلا ساز ہے جو←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب(مرزا غالب کے فارسی اشعار)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مرزا غالب کے دس فارسی اشعار پر دس نظموں میں سے ایک، جوعلم منطق کی تکنیک “ریدکتیو اید ابسرڈم” کے استعمال سے لکھی گئیں اور میری کتاب “میری منتخب نظمیں” میں شامل ہیں۔یہ کتاب کچھ برس پہلے شائع ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔←  مزید پڑھیے

بیاض ِ عمر کھولی ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سے دھنک کے سارے رنگوں میں مرے موئے قلم نے گُل فشانی سے کئی چہرے بنائے ہیں کئی گُلکاریاں کی ہیں لڑکپن کے شروع ِ نوجوانی کے بیاض ِ عمر کے←  مزید پڑھیے

رنگ اکثر بولتے ہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

لگ بھگ نصف صدی پہلے جب میں نے اردو میں “رن۔آن۔لائنز” کا چلن شروع کیا تو اس کی بھرپور مخالفت ہوئی۔ یہ کیسے ممکن ہے، کہا گیا،کہ کسی مصرع کو کھینچ تان کر اگلی سطر میں ضم کر دیا جائے۔←  مزید پڑھیے

کیڑا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(خواب میں خلق ہوئی ایک نظم) اپنے اندر اس طرح داخل ہوا وہ جیسے رستہ جانتا ہو جیسے اس بھورے خلا کی ساری پرتوں کو کئی صدیوں سے وہ پہچانتا ہو اپنے اندر دور تک جانے کی کیا جلدی ہے←  مزید پڑھیے

ماریشیس کے ساحل پر ​لایعنیت کی شاعری کا ایک نمونہ Absurd Poetry۔۔۔۔ڈاکٹرستیہ پال آنند

ایک لڑکا سر کے بل ایسے کھڑا ہے نرم گیلی ریت پر جیسے اسے آکاش کی اونچائی میں پانی سمندر کی اتھاہ گہرائی میں آکاش ساحل پر کھڑےلوگوں کے جمگھٹ سب کو اُلٹا دیکھنا ہے۔ آتے جاتے لوگ اس کے←  مزید پڑھیے

ستیہ پال صاحب کی ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ کچھ گزارشات۔۔فیصل عظیم

ستیہ پال صاحب کی خودنوشت ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ پڑھنے کے بعد میں نے اس پر ایک مضمون لکھنا شروع کیا تھامگر وہ اتفاق سے مکمل نہیں ہوسکا۔ ستیہ پال صاحب کی ۸۹ ویں سالگرہ پہ مبارکباد کے ساتھ کچھ←  مزید پڑھیے

آؤ ساتھ چلیں ،پکڑ کے ہاتھ ، کہ اگلا سفر طویل نہیں۔۔۔ناصر علی سیّد

اباسین آرٹس کونسل پشاور کی چھوٹی سی لائبریری میں ایک بڑی ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھاجسے تقریب بہر ملاقات کہنا زیادہ مناسب ہو گا،کیونکہ یہ تقریب امریکہ میں مقیم اردو،پنجابی ،ہندی اور انگریزی زبان کے ممتاز شاعر، افسانہ←  مزید پڑھیے

پاؤں پاؤں چلتے آؤ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چوبیس اپریل کو مجھے 89 برس کا ہو جانا ہے۔ کتنے دن ، مہینے، سال آج کے بعد زندہ رہوں گا، اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن اس دن کے لیے میں گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ایک بچے کی طرح←  مزید پڑھیے

اِسکیؔ کی سالگرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 یہ کہانی کوئی بیس برس پہلے لکھی گئی۔سب سے پہلے پاکستان کے ایک رسالے سے اٹھا کر اسے اردو اور ہندی کی روسی مصنفہ لُدمیلا نے روسی زبان میں ترجمہ کیا۔ہندی میں اسےکئی بار مختلف رسائل نے شامل ِاشاعت کیا۔←  مزید پڑھیے

پار سال کا باسی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آنسو بہا بہا کر آنکھیں سوکھ گئی تھیں۔ کھارے پانی کا ایک ریلا کئی دنوں سے اُمڈا چلا آ رہا تھا، لیکن آخری انتم ایک دن اور ایک رات تو قیامت کاطوفان اٹھا تھا اور میں ہسپتال میں انٹینسو کیئر←  مزید پڑھیے

کام دیو (کیوپڈ) کے تیر۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(روی شنکر کی ستار دُھنوں کے صوتی انسلاکات پر ایک نظم) برلن میوزک فیسٹیول میں ستار نواز روی شنکر کے لیے ایک ہال تین گھنٹوں کے لیے مخصوص تھا۔ اس عالمی شو میں اس بے بدل کلا کار نے صرف←  مزید پڑھیے

نظم کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کئی برس پہلےساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی ، واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئے ایک سیمینار (جس میں اردو کوبھی شامل کیا گیا تھا) میں پیش کردہ راقم الحروف کے مقالے کا پہلا حصہ۔ اس مضمون سےطوالت کے خوف سے اشاریہ اور←  مزید پڑھیے