اختصاریئے    ( صفحہ نمبر 67 )

“صلہ”

وہ سخت معاشی بدحالی سے دوچار تھا۔۔پچھلے دو ماہ سے مزدوری نہیں ملی تھی۔ مزدور تھڑے پر سارا دن گزارنے کے بعد صرف بارہ روپے جیب میں ڈالے بوجھل قدم اٹھاتا وہ بازار سے گزرا۔۔۔۔سڑک کی نکڑ پر اسکی نظر←  مزید پڑھیے

کب بدلیں گے ہم؟

کراچی میں ایک اور فیکٹری آتشزدگی کا شکار ہو کر خاکستر ہو گئی۔ حسبِ سابق اس مرتبہ بھی ہر کوئی حکومت کو کوس کر اپنے ہاتھ جھاڑ لے گا، کچھ دن محکمہ فائر بریگیڈ کے لتے لئے جائیں گے، اس←  مزید پڑھیے

ضرورت! (مختصر کہانی)

رضیہ کا شوہر کار تلے آکر مارا گیا تھا۔۔۔عدت بھی پوری نہ ہوئی تھی کہ دہلیز پار کرنا پڑی! اینٹوں کے بھٹے پر نوکری ملی۔۔۔۔۔۔۔ پچیس سالہ بیوہ کو دیکھ کر مالک کی رال ٹپکی۔۔لیکن پاپی پیٹ کی خاطر نظر←  مزید پڑھیے

ادیب پوسکل

ادیب پوسکل ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک کرد مسلم دانشور ہیں جو اسلام کی روشن خیال تعبیر کرنے والوں میں ایک امتیازی حیثیث رکھتے ہیں وہ اسلام اور قران پر بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں وہ اسلام کی←  مزید پڑھیے

قومی رابطے کی زبان

گر ہم پاکستان کو ایک وفاق کے طور پر قبول کرتے ہیں تو ہمیں وفاقی رابطے کے طور پر ایک زبان چاہیئے۔ انگریزی کا بھر پور حمایتی ہونے کے باوجود اور اس یقین کے باوجود کہ آنے والے سالوں میں←  مزید پڑھیے

بسنت پالا اڑنت

میری زندگی کی اب تک کی معلومات کے مطابق بسنت ایسا تہوار تھا جو کہ بہار کی آمد کو خوش آمدید کہنے کے لیے منایا جاتا تھا اب پتہ چلا کے اصل تہوار تو ہولی ہے ہم خواہ خواہ ڈوروں←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا اور گروپ بندی

ایک زمانہ تھا جب ہمارے پاس ایک دوسرے کے لیےبہت وقت ہوتا تھا۔ اب تو سب سوشل میڈیا کو پیارے ہوگئے ہیں، وہ بھی اس قدر کہ زندگی میں صرف دکھاوا ہی بچا ہے۔ جب سے فیسبک پر گروپس بننا←  مزید پڑھیے

سیاست عورت اور گالیاں!!!

سیاست عورت اور گالیاں!!! مراد سعید اور جاوید لطیف کے جھگڑے میں جس طرح مسلم لیگ ’’ن‘‘ نے عورتوں کے بارے میں اپنے روایتی کردار کا مظاہرہ کیا ہے وہ انتہائی شرم ناک ہے۔ آج پاکستان کی اکثریت کو میڈیا←  مزید پڑھیے

’’لاگت ‘‘ (سو لفظوں کی کہانی )

صاحب پریس کانفرنس میں بڑے فخر سے بتا رہے تھے ’’ دیکھیں، ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت عوام کے لئے پل بنایا گیا ہے‘‘۔ ایک بونگا چپڑاسی فائل لئے صاحب کی جانب←  مزید پڑھیے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

سائنسی تحقیقات کے مطابق ہماری کائنات مادے سے بنی ہے۔۔۔ مگر جناب ہماری تحقیق یہ کہتی ہے کہ کائنات بھلے مادے سے بنی ہے مگر اس کا نظام صنف مادہ کی وجہ سے چل رہا ہے اور صنف مادہ کی←  مزید پڑھیے

جیسے چاکلیٹ کے لئے پانی

میری دادی( جن کے بارے مشہور ہے وہ بہت خوبصورت خاتون تھیں) کو “جیسے چاکلیٹ کے لئے پانی” ناول زبانی یاد تھا۔ وہ ہر ماہ اس کا ایک باب ختم کرتیں اور اس دوران آنے والے اتوار کو کوئی نئی←  مزید پڑھیے

جمال البنا

جمال البنا، مصر کا یہ ممتاز روشن خیال دانشور اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کے سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ جنہوں نے ساری عمر ٹریڈ یونین کے ساتھ کام کیا ہے۔ جمال البنا نے احادیث پر ایک تحقیقی کام←  مزید پڑھیے

ایک لمحہ کی زندگی

ایک شخص جسے یہی وہم تھا کہ ایک زندگی کو کیسے گزارا جا سکتا ہے، نے کتابیں پڑھنا شروع کر دیں. اس نے ڈان کہوٹے سے ہمارے ستاروں میں ہی غلطیاں ہیں پڑھ ڈالیں. اس نے ہندوستانی ادب سے لاطینی←  مزید پڑھیے

اتفاق

ہاسٹل کے کامن روم میں مرضی کا ٹی وی چینل دیکھنے پر پُرزوربحث جاری تھی۔۔ کسی بھی چینل کو دیکھنے پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا۔ ایک نیوز چینل لگایا گیا تو دوست بولا یہ گورنمنٹ کا چینل ہے←  مزید پڑھیے

دوہرے میعار

کپتان نے غیرملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر اور ریلو کٹا کہا۔۔ بات بھلے ٹھیک۔۔لیکن لفظ اور موقع غلط۔ عوام کو برا لگا خوب کوسنے دئیے۔۔۔شور مچایا مخالفین نے کہا۔۔ کرکٹ پربھی سیاست کررہا ہےخان۔۔ سیٹھی صاحب نے فرمایا تھا۔۔۔پیٹرسن نہیں آرہا←  مزید پڑھیے

’’صاحب حیثیت ‘‘ ( سو لفظوں کی کہانی )

شاید وہ صاحب حیثیت کے آخری درجہ پر تھا۔ اس کی بیوی کافی دنوں سے بچوں کے گرم کپڑوں کا کہہ رہی تھی۔ اسے دیوارِ مہربانی یاد آئی۔ رات دو بجے وہ دیوارِ مہربانی تک پہنچا۔ اسے بچوں کے کپڑوں←  مزید پڑھیے

توہین آمیز پیجز، ذرا سوچیے گا

توہین آمیز مواد رکھنے والے پیجز بلاک کیے جائیں اور ان کے مالکان کو عدالت کے ذریعے قرار واقعی سزا بھی دی جائے یہ ہمارا مطالبہ ہے اور ہر مسلمان کے دل کی آواز بھی۔۔ ہم پوری دیانتداری سے سمجھتے←  مزید پڑھیے

فرق تربیت کا ہے!

ایک صاحب جو بڑے ہونے سے مسلسل انکاری اور سپورٹس کوٹے پر وزیر اعظم بننے کے شدید خواہش مند ہیں، خود کو اوکسفرڈ کا پڑھا بتلاتے ہیں (یہ نہیں بتاتے کہ اوکسفرڈ سے دراصل سپورٹس کوٹے پر ہی تھرڈ ڈیویژن←  مزید پڑھیے

’’شعاعیں ‘‘ ( سو لفظوں کی کہانی )

موجو مصلی کو پورے پانچ سال قلق رہا، چوہدری اس کو اسلام آباد پہچان کیوں نہیں پایا۔ اچھا ا ب میں بھی الیکشن میں نہیں پہچانو ں گا اس نے دل کو تسلی دی تھی۔ ’’ اوئے موجو ۔۔۔!دیکھ چوہدری←  مزید پڑھیے

بیوروکریسی

خود ہی کاغذ محکمے میں جمع کروائے۔ انہی میں سے ایک کی کاپی چاہیے تھی، ہزار روپے لگیں گے، چند لمحوں بعد کاپی حاضر۔۔۔ ہرکارے نے پیشکش کی،،، دل نے کہا، کیوں رشوت دوں، قانونی طریقے سے چلوں گا۔ دو←  مزید پڑھیے