بئر عثمان سے نکلے تو اگلی منزل مقام خندق تھا راستے میں وہ مقام دکھائی پڑا کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دجال کی آخری حد ہے ، اس سے آگے وہ نہیں جا سکتا کہ← مزید پڑھیے
ڈاکٹر رضوان اسد خان ایک چائلڈ سپیشلسٹ ہیں، اس وقت سعودی عرب میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی امور، حالات حاضرہ، سیاست اور ادب میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ دور حاضر کے باطل افکار،← مزید پڑھیے
ہر چند کہ ہمارے حکمران (کسی خاص حکمران کی تخصیص کے بغیر۔ لگ بھگ 1990 سے اب تک ) صحافت کی نظر سے مغل بادشاہوں سے دکھتے ہیں اور ان کے بارے مجموعی تاثر ہمیں ان کا موازنہ بے حد← مزید پڑھیے
وادی عقیق سے نکلے تو برادر عبدالعلیم نے اعلان کیا کہ اب اب ہم جود و سخا کے امام ” سخی عثمان ” کے کنویں کی طرف جا رہے ہیں ۔ لیکن میں اب ان کو کہاں سن رہا تھا← مزید پڑھیے
صبح ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے برادر عزیز عبدالعلیم کا فون آ گیا کہ وہ ہوٹل سے باہر موجود ہیں ۔ہم پہلے سے تیار تھے سو کچھ ہی وقت میں ان کی گاڑی میں آن بیٹھے ۔ اور اب ہم مدینے← مزید پڑھیے
دفعتاً تم اس پہاڑی لڑکی کو ایک بار گولڑہ کے اسٹیشن پر دیکھ چکے ہو جب وہ برگد کے پیڑ پر چڑھتی گلہری میں بدلنے کا سوچ رہی تھی یقینی طور پر اگر تمہاری ریل رفتار نہ پکڑ چکی ہوتی← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) (21 قسط) لاہور پہنچ کر والد صاحب کے اور اپنے کتنے ہی احباب سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ لاہور سے جُزوی سی دُوری کا یہ عرصہ بظاہر تین برس← مزید پڑھیے
زائرین کی کثرت اور کچھ منظم کرنے کے واسطے حرم کی انتظامیہ نے ریاض الجنہ میں داخلے کو ایک ایپ سے منسلک کر دیا ہے ۔ یہ نسک ہے جو مناسک سے نکلا ہے ۔ اس پر اپنے پاسپورٹ ،← مزید پڑھیے
استاد یوسفی اپنی آخری کتاب آب گم ‘ جو 1990 میں شائع ہوئی ، میں لکھتے ہیں کہ” ڈکٹیٹر سے زیادہ مخلص اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اس معنی میں کہ وہ خلوص دل سے یہ سمجھتا ہے کہ← مزید پڑھیے
ریختے کے تمھی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا میر صاحب تو اب اس جہانِ فانی میں نہیں رہے لیکن ان کے سخن کا راج آج بھی اسی رنگ ڈھنگ سے سخن← مزید پڑھیے
قیامت کا سا سماں ہے ۔ جسے دیکھو نفسا نفسی میں پاکستان کے مستقبل کے بارے ہیجان میں مبتلا ہے ۔ کبھی افواہ اڑتی ہے کہ حکومت کے پاس تنخواہ کے پیسے بھی نہیں ۔ کبھی یہ کہ سرکار بینکوں← مزید پڑھیے
صبح بہت خوبصورت تھی۔ ہنزہ ہلکے نیلے دھوئیں کے غبار میں لپٹا ہوا تھا۔ ڈرائیور لڑکا وقت پر پہنچ گیا تھا۔ سفید ویگن اچھی حالت میں تھی۔ اگلی نشست پر ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ من و عین یونانی شہزادہ← مزید پڑھیے
ٹھوکر لگتے ہی اسے منوں مٹی تلے دفنا دینے والوں کو یہ گمان تھا کہ اب وہ ان اندھیروں میں گم ہو جائے گی۔ لوگ ایسا کرنے کے بعد بھی مطمئن نہ ہوئے اور یقین دہانی کے لیے ہر روز← مزید پڑھیے
انسانی دماغ ہمارے جسم کے باقی حصوں کی طرح عمومی طور پر سہل پسند ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ذاتی اور اجتماعی زندگی میں ہم پیچیدہ مسائل کا آسان حل دینے والوں کے پیچھے چل پڑنے کا رحجان رکھتے← مزید پڑھیے
ہوٹل میں مکمل خاموشی تھی اور یہ خاموشی اندر تک اتر رہی تھی کہ فضا میں آواز بلند ہوئی ۔۔۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ۔ ۔۔ میں سوچ کے رہ گیا کہ← مزید پڑھیے
معیشت اور سیاست آپس میں conjoined twins کی طرح جڑے ہیں ۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں کے منشور اور نعرے معاشی وعدوں اور خوابوں کے اردگرد گھومتے ہیں ۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت سے نجات کی نویدیں← مزید پڑھیے
ہماری بس مدینہ شہر میں داخل ہو چکی تھی ۔ منظم و مرتب آبادیاں اور عمارتیں ہمارے دائیں بائیں تیزی سے گزر رہی تھی ۔ میں کچھ شوق اور کچھ تجسس کے تحت سب دیکھ رہا تھا ۔سادہ خوبصورت مساجد← مزید پڑھیے
کسی اردو والے سے جب جدیدیت پر اعتراض کی کوئ منطقی صورت نہ بن پائے تو فوراً “شعر شور انگیز” پر انگلی اٹھاتا ہے کہ وہ دیکھو روایت اور سماج سے منحرف نقاد کیسے میر کی بازیافت کو جدیدیت کا← مزید پڑھیے
ام القرٰی یونیورسٹی مکہ المکرمہ میں واقعہ ہے اصل میں ہوا یوں تھا کہ ابتدائی دو روز تو میں نے فیصلہ یہ کیا تھا کہ وہ خاموشی سے آؤں گا ، خاموش رہوں گا اور خاموشی سے واپس چلا جاؤں← مزید پڑھیے
مرزا نوشہ ، قرض کی مے پیتے اور انگریز سرکار اور والیان ریاست سے اپنے طرز سخن کی داد بصورت روپیہ وصول کرنے کی کوشش کرتے ۔ انہی حالات میں بادام کی سردائی کھاتے اور عمدہ گوشت نوش جاں کرتے← مزید پڑھیے