نصیحت یا تعریف/مرزا مدثر نواز

ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی‘ وہ کتابت کا کام کرتے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں‘ مجھ کو الرسالہ بہت پسند ہے مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے‘ آپ اکثر مسلمانوں کی کمیوں کا ذکر کرتے ہیں‘ اس سے تو مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ ایک کاتب ہیں۔ فرض کیجیے کہ آپ حرف ’ج‘ اور ’ع‘ کا دائرہ درست نہ بناتے ہوں‘ اب اگر آپ کے استاد آپ کی اس کمی کو بتائیں تو کیا آپ کہیں گے کہ استاد صاحب میرے اندر احساس ِ کمتری پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اسی ذاتی مثال سے آپ الرسالہ کے ان مضامین کو سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مضامین کا مقصد مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ احساسِ اصلاح پیدا کرنا ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی کمیوں کی اصلاح کئے بغیر کوئی شخص یا گروہ اس دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔

عربی کی ا  ک مثل ہے کہ جو شخص تم کو نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرے‘ یہ مثل صد فی صد درست ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی کے ساتھ خیر خواہی رکھتا ہو‘ وہ یہی کرے گا کہ وہ اس کی کمیوں کی نشاندہی کرے گا اور اس کی کوتاہیوں پر اس کی فہمائش کرے گا‘ یہی سچے مصلح کا طریقہ ہے۔

قرآن میں گھاٹے سے بچنے کے لئے جو لازمی صفات بتائی گئی ہیں‘ ان میں سے ایک ضروری صفت تواصی بالحق اور تواصی بالصبر ہے یعنی آپس میں ایک دوسرے کو حق و صبر کی نصیحت کرتے رہنا۔

وہی گروہ اس دنیا میں نقصان اور بربادی سے بچ سکتا ہے جس کے افراد میں یہ روح زندہ ہو کہ جب وہ اپنے بھائی کو حق کے راستہ سے ہٹا ہوا پائے تو فوراً اس کو ٹوکے اور جب بھی وہ اس کو بے صبری کی طرف جاتا ہوا دیکھے تو اس کو صبر کی اہمیت سے آگاہ کرے۔ صحابہ کرامؓ کے اندر نصیحت کرنے کا جذبہ بھی پوری طرح موجود تھا اور نصیحت سننے کا بھی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک معاملہ میں ایک بار فیصلہ کیا۔ حضرت علیؓ کو اس فیصلہ میں غلطی نظر آئی‘ انہوں نے اس پر ٹوکا۔ حضرت عمرؓ اگرچہ خلیفہ اور حاکم تھے‘ انہوں نے فوراً اس کو مان لیا اور کہا: اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا۔ (۱)

Advertisements
julia rana solicitors london

آج کے دور میں کوئی ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرے‘ اچھائی کی طرف توجہ دلائے اور برائی سے دور رہنے کا کہے تو ہمیں بُرا منانے کی بجائے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن افسوس کی بات ہے کہ بجائے اپنی اصلاح کے ہم الٹا ناصح کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں‘ اُسے اپنی  غلطیوں کے طعنے دینے لگ جاتے ہیں‘ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس کو تو ہر بات میں کیڑے نکالنے اور بھاشن دینے کی عادت ہے‘ بڑا نیک و پرہیزگارومتقی و پارسا بنتا ہے جبکہ اس نے خود فلاں موقع پر یہ کیا‘ اس کے فلاں نے یہ کیا‘ اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے‘ خاص اور عام دوست میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ عام دوست صرف تعریف کرتا ہے لیکن خاص دوست تعریف کے ساتھ تنقید بھی کرتا ہے‘ جس نے تجھے تیرے عیب بتائے اگر تجھے عقل ہو تو بے شک اس نے تجھ پر احسان کی انتہا کر دی۔
(۱) کتابِ زندگی از مولانا وحید الدین خان

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply