کیا تم نے کبھی تجریدی مصوری جسے ایبسٹریکٹ آرٹ کہا جاتا ہے دیکھی ہے؟ میں نے اس سے سوال کیا۔۔۔ میں بذات خود ایبسٹریکٹ آرٹ کا ایک شاندار نمونہ ہوں، مجھے اور کچھ دیکھنے کی فرصت ہی نہیں، اس نے← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک دُمانی کے دامن میں(قسط3)/محمد عظیم شاہ بخاری چوتھی،آخری قسط اوشو تھنگ اور تیان شورو ؛ آج کا ڈنر ہمارا اوشو تھنگ میں تھا جو یہاں کا سب سے مشہور اور زبردست ہوٹل← مزید پڑھیے
ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک سفر نامہ روس(6)-وہم و گماں کے لوگ تھے /سید مہدی بخاری ساتویں قسط ویلکم ٹو ماسکو سورج جب چمکنے لگتا ہے تو بڑی روشنی ہوتی ہے۔ دن چڑھ آتا← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 12 لائل پور سے نانا جان کے انتقال کی خبر ملی ہے۔ ہم سب فیصل آباد آگئے ہیں۔ ابا جی (نانا جان) کی تجہیز و تکفین کے مراحل← مزید پڑھیے
ہرمن ہیس ایک جرمن نژاد سوئس شاعر، ناول نگار اور مصور تھا۔ ہرمن ہیس کی نظمیں اور تنقیدی مضامین دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ان کے مضامین ، سفر ناموں اور کتابوں کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک کشن گنگاکی وادی(قسط12)- جاویدخان قسط 13 جھیل کاپہلامنظر :۔ جھیل کے سامنے والے لالازار پر درمیان میں کھڑے ہوکر جھیل کِسی حد تک نیم کوس لگتی ہے۔جنوب مشرقی سمت پہاڑ پر گلیشر ہیں← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک سفر نامہ روس(5)-آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک /سید مہدی بخاری چھٹی قسط وہم و گماں کے لوگ تھے: اُمید و نااُمیدی کے بیچ کا وقت ایسا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا← مزید پڑھیے
نطشے نے اپنی کتابJoyous of Science میں لکھا ہے کہ نثر کے عظیم اساتذہ ،شاعر بھی ہوئے ہیں۔ کچھ نے تو شاعری لکھی بھی ،جب کہ کچھ غیر اعلانیہ شاعر تھے۔ وہ نجی زندگی کے باقی رازوں کی مانند شاعری← مزید پڑھیے
پائڈ پائپر کا نام تو تم نے یقیناً سنا ہو گا ۔۔۔۔ اچانک وہ اپنے سامنے سے ایک مشہور افسانوی کتاب کو ہٹاتے ہوئے بولی۔ لائبریری کے مرکزی ہال میں کچھ دیر پہلے وہ میرے سامنے والی کرسی← مزید پڑھیے
سیٹھ صاحب ایک نہایت عالی شان ہوٹل کے ایک پُرتعیش کمرے میں شیشے کی دیوار کے سامنےکھڑے باہر کا منظر دیکھ رہے تھے۔ ان کا چھ سالہ صاحب زادہ ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔اس نے اپنی آنکھوں سے ایک← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک دُمانی کے دامن میں(قسط2)/محمد عظیم شاہ بخاری تیسری قسط دیران کی دشواری ؛ رات کا ایک بجا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ میں سمجھا یہ ابھی رک جائے گی لیکن مسلسل بارش← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک کشن گنگا کی وادی قسط12 ہم راہی کے سنگ ،پربتوں کے قرب میں:۔ میرے ہم راہی صدام حسین میرے ساتھ تھے وہ رستے سے پوری طرح واقف تھے یُوں پگڈنڈیوں پر← مزید پڑھیے
(برسات کی ایک بارش زدہ شام جب وہ اپنے دوست کو الوداع کہہ کر گاؤں کے ایک بوڑھے آدمی کے ساتھ بارش میں بھیگتا ہوا شہر جانے والی مرکزی شاہراہ کی جانب گامزن تھا تو اس نے بوڑھے سے پوچھا،← مزید پڑھیے
پنجاب یونیورسٹی سے ایم فِل عربی کا کورس ورک مکمل ہوا، تو تحقیقی مقالے کے موضوع کے لیے اپنے نگران مقالہ استاذ محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالماجد ندیم صاحب سے مشاورت کی۔ میں نے اپنی دلچسپی ادب میں ظاہر کی تو← مزید پڑھیے
امی !قیصر صاحب کون ہیں ؟ چھوٹی کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا جس نے مجھے چونکا دیا ۔ کیا؟ کون قیصر ؟ میں اچھنبے میں تھی۔ بہت ذہن دوڑایا، یاداشت کو کھنگالا پر← مزید پڑھیے
اب جس برس اُس نے بتایا کہ اُسے ٹھنڈے کمرے میں سونے کی خواہش ہے تب وہ جھونپڑی میں اپنی کانی بیوی اور اپاہج بیٹی کے ساتھ تھا۔ پھر ایک رات بس سے اُترتے ہوئے اُسی بس کے ٹائروں تلے← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط پڑھنے کیلئے لنک کھولیے سفر نامہ روس قسط پانچ جہاں میں ٹھنڈے فرش پر بیٹھا تھا وہاں درجن بھر پاکستانی تھے۔ یہ ایک عارضی قید خانہ تھا جو ہوائی اڈے کی بیسمنٹ میں واقع تھا۔← مزید پڑھیے
وہ ناشتے کے بعد برتن دھو کر باورچی خانہ سمیٹ رہی تھی جب کسی نے دھڑا دھڑ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس نے تیزی سے ہاتھ صاف کیے اور باہر کو لپکی۔ اماں پڑوس کی خالہ صغریٰ کے ہاں گئی ہوئی تھیں← مزید پڑھیے