کیڑا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(خواب میں خلق ہوئی ایک نظم)

اپنے اندر اس طرح داخل ہوا وہ
جیسے رستہ جانتا ہو
جیسے اس بھورے خلا کی
ساری پرتوں کو کئی صدیوں سے وہ پہچانتا ہو
اپنے اندر دور تک جانے کی کیا جلدی ہے مجھ کو؟
اس نے خود سے پوچھ کر مونچھوں کو اپنی بل دیا
اور ہاتھ سے طرّے کو کچھ اونچا کیا۔۔
پھر خود سے بولا۔۔
مرد بچہ ہوں، مجھے جانا ہی ہو گا
کون ہوں میں؟ بیج میرا کیا ہے؟ کس دھرتی سے میں پیدا ہوا ہوں؟
آج مجھ کو جاننا ہو گاکو میری بیخ کیا ہے ۔۔
روک مت مجھ کو،
مری بیمار نبضوں کے مسیحا، ذہن میرے

گندمی رنگت کی ہلکی دھند یکدم
چھٹ گئی تو ایک منظر سامنے تھا
کلبلاتے لاکھوں کیڑے
تیرتے گدلی سی نالی میں، دُمیں اپنی ہلاتے
دوڑ میں مصروف آگے بڑھ رہے تھے

کون تھے یہ؟

تیز رو اس قافلے کا وہ بھی شاید اک اکیلا فرد ہی تھا
دوسروں جیسا، مگر ممتاز سب سے
میرے بچنے کا یہی اک راستہ ہے ۔۔
دوڑ میں اوّل رہوں میں
اور منزل پر پہنچ کر
باقیوں کے واسطے حجرے کا رستہ بند کر دوں

وہ بہت تیزی سے آگے۔۔ اور آگے۔۔ اور آگے
تیر کر منزل پہ پہنچا
۔۔۔۔۔۔۔

’’کھول آنکھیں! ایک ہی لمحے میں ساری زندگی دیکھے گا کیا تو؟‘‘
کوئی اس سے کہہ رہا تھا
موت کا اندھا فرشتہ ہی تھا شاید

اور کیا کچھ دیکھنا باقی بچا ہے؟
تیرتا، اک گندی نالی میں، فقط کیڑا تھا میں
۔۔۔اب جانتا ہوں
یہ میری بنیاد تھی
اسفل ، اقل، موری کا کیڑا
اب میں اپنی بیخ کو پہچانتا ہوں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشفاق حسین کی نظمیں

اردو شاعری میں فی زمانہ تین صدیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔جہاں کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور چبے چبائے ہوئے نوالوں سے رقم روایتی غزل کا دور دورہ ہے،جو اپنے ٹھس پن، برودت اورغیر اثر پذیر طریق کار کی وجہ سے اردو شاعری کا قبیح منظر نامہ پیش کرتی ہے، وہاں نئی غزل بھی ہے اور نئی نظم بھی جو اس منظر نامے میں رنگ اور آہنگ بھر رہی ہے۔ کیاان دونوں کے مابین کسی ایسی صنف کی تلاش کی جا سکتی ہے جو دونوں سے مستعار جمعیت، اور رواقیت کے علاوہ لا ابالی پن یااعصابی حساسیت سے بھی علاقہ رکھے اور عقل و دانش کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دے۔۔۔۔ شاید نہیں، کیونکہ نثری نظم، باوجودیکہ چوتھائی صدی سے زیادہ تک اکثرو بیشتر رسائل میں نظر آتی رہی ہے،ابھی تک اپنی جگہ کا تعین نہیں کر سکی ۔

اشفاق حسین کی ان نظموں میں ایک طرف توجہاں( شخصی کم اور غیر شخصی زیادہ) تجربات اور انسانی رشتوں کے سلسلۂ امکانات کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے ایک معصوم زاویۂ نگاہ موجود ہے، وہاں کچھ ایسے عینی خصائص بھی ہیں جو جذبات سے کچھ آگے بڑھ کر ان کو دانش و فہم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔یہ خصائص ایک ایسے معاشرے میں زندہ رہنے کی قیمت ادا کرتے ہیں، جس میں انسان کی وقعت ایک کل پرزے سے زیادہ نہیں ہے۔ جس میں نہ صرف کفن اوڑھ کر جینا پڑتا ہے بلکہ ایک مرگ ناگہانی کے لیے ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔

ایسے شعرا تو بہت ہیں جو تمثال، تشبیہہ، استعارہ یا علامت کا سہارا لیے بغیر ’سامنے کے الفاظ ‘ میں اس صورت حال کو اپنے شعری انداز میں پیش کریں لیکن فینتاسی fantasy کے فارمیٹ میں بہت کم لوگوں نے اسے پیش کرنے کی جرآت کی ہے۔کچھ نظموں میں شاعر نے اس جدت کا بطور خاص التزام برتنے کی کامیاب سعی کی ہے کہ بیرونی پیکریت سے ہٹ کر امعائی، مکنون و مکتوم اظہاریہ کی صورت میں ایسی منظر کشی کی ہے جو ایک کیکمارڈر کی frame by frame تصاویر کا سلسلہ دکھائی دے۔ اس میں وہ بے حد کامیاب ہیں۔بسا اوقات ایسا بھی محسوس ہوتا ہے جیسے لفظوں کی بندش میں ایک خاص قسم کی تازہ کاری ہے جو نثری نظم کے فارمیٹ میں نئی تشکیلات کی نشاندہی کرتی ہے۔ نئے تراشیدہ تلازموں، نئی ترکیبات اور استعاروں کی بافت میں نئی جیومیٹریکل اشکال کا نظام اسے ایک نیا پیرہن بخشتا ہے۔

اشفاق حسین کے اس مجموعے میں وہ سب کچھ موجود ہے، جس کا پیش لفظ لکھنے سے پہلے میں اس کی تمنا کر تا ہوں کہ مبادا مجھے جھوٹ بولنا پڑے ۔ شعور و آگہی کی سطح پر وہ ادراک جو تمام حصوں کو بیدار کر دیتا ہے، تمثال کاری جو ڈرامائی منظر ناموں سے تشکیل پاتی ہے، فکری عمق جس کے پیچھے ایک عمر کی علمی اور فنی ریاضت ہے، احساس جو جذبے سے مملووہ دھڑکتا ہوا تخلیقی وفورہے جو سب گرم سرد لمحوں کو اپنی شعری نبض پر ٹک ٹک کی آواز سے محسوس کرتا ہوا چلتا ہے۔۔۔۔اور زبان و بیان کی چاشنی میں کہیں کہیں ابھرتی ہوئی تلخی جو ایک اچھوتا ذائقہ دیتی ہے۔۔۔ یہ سب کچھ بقدر ِ احسن موجود ہے۔ ہر نظم اپنے موضوع کی مناسبت سے جہاں سنجیدگی ، عمق اور فنی پختگی کا پتہ دیتی ہے، وہاں معنوی پہلو داری، لسانی امتیازات اور لب و لہجہ کی ندرت کا بھی احساس دلاتی ہے۔

بر خلاف اس کے کہ قاری ان ترکیبوں، اصطلاحوں،اور اس سے آگے بڑھ کر فلسفہ اور منطق سے مملو اس فارسی آمیز اسلوب ِ بیان سے نبرد آزما ہوتا رہے ، جو عروض میں ’’ـفِٹ‘‘بٹھاتے بٹھاتے شاعر کی اپنی سمجھ سے بھی بالا تر ہو گیا ہے، نثری نظم میں موضوع اپنی شناخت قائم رکھتا ہے۔ کوئی بھی شا عر نثری نظم کے فارمیٹ میں نسبتاً آسان زبان میں بیان کیے گئے تھیسز  کو پھیلا کر قاری سے ’ہم کلام ‘ہوسکتا ہے۔ قاری کو متن سے مصافحہ کرنے میں کوئی دقت نہیں پیش آتی اس لیے کہ یہ صنف بنیادی طور پر خود آگہی اور اظہار ذات سے عبارت ہے ۔۔۔گویا مصنف اور قاری’ ’ایک ہی صفحے پر ہیں‘‘۔

غزل سے چل کر آزاد نظم تک اور پھر وہاں سے نثری نظم تک ۔۔۔۔ اشفاق حسین کی شاعری کا یہ منظر نامہ عجیب و غریب بھی ہے اور یہ بھی باورکرواتا ہے کہ کلاسیکی اردو شاعری اُن جیسے کسی بھی ’’آگاہ‘‘ شاعر کے نطق و قلم سے لسانی اور اظہاری امتیازات کے ساتھ نثری شاعری بن کر بھی وارد ہو سکتی ہے۔ سوچ اور فکر شاعر کو اگر مہمیز کر تی ہے تو اُس میلان اور جھکاؤ  بھی طے کر دیتی ہے جو اُس کے لیے موزوں ہے۔۔ کچھ مضامین اس نوعیت کے ہوتے ہیں، جنہیں ان کے جبلی، وجدانی اور قدرتی خصائص صرف اور صرف نثر ی نظم کے لیے ہی مخصوص کر دیتے ہیں، یہ نہیں
کہ ان پر پابند اور آزاد نظمیں نہیں لکھی جا سکتیں، مگر جو اثر پذیری، حساسیت اور نفاست انہیں اس صنف سے مل سکتی ہے، وہ شاید پابند یا آزاد نظم میں قافیہ بندی تک ہی محدود رہ جائے یا غیر اثر پذیر اور سرد مزاج ثابت ہو۔

ہندوستان کے دیگر ادیبوں کی طرح’بلبل ہزار داستان‘ سارا شگفتہ سے میری بھی خط و کتابت تھی۔ (ہمارا تعارف امروز اور امرتا  پریتم کی وساطت سے ہوا تھا) ۔ اس کی یہ تحریر نا صرف پڑھنے ، بلکہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔

شاعری جھنکار نہیں جو تال پرناچتی رہے، گیا وقت ، جب خواجہ سرا ٹوٹی کمان ہوتے تھے ، اور موت پر تالیاں پیٹا کرتے تھے،پازیب پہن کر میدان میں نہیں بھاگ سکتے، یہ کہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہے ،غار میں چنی چنائی جگہ ہے ،دار ہے، با مشقت قید ہے ، لیکن نظم میں نہ غار ہے، نہ دار ہے، نہ مشقت ہے ،پھر بھی ایک قید ہے۔۔۔۔۔جب ہم زمینوں کو پڑھنے نکلتے ہیں، تو چرند پرند کی ضرورت نہیں رہتی ، انسان کی پہلی آنول نال اذیت ہے ۔۔۔

مجھے لگتا ہے سارہ شگفتہ کی اس نظم کی آخری سطر ’انسان کی پہلی آنول نال اذیت ہے‘ وہ منتر ہے جو مہاتما بدھ نے اپنے پہلے چیلے آنند کو دیا تھا اور اڑھائی ہزار برسوں کے بعد آج بھی سب شعرا کے لا شعور میں ابجد کی پہلی تختی ہے۔ اگر اشفاق حسین پر اس کا اطلاق کریں تو’’من و تو‘‘ کے فارمیٹ میں جو پہلی سطریں ہمیں نظرآتی ہیں، وہ یہ ہیں۔

تم جس جگہ
شہر کے جس حصے میں
میرا انتظار کر رہی ہو
میں وہاں تک نہیں آ سکتا
وہاں تک آنے کے لیے
مجھے اپنی زبان کا لباس تبدیل کروانا پڑے گا
مگر اس شہر کے لوگوں کے ہاتھوں میں
صرف قینچیاں ہیں
سوئی دھاگا نہیں۔۔

قدر و قضا کا امر مجبوری یہ ہے کہ ’زبان کا لباس‘ اپنی سوزن سے سیا نہیں جا سکتا، اس کے لیے ارباب ِاختیار یعنی شہر کے لوگوں تک رسائی ضروری ہے لیکن ان کے ’ہاتھوں میں صرف قینچیاں ہیں، سوئی دھاگا نہیں، اس مختصر نظم میں جیسے ہیئت اور مواد کا نیا پن اور انحراف کی بو قلمونی نظر آتی ہے وہ اشفاق حسین کی بیشتر نظموں میں موجود ہے۔ اب ’’من و تو‘‘ کے فارمیٹ سے ذرا آگے بڑھیں تو ہمیں اسی شہر ِ بے لباس کی ایک کالی ، بھیانک شکل نظر آتی ہے، جس میں بچوں کے  سکول میں گھس کر ایک سو سے کچھ زیادہ بچوں کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا جاتا ہے اور ما سوائے اس کے کہ ارباب ِ اختیار ٹسوے بہا کر اس حزنیہ واردات کی برائی کر دیں اور کچھ بھی نہیں کیا جاتا۔ اس وقت شاعر کو وہ بستہ یاد آتا ہے، جس میں وہ بچہ (جو وہ خود بھی ہے ، اوراس کا اپنا بچہ بھی ہے) اپنے کندھے سے لٹکائے ہوئے  سکول جاتا ہے اور جس میں اس کی ماں احتیاط سے اس کے ناشتے کا سامان اچھی طرح سنوار کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اتنا کچھ کافی ہے کیا بستے میں رکھنے کے لیے، یا کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہے؟

سب کچھ ویسے ہی نظر آ رہا ہے
جیسے کہ انہیں ہونا چاہیے
کھڑکیوں پر خوب صورت پڑے ہوئے ہیں
کیاریوں میں خوبصورت پھول بھی مہک رہے ہیں
سکول جاتے ہوئے بچوں کے گلوں میں
ماؤں نے دعاؤں کے بستے لٹکا دیے ہیں
گھر سے  سکول تک جاتے جاتے
ان بستوں میں
نظر نہ آنے والے ہاتھوں نے
ٹائم بم بھی لگا دیے ہیں

ابھی سب کچھ ویسا ہی ہے
مگر کچھ دیر بعد سب کچھ ویسا نہیں ہو گا
سب کچھ ویسا نظر آنے کے لیے
وقت کو روکنا ہو گا
اس سے پہلے کہ بچہ اپنے گھر کے بجائے
کہیں اور چلا جائے
(دعاؤں کا بستہ)

سیدھا اور سادہ پیغام۔ وقت خو د بخود رُکے گا نہیں۔ ۔اسے روکنا ہو گا۔ ساری نظم میں غیر ملفوف سادگی، فارسی آمیز طرحداری اور آرائش کی جگہ فطری اور بے تصنع صفائی اور ستھرا پن نمایاں ہے۔ کہ بات یہاں  سکول جانے والے بچے کے بارے میں ہے، اس کی ماں کے بارے میں ہے، اس کے گلے سے لٹکتے ہوئے بستے کے بارے میں ہے، کسی سمور و سنجاب سے لدی پھندی دلہن کے بارے میں نہیں۔

یہ ایک ایسا تنقیدی رویہ ہے جو نظم و نثر میں ہرایک ایسی شعبدہ بازی کی مخالفت کرتا ہے جو معانی کے حسن کو ڈھانپنے، یا انہیں نگہ ٔ عام و خاص سے اوجھل رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ غزل تو غزل ہے، نظم میں بھی (مجھے لگتا ہے) استعاراتی حجابات کا استعمال صرف ایک شعار ہی نہیں، ایک قانون بنا دیا گیا ہے۔ یعنی اگر محل نظر انسانی شناخت و اقدار کے ختم ہونے کا ا لمیہ ہے تو شاعر کو ، استعارے کی زبان میں بھی، ترسیل کی سطح پر، کم از کم اس قدر ہموار رکھنے کی ضرورت ہے، جس سے قاری تک وہ پہنچ سکے۔ اشفاق حسین کے یہاں بھی پارینہ داستانوں میں سنائی گئی ایک فقیر کی بد دعا کی طرح شاعر اپنا عندیہ صاف صاف لفظوں میں بیان کر دیتا ہے۔

اگر آج رات بھی
آنکھوں میں نیند نہیں آتی
تو میری ڈائری میں کوئی بھی ورق
سادہ نہیں بچے گا
لیکن ڈائری کے تمام سادہ ورق بچ بھی گئے
تو کیا میں خود بچ پاؤں گا؟

یہ اپنی اور اپنے جیسے دیگر لوگوں کی ذہنی ساخت کی ایک جہت کا محاسبہ ہے۔ اس کا تعلق ایک ایسے طریق کار سے ہے جسے ایذرا پاؤنڈ نے analytical creative self کہا ہے۔ جہاں شاعر کا ذہن کسی بھی تخلیق کو من وعن قبولیت کے لائق نہیں سمجھتا ، بلکہ وہ تنقیدی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی فن پارے کو اصول ِ نقد کی کسوٹی پر رکھ کر اس کی صحیح تفہیم کرنے پر مصر ہے۔ اور یہ ’اصول نقد‘ تنقیدکے سکہ بند اصول و ضوابط سے ماورا ہے۔ یہ سوال و جواب کی وہ جہت ہے، جس میں اشفاق حسین (۱) سوال پوچھتا ہے اور اشفاق حسین (۲) جواب دیتا ہے۔ سوال در سوال اور جواب در جواب چلتے رہتے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی تھکن کا شکار نہیں ہوتا۔ چلیں ایک نظم دیکھیں جو فعلن فعلن کی تکرار میں تقطیع بھی کی جا سکتی ہے اور اسے نثری نظم کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

کیا یہ رات نہیں کٹ سکتی؟
کٹ سکتی ہے
کیا یہ ظلم نہیں کم ہو گا؟
ہو سکتا ہے
کیا ہم امن سے رہ سکتے ہیں
رہ سکتے ہیں
پھر یہ مایوسی کیسی ہے؟
جہد مسلسل کی چنگاری
دھیرے دھیرے شعلہ بن کر
اپنا رستہ طے کرتی ہے
اندھیاروں کو کھا جاتی ہے
اور اسی پُر عزم سفر میں
کبھی کبھی تو نسلیں خود کو کھو دیتی ہیں
لیکن روشنی رہ جاتی ہے
یہ جو تمہارے ہاتھوں میں ہے
ایک دیا جلتا بجھتا سا
سینکڑوں ہاتھوں سے ہو کر یہ آج تمہارے ہاتھوں میں ہے
پھر بھی تم یہ پوچھ رہے ہو
کیا یہ رات نہیں کٹ سکتی؟
کیا یہ ظلم نہیں کم ہو گا؟
کیا ہم امن سے رہ سکتے ہیں؟

یہاں یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ سادگی کے حسن ملیح سے تصویر کیا ہوا یہ شعری ساختیہ کیا جدیدیت کی تحریک اور اردو شاعری پر اس کے مثبت یا منفی اثرات سے متعلق ہے؟ یہ عین ممکن ہے۔ کچھ دیگرپُر گو غزل کہنے والوں کی ہزاروں کی تعداد میں کہی گئی غزلوں میں ٹانکی گئی ’سٹیریو ٹائپ‘ شاعری کی جگالی پر بھی ایک ’کومنٹ‘ کی صورت میں باور کیا جا سکتا ہے۔ جدیدت، ہم سب جانتے ہیں، ایک در آمد شدہ تحریک تھی جس کے مکروہ اثرات کے تحت شعرا نے جان بوجھ کر داخلیت پسندی اور ابہام گوئی کو فروغ دیا۔ یہ وہ درد کرب نہ تھا جس سے ایک ذی حس شاعر خود گزرتا ہے۔ یہ ’’بھوگی ہوئی‘‘ واردات نہ تھی، جس کو نظمایا جا رہا تھا۔یہ آپ بیتی نہیں تھی، یا جیسے کہ پنجابی میں کہا جاتا ہے یہ ’’ہڈ بیتی‘‘ نہیں تھی، مغربی زبانوں میں بطور رواج مستعمل انتشار پسندی اور لا یعنی ہیجان کو اردو کا لباس پہنا دیا گیا تھا۔اپنی شعری ریاضت میں عموماً اور اس کتاب میں مشمولہ نظموں میں خصوصاً اشفاق حسین اس قماش کی شاعری سے دور اسی لیے رہے کہ اس میں جو سوز و گداز تھا وہ نقلی تھا، مصنوعی تھا۔ اخبار کی کسی نوجوان کی خود کشی کی خبر کو خود پر لادنے کی سعی تھی۔ دوسرے سوال کا جواب بھی نفی میں اس لیے ہے کہ تھوک کے بھاؤ  غزلیں کہنے والے اصحاب کی شاعری اس نثر سے بہتر نہیں تھی جسے اخبارات کے کالموں میں برتا جاتا ہے۔ پانچ سو اشعار میں اگر گنتی کے ایک دوشعر کام کے نکل بھی آئیں تو یہ عمل کوڑے کے ڈھیر کو انگلیوں سے الٹ پلٹ کرچھاننے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اشفاق حسین کے یہاں کچھ نظمیں ایسی ہیں جو شاعر کے شعری معتقدات پر مہرثبت کرتی ہیں۔ ان کی شاعری کا سفر ایک دائرے کی طرح ہے جو پیکریت اور تجسیم سے شروع ہوتا ہے، اجتماعی تصورات اور عقائد سے بھی کچھ روشنی حاصل کرتا ہے، کہیں کہیں خارج سے باطن اور پھر ، جیسے یکلخت ایک چھلانگ سے واپس خارج کی طرف مراجعت اختیار کرتا ہے۔اسی گامزن چڑھائی اور پسپائی کے دوران جہاںنظریہ مسلم تھا وہاں مکاشفانہ آگہی سے حقائق کے ادراک کے بجائے شکوک کا سلسلہ شروع ہونے لگتا ہے۔ آئیے ، دیکھیں:

وہ جو اتری نہیں
ذہن کے سادہ صفحوں پہ
اس نا مکمل عبارت سے ڈرتے رہو
اپنی مرضی سے
پیدا نہ ہونے کی
اتنی سزا
کچھ زیادہ نہیں
ایک نادیدہ طاقت سے
ڈرتے رہو
اپنے ہونے کے
کرب و ندامت سے ڈرتے رہو
(ڈرتے رہو)

تو گویا ۔۔۔۔گویا ہم ایک دائرے میں گھومتے ہوئے اشفاق حسین کے ساتھ سفر کے پہلے قدم یعنی سارا شگفتہ کی بتائی ہوئی ’پہلی آنول نال اذیت‘ تک لوٹ آئے ہیں۔یہ اذیت ’ہونے‘ سے ’نہ ہونے‘ تک کی بھی ہے اور ’ہونے‘ اور ’بننے‘ کے درمیان اس گہری کھائی کی بھی ہے جسے عبور کر کے ہی دوسری طرف پہنچا جا سکتا ہے۔ Being and Non-beingتو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اور باآسانی پہچانے جا سکتے ہیں لیکن Being to Becoming ایک ایسا سفر ہے ، جو تا حیات جاری رہتا ہے۔ اپنی غزلیہ شاعری میں بھی اشفاق حسین اس سفر کے پڑاؤ  پھلانگتے رہے ہیں ، لیکن یہ ایک تیز گام راہی تھے اور انہیں محسوس ہوا کہ ’تنگنائے غزل‘ ان کو وافر رقبہ مہیا نہیں کر سکتی۔ عروض و بحور کی پابندی کی زنجیروں میں جکڑ ی ہوئی ہونے کے باعث پابند نظم( اور کسی حد تک آزاد نظم بھی) سبک گام ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔یعنی یا تو مضمون کی مناسبت کو مد نظر رکھتے ہوئے کشف، گمان اور تصور کی اپج سے خیال کو یوں مہمیز کیا جائے کہ فارسی الفاظ کی بھاری بھرکم گھن گرج سے واسطہ نہ پڑے اور معاملہ طے ہو جائے اور یا مضمون کی روح، ماحصل اور مفہوم کو استعارہ و تمثیل کے افاعیل تفاعیل میں پھنسا کر رعب گانٹھ دیا جائے۔لیکن اشفاق حسین تو بے کم و کاست، جچی تلی، روشن اور شفاف ترسیل چاہتے تھے۔ جس میں استعارہ سازی معمائی نہ ہو، پیرایۂ کلام تشریح طلب نہ ہو، توشیہہ، تعبیہ اور تعمیہ کی صنعتوں پر شاعری کی اساس نہ رکھی جائے، استعارہ سازی بھی ایسی ہو کہ سریع الفہم، غیر مبہم،نکھری ہوئی ہو۔ تمثیل اور بیان میں باہم کشمکش نہ ہو۔ اور اگر ہو بھی تو ایک سے دوسری کی طرف ارجاع آسان ہو جائے۔
آئیں ، ایک نظم میں استعارہ سازی اور اس کی تفسیر و تاویل، دونوں کو ہاتھوں میں ہاتھ دیے ہوئے چہل قدمی کرتے دیکھیں۔

زندگی ختم ہوئی
آدمی کھیل چکا اپنی اِنِنگ
اور خالی ہی نظر آتا ہے اسکورنگ بورڈ
نہ کوئی رن
نہ کوئی کیچ
نہ کوئی بال
اب سے کچھ پہلے سیہ بورڈ پہ لکھا تھا جو نام
ہے وہ اب نام کہاں؟
درمیاں وکٹوں کے جو دوڑا کیا ساری عمر
نام کی دوڑ تھی وہ
رن کی نہیں
زندگی ختم ہوئی
نہ کوئی نام نہ رن
ایک گمنام سا چہرہ کہیں آتا ہے نظر
کسی اخبار میں ہے اس کے نہ ہونے کی خبر
(نہ ہونے کی خبر)

اس نظم کو سر ِ فہرست دینے سے کیا مراد تھی شاعر کی؟اگر یہ ’’خود مسخرگی‘‘ تھی تو بھی ، اور اگر ستم ظریفی تھی تو بھی، ایک پُر مغز شوخی تو یقیناً تھی!لیکن نظم اپنا کلیہ سکون سے نہیں، مسلسل حرکت سے عبارت کرتی ہے۔ یہ رواں دواں جولانی و تسلسل ہے جو ’ہونے کی خبر‘ سے ’نہ ہونے کی خبر‘ تک پہنچتا ہے۔ اگر زندگی ختم بھی ہوئی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ دوڑنے والا تعطل کا شکار ہو گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کے رنز ختم ہو گئے ہیں۔ یہ رمز سمجھنے کے لیے نظم کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے۔

پارکھ ہونا صرف اُن کے لیے ہی نہیں ہے جو اُن جواہرات کو دیکھتے اور جانچتے ہیں، جو دوسروں کی ملکیت ہوں۔ صاحب ِ نظر ہونا یا فن شناس ہونا ، اپنی نکتہ سنجی کی ٹارچ کو اپنی ہی نگارشات پر مرکوز کر کے یہ دیکھنا کہ کہیں نمود و نمائش کی خاطر الفاظ کے انتخاب میں بد ذوقی کا مظاہرہ تو نہیں ہو گیا، یہ ایسے شاعر کا وظیفہ ہے جو قدرتی وضع سے مرصع ہو۔ تصنع ، شیخی، نازش ایسے شاعر کا طریق کار نہیں ہیں۔ کسر نفسی اور بناوٹ بھی اس کا طرہ ٔ امتیاز نہیں ہو سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اشفاق حسین ایک جینوین شاعر ہیں اور کہیں بھی، کسی بھی نظم میں، وہ اس غلطی کے مرتکب نہیں ہوئے ۔ یہ ضرور ہے کہ مقطع ٔ فخریہ کسی زمانے میں شعرا کا غیر متنازع حق تھا، لیکن نظم کے شاعرکو، اور وہ بھی نثری نظم کے شاعر کو یہ’ طرۂ پر پیچ و خم ‘سجتا نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ہم رکاب شعرا کے بارے میں کوئی تعریفی جملہ نہ کہے یا بڑے کام اور اونچے نام والے رفتگاں کو ان کی لغزشوں پر مورد الزام نہ قرار دے۔میں سمجھتا ہوں کہ اشفاق حسین کی و ہ نظم واقعی بے بدل ہے جو مجھ کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہے لیکن جو میری ستائش کی راہ پر گامزن ہوئے بغیر ہی نون میم راشد کی نظم ’’حسن کوزہ گر‘‘ پر اپنا کیمکارڈر مرکوز کر دیتی ہے اور چونکہ کیمکارڈر سے زیادہ ایماندار کوئی نہیں ہو سکتا ، اس لیے ایمانداری سے راشدؔ کی لغزشوں کا لیکھا جوکھا کرتی ہے۔

میرے بھائی آنند
تم نے تو راشد کو اک ایسا آئینہ دکھلا دیا ہے
کہ جس میں
خود اس کی شباہت کے آئینے ٹوٹے ہوئے ہیں
انہی آئینہ خانوں میں
راشدی جنس کی بھوک منڈلا رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن کوزہ گر کی کئی انگلیوں
اور زیر ناف الجھنوں کی
مجرد نہیں
مشتعل داستانیں چھپی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری بھی آنکھوں سے آنسو گرے ہیں
یہ آنسو سیاہی ہیں
اس زخم خوردہ قلم کی
کہ جن سے حسن کوزہ گر کی
نئی اور بے باک تشریح تم کر سکے ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری طرح میں بھی راشد کی نظموں پہ سر دھن رہا ہوں
میں اس نظم کے آئینے میں
تمہیں اور راشد کو پڑھ بھی رہا اور سن بھی رہا ہوں۔
(ستیہ پال آنند کی ایک نظم کو پڑھ کر)

اشفاق حسین ایک مدت سے کینیڈا میں آباد ہیں۔ اپنے وطن سے دور دیار غیر میں رہنا ایک مصلحت تو نہیں، شاید اقتصادی ضرورت تھی لیکن اس کا فیضان اس صورت میں ظاہر ہوا کہ انہوں نے امریکی اوریورپی شاعری سے قریبی واقفیت حاصل کر لی۔ یہ محض ذہنی سطح پر اخذ و اکتساب تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی داخلی شخصیت کی سرحدوں کی توسیع بھی کرتی رہی۔ جہاں ایک طرف وہ فیض احمد فیض اور دیگر مقبول و مفتخر شعرا کی صحبت میں رہے، وہاں انگریزی شعرا کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے وہ مغرب کی ادبی، تہذیبی او ر جمالیاتی اقدار سے بھی بہرہ ور ہوتے رہے۔ یہ خاکسار تین چار دہائیوں سے ان کے قریب رہا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کتاب میں مشمولہ نظموں کے حوالے سے ان کی شعری توانائی، علمیت اور ارضیت (ارضیت پر میں خصوصی طور پر زور دے رہا ہوں!) اب اُس سطح پر ہے ، جہاں وہ بر صغیر کے ان شاعروں کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں، جو نثر ی نظم کے میدان میں اتر چکے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اپنی نظموں میں اشفاق حسین ’طلسمی دریچوں‘ کی بات نہیں کرتے جو کہر آلود سمندروں کو دیدنی بناتے ہیں ((Keats ،وہ برصغیر کے حوالوں سے کسی معروض واقعہ یا منظر کو پس منظر میں رکھ کر ایک وسیع ترین انسانی صورت ِ حال کو پیش کرتے ہیں اور اسے نقطہ ٔ اتصال کی طرف لے جا کر قاری کو اس میں شریک کر لیتے ہیں۔یہ نثری نظم کی وہ جہت ہے، جو آنے والے برسوں میں ہند و پاک کے شعرا کو یقینا ًاپنی طرف متوجہ کرے گی ۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *