• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ستیہ پال صاحب کی ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ کچھ گزارشات۔۔فیصل عظیم

ستیہ پال صاحب کی ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ کچھ گزارشات۔۔فیصل عظیم

ستیہ پال صاحب کی خودنوشت ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ پڑھنے کے بعد میں نے اس پر ایک مضمون لکھنا شروع کیا تھامگر وہ اتفاق سے مکمل نہیں ہوسکا۔ ستیہ پال صاحب کی ۸۹ ویں سالگرہ پہ مبارکباد کے ساتھ کچھ لکھنے کا موقع آیا تو اسی مضمون کا خیال آیا جو میری طرح نامکمل ہے، سو اپنی طرح ہی کچھ اقتباسات جستہ جستہ اس مضمون سے پیش کر رہا ہوں۔ بے ترتیب اور غیر مسلسل لگنے کی وجہ وہی ہے جو اوپر بیان کی ہے۔ چونکہ یہ تحریر کئی سال پہلے کی ہے، میں نے جب بھی یہ مضمون دوبارہ لکھا یا مکمّل کیا تو یقیناً اس کی شکل کچھ مختلف ہوگی۔

یہ کتھا جو ’’خودنوشت‘‘ سے شروع ہوتی ہے، ادبی مباحث اور علمی گفتگو سے ہوتی ہوئی اس مقام پر جا ٹھہرتی ہے جہاں محفل برخاست ہوتی ہے اور لوگ (وہ بھی جن سے دورانِ محفل بات نہ ہوئی ہو) ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کی رسم ادا کر کے اپنے اپنے گھر کو چل دیتے ہیں۔ ابتدا میں یہ یادداشتیں کہانی کا سا لطف دیتی ہیں اور فکشن معلوم ہوتی ہیں یہاں تک کہ ایک چھوٹے سے بچے کی کھلونوں، گھر اور اس کی چیزوں سے گفتگو عجیب لگتی ہے بلکہ تکلف برطرف، ہضم ہی نہیں ہوتی کیونکہ یہ افسانہ تو نہیں مگر آگے چل کر اس بچے کا ذہنی ارتقا اس کے بچپن کی پختگی کا بھرپور جواز بن کر سامنے آتا ہے اور یقین آجاتا ہے کہ وہ سب فکشن نہیں تھا۔ پھر تحریر ایسی رواں اور دلچسپ ہے جیسے کسی ناول کے اقتباسات ہوں اور اس سے زیادہ مزہ اس وقت آتا ہے جب یادداشتیں ادبی مسائل اور تنقید کے راستے پر چل پڑتی ہیں۔ میں نے اس کتاب کے بیشتر حصے کو تنقیدی مضامین کے طور پر پڑھا اور اس سے بہت کچھ سیکھا مگر جہاں ستیہ پال آنند صاحب چٹکی لیتے کہ یہ تو یادداشتیں ہیں تو میں چونک پڑتا۔ اس کتھا میں عالمی ادب، اردو پر اس کے اثرات (یا نہ پڑ سکنے والے اثرات)، نظریات، تحریکوں وغیرہ کی دستاویزی اہمیت جن کی وجہ سے اس کا شمار شاید خودنوشت سے بڑھ کر زبان و ادب کے زمرے میں ہو۔

اس کتاب میں نظم میں ’’میں‘‘ کے استعمال پر جو لکھا گیا ہے (صفحہ ۳۳۵) وہ خود میرے لئے معمّہ رہا ہے اور اسے میں ایک اور بحث سے جوڑنا چاہوں گا کہ لکھنے والا اپنے کردار کی سوچ اور اس کے دل کی بات بتا سکتا ہے یا نہیں۔ دیکھیے جب کوئی افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نویس ایک ہی افسانے، ناول یا ڈرامے میں کئی کردار تخلیق کرتا ہے، ان سب کی طرف سے سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے، بولتا ہے، دیکھتا ہے، سنتا ہے۔ ہر دفعہ وہ ’’میں‘‘ اس کے اندر کا شخص تو نہیں ہوتا ورنہ کہانی، کہانی ہی نہ بن سکے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لکھنے والا بیک وقت صنعت کار، مزدور، دکاندار، گاہک، کسان، جاگیردار، اس کی بیوی، بیٹی، بیٹا، استاد، پڑھی لکھی لڑکی، طوائف وغیرہ سب ہو! لیکن بہرحال کہانی کار یہ سب بنتا ہے جبھی تو ان سب کی نفسیات اپنی کہانی میں سمو دیتا ہے، ان سب کے دلوں کا حال بتا دیتا ہے، سب کی طرف سے وہ کہتا اور کرتا ہے جو وہ کردار سوچتے، چاہتے یا کرسکتے ہیں۔ تو جب یہ سب ہوتا ہے تو پھر نظم کہنے (یا لکھنے) والا (شاعر) ضرورت پڑنے پر اپنی نظم کے موضوع، جو کوئی کردار بھی ہو سکتا ہےیا کسی اور شکل میں وہ خود بھی ہو سکتا ہے، کے دل کا حال کیوں نہیں کہہ سکتا، اس کی طرف سے کیوں نہیں سوچ سکتا، وہ کیوں صرف اپنے دل یا دماغ ہی تک محدود ہوگا؟ اپنے اردگرد کی کہانی یا کسی اسطورہ یا قصّے میں ڈوب کرکوئی اور کردار بن کر باہر نکلتا ہے اور نظم کہتا ہے، اس کردار کی طرف سے سوچتا اور بولتا ہے تب وہ ’’میں‘‘ اس کردار سے باہر آکر اس کے دل کی، سوچ کی ترجمانی کیوں نہیں کر سکتا؟ اگر نثرنگار کردار کا ’’میں‘‘ بن کر سوچ سکتا ہے یا ’’اس‘‘ کی سوچ لکھ سکتا ہے تو شاعر بھی تو ’’میں‘‘ بنے بغیر ’’اس‘‘ کے دل، اس کی سوچ کے بارے میں لکھ سکتا ہے ور اگر نہیں تو آخر کیوں نہیں؟ یہ تنگنائے نظم کس لیے؟ افسانہ، ناول اور ڈرامہ نگار یہ حق لے کر پیدا ہوتا ہے تو شاعر پر قدغن کیوں جبکہ میرے خیال میں شاعر نثرنگار سے زیادہ آزاد ہوتا ہے۔ تو پھر اگر شاعر کو یہ حق ہے تو وہ بھی اس کردار کو کبھی ’’میں‘‘ کی طرح دیکھ کر اور کبھی ’’اس‘‘ کی طرح دیکھ کر اپنے قلم کی گرفت سے اس کے اندر کی بات باہر کیوں نہیں لاسکتا جبکہ اس کا اسلوب یا مضمون اس کے ساتھ انصاف کرے؟

ایک جگہ ’’کون کہہ رہا ہے‘‘ اور ’’کیا کہہ رہا ہے‘‘ کے بارے میں جو انھوں نے لکھا ہے میں اس بارے میں یہ ضرور کہوں گا کہ ’’کیا کہہ رہا ہے‘‘ اصولاً تو بنیادی بات ہے اور اس کا ہر طرح جواز بھی ہے مگر عملاً ’’کون کہہ رہا ہے‘‘ ہی کی اہمیت دیکھی گئی ہے اور یہ بات صرف مذہب تک محدود نہیں۔ رسول کی باتیں تو ’’کون‘‘ کے اصول پر پرکھی جاتی ہیں مگر دانشور اور عالم بھی اسی اصول پر کاربند رہتے ہیں۔ کیا تاریخ اور ادب میں کچھ اور ہوتا ہے؟ میں نے تو نہیں دیکھا۔ سائنس کی بات اور ہے۔ باقی سب کی سائنس اور ہے۔ مثلاً بڑا لکھنے والا جب کوئی ضابطہ دانستہ توڑے تو اس کا جواز ڈھونڈا جاتا ہے اور اسے سند تک مان لیا جاتا ہے۔ استاد شاعر کا استعمال کیا ہوا لفظ غلط العام سے ایک ہی جست میں مستند ہو جاتا ہے۔ ’’اقوالِ زریں‘‘ کے ذیل میں عام آدمی کی کہی ہوئی باتیں نہیں ہوا کرتیں، مشہور لوگوں کی باتیں ہوتی ہیں چاہے بات کتنی ہی عام سی ہو۔ اسی طرح ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ ہم اس سے زیادہ جذبے کے ساتھ دوسروں کے گریبانوں میں جھانکتے ہیں اور جب کوئی بدنام یا عوام الناس کی نظر میں کمزور کردار والا شخص کسی کے کردار پہ کیچڑ اچھالے تو کیا ہم سب یہ نہیں دیکھتے کہ کون کہہ رہا ہے (بشرطیکہ اس کی بات آپ کے نظریات یا پسند کے خلاف ہو)۔ جنھیں آپ قوم یا ملک کا غدّار یا سامراج کا ایجنٹ کہتے ہیں، ان کی بات کو آپ کیا اہمیت دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
عصری ادب کے تناظر میں انھوں نے مزاحمتی ادب پر جو سوال اٹھایا ہے اور جس طرح ویتنام کی جنگ کے خلاف لکھے گئے ادب پاروں کو سمیٹ کر ایک ڈبیہ میں بند کیا ہے اس سے اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ شاید مزاحمتی ادب کے نام پر کی گئی وہ شاعری جس نے ’’ای بی وائٹ‘‘ کے قول کے برخلاف ’’پردہ کھولا نہیں ہٹا دیا ہے‘‘ (کتاب: ’’وَن مینز میٹ‘‘ اور ستیہ پال آنند کی کتاب ’’ڈریم ویور‘‘ کا پیش لفظ) اِسی طرح کسی چھوٹی سی ڈبیہ میں بند ہو جائے، مگر جس نے ’’نقاب‘‘ کی لاج رکھی وہ شاید وقت کے ساتھ زندہ رہے۔

گلزار کی شاعری کی بات کرتے ہوئے اور اپنی شاعری سے موازنہ کرتے ہوئے جو کچھ انھوں نے لکھا ہے، وہ وہی لکھ سکتے ہیں کیونکہ عموماً ہم لوگ اپنی ایسی ’’خصوصیات‘‘ کو چادر کے نیچے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں دست بستہ ایک گستاخی کرتا چلوں اور یہ لکھنے کی جرأت کرلوں کہ وہ (خود ان کے الفاظ میں) ’’اپنے امیجز کو آل انکلوزو بناتے ہوئے‘‘ یا بھرپور کرتے ہوئے کبھی کبھار نظم کے احساس کو خاصہ انٹلکچوئلائز بھی کر دیتے ہیں جو شاعر، بحیثیت دانشور ضرور کر سکتا ہے مگر پھر انہیں غالبؔ سے اسی بات کا شکوہ بھی ہے (جملۃ معترضہ پر ستیہ پال صاحب سے معذرت)۔

غزل کے بارے میں ستیہ پال صاحب کے خیالات سے سب بخوبی واقف ہیں ۔ یہاں غزل کے مروجہ موضوعات، استعاروں، ترکیبوں، زبان اور تکنیک کے کئی پہلوؤں پر بات کی گئی ہے جن سے غزل کی تنگی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر یہ سب پڑھ کر، اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اتنی بندشوں اور قیود کے ساتھ دیگر اصناف کے مقابلے میں غزل میں بڑی شاعری کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ بہرحال ہمیں غزل کے معاملے میں مقابلے، دفاع ، روایت سے تعلق، محبت اور دیگر جذبات کو ایک طرف رکھ کر سنجیدہ گفتگو کرنا چاہیے اور یہاں غزل کے بارے میں جو لکھا گیا ہے، اس پر غور ضرور کرنا چاہیے۔غزل ہمارے مزاج میں اتنی رچی بسی ہے کہ غزل کے شعر اور مصرعے ضرب المثل بلکہ محاورے کی طرح استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں غزل آسانی سے جانے والی تو ہرگز نہیں مگر ’’آنے والی غزل‘‘ کی بات اور ہے، یعنی جو پیدا ہو چکا، وہ تو آنکھ کا تارا ہے مگر اب خاندانی منصوبہ بندی کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔۔۔ اس لئے کہ ہم غزل بہت تناسب سے کہیں زیادہ کہہ رہے ہیں ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں شاعری میں اگر غزل کی پھوار چاہیے تو ہم اس کی جگہ پورا سیلاب لے آتے ہیں۔ اس پر ایک بات اور یاد آگئی۔ ایک دفعہ مجنوں صاحب سے (جو غزل کے خلاف نہیں تھے بلکہ غزل کو گالی دینے والوں پہ بہت ناراض ہوتے تھے) شاعری اور شاعروں کی بہتات  کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ شاعری بند کیسے کی جائے تو انہوں نے کہا ’’شاعری بند نہ کیجیے مشاعرے بند کیجیے‘‘ (روزنامہ مشرق ٗ ادبی صفحہٗ ۲۰ اپریل ۱۹۸۵) غور کریں تو بات اسی طرف جا رہی ہے۔ غزل سے نسلی، جذباتی اور تخلیقی وابستگی رکھنے والے کو اتنا لکھنے کا تو حق ہے، یا نہیں

کینیڈا کے دوستوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اطہر رضوی صاحب کی پوشیدہ وادی کے تہہ خانے کا ذکر کیا ہے۔ میں نے بھی ایک دفعہ اطہر رضوی صاحب کے مشاعرے میں یہی ترجمہ کر کے’’تہہ خانے‘‘اپنی غزل میں استعمال کیا تھا تو انھیں اچھا نہیں لگا تھا، پتہ نہیں اب ستیہ پال صاحب کی کتاب میں پڑھ کر وہ کس انداز سے مسکرائے ہوں گے۔ اسی طرح ایک لفظ جو اس کتاب میں بار بار آیا وہ ہے ’’لکھاری‘‘۔ یہ لفظ کہیں پوری سنجیدگی سے استعمال ہوا ہے اور کہیں طنز کے طور پہ (صفحہ ۱۱۰) ساتھ میں ’’قلم گھسائی‘‘ بھی کہیں کہیں آگیا ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ اس پر فیس بک پر ایک بحث چلی تھی سو اب ستیہ پال صاحب نے اسے جس جس طرح استعمال کیا ہے، شاید انہیں اسے قبول کرنے پر اعتراض نہیں ہے یا شاید انھوں نے بساط بچھا کر چھوڑ دی ہے کہ صلائے عام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’کسی نوجوان نے مجھ سے کچھ سیکھا بھی ہے کہ نہیں‘‘ تو اوروں کا کیا ذکر جب میں خود ان سے فیض اٹھانے والوں میں شامل ہوں، یہ اور بات کہ میری نالائقی کی وجہ سے ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ چند باتیں یاد آرہی ہیں لکھتا چلوں ۔ ۔ وہ جب کینیڈا آتے ہیں میں قدم بوسی کے لئے جاتا ہوں اور کچھ نیا سناتا ہوں پھر ان کے تاثرات سے ذہن کی گرہیں کھولتا رہتا ہوں۔ مثلاً میں نے بعض نظموں میں بحر کو مصرعوں (یا سطروں) میں تقسیم ہونے دیا ہے، ایک بار ستیہ پال صاحب نے ایسی ہی ایک نظم کو تقطیع کی بنیاد پر عروض کی غلطی کہا تھا، میں تب سے بے چین تھا کہ جب آزاد نظم اور رن آن لائنز کی بات ہو رہی ہے تو اس قید کا کیا مطلب مگر ان سے براہِ راست پوچھا نہیں تھا لہٰذا ۲۰۱۳ میں جب وہ یہاں آئے تو آخر میں نے پوچھ ہی لیا۔ انھوں نے سمجھایا کہ ایسا کر تو سکتے ہو مگر کیا نہیں جاتا پھر میری ضد پر کہا کہ ٹھیک ہے لکھو مگر ’’ای ای کمنگز‘‘ کے طرزِ تحریر کا حوالہ دے کر (جس نے اسی طرح کی انگریزی نظمیں لکھی تھیں) کہیں چھپوا کر دیکھ لو قبول کی بھی جاتی ہے یا نہیں۔ اب قبول ہو یا نہیں، بہرحال میری الجھن تو دور ہو گئی کہ معاملہ صحیح غلط کے بجائے قبول و رد کا ہے۔ بلکہ اسی کتاب میں ایک نظم ’’میں ٹریسیاز تو نہیں‘‘ میں سطر کو بحر کی خاطر کچھ یوں توڑا گیا ہے:
یا کوئی ایسا فرض جو قدرت
سے مرے جسم کو ودیعت ہے؟
تو سوال ہے کہ یوں سطر کو بحروں میں بانٹنا، کیا بحر کو سطروں میں بانٹنے سے بہتر ہے؟

اسی طرح ایک دفعہ انھوں نے کہا کہ فلاں صاحب شاعری پر بات کرتے ہوئے ’’شاعری‘‘ کے بجائے صرف لفظ ’’شعر‘‘ استعمال کر رہے تھے۔ اس بات پر تو پہلے کبھی میں نے بھی توجہ نہیں دی تھی مگر اس سے بحث کے کچھ اور در وا ہوئے۔ سیکھنے کے واقعات اور بھی ہیں مگر موضوع تو ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ ہے۔ ایک بات اور کہ میں ان سے ملنے ورجینیا گیا تو انھوں نے اپنے پاس موجود کتابوں میں  سے مجھے موقع دیا کہ ان میں سے کچھ کتابیں اپنی پسند کی ساتھ لے جاؤں، سو وہ ایسا تحفہ تھا جس کا شکریہ میں ہمیشہ ادا کرتا رہوں گا۔
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مجموعی طور پہ ’’کتھا چار جنموں کی‘‘کے مندرجات میں علم اور تجربے کا ایسا نچوڑ ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کے ساتھ انہی کی تکونی نظم کے صوفی اور سائنسدان دونوں کا سا رویّہ اختیار کیا جائے۔ ستیہ پال صاحب نے اس کتاب میں وعدے اور دعوے کے مطابق ذاتی واقعات کو ادبی واقعات پر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ اسے سوانح عمری سے زیادہ ادب پارے کی شکل دی ہے اور یہ بڑی بات ہے کہ وہ اسے ذاتی زندگی کا البم بنانے سے بچ کر نکل گئے۔ یہ آسان نہیں ہوتا۔ بات یہ ہے کہ اگر ان کی باتیں کسی کی برداشت سے زیادہ کڑوی ہوں بھی یا اختلاف کی نوعیت سنگین ہو بھی تو جس نے عمر بھر اتنا کام کیا ہو اسے ہر طرح کی بات کرنے کا حق بھی خود بخود مل جاتا ہے، تو یہ حق استعمال کرنے دیجیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *