قومی رابطے کی زبان

گر ہم پاکستان کو ایک وفاق کے طور پر قبول کرتے ہیں تو ہمیں وفاقی رابطے کے طور پر ایک زبان چاہیئے۔ انگریزی کا بھر پور حمایتی ہونے کے باوجود اور اس یقین کے باوجود کہ آنے والے سالوں میں انگریزی اردو پر حاوی ہو سکتی ہے میں موجودہ صورت حال میں اردو کو وفاقی رابطے کی زبان کے طور پر استعمال کرنے کے حق میں ہوں۔ مگر میں اس بات کا شدید پرچارک ہوں کہ وفاقی رابطے کی زبان سے مراد نہ تو قومی زبان ے، کہ پاکستان میں موجود ہر قوم کی اپنی قومی زبان موجود ہے اور نہ قومی رابطے کی زبان ہے کیوںکہ پاکستان ایک وفاق کا نام ہے کسی قوم کا نام نہیں۔ اس لئے جہاں میں اردو کے حق میں ہوں وہاں میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اردو فنکشنل سطح پر ہو، نہ کہ علمی اور ادبی سطح پر، اس سے کسی قومی زبان کو نظر انداز کرنے یا کمتر سمجھنے کا سوال نہ پیدا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اردو کو علمی یا ادبی سطح پر استعمال کرنے کے خلاف ہوں ۔ ایک خاص تعلیم کے بعد اگر کوئی شخص اردو زبان و ادب یا دنیا کی کسی بھی زبان و ادب میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اسے دنیا کی کسی بھی زبان میں ادب لکھنے اور اپنے احساسات بیان کرنے کا حق ہے اور ان میں اردو بھی ہے۔ مگر اردو سے تقدیس کا تصور وابستہ کرنا اسے قومی زبانوں پر فوقیت دینا ایسی باتیں ہیں جن کی مزاحمت ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس روشنی میں عامر ابراہیم اس گروپ کے ضوابط دوبارہ لکھیں کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور اردو اس میں رابطے کی زبان ہے۔ تمام اقوام پاکستان کی اپنی اپنی قومی زبانیں ہیں، اپنا اپنا ادب ہے جس پر ہم سب کو فخر ہے۔ اور ہم وفاقی سطح پر رابطے کے لئے اردو کے استعمال کو درست سمجھتے ہیں مگر اردو کو قومی زبان یا قومی رابطے کی زبان تسلیم نہیں کرتے۔ اور اس کو علمی اور ادبی سطح پر بالاتر اور افضل بنانے کی ریاستی کوششوں کو وفاق کی روح کے خلاف سمجھتے ہیں کہ ایک فنکشنل سطح پر اردو کو جاری رکھا جائے اور ایک آسان اردو کی رائج کی جائے جو وفاقی سطح پر رابطے کے کام آئے۔ اعلی سطح پر سائنسی اور فکری تعلیم کے لئے انگریزی استعمال کی جائے جس سے اعلی تعلیم کا معیار بھی بہتر ہوگا اور ہم کو غلط سلط تراجم بھی نہیں پڑھنے پڑیں گے۔ کہ ایک خاص سطح کے بعد تعلیم کے لئے بین الاقوامی برادری سے انٹریکشن [تعامل] ضروری ہو جاتا ہے۔ ہر قوم کو مڈل سطح تک تعلیم اس کی قومی زبان میں دینے کے علاوہ تیسری سے آسان اردو کا قاعدہ اور پانچویں سے انگریزی کی تعلیم دی جائے جو کہ نویں میں آپ کو اردو ، انگریزی، فارسی، عربی ، چینی علمی اور ادبی سطح پر اختیاری مضامیں کے طور پر دستیاب ہوں۔ آٹھویں کلاس میں انگریزی کی علمی زبان کے طور پر تدریس پر خصوصی زور دیا جائے تاکہ اس کے بعد سائنس اور دوسرے علوم کی انگریزی زبان میں تدریس شروع کی جا سکے۔ ایسا ابھی بھی الگ الگ ہو رہا ہے مگر اس وقت ہمارے ہاں علمی اور تدریسی سطح پر ایک بے ہنگم پن کی کیفیت طاری ہے اگر ہم اس بے ہنگم پن سے نکلنا چاہتے ہیں اور تمام طبقوں کے لئے ایک جیسا نصاب چاہتے ہیں تو ہمیں زبان کی تدریس کے حوالے سے ضروری فیصلے کرنا پڑیں گے

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *