جغرافیہ کے قیدی (27) ۔ گریس اور پولینڈ/وہاراامباکر

گریس کا بھی ایسا ہی مسئلہ ہے۔ اس کا ساحل زیادہ تر کھڑی چٹانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے دریا ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کرتے۔ زرخیز اور چوڑی وادیاں زیادہ نہیں۔ اچھی کوالٹی کی زرخیز زمین ہے تو سہی لیکن اتنی زیادہ نہیں کہ گریس بڑا زرعی برآمد کنندہ بن سکے۔ اور زیادہ شہر بن سکیں جہاں پر تعلیم یافتہ، ہنرمند اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید آبادیاں بن سکیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایتھنز جزیرہ نما کے کنارے پر ہے اور اس کی تجارت کا انحصار بحیرہ ایجین پر ہے لیکن سمندر کے دوسری طرف ترکی ہے جو کہ اس کا بڑا حریف ہے۔ گریس اور ترکی انیسویں اور بیسویں صدی میں کئی جنگیں لڑ چکے ہیں اور آج کے دور میں یہ بہت سا پیسہ دفاعی اخراجات پر خرچ کرتا ہے (جبکہ پیسہ اس کے پاس نہیں ہے)۔
اس کی زمین کو پہاڑ محفوظ رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے پاس 1400 جزائر ہیں جن مین سے 200 آباد ہیں۔ ان کی نگرانی کے لئے اچھی بحریہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملٹری پر خرچ اس سے زیادہ ہے جتنا یہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور برطانیہ اس کو خرچ اٹھا لیتے تھے تا کہ سوویت یونین کو ایجین اور بحیرہ روم سے باہر رکھا جا سکے۔ جب سرد جنگ ختم ہوئی تو اس کی ضرورت بھی۔ لیکن گریس خرچ کرتا رہا۔
یہاں تک کہ بحران نے آن لیا۔ اس کی معیشت زمین بوس ہو گئی۔ اور اس نے یورپ میں تفریق پیدا کر دی۔ 2012 میں یورپی یونین نے اسے معاشی گرداب سے نکالا۔ اور ساتھ مطالبہ کیا کہ گریس اپنے اخراجات کنٹرول کرے۔ اس نے یورپی ممالک کو تقسیم کر دیا۔ گریس کی مالی امداد کرنے والے اور اس سے تقاضا کرنے والے شمالی یورپی ممالک تھے۔
جرمنی میں لوگ سوال اٹھانے لگے کہ وہ تو 65 سال کی عمر تک کام کرتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں۔ کیا اس لئے کہ گریس کے لوگ 55 سال کی عمر میں ریٹائر ہو سکیں؟ کیوں؟ یورپی شناخت اس کا جواب دینے کے لئے ناکافی تھی۔
جرمن وزیرِ خزانہ شوابلے نے تبصرہ کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ گریس کے اربابِ اقتدار اور سیاسی جماعتیں مشکل وقت میں اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ جواب میں گریس کے صدر پوپالیوس نے جواب دیا۔ “مسٹر شوابلے ہوتے کون ہیں کہ گریس کی تذلیل کریں؟ اور یہ ڈچ کون ہوتے ہیں؟ اور یہ فنش کون ہوتے ہیں؟ ہم نے ہمیشہ آزادی کی حفاظت کی ہے۔ نہ صرف اپنے ملک کی، بلکہ پورے یورپ کی”۔ (یہاں پر دوسری جنگِ عظیم کا حوالہ دے رہے تھے جس میں نا زی فوجوں کے خلاف انہوں نے خود شرکت کی تھی)۔
گریس کے عوام اس بحران میں جرمنوں سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ “جرمن ہم پر کیسے حکم چلا سکتے ہیں؟ یورو کی وجہ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے وہ خود ہیں”۔
“یورپی خاندان” میں دراڑیں نمایاں ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد پروان چڑھنے والی نسل نے جنگ نہیں دیکھی۔ امن ان کے لئے نارمل شے ہے۔ جنگیں دنیا کے دوسرے حصوں میں ہوتی ہیں۔ اور یہ “خوفناک اطمینان” ہے جو مشرق میں چھڑ جانے والی جنگ کے بعد اب کم ہونا شروع ہوا ہے۔ بیسویں صدی کی دو عظیم جنگیں یہاں لڑی گئی تھیں اور پھر ستر سال کا امن رہا جس کے دوران سوویت یونین ختم ہوا۔ اس سے یہاں کی اگلی نسل کو تاثر ملا کہ یہ “جنگ کے بعد کی دنیا” میں رہ رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ایسا اطمینان حقیقت رہے لیکن سطح کے نیچے تنازعات کے بلبلے ہیں۔ روس اور یورپ کے تعلقات کیسے رہتے ہیں؟ پولینڈ اس وقت یورپ کا پرامن، کامیاب اور بڑا ملک ہے جس کی آبادی تین کروڑ اسی لاکھ ہے۔ کمیونزم کے خاتمے کے بعد اس کی معیشت دگنا ہو چکی ہے۔ لیکن اس کی تاریخ اور جغرافیہ اس کو ڈراتا ہے کیونکہ اس کی سرحدیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ سیکورٹی کے بارے میں اسے خدشات ہیں کیونکہ روس کے ملٹری نقطہ نظر سے اس کے لئے دفاع کرنے یا جارحیت کے لئے اپنی فوج کو کھڑا کرنے کا بہترین مقام یہ ہے۔
پولینڈ نے ماضی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ مشرق سے بھی اور مغرب سے بھی افواج آتی رہی ہیں۔ ملک کی سرحدیں بدلتی رہیں ہیں۔ ملک غائب ہوتا رہا ہے اور پھر نمودار ہوتا رہا ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں یہ بیسویں صدی کے آخر میں آیا ہے۔
اپنی تاریخ کی وجہ سے یہ اپنے مغرب میں جرمنی اور اپنے مشرق میں روس پر بھروسہ نہیں رکھ سکتا۔ فرانس کی طرح ہی پولینڈ بھی جرمنی کو یورپی یونین اور ناٹو کی قید میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ روس کا خوف یوکرین میں ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ ابھی تک اس کے پاس ستر لاکھ یوکرینی پناہ گزین پہنچیں ہیں لیکن اسے معلوم ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ اور فرانس نے 1939 میں معاہدہ کیا تھا کہ اگر جرمنی نے اس پر حملہ کیا تو یہ مدد کو آئیں گے۔ دونوں نے اس کی پاسداری نہیں کی۔ جب جرمنی نے حملہ کیا تو پولینڈ کو ہڑپ کر لیا گیا جبکہ فرانس اور برطانیہ دیکھتے رہے۔ اس دغا کے باوجود اس کے برطانیہ سے تعلقات اچھے ہیں۔
پولینڈ نے 1999 میں ناٹو میں شمولیت اختیار کی۔ اور اسی سال ناٹو نے سربیا کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ یہ روس کے لئے پستی کا وقت تھا۔ نہ صرف ناٹو کو پھیلتے بلکہ اپنے اتحادی ملک، سربیا، کے خلاف حملہ بے چارگی سے دیکھتا رہا۔ اس وقت یہ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ کچھ بھی چیلنج کر سکے۔ جب بورس یلسن کے سال ختم ہوئے تو پھر پیوٹن مکے لہراتے اپنے دروازے سے باہر آئے۔
پولینڈ کے پاس سوال ہے کہ “اگر روسی دھمکائیں گے تو فون کس کو کیا جائے گا؟ برسلز یا واشنگٹن؟” اس کا جواب انہیں معلوم ہے جو کہ دراصل یورپ کی کمزوری کی نشادہی کرتا ہے۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply