برزخ سے براہ راست __مریم مجید

مجھے آپ سب کا تھوڑا سا وقت درکار ہے۔۔ گھبرائیے نہیں، مجھے آپ سب سے کوئی مالی، جذباتی یا کسی بھی کسی کی قسم مدد درکار نہیں کیونکہ میں ہر طرح کی مدد سے بے نیاز ہو چکی ہوں ۔ آپ کو متوجہ کرنے کا مقصد کچھ اور ہے ۔
کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟
میں زینب ہوں! !! جی ہاں! آپ نے درست پہچانا ۔وہی زینب جسے چار روز قبل اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر کچرے کے ایک ڈھیر میں مجھے چھپا دیا گیا۔شاید معاشرے میں بیٹیوں کا مقام کچرا کنڈی ہی ہوتا ہے ۔خیر!!یہ سب آپ کو ابھی سمجھ نہیں آنے والا۔ آئے گا بھی کیسے ؟؟ مجھے بیان کرنے کا سلیقہ بھی تو نہیں آتا۔ میں نے سات سالہ زندگی میں ابھی صرف ” میرا سکول” ” مائی بیسٹ ٹیچر” اور ” مائی ہابی” جیسے مضمون ہی لکھنے سیکھے تھے۔ مگر اب جو مجھے صدیوں کے زہریلے اور بھیانک تجربے سے گزار دیا گیا ہے اور میں اپنی جنم بیتی، مرن بیتی، اگرچہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں ہی آپ کے گوش گزار کرنے کے لائق ہوئی ہوں تو جان لیجئے کہ ” میں مر چکی ہوں ” لب کھولنے کے لئیے مرنا شرط ہے۔ زندہ لوگوں کو یہ ہنر نہیں آتا۔
ارے میں خود کو صرف زینب کیوں کہہ رہی ہوں، ؟ زینب تو میں جیتے جی تھی۔۔؟ اب میں لائبہ ہوں، نور فاطمہ ہوں، عاصمہ ہوں۔ایمان فاطمہ ہوں ۔۔۔اب میں مریم ہوں آسیہ ہوں ۔۔میں وہ عمران ہوں جسے مدرسے کے شیطانوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد تیسری منزل سے نیچے پھینک کر مار ڈالا تھا اور جس کی لاش پانچ گھنٹے گلی کی اینٹوں پر پڑی اپنے ہونے کا ماتم کرتی تھی۔ اب میں جنسی زیادتی کا شکار ہوئی ایک “نمبر” ہوں ۔
دیکھا ؟؟ مجھے کتنی بڑی بڑی باتیں کرنی آ گئی ہیں؟ ؟ صرف اس لئیے کہ میں مر چکی ہوں ۔
ہاں تو میں آپ کو اپنی دآستان محض اس لئیے سنانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی زینب، عاصمہ، فاطمہ،آسیہ اور مریم کو یہ آگاہی جیتے جی ہی دے دیں ۔ آپ کی بیٹیوں کو زندگی کا یہ سبق سیکھنے کے لئے کچرا کنڈی کا ڈھیر نہ بننا پڑے۔۔آپ کو زبان کھولنے کے لئیے مرنا نہ پڑے۔۔
میرے امی ابو عمرے پر جا رہے تھے۔میں بہت ہی اداس ہوئی تو انہوں نے مجھے پیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالٰی کے گھر جا رہے ہیں اور واپسی پر میرے لئیے نیلی آنکھوں والی باربی ڈول بھی لائیں گے ۔بالکل میرے جیسی آنکھوں والی۔۔ تو میں بہت خوش ہوئی۔۔ہنسنے لگی اور ان کے جانے کے بعد اپنی باربی ڈول کے انتظار میں اسکے لئیے گھر بنانے کے ارادے باندھنے لگی۔۔تب میں زندہ تھی ناں! ! کاش مجھے علم ہوتا کہ لوگوں کو باربی ڈول کو موڑنے توڑنے اور اس کے جسم کے ہر حصے کو کچل کر پھینک دینے کا مرض لاحق ہو چکا ہے تو میں کبھی بھی گڑیا نہیں مانگتی۔۔۔میں ان سے کہتی کہ پیارے امی ابو!! اللہ تعالٰی سے کہیے گا کہ یا تو بیٹیاں زمین پر نازل کرنا ہی بند کر دیں یا پھر ہر بیٹی کے ساتھ حفاظتی فرشتے بھی زمین پہ نازل کریں کیونکہ زمین پر ہمیں تحفظ دینے والا کوئی نہیں رہا۔۔مگر!! تب میں زندہ تھی!!
امی ابو کے جانے کے بعد میں نے سکول اور ٹیوشن جانا نہیں چھوڑا ۔ میں چاہتی تھی کہ جب وہ واپس آئیں تو میری اچھی کارکردگی سے خوش ہو کر مجھے گلے لگائیں اور مسکرا کر میرا ماتھا چومیں اور کہیں ” دیکھو ہماری بیٹی کتنی قابل ہے ” آہ! تب تک میں صرف اسی لمس کو پہچانتی تھی ۔۔مجھے علم نہیں تھا کہ لمس انگارہ، زہر، سانپ اور بچھو کا ڈنک بھی ہوتے ہیں ۔۔
ہاں تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ چار دن ۔۔ شاید چار دن پہلے میں ٹیوشن گئی تھی۔۔اور پھر وہاں سے واپس نہیں آئی۔۔۔
مجھے تو علم بھی نہیں ہوا کہ میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کیوں دبوچ لیا گیا تھا؟ پھر آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور دنیا میں اندھیرا ہو گیا۔۔میری دنیا میں اندھیرا ہو گیا۔۔!!آہ! اندھیرا تو ماں کی کوکھ میں بھی تھا مگر کتنا پرسکون! دبیز مخملیں اندھیرا۔۔اور ایک یہ اندھیرا تھا۔۔بدبودار ۔دم گھوٹتا اور جسم چھلنی کرتا اندھیرا۔۔اس اندھیرے کے جانے کتنے ہاتھ تھے۔۔جیمس اینڈ دی جائنٹ پیچ کی سنڈیوں کی طرح لاتعداد ہاتھ پیروں والے مکروہ کیڑے مجھ پر رینگتے رہتے تھے ۔۔
مجھے لے جانے والوں نے ایک اندھیرے کمرے میں مجھے بند کر دیا اور اف! !! میں کیا بتاؤں آپ کو ۔وہاں اتنا اندھیرا تھا کہ میری سسکیاں بھی اندھیرے میں جذب ہو جاتی تھیں ۔۔ انہوں نے میرے ہاتھ پیر باندھے رکھے کہ اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ ماہر تھے۔۔ اپنے فن میں طاق!!
میرے کمزور ننھے سے وجود پر پہلے پہل ایک بدبودار بوجھ آن پڑا اور پھر۔۔!!! کیا آپ نے کبھی کچی ململ کو پوری طاقت اور بے رحمی سے ایک جھٹکے میں پھاڑا ہے ؟؟ کیسی آواز آتی ہے تب؟؟ ویسی ہی ایک آواز میرے اعضاء سے بلند ہوئی اور اندھیرے کا حصہ بن گئی۔۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی گرم لوہے کی تیز دھار سلاخ سے میرے وجود کے دو ٹکڑے کر رہا ہے۔۔۔میری روح میرے نتھنوں میں آن پھنسی اور وہاں سر پٹخنے لگی۔۔دائیں بائیں ۔۔!! مگر ! نکلتی نہ تھی ۔۔میں نے امی ابو کو پکارا۔۔۔اللہ کو بھی ۔۔۔مگر کوئی نہ آیا!!
بس ایک بوجھ کی جگہ دوسرے نے لے لی اور میرے جسم کا ہر ریشہ، ہر رگ، کھال کا ہر ذرہ فردا فردا داغا جانے لگا۔۔جہنم کی آگ بھی اتنی بھیانک نہ ہو گی جیسی وہ ہوس و وحشت کی آگ تھی۔۔وہ آگ جسے زمانے کے نمرودوں نے بھڑکآیا ہے اور جس کا ایندھن مجھ سمیت جانے کتنی کلیاں ہیں ۔۔

اذیت سہتے سہتے میری روح کو کوئی ایک ننھا سا سوراخ نظر آیا اور وہ اس تیزی سے نکل بھاگی کہ مجھے نوچنے والوں کو خبر کیا ہوتی؟ مجھے خود بھی پتہ نہیں چلا ۔۔وہ تو جب میری اذیت میں یکدم کمی آئی اور میرے بندھے ہاتھ پیر آزاد ہوئے تو میں اٹھ بیٹھی ۔۔۔میں نے دیکھا کہ اندھیرا ایکدم چھٹ گیا ہے اور میں خود کو کچی زمین پر برہنہ دیکھ رہی ہوں ۔۔ایک گدھ مجھے نوچ رہا ہے اور باقی اپنی باری کے منتظر ہیں ۔تو تب!! ہاں تب مجھے احساس ہونے لگا کہ میری آزمائش ختم ہو گئی ہے۔۔ ابھی میں اپنی آزادی کے اس احساس کو اچھی طرح محسوس بھی نہیں کر پائی تھی کہ میرے کانوں میں دوسرے گدھ کی آواز پڑی۔۔” ابے یہ تو مر گئی ہے!!! ہاہ!! میں مر گئی تھی؟؟ مجھے یقین نہیں آیا ۔۔نانی کہا کرتی تھیں کہ موت بہت تکلیف سے آتی ہے بہت اذیت ہوتی ہے۔مگر ! میں تو چپ چاپ ہی مر گئی تھی۔۔تکلیف دہ تو زندگی تھی۔۔موت تو بہت ہی مہربانی سے آئی تھی۔۔انہوں نے میرے مردہ ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کی اور باقی ماندہ نے میرے بے روح جسم کو بقدر ضرورت نوچا۔۔انہیں زندہ مردہ کی شرط سے اسثنی حاصل تھا۔۔روح کی اہمیت سے ناآشنا۔۔چلتے پھرتے مردے!!
میں اب قدرے سکون میں تھی اور تبھی!!!! میں نے اس کمرے میں کچھ پاکیزہ ہستیوں کو آتے دیکھا۔۔جانے وہ کون تھیں؟ ؟ اماں حوا؟؟ بی بی مریم؟ اماں عائشہ یا فاطمہ زہرہ؟؟مادر حسن و حسین؟؟ معلوم نہیں ۔۔انہوں نے میرے قریب آ کر مجھے گلے سے لگایا۔۔میرے کچلے ہوئے جسم پر ہاتھ پھیرا تو میرے زخم بھرنے لگے۔۔انہوں نے میری لٹکی اور سوجی ہوئی نیلی پڑتی زبان سمیٹ کر میرے منہ میں ڈالی اور کچھ سفید لبادے اوڑھا کر اپنے ساتھ لے گئیں ۔۔مجھے سکون آ گیا۔۔درد جلن بے قراری مٹ گئی۔۔میں نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا تو وہ میرے بے روح جسم کو کچرے کے ڈھیر میں چھپا رہے تھے۔۔
میں نے سوچا شاید اب اس کچرے کے ڈھیر پر کتے میری لاش بھنبھوڑ دیں اور میرے امی ابو کو میری ایسی حالت نہ دیکھنی پڑے مگر بے حد حیرت کی بات تھی۔۔کتوں نے مجھے سونگھا تک نہیں ۔۔شاید انہیں ڈر تھا کہ مجھے کھانے سے انسانی باولا پن انہیں بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ۔ تو میری لاش بالآخر دریافت ہو گئی ہے اور اب اس پر کئی ٹی وی چینل اپنا شو سپرہٹ کریں گے۔۔کئی اخبارات کی ٹاپ سٹوری پہ میری کچلی لاش جلوے دکھاتی نظر آئے گی۔۔مگر میری بات کوئی نہ سنے گا۔۔اس لئیے میں برزخ سے اپنی داستان۔۔جنم مرن کی داستان آپ سے کہہ رہی ہوں ۔۔مجھے ہمدردی ، دلاسے تسلی درکار نہیں ۔۔بس آپ کی لائبہ، نور فاطمہ ، عاصمہ، مریم اور زینب کی زندگی اور عزت کا تحفظ چاہیے! ! !اللہ بیٹی کے ساتھ فرشتے نہیں اتارے گا! اپنی بیٹیوں کے فرشتے آپ کو خود بننا ہو گا۔۔۔ورنہ مالک دو جہاں روز آخرت مجھ سے براہ راست مخاطب ہو کر کہے گا کہ تو کس جرم کی پاداش میں مار دی گئی!؟؟ اور یقین کیجئے کہ تب میرا اور مجھ جیسی ہر بے گناہ کا خون ناحق آپ کی بخشش کبھی نہ ہونے دے گا بھلے سے آپ کی کمر رکوع میں رہ رہ کر کبڑی ہو چکی ہو، آپ کا ماتھا سجدوں کے نشانات سے سیاہ پڑ چکا ہو یا آپ کا جسم نفس کشی کے باعث چمڑے میں بدل چکا ہو۔۔خدارا! ! آواز بلند کرنے کے لئیے موت کا انتظار نہ کیجئے!! بولیے کہ میں آپ سب کی بیٹی ہوں! !!

tripako tours pakistan

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *