• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان کے پہلے آئین کی تاریخ/شیخ مجیب الرحمان۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم/آخری قسط

پاکستان کے پہلے آئین کی تاریخ/شیخ مجیب الرحمان۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم/آخری قسط

شیخ مجیب الرحمان کے بارے میں پاکستانی یونیورسٹیوں او رکالجوں میں کوئی تحقیقی کام نہیں کیا گیا اسے ایک ملک دشمن قرار دے کر اس پر ہر قسم کے تحقیقی کام کو بھی ملک دشمنی کے زمرے میں ڈال دیا گیا حالانکہ اس پر تحقیقی کام کرنے کی بہت ضرورت تھی۔ ان چند سطروں کو کسی تحقیقی کام کا متبادل نہیں سمجھا جائے اور اس نقطہ نظر کو حتمی نہیں خیال کیا جائے۔

شیخ مجیب الرحمٰن نے اسلامہ کالج کلکتہ سے تاریخ اور اسلامیات میں بی اے کیا تھا سیاست کی ابتدا میں ہی حسین شہید سہروردی سے منسلک ہوگئے تھے مسلم لیگ کی طلبہ شاخ سے سیاست کا آغاز کیا۔ اور تحریک پاکستان میں بہت  سی سرگرمیوں  میں حصہ لیا، اس سلسلے میں جیل میں بھی گئے۔ قائد اعظم کے اردو زبان کے قومی زبان بنانے کے اعلان کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی قیادت کی اور خواجہ نظام الدین کے دور میں بنگالی طلبہ کی قیادت کی جن پر گولی چلائی گئی۔
حسین شہید سروردی کے ساتھ مل کر عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور ان کی زندگی میں ہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہوگئے۔

tripako tours pakistan

مجیب 1949ء میں طالب علم رہنما کی حیثیت سے!
جگتو فرنٹ کے ساتھ مل کر الیکشن میں حصہ لیا اور اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے پاکستان کے پہلے آئین کی تشکیل کے آخری مراحل میں شریک تھے اور انھوں نے آئین کی صوبائی خود مختاری کی حدود سے اختلاف کیا تھا تاہم آپ کا بنگالی زبان کو قومی زبان بنانے والا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔ اس دور میں انھوں نے کئی پارلیمانی غیر ملکی دوروں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی ،حسین شہید کے دور میں چین جانے والے پارلیمانی وفد کی قیادت کی آپ آئین کے تحت پہلے عام انتخابات کی تیاری کر رہے تھے جب 7اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان کی قیادت میں فوج نے منتخب وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر تسلط جمایا تھا۔

آئین منسوخ کردیا مرکزی اورصوبائی کابینہ برطرف اور قومی اور صوبائی مقنّہ تحلیل کردی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ایوب نے کہا کہ ہمارا پہلا اورآخری مقصد جمہوریت کی بحالی ہے لیکن ایسی جمہوریت جسے لوگ سمجھ سکیں اور جو لوگوں کے کام آسکے۔
اس مسلح کارروائی کے بارے جسٹس محمد منیر کا ایک حیرت انگیز فیصلہ سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’کامیابی کے ساتھ حکومت کا تختہ الٹ دینا دستور تبدیل کرنے کا مسلمہ بین الاقوامی طریقہ ہے۔ اس کے بعد انقلاب قانون کا ماخد بن جاتا ہے اور عدالتیں اس کی معینہ حدود کے اندر کام کرسکتی ہیں‘‘۔ اس فیصلے نے ایوب خان کے جاری کیے ہوئے آرڈیننس اور فیصلوں کو قانونی تحفظ فراہم کردیا تھا۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ منسوخ شدہ دستورِ پاکستان کے تحت لوگوں کو حاصل تمام حقوق ختم ہوتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی رٹ بھی دائر نہیں ہوسکتی۔

ایوب خان نے دو قوانین فوری طور پر نافذ کروائے۔ پہلا قانون ’’پوڈو‘‘(public office disqualification order)کے نام سے مشہور ہوا۔ اس قانون کا اطلاق سیاسی عہدیداروں اور سرکاری ملازمین پر ہوسکتا تھا، جس کی سزا پندرہ سال تک تھی۔
اس کے ساتھ ایوب خان نے سیاسی رہنماؤں پر اس سے ملتا جلتا قانون نافذ کیا جو  ’’ایبڈو‘‘(Elective bodies disqualification order)کے نام سے مشہور ہوا۔ ایبڈو کے جرم میں سزا پانے والے سیاست دانوں کو چھ برس تک کی سزا تجویز کی گئی تھی، مگر اس میں ایک رعایت یہ بھی حاصل تھی کہ سیاست دان ازخود چھ سال کے لیے سیاست سے اپنی دست برداری کا حلف جمع کروائے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے قومی و صوبائی سطح پر 98 سیاست دانوں کو (جو کسی نہ کسی وقت حکومت کا حصہ رہے تھے) نامزد کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ ان میں سے 70 سیاست دانوں نے رضاکارانہ طور پر چھ سال کے لیے سیاست سے دست برداری کا اعلان کیا۔ سیاست سے توبہ کرنے والوں میں پنجاب سے میاں ممتاز دولتانہ، سندھ سے ایوب کھوڑو، سرحد سے خان عبدالقیوم خان کے نام قابل ذکر ہیں، جبکہ 28 سیاست دانوں نے اگلا راؤنڈ کھیلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی صفائی کا مقدمہ لڑا، جن میں سے 22 کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور صرف چھ سیاست دان ایسے تھے جو اس عجیب و غریب قانون کی گنگا سے ’’پاک صاف‘‘ ہوکر نکل سکے۔

ان 98 سیاست دانوں کے علاوہ بھی کم سطح یا دوسرے درجے کے دو ہزار سے زیادہ سیاست دان اس قانون کی بھینٹ چڑھے۔
جناب سہروردی اسی قانون کے تحت سزا یافتہ ہوئے جس سے جماعت میں شیخ مجیب الرحمان کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوا۔
جنرل ایوب خان نے 1960 میں ریفرنڈم کرایا اور اس میں 95.6 فیصد کامیابی کے بعد صدارتی نظام میں تبدیلیاں کیں اور آئندہ 5 سال کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔
17 فروری 1960 کو ایوب خان نے ملک کے سیاسی مستقبل کا منظر نامہ وضع کرنے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس محمد شہاب الدین کر رہے تھے، اس کمیشن میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے نمائندے جبکہ ریٹائرڈ جج، وکلاء، صنعت کار اور دیگر طبقہ زندگی کے افراد شامل تھے۔
کمیشن نے 6 مئی 1961 کو صدر ایوب خان کو ایک رپورٹ پیش کی، جس کا انہوں نے اور ان کی کابینہ نے تفصیلی جائزہ لیا جبکہ کابینہ نے جنوری 1962میں ملک کےدوسرے آئین کو حتمی منظوری دے دی،مذکورہ آئین کے مسودے پر صدر ایوب خان نے یکم مارچ 1962 کو دستخط کیے اور اسے 8 جون 1962 کو نافذ کردیا گیا، 1962 کا آئین 250 آرٹیکلز پر مشتمل تھا، جسے 12 حصوں اور 3 شیڈول میں تقسیم کیا گیا تھا۔ دوسرے آئین میں ملک کا طرز حکومت صدارتی رکھا گیا۔

ان حالات کے نتیجے میں حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمان کی کوششوں سے قومی جمہوری محاذ (N.D.F )تشکیل پایا جس کا اہم مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا جس میں چھ سیاسی جماعتوں کے پچیس نمائندے شریک ہوئے حسین شہید سہروردی اسی دوران بیروت کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے ان کی جماعت والوں کا خیال تھا کہ یہ ایک قتل ہے مگر سرکاری طور پر بتایا گیا کہ ان کی موت دل کی تکلیف کی وجہ سے ہوئی۔۔

اس کے تین ماہ بعد مشرقی و مغربی پاکستان کے بااثر سیاستدانوں کا اجلاس کراچی میں ہوا اور جمہوری و بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ حکومت نے اس اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں پر غداری کا مقدمہ بناتے ہوئے ان کو گرفتار کرلیا۔ ان تمام گرفتار شدگان کو پاکستان کی مختلف جیلوں میں منتقل کروادیا گیا۔
ایک طرف تو ایوب خان نے اپنے مارشل لا کی ابتدا میں سیاسی جماعتوں کو ملک و قوم کیلئے شجر ممنوعہ کہتے ہوئے نقصان دہ قرار دیا تھا دوسری طرف” کنونشن لیگ ” بنا کر اس کے صدر بن بیٹھے۔ پرانی مسلم لیگ کو توڑ کر اس کے کچھ لوگوں کو خرید نے کے بعد ان سب کو کنونشن لیگ میں شامل کروایا گیا۔

متحدہ اپوزیشن نے جب صدارتی انتخابات میں جنرل ایوب خان کے مقابلے پر محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو صدارتی امیدوار نامزد کیا
انتخابی مہم کے دوران ہی سابق گورنر جنرل وزیراعظم خواجہ ناظم الدین دل کے دورے کے سبب انتقال کرگئے۔ خواجہ ناظم الدین ایوب آمریت کے خلاف ہر محاذ پر سرگرم عمل تھے۔ خواجہ ناظم الدین کی وفات سے شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان کے سب سے بااثر اور مقبول لیڈر بن کر ابھرے ان کے حریف جناب نورالامین اس موقع پر بہت سرگرم کردار ادا نہیں کر سکے۔
شیخ مجیب الرحمن نے فاطمہ جناح کی مشرقی پاکستان میں انتخابی مہم کی قیادت سنبھالی۔ یہی الیکشن مہم شیخ مجیب الرحمن کی مقبولیت میں اضافے کا سبب ثابت ہوا۔ انھوں نے انتخابی مہم کو پورے مشرقی پاکستان میں منظم کیا۔ فاطمہ جناح نے مشرقی پاکستان میں تاریخی جلسوں سے خطاب کیا۔

مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان نے ایوب خاں کے خلاف ایک جذباتی فضا بنا دی تھی۔ایوب خان کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کے نوجوان طالب علم رہنما شیخ مجیب الرحمان کو سیاسی غنڈہ، اجڈ اور گنوار قرار دیا۔پاکستان میں کسی کو غیر ملکی ایجنٹ کہنا بہت آسان بات ہے۔ ایوب خان نے اپنی تقاریر میں بارہا اس بات کا ذکر کیا کہ محترمہ فاطمہ جناح بھارتی اور امریکی ایجنٹ ہیں۔ایوب خان اپنی تقاریر میں بنیادی جمہوریت کا جواز پیش کرتے تھے۔ ایوب خان کے مطابق وہ بنیادی جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس کے جواب میں فاطمہ جناح سوال کرتی تھیں ’’یہ کون سی جمہوریت ہے؟ ایک آدمی کی جمہوریت یا پچاس آدمیوں کی جمہوریت؟‘‘

ایک موقع پر جب ایوب خان نے کہا تھا کہ ’’میری شکست ملک میں دوبارہ بدامنی پیدا کردے گی‘‘ تو محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان پر اس طرح گرجیں کہ ’’آپ زبردستی، اتھارٹی اورڈنڈے کے زور پر ملک میں استحکام پیدا نہیں کرسکتے۔‘‘

مشرقی پاکستان میں تو محترمہ فاطمہ جناح کی مہم اتنی کامیابی کے ساتھ چل رہی تھی کہ چھوٹے بڑے ہر شہر میں انتخابی نشان ’لالٹین‘ بازاروں اور گھروں میں لگادی گئیں۔ اس الیکشن مہم میں یہ ایک طرف محترمہ فاطمہ جناح ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئیں تھیں جو ملک کے دونوں حصوں کو سیاسی طور پر جوڑنے کی اہلیت رکھتی تھیں تو دوسری طرف ان کی یہ صلاحیت بھی سامنے آئی کہ وہ مشرقی پاکستان میں اردو بولنے والوں اور بنگلہ بولنے والوں میں بھی ایک جیسی مقبولیت رکھتی تھیں یہ وہ صلاحیت تھی جو ان کے علاوہ کسی سیاست دان میں نہیں تھی۔ بنگالی زبان بولنے والے تو محترمہ کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ہی رہے تھے، اردو زبان بولنے والے بااثر اساتذہ اور دیگر افراد بھی تھوڑی بہت بنگلہ زبان سیکھ کر، کچھ نظمیں اور لوک کہانیاں یاد کرکے عام دیہاتیوں کو سناتے، جن میں یہ بتایا جاتا کہ ’’ایک رحم دل بادشاہ کو اُس کے وزیر نے سلطنت پر قبضہ کرنے کے لالچ میں قتل کردیا اور سلطنت پر قابض ہوگیا۔ اس نے رعایا پر ظلم و ستم کا بازار گرم کردیا، اور بادشاہ کی بہن کو بھی قید خانے میں ڈال دیا۔ پھر کسی ہمدرد غلام نے بہن کو قید خانے سے آزادی دلائی، اور بادشاہ کی بہن اپنی سلطنت کی آزادی کے لیے ظالم وزیر کے خلاف عوام میں آگئی‘‘۔ اس طرح کی کہانیا ں آسان فہم ہوتی تھیں اور عوام کے دلوں میں پوری کہانی رچ بس جاتی تھی۔ اس طرح ہر فرد نے اپنے اپنے طور پر محترمہ کی انتخابی مہم میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس سے پہلی دفعہ مشرقی حصے کے اردو بولنے والوں نے اتنے بڑے پیمانے پر رضا کارانہ طور پر بنگلہ زبان سیکھنے کی کوشش کی اور یہ ایک قومی اتفاق اور بھائی چارے کی فضا پروان چڑھی۔

مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور دیگر مخالف جماعتوں کے کارکنوں کی مزاحمت کی بناء پر انتخابات میں بہت سی جگہوں پر دھاندلی کی کوشش ناکام ہوگئی اور مشرقی پاکستان کے بہت سے علاقوں سے فاطمہ جناح کامیاب ہوگئیں (دھاندلی کے باوجود) مادرِ ملت کی شکست آبرو مندانہ تھی ، کہ 80 ہزار ووٹرز (بی ڈی ممبروں) میں سے ایوب خاں نے 49951 اور مادرِ ملت نے 38691 ووٹ حاصل کر لیے تھے۔ مشرقی پاکستان میں فرق اور بھی کم تھا ، صرف 2578ووٹوں کا فرق، جہاں ایوب خاں نے 21012 اور مادرِ ملت نے18434ووٹ حاصل کئے تھے پورے ملک سے فاطمہ جناح کی ناکامی سے مشرقی پاکستان کی عوام میں مایوسی پھیلی۔ ان کے دانشوروں نے محترمہ فاطمہ جناح کی شکست کا ذمہ دار مغربی پاکستان خصوصا پنجابی علاقوں کو قرار دیا جہاں سے ایوب خاں کو بہت زیادہ سپورٹ ملی تھی۔ یہ تجزیہ کیا کہ 1962ء کے صدارتی آئین کا آئین ہو یا پہلے آئین کی بحالی، مشرقی پاکستان کی اکثریت کی نمایندگی کبھی بھی اقتدار حاصل نہیں کرسکے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستانی آئین میں ایسی دفعات شامل کی جائیں جس سے مشرقی پاکستان کے لوگوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جا سکے۔ ڈھاکا یونیورسٹی شعبہ معاشیات کے استاد پروفیسر ڈاکٹر سبحان نے 6 نکات پیش کیے۔
عوامی لیگ نے 6 نکات کو اپنے منشور میں شامل کیا۔

پہلا نکتہ ۔قرارداد لاہور کے مطابق آئین کو حقیقی معنوں میں ایک فیڈریشن کی ضمانت دیتے ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب مقننہ کی بالا دستی اور پارلیمانی طرز حکومت پر مبنی ہونا چاہیے۔

دوسرا نکتہ ۔وفاقی حکومت صرف دو محکمے یعنی دفاع اور امور خارجہ اپنے پاس رکھے گی ، جب کہ دیگر محکمے وفاق کی تشکیل کرنے والی وحدتوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے ۔

تیسرا نکتہ
(الف) ملک کے دونوں بازوئوں میں دو علیحدہ مگر باہمی طور پر تبدیل ہو جانے والی کرنسی متعارف کرائی جائے… یا
(ب) پورے ملک کے لیے ایک ہی کرنسی رائج کی جائے ، تا ہم اس کے لیے موثر آئینی دفعات کی تشکیل ضروری ہے تا کہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان کو رقو مات کی ترسیل روکی جا سکے ۔ مشرقی پاکستان کے لیے علاحدہ بینکنگ ریز روز قائم اور الگ مالیاتی پالیسی اختیار کی جائے ۔

چوتھا نکتہ۔ ۔محاصل اور ٹیکسوں کی وصولی کے اختیار کو وفاق کی وحدتوں کے پاس رکھا جا ئے ۔ مرکز کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے تا ہم فیڈریشن وفاقی وحدتوں کے ٹیکسوں میں حصے دار ہو گی تا کہ وہ اپنی ضروریات پور ی کر سکے ۔ ایسے وفاقی فنڈز پورے ملک سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کے طے شدہ فیصد تناسب پر مشتمل ہوں گے ۔

پانچواں نکتہ۔
(الف) دونوں بازوئوں میں زرمبادلہ کی آمدنی کے لیے دو علیحدہ اکائونٹس ہونے چاہیں اور
(ب) مشرقی پاکستان کی آمدنی کومشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی آمدنی کو مغربی پاکستان کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔
(ج) مرکز کی زر مبادلہ کی ضروریات ، دونوں بازوئوں کو مساوی طور پر یا کسی طے شدہ تناسب کے مطابق پوری کرنا ہوں گی ۔
چھٹا نکتہ
(د)ملکی مصنوعات کی دونوں بازوئوں کے درمیان آزادانہ نقل و حمل پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی۔
(ہ)آئین کی رو سے وفاقی وحدتوں کو یہ اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ غیر ممالک میں تجارتی مشن کے قیام کے ساتھ تجارتی معاہدے نیز تجارتی تعلقات قائم کرسکیں۔

عوامی لیگ کے رہنما کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان نکات کو علیحدگی کے جذبات سے جوڑا گیا جبکہ شیخ مجیب الرحمن کو 6 نکات کی پاداش ڈیفنس پاکستان رولز (DPR)کے تحت گرفتار کیا گیا۔ کئی سال بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں رکھا گیا۔ جنرل ایوب خان اور ان کے حواریوں نے شیخ مجیب الرحمن کو غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر اپنے مضمون ’’پاکستان کے خلاف سازشوں کی کہانی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’مشرقی پاکستان میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل شمس عالم نے 1967ء میں اگرتلہ سازش کیس کا انکشاف کیا؛ پاکستان کی تاریخ میں اگرتلہ سازش کیس کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔ ہندوستان کی ریاست تری پورہ کا شہر اگرتلہ ہندوستان اور مشرقی پاکستان کے مشرقی سنگم پر واقع ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اگرتلہ شہر میں دو بنگالی انتہا پسندوں نے ہندوستانی سیکرٹ ایجنٹ سے خفیہ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے حوالے سے منصوبہ تیار کیا گیا۔صدر ایوب خان شیخ مجیب الرحمن کو اس سازش کا بنیادی ملزم قرار دیا گیا۔

بعد میں مزید وضاحت کی گئی کہ مجیب الرحمن نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ ایک مسلح انقلاب کے ذریعے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔ اس سلسلے میں دو ملزم نیوی اسٹیورڈ مجیب الرحمن اور ایک ماہر تعلیم محمد علی رضا اگرتلہ گئے اور انہوں نے آزاد بنگلہ دیش کے لیے بھارتی خفیہ ادارے سے سازباز کی۔
ڈھاکا کے سابق کمشنر  علاؤ الدین  نے جن کا تعلق بہار سے تھا شیخ مجیب الرحمن کو اس سازش کیس میں ملوث کرنے پر اعتراض کیااور یہ نکتہ اٹھایا کہ شیخ مجیب الرحمن دو سال سے جیل میں بند ہیں۔ انھیں اس مقدمہ میں ملوث کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اس مقدمہ کی سماعت کے لیے مشرقی پاکستان کا کوئی جج نہ تیار ہو رہا تھا نہ کوئی سرکاری وکیل کا عہدہ قبول کرنا چاہتاتھا۔ 19 جولائی 1968ء کو ایک خصوصی ٹریبونل نے ڈھاکا چھاؤنی میں مقدمے کی سماعت کی۔ 100 پیراگراف پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی گئی جس میں 227 گواہ اور 7 سلطانی گواہ شامل تھے۔ یہ ٹریبونل تین ججوں پر مشتمل تھا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس اے رحمن اس کے سربراہ تھے جو غیر بنگالی تھے، جبکہ ایم آر خان اور مقسوم الحکم بنگالی تھے۔ حکومت کی نمائندگی اٹارنی جنرل ٹی ایچ خان اور سابق وزیر خارجہ منظور قادر نے کی۔ سلطانی گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دباؤ کے تحت غلط بیان دیئے ہیں۔ خفیہ ایجنسی کی رپورٹوں پر’’پچاس سے زائد بنگالی سول و فوجی افسروں اور سیاست دانوں کو اگرتلہ سازش کیس کا ذمے دار قرار دے کر اُن کا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ ۔

اس کیس کی سمیت کھلی عدالت میں کی گئی شیخ مجیب کی قید کے دوران عوامی لیگ میں وہ لوگ بااثر ہوگئے جو متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں دیکھتے تھے ان کے نزدیک متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان صرف ایک نوآبادیاتی کے طور پر رہ سکتا ہے مغربی پاکستان کے سیاست دان کبھی ایسی آئینی نکات کو تسلیم نہیں کریں گے جس سے مشرقی پاکستان مجبور اور ماتحت اکائی کی بجائے ایک مساوی اکائی کی حیثیث سے متحدہ پاکستان میں رہ سکیں۔
جس کی وجہ سے دورانِ سماعت بنگلہ دیش کے نام سے علیحدہ پرچم، الگ مملکت اور قومی ترانے سب کچھ منظرعام پر لائے گئے، اس کے دو بہت خطرناک اثرات پڑے، ایک تو یہ کہ مشرقی پاکستانیوں کے دل میں مغربی پاکستان بالخصوص فوج کے حوالے سے خلیج بڑھتی چلی گئی، دوسرا خطرناک اثر یہ ہوا کہ الگ بنگلہ شناخت پر مبنی مملکت اور بنگالی زبان میں قومی ترانہ آچکا تھا۔ اسی دور میں کسی سرکاری شخصِت کی جانب سے مجیب الرحمن کو طنزیہ طور ’بنگلہ بندھو‘ کا خطاب دیا گیا اور اسے تیزی سے بنگالی عوام میں مقبولیت حاصٖ ہوگئی ۔‘‘

جب 1968ء میں پورے ملک میں جنرل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک نے زور پکڑا اور ایوب خان کی حکومت راولپنڈی میں قائم صدارتی محل تک محدود ہوگئی تو ایوب خان نے مجبور ہو کر مستقبل میں صدارتی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کیا اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس بلائی۔ متحدہ حزب اختلاف نے جس کی قیادت مولانا مودودی، نوابزادہ نصراﷲ، ایئر مارشل اصغر خان، میاں ممتاز دولتانہ اور خان ولی خان کررہے تھے۔
اعلان کیا کہ جب تک اگرتلہ سازش کیس ختم نہیں ہوگا اور شیخ مجیب الرحمن کو رہا کر کے راولپنڈی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا جائے گا وہ کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

حکومت نے 6 فروری 1969ء کو مقدمے کی آخری تاریخ مقرر کی تھی، مگر عوامی دباؤ پر حکومت نے اسے مؤخر کردیا۔ اس دوران حکومت کے بعض افراد نے براہ راست ایکشن کا پروگرام بنایا۔ 15 فروری 1969ء کو جیل میں ایک اہلکار نے سارجنٹ ظہورالحق کو اس کے کمرے میں گولی مار کر ہلاک کردیا، کیونکہ جیل حکام کے مطابق اس نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ یہ خبر جیسے ہی باہر پہنچی ایک بے قابو ہجوم نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کو آگ لگا دی گئی جس میں حکومت کے وکیل اور ٹریبونل کے جج مقیم تھے۔ اس آگ کے نتیجے میں مقدمے کی متعدد فائلیں اور ثبوت بھی نذرِ آتش ہوگئے۔ یوں براہ راست ایکشن کا یہ پروگرام ناکام ہوگیا۔

جنرل ایوب خان کو اگر تلہ سازش کیس ختم کر نے اور شیخ مجیب الرحمن کو کانفرنس میں مدعو کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ 22 فروری 1969ء کو حکومت نے اگرتلہ سازش کیس واپس لے لیا۔ اگلے دن شیخ مجیب سمیت تمام ملزموں کو رہا کردیا گیا اور ان کا عظیم الشان استقبال ہوا، اور مجیب الرحمن کو بنگلہ بندھو کا خطاب دیا گیا کانفرنس میں شرکت کے لیے راولپنڈی آئے۔ ۔ شیخ مجیب الرحمن نے نئے آئینی ڈھانچے کی بنیاد صوبائی خودمختاری پر رکھنے اور 6 نکات پر عملدرآمد کے بغیر کسی سمجھوتے سے انکار کیا۔ ۔ مذاکرات کے اصل محور شیخ مجیب تھے۔ گول میز کانفرنس ناکام ہوگئی تاہم اب ایوب خاں کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہو چکا تھا ایوب خان نے ہارون خاندان کے یوسف ہارون کو گورنر بنادیا جو کہ شیخ مجیب کے ساتھ خاندانی مراسم رکھتے تھے۔ ۔ پارلیمانی نظام، بالغ حق رائے دہی بھی تسلیم کرلیا گیا، ون یونٹ ختم کرکے دفاع، امور خارجہ و دیگر مطالبات ماسوا ئے کرنسی کے مطالبے کے، سب ہی مان لیے گئے تھے۔ شیخ مجیب بھی ان باتوں پر سمجھوتے کا عندیہ دے چکے تھےتھے مگر ان باتوں کو حتمی سمجھوتے کی شکل نہیں دی جا سکی مگر اب وقت ایوب خاں کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ وہ اب ایسا سمجھوتہ کرنے کی قوت سے محروم ہو چکے تھے

صدر ایوب خان نے 1966 میں جنرل یحییٰ خان کو بری فوج کا سربراہ بنایا تھا، تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ اس صورتِ حال کے پس پردہ کمانڈر انچیف جنرل محمد یحییٰ خان کا ہاتھ تھا جنہوں نے لاقانونیت پر قابو پانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی تاکہ ایوب خان کو اقتدار سے نکال کر صدارت کی کرسی پر قبضہ کیا جاسکے۔ اس موضوع پر الطاف گوہر نے بھی اپنی کتاب میں روشنی ڈالی ہے۔ یحییٰ خان کے فساد پھیلانے والے عناصر سے رابطے تھے۔ اب اسی یحیی خاں کے دباؤ کے باعث 25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔

ایوب خان نے انتہائی عجلت میں غیر آئینی طریقے سے اقتدار یحییٰ خان کے حوال ے کیا۔ اس طرح انھوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے 1962ء کے آئین کی خلاف ورزی کی، جس کے مطابق اقتدار مرکزی اسمبلی کے اسپیکر کو منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔
یحییٰ خان کے مارشل لا کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان میں آزادی کے نعرے پوری شدت کے ساتھ گونجنے لگے۔ پاک فوج نے اُن علاقوں میں تو اپنا کنٹرول قائم رکھا جہاں جہاں ان کی چھاؤنیاں تھیں، مگر گاؤں دیہات میں فسادات اور مغربی پاکستان سے نفرت، خاص کر پنجابیوں سے نفرت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ پنجابی کا مطلب ہی پاک فوج بن چکا تھا ۔

ان حالات میں بعض سیاسی قائدین نے 1956ء کے آئین کی بحالی اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر نئی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا مطالبہ کیا، کیونکہ اس خلفشار اور انارکی کا راستہ روکنے کے لیے اس کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔ ان سیاسی قائدین کا موقف تھا کہ اگر پاکستانی حکومت جمہوریت کی جانب سفر کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے 8 اکتوبر 1958ء کی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی شخص کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر جمہوری دستور کو منسوخ کردے۔
یہ پہلے آئین کو بحال کروانے کی آخری کوشش تھی جو ناکام رہی جنرل یحییٰ خان نے ان تمام تجاویز کو یکسر مسترد کردیا اور متبادل آئین بنانے کا عندیہ دیا۔ جس کے بعد یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑ کر مغربی پاکستان کے چاروں صوبے بحال کردئیے۔ ون مین ون ووٹ کا اصول نافذ کرکے مشرقی پاکستان کو قومی اسمبلی میں 162 سیٹیں جبکہ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو 138 نشستیں دے دیں۔

Advertisements
merkit.pk

1970ءمیں ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ، سندھ اور پنجاب سے پیپلز پارٹی، سرحد اور بلوچستان سے نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے اکثریت حاصل کی، مگر جنرل یحییٰ خان اور ان کے ساتھیوں نے صوبائی خودمختاری پر اتفاق نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ٹوٹ گیا تاریخ یہ سبق سکھاتی ہے کہ ملک کو کوئی ریاستی ادارہ نہیں متحد رکھ سکتا وہ دوسرے علاقوں کو جبرا مقبوضہ اور نوآبادیاتی علاقوں کے طور پر رکھ سکتا ہے وہاں کے لوگوں کے دل نہیں جیت سکتا یہ آئین کی بالادستی اور آئین میں تمام علاقوں کے نمائندوں کی رضامندی سے ہی ممکن ہے کہ مملکت کے تمام شہری اپنے آپ کو اس مملک کے اندر آزاد، خود مختار اور قابل عزت خیال کریں!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستان کے پہلے آئین کی تاریخ/شیخ مجیب الرحمان۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم/آخری قسط

Leave a Reply