فقیدُالمثال عبدالرحمن بابا۔۔۔۔۔ محمدحسین ہنرمل

شعرگوئی بھی ایک خداوندی عطیہ ہوتاہے۔خوش نصیب ہیں وہ شعراء جو اس بیش بہا عطیے کو روئے زمیں پراللہ و رسولﷺ کی اطاعت، امن ومحبت کے پرچاراور خلق خدا کی فلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔بلاشبہ انہی لوگوں کو خدا نے اپنی کتاب میں ”غاوون“ جیسے شعراء سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

ایسے سلیم الفطرت اور لائق شعراء میں عبدالرحمان مومند کاشماربھی ہوتاہے جسے دنیا کے لوگ عقیدت سے بابا پکارتے ہیں۔یوں توپشتوزبان کے کلاسیکل دورکے ہرشاعرنے اپنے اپنے دور میں دنیا کو مثبت پیغام دیاہے لیکن رحمان بابا کی شاعری پڑھنے کے بعد ایک قاری پہلی فرصت میں ان کے عشق الٰہی اور انسان دوستی کو بھانپ لیتا ہے۔ رحمان بابا گیارہویں صدی   ہجری کے وہ  ہر   دلعزیز پشتو شاعر تھے جن کا مکتب فکر پشتوشعرو ادب میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے۔رحمان بابا کی شاعری کی محبوبیت کا یہ عالم تھا کہ بارہویں، تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری کے بے شمار شعرا نے ان کو اپنا امام تسلیم کیاتھاجن میں یونس خیبری،معزاللہ خان مومند، اخوندگدای،حافظ الپوری، عبدالعظیم سواتی،میاں نعیم مٹے زئی،فضل شاہ، پیرمحمد کاکڑاورعبدالغفار ہوتک شامل ہیں۔”بابا“کے علاوہ عبدالرحمان مومندکو اپنے عقیدت مندوں کی طرف سے لسان الغیب،سلطان الشعراء اور بلبل کے القابات بھی ملے ہیں۔

رحمان بابا گیارہویں صدی ہجری میں پشاور کے قریب کی بہادر خیل میں عبدالستار(ابراہیم خیل) مومندکے ہاں پیدا ہوئے تھے۔اگرچہ معروف تذکرہ’’پٹہ خزانہ“ کے مطابق ان کی پیدائش 1034ھ کو ہوئی تھی لیکن اس تاریخ کوپھر بھی قطعی نہیں کہاجاسکتا کیونکہ رحمان باباکے حالاتِ زیست تحقیق کاروں کی طویل تحقیقی مساعی کے باوجود تاحال کھل نہیں سکے ہیں۔رحمان بابا جب شعرو سخن کے میدان میں وارد ہوئے تواسی زمانے میں خوشحال خان خٹک جیسے قد آور شاعرکاطوطی بولتا تھا لیکن رحمان بابا کے کلام کواس حدتک پذیرائی ملی کہ خٹک بابا کاشاعرانہ مقام بھی لوگوں کی نظروں ماند پڑگیا۔ آج بھی بے شمار لوگوں کے نزدیک رحمان باباآج بھی خوشحال خان خٹک سے بڑے اور مقبول شاعر ہیں۔

دیوان رحمان کے نام سے اپنا شعری سرمایہ دنیامیں چھوڑنے والے اس درویش شاعرکی شاعری ہر زمانے میں پشتونوں کے گھر وں، حجروں اور محفلوں میں بڑی عقیدت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔معروف پشتو ادیب وشاعرمرحوم ایوب صابرلکھتے ہیں کہ پشتونوں میں ایسے گھرانے بہت کم ہوں گے جن میں دو کتابیں نہ ملتی ہوں، ایک قرآن پاک اور دوسری دیوانِ رحمان بابا۔سی ای بِڈولف اپنی کتاب افغان پوئٹری میں رقمطراز ہیں کہ ”پٹھانوں کا محبوب شاعر رحمان ہے۔ اس شاعر کے اشعار بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کو ازبرہیں۔اس قوم میں ایسا فرد بڑی مشکل سے ملے گاجسے رحمان کے کچھ اشعار یاد نہ ہو۔یہ پشتو زبان کی خوش نصیبی ہے کہ رحمان جیسے عظیم صوفی اور لاثانی شاعر سے بہرہ مند ہوئی“۔

رحمان بابا کے  دیوان کا جب بھی مطالعہ کرتاہوں تو میں نے ہروقت  بار انہیں   منبر پر بیٹھا ہوا ایک   مخلص واعظ اورسچا ہادی پایاہے۔ ایسا واعظ جو للہیت بھی سکھاتا ہے اور حب ِ رسول ﷺبھی، جومقام انسانیت اور شرف انسانیت اور انسانی اقدارکو اپنانے کی تلقین بھی کرتاہے۔رحمان بابا کو جس شاعری نے ساڑھے تین سوسال بعدبھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھا ہے، کی پہلی خاصیت اس میں بہتی ہوئی سلاست اور روانی ہے۔ بڑے مغلق اور پیچیدہ مسائل کو نہایت سہل انداز میں انہوں نے اپنے منظوم کلام کاجُز وبنایا ہے، جس کے طفیل یہ کلام ہر خواندہ اور ناخواندہ اہل زبان کی زبان پر جاری ہوسکتاہے۔

کلام ِ رحمان کی مقبولیت کی دوسری وجہ اس میں جابجاپشتوضرب الامثال کااستعمال ہے۔پشتو ضرب الامثال کو رحمان بابا نے نہایت فطری انداز میں منظوم جامہ پہنایاہے۔میں سمجھتاہوں کہ ضرب الامثال کے اس نادر استعمال نے بھی بے شمار لوگوں کو ان کی شاعری پڑھنے کاخوگر بنایاہے۔اسی طرح لوگوں میں کلام ِ رحمان کی مقبولیت کی ایک وجہ ان کی سچی ولایت،خداترسی اور انسان دوستی ہے۔ رحمان بابا نے شاعری کے ذریعے جن روحانی، سماجی اور اخلاقی تعلیمات کواپنانے کا لوگوں سے مطالبہ کیاہے،اُسی پر وہ خود بھی پوری زندگی کاربندرہے تھے۔کیونکہ ان کا کلام اور اسی زمانے کے قرائن سے بخوبی یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ ایک سچے متبع رسولﷺ اور سچے ولی اللہ تھے۔دیگر پشتوشعراء کے برعکس عشق الٰہی میں غرقاب رحمان بابا نے قبیلہ جاتی امتیازات اور جغرافیائی حدود سے بھی اپنے آپ کو مبرا کیاہواتھا،
میں عاشق ہوں میرا سروکارعشق سے ہے
خلیل،داودزئی اورنہ ہی مومند ہوں ،

بہت سے لوگوں کے ہاں رحمان بابا مطلق ایک صوفی شاعر ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ کلام ِ رحمان کا بیشتر حصہ بشردوستی اور اخلاقیات سے بحث کرتاہے۔لوگوں کو اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف دعوت کا عنصر جتنا میں نے اس صوفی شاعر کے کلام میں دیکھا ہے، شاید کسی اور صوفی شاعر کے کلام میں موجودہو،
اُگائے پھول تو دنیا گل وگلزار ہوگی
جو کانٹے بوئے، ساری زندگی پُر خار ہوگی

انسانی حرمت اور کرامت کے بارے کیا کمال کاشعر کہاہے،
خلیل اللہ کے کعبے سے بہتر خانہ ِ دل ہے
اسے آباد رکھے گا جو، ہوگا محرمِ دل وہ

رحمان باباکے کلام کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں۔ان کی شاعری کی سلاست کا کمال دیکھیے کہ اکثر ترجمے منظوم ہیں۔پشتو کے بہت سے شعراء نے ان کے کلام کے  جزوی طور پر منظوم ترجمے کیے ہیں جن میں امیر حمزہ   شنواری،رضا ہمدانی، فارغ بخاری اور پروفیسر محمد زمان مضطر قابل ذکر نام ہیں تاہم پروفیسر طہ خان نے بابا کی تمام تخلیقات کا اردوزبان میں منظوم ترجمہ شائع کرکے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اردو کے علاوہ انگریزی زبان میں باباکے منتخب کلام کوپہلی مرتبہ جنز انوالڈسن نے شائع کیااور پھر بعدمیں ان کی پوری شاعری کو رابرٹ سامپسن نے انگریزی میں ترجمہ کرکے مغربی دنیا میں اسے متعارف  کروایا۔
ماہ و خورشید و جمال یار تینوں ایک ہیں
سرو، صنوبر، قدِ دلدار تینوں ایک ہیں
اک بھی کوئے صنم کی آئے جو میری طرف
مشک و عنبر، خاکِ کوئے یار تینوں ایک ہیں،

پشتو زبان میں ہر زمانہ ء  کمال کی شاعری ہوئی ہے مگر رحمان بابا کے کلام میں قدرت نے ایسا اعجاز رکھاہے جو ہر طبقے اور ہرمکتب فکر کے لوگوں پر اثر کرتا ہے۔ ان کی شاعری کے بارے میں مشہور محقق اور نقاد کامل مومند لکھتے ہیں کہ ”اس بات میں اختلاف کے پہلو نکل سکتے ہیں کہ پشتو کا سب سے بڑا شاعر کون ہے؟ مگر اس بات پرمشرق ومغرب کے پشتو کے تمام علماء اور نقادیک زبان ہیں کہ پشتو کا سب سے مشہور اور ہردلعزیز شاعرآج بھی رحمان بابا ہی ہے“۔پشتو شعر وادب کو اپنے  ساحرانہ کلام سے معطر کرنے والے اس درویش شاعر نے سوسال کے قریب عمر پائی تھی۔ وصال کے بعد آپ ہزار خوانی میں آسودہ خاک ہوئے۔ رحمان بابا چونکہ خود بھی ولی اللہ تھے یوں اولیاء کے بارے میں ان کی منظوم پیش گوئی سچی ثابت ہوئی کیونکہ دیگر اولیاء کی طرح آپ کامزار بھی ہردور میں مرجع خلائق رہاہے۔
رہتا ہے اک ہجومِ خلائق مزار پر
لگتا ہے بعدِ مرگ بھی بازارِ اولیا ،
(کالم میں رحمان بابا کے اشعار کے منظوم اردو ترجمے محمدزمان مضطر، امیرحمزہ شنواری اورفارغ بخاری کے تراجم سے لیے گئے ہیں)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *