مارگلہ کا ہر موسم میر کا دیوان ہے لیکن پھولوں کو چھوتی شبنم کی طرح دبے پاؤں جاڑا اترتا ہے تو سارا جنگل سرگم ہو جاتا ہے۔گھر کے پاس سے ندی بہہ رہی ہے ،اُس پار جنگل ہے۔ کڑاکے کی← مزید پڑھیے
میں نے ہنس کر عرض کیا “آپ کو سوچنا ہو گا، آپ کے پی میں نو سال مسلسل حکومت کے بعد بلدیاتی الیکشنز ہار گئے، پشاور سے آپ کے پانچ ایم این ایز ہیں اور11ایم پی ایز ہیں لیکن لوگوں← مزید پڑھیے
مفتی طارق مسعود صاحب کراچی میں مقیم عالم دین ہیں۔ بڑے معروف یوٹیوبر ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ ان کے بیانات سنتے ہیں۔ ویسے تو ان کی اکثر ویڈیوز مناظرانہ رنگ میں رنگی ہوتی ہیں اور کچھ دن پہلے← مزید پڑھیے
لیکن اگر روشنی کے ان میناروں کو بطور رول ماڈل استعمال کیا جاتا تو پھر 2019ء تک 92 سال میں صرف 31 لوگ سی ایس ایس پاس نہ کرتے۔ میں جب بھی مارٹن سمو ئیل برق کے بارے میں لکھے← مزید پڑھیے
اختر احسن: آنے والے وقتوں کا ماہر نفسیات۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد/شعبہ اطلاقی نفسیات پنجاب یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے ہی مجھے میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید دام ظلہ نے ڈاکٹر اختر احسن کے بارے میں مختصراً یہ بتایا تھا کہ وہ ایک پاکستانی ماہر نفسیات ہیں۔← مزید پڑھیے
اس روز جب پاک فوج سمیت پوری قوم آرمی پبلک سکول کے بچوں کو بربریت کے ساتھ قتل کرنے کے سانحے کی یاد منا رہی تھی، یعنی سولہ دسمبربروزمنگل، میں ہزاروں بچوں کے ساتھ لاہور کینٹ کی مین بلیوارڈ والٹن← مزید پڑھیے
ریفیوجی۔۔روبینہ فیصل/ نومبر 2020کے دن تھے اور ہم مسسزگا سے اووکول مووہو رہے تھے، میرے گھر کے دروازے پر دستک ہو ئی۔دروازہ کھولا تو میرے سامنے وہ مسافر کھڑا تھا، جس کی پیدائش کے وقت نجومی نے پیشن گوئی کی تھی کہ اس بچے کے ہاتھ میں دنیا بھر کا سفر ہے۔← مزید پڑھیے
تحریک انصاف کے وزراء سمیت کئی سرکردہ رہ نما کھلے دل سے اعتراف کررہے ہیں کہ خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخاب میں ان کی جماعت کو مہنگائی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرناپڑا۔ عمران خان صاحب مگر ان کے تجزیے← مزید پڑھیے
ایک تھی نمرتا۔ایک تھی نوشین۔ ایک تھی پریاکماری، بلکہ ہے۔ میرا مولیٰ پریا کماری کو اپنی امان میں رکھے۔ اسکی حفاظت کرے۔ کل کائنات کا خالق اور مالک پریا کماری کا بال بھی بیکا ہونے نہ دے۔ نمرتا اور نوشین← مزید پڑھیے
غالباً 2004ء میں امریکی فوج کی ایک ٹکڑی کابل میں افغانستان جیولوجیکل سروے کے دفتر کی تلاشی لے رہی تھی، کہ بند الماریوں میں اسکو گرد و غبار سے آٹے نقشے اور روسی زبان میں دستاویزات کے کئی پلند ے← مزید پڑھیے
میرے اور آپ جیسے جاہل وبے اثر پاکستانیوں کو خارجہ امور کی نزاکتیں سکھانے پر مامور کئے ذہن ساز بہت شاداں ہیں۔ سوشل میڈیا پر “41برس” کے عنوان سے ایک ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ مقصد اس کا ہمیں یہ باور← مزید پڑھیے
جواہر لال نہرو جب بھارت کے وزیراعظم بنے تو وہ حلف لینے کے بعد مہاتما گاندھی کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا “باپو ہم نے انڈیا کو کیسے چلانا ہے؟ ” مہاتما گاندھی نے جواہر لال نہرو کو← مزید پڑھیے
ایک ہیں مفتی صاحب، مفتی بھی ہیں اور حاضر دماغ بھی۔ حاضر دماغ ہیں تو چالاک بھی ہیں۔ چالاک اتنے ہیں کہ یزید کا دفاع بھی کر جائیں تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یعنی چالاکی میں← مزید پڑھیے
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں گذشتہ ماہ سے جاری دھرنا بلوچستان حکومت کے ساتھ مزاکرات اور تحریری معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا ہےـ اس دھرنے کے قائد جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمن نے میڈیا← مزید پڑھیے
تین واقعات اور ہمارا ذہنی و فکری افلاس۔۔سعید چیمہ/قومیں جب زوال کے راستہ پر گامزن ہوں تو پھر افراد غلطی تسلیم کرنے میں تساہل برتتے ہیں۔ کسی کو تنبیہہ کی جائے تو ایسا جواب ملتا ہے کہ شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔← مزید پڑھیے
مجاز کی نظم “انقلاب” پہلی نظر میں روسی انقلاب کے اس عمومی عکس کی آئینہ دار لگتی ہے جس میں اس زمانے کے سارے جدید اور بالخصوص تعلیم یافتہ شاعر اپنا حصہ ڈالنا فرض منصبی جانتے تھے لیکن معلومات کی← مزید پڑھیے
مارٹن سیموئیل برق (حصّہ اوّل)۔۔اعظم معراج/یہ 2011ءکی بات ہے ،ان دِنوں میں تحریک شناخت کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے پاکستانی معاشرے کو بنانے سنوارنے میں شاندار کردار ادا کرنے والے ہیروز کی تلاش میں سرگرداں تھا← مزید پڑھیے
مزاحمت کریں گے ہم۔۔ آغرؔ ندیم سحر /فرحت عباس شاہ سے پہلا تعارف آٹھویں کلاس میں شہباز احمد(کلاس فیلو) کے توسط سے ہوا۔ہم سکول سے چھٹی کے بعد عموماً ”ایوننگ واک“کے لیے کھیتوں کی جانب نکل جاتے‘ دن بھر کی تھکان اُتارنے کا بہترین راستہ شاعری ہوتا‘← مزید پڑھیے
پاکستان،او آئی سی اور طالبان (23سال تین ماہ)۔۔محمد نور الامین/23سال تین ماہ گزر گئے، شب و روز بدلے، زمانے کے طور طریقے بدلے، دنیا بدلی، نئے آہنگ میں ڈھلی، ٹیکنالوجی نے نئی نسل کو بھی بدل ڈالا، لیکن پاکستان کے لیے وقت تھم گیا← مزید پڑھیے
دنیا کے کئی ممالک اور خطوں میں کسی نہ کسی نوع کے دنگافساد ہمہ وقت ہورہے ہوتے ہیں۔ ہماری اکثریت کو مگر اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ یہ بڑھک لگانے کی لیکن ہمیں بیماری ہے کہ اسلام کے نام← مزید پڑھیے