ڈائمنڈ جوبلی اور شہداء آزادی (2)۔۔مرزا مدثر نواز

بہار کے بعد یو۔پی کی باری آئی۔ گڑھ مکیتسر میں ہر سال ہندوؤں کا میلہ لگتا تھا جس میں لاکھوں ہندو شامل ہوا کرتے تھے۔ چند ہزار غریب مسلمان بھی اس میلے میں خریدو فروخت کا سامان لے کر جمع ہوا کرتے تھے۔ ایک روز ہندوؤں نے اچانک مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے اور دیکھتے ہی دیکھتے میلے میں موجود تمام مسلمان مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

جب کلکتہ میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے تو ہندو پریس نے اسے مسلمانوں کی زیادتی کا رنگ دے کر بڑا شوروغوغا کیا تھا۔ نواکھلی کے واقعات کو بھی ہندو پریس نے بڑے ڈرامائی اور سنسنی خیز مبالغے کے ساتھ اچھالا تھا لیکن بہار اور گڑھ مکیتسر میں مسلمانوں کے قتل عام پر اس پریس کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ بہار اور یو۔پی کی کانگرسی وزارتوں کی شہہ پا کر سارے پریس نے ایک طرح کی اجتماعی چپ سادھ لی۔ لیکن جادو کی طرح خون نا حق بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ان دونوں لرزہ خیز واقعات کی خبریں بڑی سرعت سے پھیل گئیں اور رفتہ رفتہ سارا برصغیر ہندو مسلم تناؤ اور کشیدگی کی انتہائی خطرناک زد میں آ گیا۔

جب نواکھلی میں فساد ہوا تو گاندھی جی فوراً  وہاں پہنچے اور کئی ماہ تک انہوں نے متاثرہ علاقوں کا پیدل دورہ کیا۔ وہ روزانہ تین چار میل پا پیادہ چلتے تھے اور ہر جگہ مسلمانوں کو تلقین کرتے تھے کہ ہندو تمہارے بھائی ہیں اور ان کی حفاظت کرنا تمہارا فرض منصبی ہے۔ اسی دوران بہار میں فسادات برپا ہو گئے۔ بہار کے کچھ کانگرسی مسلمانوں کی بار بار استدعا پر گاندھی جی نے نواکھلی کا پیچھا چھوڑا اور بڑی مشکل سے بہار تشریف لائے۔ یہاں پر انہوں نے جو کچھ دیکھا‘ اس نے ہندو جاتی کی امن پسندی‘ صلح جوئی اور غیر تشدد پسندی کے متعلق ان کے بہت سے مفروضات کی کایا پلٹ دی۔ یہاں پر وسیع و عریض علاقوں میں مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا۔ گھر لُٹ چکے تھے۔ مسجدیں ویران پڑی تھیں۔ کنویں مسلمان عورتوں کی لاشوں سے اٹا اٹ بھرے ہوئے تھے۔ کئی جگہ ننھے منے بچوں کے ڈھانچے اب تک موجود تھے جنہیں لوہے کے کیل گاڑ کر درختوں اور دیواروں کے ساتھ ٹانک دیا گیا تھا۔ یہ روح فرسا نظارے دیکھ کر گاندھی جی کو غالباً  زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ ہندو قوم اتنی نرم دل‘ امن پسنداور غیر متشدد نہیں ہے جتنا کہ وہ سمجھتے اور پرچار کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بپھر کر ہندو بھی خونخوار درندگی کا پوراپورا مظاہرہ کرنے پر قادر ہیں۔

گاندھی جی کے جیون ساتھی سیکرٹری اور سوانح نگار  پیارے لال نے اپنی کتاب “Mahatma Gandhi: The Last Phase”میں بڑے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہار کی خونریزی دیکھ کر گاندھی جی کی آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا اور متحدہ ہندوستان کے متعلق ان کا دیرینہ خواب ٹوٹ کر پاش پاش ہو گیا۔(شہاب نامہ)

قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں ایک ملاقات کا ذکر یوں کیا ہے کہ ایک روز ایک ملاقاتی آیا جس کا نام عبداللہ تھا۔ آتے ہی اس نے زور سے السلام علیکم کہا اور بولا‘ کسی نے بتایا ہے کہ آپ بھی جموں کے رہنے والے ہیں‘ میرا بھی وہیں بسیرا تھا‘ بس یونہی جی چاہا کہ اپنے شہر والے کے درشن کر آؤں‘ اور کوئی کام نہیں۔میں نے اسے تپاک سے اپنے پاس بٹھایا اور کرید کرید کر اس کا حال احوال پوچھتا رہا جسے سن کر میں سر سے پاؤں تک لرز گیا۔ جموں میں عبداللہ کی کوئی دکان تو نہ تھی لیکن وہ اپنے گھر پر ہی رنگریزی کا کام کر کے گزر اوقات کیا کرتا تھا۔ بیوی تین بیٹیاں چھوڑ کر فوت ہو چکی تھی۔ نو برس کی زہرہ‘ بارہ برس کی عطیہ اور سولہ برس کی رشیدہ۔ اکتوبر 1947 میں جب مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی ذاتی نگرانی میں جموں کے مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کا پروگرام بنایا تو مسلمان  خاندانوں کو پولیس لائن میں جمع کر کے اس بہانے بسوں اور ٹرکوں میں سوار کرا دیا جاتا تھاکہ انہیں پاکستان میں سیالکوٹ کے بارڈر تک پہنچا دیا جائے گا۔ راستے میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے ڈوگرہ اور سکھ درندے بسوں کو روک لیتے تھے۔ جوان لڑکیوں کو اغوا کر لیا جاتا تھا۔ جوان مردوں کو چن چن کر تہ تیغ کر دیا جاتا تھااور بچے کھچے بچوں اور بوڑھوں کو پاکستان روانہ کر دیا جاتا تھا۔

جب یہ خبریں جموں شہر میں پھیلنا شروع ہوئیں تو عبداللہ پریشان ہو کر پاگل سا ہو گیا۔ اس کی زہرہ‘ عطیہ اور رشیدہ پر بھی جوانی کے تازہ تازہ پھول کھل رہے تھے۔ عبداللہ کو یقین تھا کہ اگر وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر کسی قافلے میں روانہ ہوا تو راستے میں اس کی تینوں بیٹیاں درندہ صفت ڈوگرہ جتھوں کے ہتھے چڑھ جائیں گی۔ اپنے جگر گوشوں کو اس افتاد سے محفوظ رکھنے کے لیے عبداللہ نے اپنے دل میں ایک پختہ منصوبہ تیار کر لیا۔ نہا دھو کر مسجد میں کچھ نفل پڑھے۔ قصاب کی دکان سے ایک تیز دھار چھری مانگ لایا اور گھر آ کر تینوں بیٹیوں کو عصمت کی حفاظت اور سنت ابراہیمی کے فضائل پر بڑا موقر وعظ دیا۔ زہرہ اور عطیہ کم عمر تھیں اور گڑیا گڑیا کھیلنے کی حد سے آگے نہ بڑھی تھیں۔ وہ دونوں اپنے باپ کی باتوں میں آ گئیں۔ دلہنوں کی طرح سج دھج کر انہوں نے دو دو نفل پڑھے اور پھر ہنسی خوشی دروازے کی دہلیز پر سر ٹکا کر لیٹ گئیں۔ عبد اللہ نے آنکھیں بند کئے بغیر اپنی چھری چلائی اور باری باری دونوں کا سر تن سے جد اکر دیا۔ عجب اتفاق تھا کہ اس روز آسمان کے فرشتے بھی اس قربانی کے لئے دو دنبے لانے سے چوک گئے۔ چنانچہ دہلیز پر زہرہ اور عطیہ کی گردنیں کٹی پڑی تھیں۔ کچے فرش پر گرم گرم خون کی دھاریں بہہ بہہ کر بیل بوٹے کاڑھ رہی تھیں۔ کمرے کی فضا میں بھی ایک سوندھی سوندھی سی خوشبو رچی ہوئی تھی اور اب عبد اللہ اپنے ہاتھ میں خون آشام چھری تھامے رشیدہ کو بلا رہا تھا۔ لیکن رشیدہ اس کے قدموں میں گری کپکپا رہی تھی‘ تھر تھرا رہی تھی‘ گڑ گڑا رہی تھی۔۔۔ اگر وہ پڑھی لکھی ہوتی تو بڑی آسانی سے اپنے باپ کو للکار سکتی تھی کہ میں کوئی پیغمبر زادی نہیں ہوں‘ نہ ہی تم کوئی پیغمبر ہو کیونکہ ہمارا دین تو صدیوں پہلے کامل ہو چکا ہے۔ پھر تمہیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ خواہ مخواہ میری گردن کاٹ کر ادھوری سنتیں پوری کرو۔۔۔ لیکن رشیدہ انجان تھی‘ کم عقل تھی اور فصاحت و بلاغت کی ایسی تشبیہات اور تلمیحات استعمال کرنے سے قاصر تھی۔ وہ محض عبداللہ کے قدموں پر سر رکھے بلک بلک کر رو رہی تھی‘ ”اباّ۔۔۔اباّ۔۔۔“

رشیدہ کی گڑ گڑاہٹ پر عبداللہ کے پاؤں بھی ڈگمگا گئے۔ اس نے چھری ہاتھ سے پھینک دی۔ بہروپیوں کی طرح اس نے رشیدہ کو ایک بد صورت سی بڑھیا کے روپ میں ڈھالااور کلمہ کا ورد کرتا ہوا اسے ساتھ لے کر ٹرک میں بیٹھ گیا۔ جب ٹرک والے نے قافلے کو سوچیت گڑھ لا کر اتارا اور وہ لوہے کا پھاٹک عبور کر کے پاکستان کی سرحد میں داخل ہو گئے تو یکایک عبداللہ کو زہرہ اور عطیہ کی یاد آئی جن کے سر جموں میں دروازے کی دہلیز پر کٹے پڑے تھے اور جو پھٹی پھٹی منجمد آنکھوں سے چھت کی طرف دیکھتی دیکھتی دم توڑ گئی تھیں۔ وہ کمر تھام کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا اور رشیدہ کو گلے سے لگائے دیر تک دھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔

Advertisements
julia rana solicitors

خالق کائنات تمام شہداء تحریک آزادی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔(ختم شد)

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply