مرزا مدثر نواز، - ٹیگ

نصیحت یا تعریف/مرزا مدثر نواز

ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی‘ وہ کتابت کا کام کرتے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں‘ مجھ کو الرسالہ بہت پسند ہے مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے‘ آپ اکثر مسلمانوں کی←  مزید پڑھیے

بہترین تدبیر/مرزامدثر نواز

حضرت ابراہیم بن عیلہؒ کو خلیفہ (بادشاہ) ہشام بن عبد الملک اموی نے بلایا اور ان کو مصر کے محکمہ خراج کے افسر کا عہدہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم بن عیلہؒ نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور←  مزید پڑھیے

یہ ضروری تو نہیں/مرزا مدثر نواز

مولانا مفتی محمد شفیع صاحب: قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا اور سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے، میں بھی آپ←  مزید پڑھیے

وہ بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہوا (3 )۔۔مرزا مدثر نواز

وہ ایک شریف النفس‘ سادہ طبع‘ مثبت سوچ کا حامل‘ معاشرتی پیچ و خم و بھول بھلیوں سے نا آشنا‘ شرمیلا‘ میل جول سے ہچکچانے والا‘ کمزور و لاغر اندام‘ دبلا پتلا‘ سست الوجود اور کسل مند لیکن ایک خوش←  مزید پڑھیے

وہ بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہوا (2)۔۔مرزا مدثر نواز

تیمور کا پہلا استاد ملّا علی بیگ تھا۔ ایک دفعہ ملّا علی بیگ نے تیمور کے باپ کو بلا کر کہا کہ اس بچے کی قدر جان،یہ نا  صرف ذہین اور دوسرے بچوں سے بہت آگے ہے بلکہ اس میں←  مزید پڑھیے

ڈائمنڈ جوبلی اور شہداء آزادی (2)۔۔مرزا مدثر نواز

بہار کے بعد یو۔پی کی باری آئی۔ گڑھ مکیتسر میں ہر سال ہندوؤں کا میلہ لگتا تھا جس میں لاکھوں ہندو شامل ہوا کرتے تھے۔ چند ہزار غریب مسلمان بھی اس میلے میں خریدو فروخت کا سامان لے کر جمع←  مزید پڑھیے

ڈائمنڈ جوبلی اور شہداء آزادی (1)۔۔مرزا مدثر نواز

تاریخ ایک آئینہ ہے جس میں حال کی انسانی نسلیں اپنے ماضی کا مشاہدہ کر سکتی ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کئی طریقوں سے ہو سکتا ہے‘ مثلاََ فخر کے جذبہ کی تسکین حاصل کرنا یا ماضی کی معلومات کے طور←  مزید پڑھیے

منہ زیادہ یا ناک (2، آخری حصّہ)۔۔مرزا مدثر نواز

ملکہ نے دل پر پتھر رکھ کر بادشاہ کے اس فیصلے کو قبول تو کر لیا لیکن کچھ عرصہ بعد پرندوں و جانوروں کی بدولت اپنے پسندیدہ باغ کو پہنچنے والے معمولی نقصان سے دوبارہ دلبرداشتہ ہو گئی اور بادشاہ←  مزید پڑھیے

منہ زیادہ یا ناک (حصّہ اوّل)

منہ زیادہ یا ناک (حصّہ اوّل)/ملکہ کو باغبانی کا جنون کی حد تک شوق تھا‘ اسے پھولدار و پھلدار پودوں سے حد درجہ محبت تھی۔ بادشاہ نے اپنی چہیتی ملکہ کے اس شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے وسیع رقبہ پر ایک انتہائی خوبصورت باغ لگوایا←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (12)۔۔مرزا مدثر نواز

گئے دنوں کی یادیں (12)۔۔مرزا مدثر نواز/پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کا آغاز سن انیس سو چونسٹھ میں کیا البتہ ٹیلی ویژن سیٹ عام ہوتے ہوئے کافی وقت لگا۔ اسی و نوے کی دہائی تک محلے میں یہ سیٹ ہر گھر کی زینت نہیں بنا تھا‘ اکثریت کے پاس چودہ انچ کا بلیک اینڈ وائٹ سیٹ تھا←  مزید پڑھیے

گستاخ (2،آخری قسط)۔۔مرزا مدثر نواز

بہر حال تعزیری احکام و قوانین کی یہ تعبیر ان لوگوں کے لیے جو اسلام کے نظام شرع سے واقفیت نہیں رکھتے‘ سخت غلط فہمی کا باعث ہو جاتی ہے۔ وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ان کے اسلامی قانون ہو←  مزید پڑھیے

گستاخ (1)۔۔مرزا مدثر نواز

گستاخ (1)۔۔مرزا مدثر نواز/فنی مہارت اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں ہم چاہے کتنے  ہی پسماندہ کیوں نہ ہوں ،اور ستر سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود معیشت قرض کے سہارے چل رہی ہو‘ دو شعبوں میں ہم بڑے ماہر اور خود کفیل ہیں‘ کسی کو کسی بھی بیماری کے متعلق نسخہ تجویز کرنے اور مفتی بن کر فتوٰی صادر کرنے میں۔←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں(11)۔۔مرزا مدثر نواز

سائیکل چمپئن سے آج کی نسل یقیناََ واقف نہیں ہو گی‘ کچھ لوگوں کا ایک گروہ ہوتا جو گاؤں کے باہر کھلی جگہ کا انتخاب کرتے اور ایک گول دائرہ بنا کر اس کے گرد لکڑیوں کا جنگلا لگا لیتے‘←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (10)۔۔مرزا مدثر نواز

گئے دنوں کی یادیں (10)۔۔مرزا مدثر نواز/آج کے دور میں تقریباً ہر کسی کے پاس موبائل فون میں ڈیجیٹل کیمرہ موجود ہے جس سے لاتعداد تصاویر بنائی جا سکتی ہیں جبکہ ماضی میں یہ عیاشی نہیں تھی۔ اینا لاگ یا←  مزید پڑھیے

بحث و جستجو۔۔مرزا مدثر نواز

بحث و جستجو۔۔مرزا مدثر نواز/ہدایت کس کو ملتی ہے؟ طالبعلم نے اتالیق سے سوال کیا۔ قریب ہی لکڑی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا تھا‘ اتالیق نے اس کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ کیا اس میں سے کرنٹ کا بہاؤ ممکن ہے؟ نہیں‘ نارمل وولٹیج کے پریشر سے اس میں سے کرنٹ کا بہاؤ ممکن نہیں ہے←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (8)۔۔مرزا مدثر نواز

عید: نوے کی دہائی میں چونکہ ابھی انٹر نیٹ اور موبائل کا دور دورہ نہیں تھا لہٰذا عید مبارک کہنے کے لیے سوشل میڈیا کی بجائے دوسرے ذرائع کا استعمال کیا جاتا،جن سے آج کی نسل یقیناً  نا آشنا ہو←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (7)۔۔مرزا مدثر نواز

گئے دنوں کی یادیں (7)۔۔مرزا مدثر نواز/کسی بھی دوسرے تہوار کی طرح شادی بیاہ میں بھی بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور ایسے مواقع پر وہ اپنی موجودگی یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شادی ہالز اور مارکیز کی موجودگی سے پہلے گاؤں میں کسی خالی جگہ پر تنبوں، کناتیں اور کرسیاں لگائی جاتی تھیں←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (5)۔۔مرزا مدثر نواز

گئے دنوں کی یادیں/میں اور میرے ہم عمر زندگی کے جس حصے سے گزر رہے ہیں‘ ایسا کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے زمانے میں اس اس طرح ہوتا تھا۔ بچپن و لڑکپن کی حسین یادویں ہک جن کو قلمبند کرنے کا مقصدذہن میں محفوظ فولڈرز کو کھول کر کچھ لمحات کے لیے خوشی محسوس کرنا جیسے پرانی تصویروں والے البم کو دیکھ کر ماضی کے لمحات کو یاد کیا جاتا ہے←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (4)۔۔مرزا مدثر نواز

نوّے کی دہائی کی یادیں : بچے اتنے صاف ستھرے نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آجکل کے‘ صرف چھوٹا سا جانگیا پہنے‘ چہروں پر مختلف نشانات سجائے گلیوں میں دندناتے پھرتے‘ مٹی یا ریت میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے تو کبھی نالیوں میں اپنے ہاتھ مار رہے ہوتے‘←  مزید پڑھیے

آخر تمہیں آنا ہے۔۔مرزا مدثر نواز

ان کے والد نے بہت زیادہ جائیداد بنائی‘ جو جمع پونجی ہوتی اس سے مزید زمین خرید لی جاتی۔ کام کاج کے سلسلے میں دونوں بھائی بھی یورپ چلے گئے‘ زندگی خوشحالی سے مزید خوشحالی کی طرف رواں دواں ہو←  مزید پڑھیے