تبصرہ، - ٹیگ

ادھوری کہانیاں /کبیر خان

ڈاک سے ملنے والی خوبصورت سی کتاب کے پہلے کورے کاغذ پر ایک دست خطی جملے نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔۔’’شاید آپ کو مظفرآباد کی تقریب میں ’کبیرخان زندہ باد‘ کا عنوان یاد ہو‘‘۔ کیا کہتے ، ہمیں تو مشتاق احمد←  مزید پڑھیے

نسب اور ذات پات کی بِنا پر تفریق/پروفیسر ساجد علی

بھارت کے ایک سکالر مسعود عالم فلاحی کی تحقیقی کتاب “ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان” شائع ہوئی ہے جس کے مطالعہ سے چودہ طبق روشن ہونے کا پورا امکان ہے۔ یہ کتاب ریختہ پر موجود ہے۔ اب اجمل کمال←  مزید پڑھیے

ڈپریشن ڈائری : عابد میر/تبصرہ-نسرین غوری

ڈپریشن ڈائری بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مصنف اور پبلشر عابد میر کی ڈپریشن کے دوران لکھے گئے احساسات پر مشتمل تحاریر ہیں۔ ایسی تحاریر جنہیں عام انسان شاید اپنی پرسنل ڈائری میں بھی احاطہ تحریر میں لانے سے گھبراتا←  مزید پڑھیے

پھرتا ہے فلک برسوں/مصنف؛اصغر ندیم سیّد/تبصرہ-رؤف کلاسرا

اس غیرمعمولی کتاب کا مجھے انتظار تھا۔ جب بیگم صاحبہ نے کمرے میں داخل ہو کر بہترین پیکنگ میں ایک پیکٹ میری طرف بڑھایا تو بولی کتاب ہی ہوگی۔ اب اتنے برسوں بعد اسے پتہ ہے کہ میرے نام پر←  مزید پڑھیے

کتاب تبصرہ/ارقم’کا کشمیر۔۔قمر رحیم

کشمیر کوہم نے سات رنگوں والی آنکھوں سے بھی دیکھا لیکن اس کے رنگ شمار نہ کرسکے۔اس کے جھرنوں کے موتیوں کو کوئی مصور بنا سکا نہ کسی کیمرے کی آنکھ انہیں دیکھ سکی۔اس کے آنسوؤں کی جھیلوں میں لوگ←  مزید پڑھیے

مکتوباتِ احمد ندیم قاسمی(تجزیہ اور فن)۔۔یوحنا جان

ادب کی تاریخ میں خط کو براہ راست ملاقات کا درجہ حاصل ہے اور اس اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا- اردو خطوط نویسی میں رجب علی سرور اور مرزا غالب ادبی اور لسانی لحاظ سے نیک ثابت ہوئے←  مزید پڑھیے

یہ مردوں کا میدان ہے ،آپ حد سے تجاوز کررہی ہیں۔۔عامر حسینی

میں ناول پہ بات شروع کرنے سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ میں ادب کا ایک ایسا قاری ہوں جو ادب کو ایک تو حظ اٹھانے کے پڑھتا ہے اور دوسرا اس میں سماجی حقیقت نگاری کو ترجیح دیتا←  مزید پڑھیے

آدھی بھوک اور پوری گالیاں۔۔آغر ؔندیم سحر

ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں جس کا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا’ہمیں ایسی بنجر تہذیب کا عادی بنا دیا گیا ہے جس کا ہمارے خواب سے کوئی سروکار نہیں۔ہم اس←  مزید پڑھیے

ڈاکٹرسہیل کی سوانح حیات/تبصرہ:صادقہ نصیر

ڈاکٹرسہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’ کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔←  مزید پڑھیے

گونجتی سرگوشیاں کا تخلیقی رویہ۔۔منیر احمد فردوس

گونجتی سرگوشیاں میں بظاہر سات افسانہ نگار شامل ہیں مگر تخلیقی رویئے سات سے زیادہ تشکیل پا گئے۔ ابصار فاطمہ کا تخلیقی برتاؤ حقیقت اور خواب کے مابین ہے، وہ اپنی کہانی کے خدو خال حقائق کی دھجیاں اکٹھی کر کے بناتی ہیں←  مزید پڑھیے

بہاول پور میں اجنبی -مظہر اقبال مظہر/مبصر: پروفیسر سید وجاہت گردیزی

انسان دنیا کی مخلوقات کے لیے اجنبی ہے کیونکہ یہ کسی اور سیارے سے آیا ہے ۔یہ اجنبی جب پہلی بار اس اجنبی سرزمین پر آسمان کی کھڑکی سے نیچے پھینکا گیا تو اسے بقول اقبال کہا گیا : کھول←  مزید پڑھیے

یا مُظہِرالاقبال۔۔کبیر خان

چند دِن اُدھر کا ذکر ہے، ہم نے لاہور کے سماگ سے اپنی بیگم کے سہاگ کو مردانہ وارکھینچ دھروکرلا جامشورو کی ریتلی ہوا میں پٹخا ہی تھا ، سانسیں ابھی تک بے قابو اور سماعتیں ہنوز بے ترتیب ہی←  مزید پڑھیے

دنیا میری ہتھیلی پر۔۔تبصرہ/پروفیسر سخاوت حسین

" دنیا مری ہتھیلی پر" کا تہہ ِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔اور ظہور چوہان کا ہدیۂ تشکر کہ اُنہوں نے پہلے کی طرح اب بھی یاد رکھا اور اپنی نئی تخلیق سے نوازا←  مزید پڑھیے

انگ انگ رنگریز۔۔ناصر خان ناصر

عزیزم نسیم خان کی انوکھی دلفریب آزاد شاعری کی کتاب “رنگریز” پڑھتے ہوئے جب انگ انگ ان دیکھے رنگوں میں رنگتا چلا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے بچھے قالین کے دھیمے رنگ دھنک بن کر لہرانے لگ←  مزید پڑھیے

دو کوزہ گر۔۔آغر ؔندیم سحر

دو کوزہ گر۔۔آغر ؔندیم سحر/ شمس العلما مولانا شبلی نعمانی فروری1883 سے اواخر1998 تک علی گڑھ کالج سے وابستہ رہے۔وہ اس تاریخی دانش گاہ میں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کے لیے بنائی گئی مجلس ”لجنۃ الادب“کے نگران تھے←  مزید پڑھیے

2021 کے ادبی نوبل انعام ناول نگار عبد الرزاق گورنہ کا ناول (By the Sea) کا تنقیدی تجزیہ۔۔احمد سہیل

نومبر کی دوپہر کے آخر میں صالح عمر بحر ِ ہند کے ایک دور جزیرے زنجبار سے گیٹویک ( Gatwick)ہوائی اڈے ( برطانیہ) پر پہنچے ہیں ۔ ان کے پاس ایک چھوٹا سا تھیلا ہوتا ہے جس میں اس کا←  مزید پڑھیے

شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی، تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

شعر نہ لٹتا دن کو تو یوں رات کو کیوں بے خبر سوتا رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو  نظم ستیہ پال آنند بہت ہی خوبصورت شعر ہے یہ بندہ پرور ، پر مجھےیہ رہزنی ،←  مزید پڑھیے

جس نے ڈالی بُری نظر ڈالی/سائیں سُچّا کی کتاب “بھٰیڑی نزر” پر ایک تبصرہ۔۔۔شاہد اختر

زبانیں عام طور پر ارتقا کے طویل اور بتدریج مرحلہ وار اقدامات کے بعد کہیں جا کر اہم تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ ان میں شعوری طور پر فیصلہ کُن تغیر کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ یا شاید میں←  مزید پڑھیے