• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی، تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی، تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

شعر

نہ لٹتا دن کو تو یوں رات کو کیوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو

tripako tours pakistan

 نظم

ستیہ پال آنند
بہت ہی خوبصورت شعر ہے یہ بندہ پرور ، پر
مجھےیہ رہزنی ، چوری میں کیا ہے فر ق، سمجھائیں
مجھے یہ بھی بتائیں ’’رہزنی‘‘ تو رہ میں ہوتی ہے
مگر چوری ہمیشہ گھرمیں ہی ہونے کا امکاں ہے
لٹے تھے آپ دن کو راہ میں گھر سے کہیں باہر
مگر ’’چوری کا کھٹکا ‘‘ تو یقیناً گھر کا قصّہ ہے
تو اس تفریق کو ہم کیسے سمجھیں ، آپ بتلائیں

مرزا غالب
عزیزم، ایک سادہ مسئلے پر یہ پریشانی؟
مجھے لوٹا گیا تھا راہ میں، یہ بات ظاہر ہے
مرا سب مال، سب اسباب رہزن لے گئے، تو میں
کسی اگلے پڑاؤ  پر پہنچ کر سو یا گہری نیند
بغیر اسباب کے چوری کا اب کچھ بھی نہ تھا کھٹکا

ستیہ پال آنند
یقیناً سیدھے سادے یہ معانی ہیں، جناب ِ من
مجھے اب استعاراتی معانی بھی تو سمجھائیں
کہ حرف ِ زیر ِ لب اس شعر کا مفہوم دیگر ہے

مرزا غالب
ہنر مندی تمہاری دیکھ کر اچھا لگا، آنند
یقیناً بے تصنع سادگی میں تم بھی یکتا ہو
اب آؤ ، تم کو سمجھاتا ہوں میَں، یہ ماجرا کیا ہے

ستیہ پال آنند
ہمہ تن گوش ہوں ، اے محترم استاد، فرمائیں
یہ کیسی رہزنی کی داستاں، چوری کا قصہ ہے؟
ذرا سر پوش در ر پردہ معانی کے اٹھائیں تو!

مرزا غالب
بھلا کیا اور کوئی ہو بھی سکتا ہے ، عزیزی یاں ؟
فقط معشوق۔۔۔ اصلی یا خیالی، جان ِِ جاں اپنا
لٹیرا ہے وہ روز و شب کے سرمائے کا، دولت کا
ہمیں لوٹا تھا اس نے دن کو ، یا کچّی جوانی میں
دل و جاں لے گیا تھا ایک ہی داؤ  میں، بازی میں
تو ہم بے فکر ہیں ، سوتے ہیں لمبی تان کر اب تو
لُٹانے کو نہیں رہا کچھ بھی ہمارے پاس فی لمحہ
یہی ہے ماجرا ، احوال اس کا ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند
حیات ِ دائمی ہے یہ ، کہ ہے مرگ ِ دوام، استاد
دریں صورت ، بالاخر،زندہ تو رہنا ہے ، کچھ بھی ہو
مگر چوری کی ، لُٹ جانے کی یہ تشبیہہ وافر ہے
کہ دونوں حالتیں نسبت میں متوازی، اضافی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباسات!  ایک مکتوب سے،فریسندہ ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی ۔۔۔

صرف غالبـؔ کے اس شعر اور اس پر استوار کی گئی نظم سے براہ راست تعلق رکھنے والے اقتباسات کو ہی یہاں شامل کیا گیا ہے۔ دیگرغیر متعلق، ذاتی، شخصی مندرجات ، القا ب و آداب وغیرہ کو مِنہا کر دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس شعر کا آنکھوں دیکھا احوال نامہ جو “تفہیم غالب” میں شامل کیا ، وہ یہ تھا ۔
سفر کے عالم میں ، کسی آخری یا درمیانی منزل پر پہنچنے سے پہلے متکلم کا اسباب راہزن نے لوٹ لیا۔ متکلم بےبرگ و نوا ہو کر کسی قیام گاہ یا منزل پر پہنچتاہے۔ اگر اس کے پاس ساز و سامان ہوتا ، نقدی ہوتی، تو چوری کے کھٹکے کی بنا پر اسے نیند نہ آتی۔ یا شاید سوتا بھی تو چین سے نہ سوتا۔ اب جبکہ وہ مال اسباب سے عاری ہے، اسے کوئی خوف نہیں۔ اس کے پاس ہے ہی کیا، جس کی حفاظت کے خیال سے نیند نہ آئے؟یہ سب کچھ اپنی جگہ درست ہے۔ شعر واقعی بے ساختگی اور برجستگی کا نمونہ ہے۔

میں تو اس میدان میں بدیر آیا ہوں۔ مجھ سے پہلے شارحین نے اس شعر پر بہت پتنگ بازی کی ہے۔ بیخود موہانی کے قول کے مطابق “دن” سے مراد “اوائل عمر “یا جوانی ہے۔”لٹنا” سے مراد “دل کا زیاں ہے، جو زبردستی اُڑا لیا گیا۔ ۔ رہزن سے مراد معشوق ہی ہے۔ کوئی اور ہو بھی کہاں سکتا ہے؟

کچھ اور نکتے جو غالب کے پسندیدہ “ٹوٹکے” سمجھے جاتے ہیں۔۔۔”کھٹکا” اور “چوری” میں ضلع ہے۔رہزن کو دعا دینا حقیقت بھی ہے اور طنز بھی ۔۔۔انتہا درجے کی خوبصورتی یہ ہے کہ جو عمل باعث تکلیف ہونا چاہیے، یعنی چوری، اٹھائی گیر کا ظلم، اسی کو سکون کا باعث تسلیم کیا ہے۔

میں نے آپ کی نظم پر اظہار خیال اس لیے نہیں کیا کہ اس میں وہ سب نکتے موجود ہیں ، جن پر شارحین نے انحصار کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ نظم ایک اعلیٰ  کوشش ہے۔

Avatar

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی، تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

  1. دلچسپ، دلکش و دلفریب۔ آہستہ آہستہ گرہیں کھلنے کا عمل جادوگری لگا۔ دیوان غالب کی اس طرح کی شرح تو طلسم ہوشربا کی طرح نہ جانے کتنی ضخیم جلدوں میں آئے گی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ !

  2. دلچسپ، دلفریب و دلپذیر۔ آہستہ آہستہ معنی کی گرہیں کھلنے کا عمل جادونگری لگا۔ایک بار اور پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Comments are closed.