اور میں نم دیدہ نم دیدہ (23)-ابوبکر قدوسی

وادی عقیق سے نکلے تو برادر عبدالعلیم نے اعلان کیا کہ اب اب ہم جود و سخا کے امام ” سخی عثمان ” کے کنویں کی طرف جا رہے ہیں ۔
لیکن میں اب ان کو کہاں سن رہا تھا ، میں تو اس ادھ کچے ادھ پکے گھر کی منڈیر پر کھڑے ایک بزرگ کو سن رہا تھا کہ وہ در بام آئے، دیکھا سامنے کتنے ہی لوگ بغاوت کی آگ بھڑکائے کھڑے ہیں ۔ یہ سیدنا عثمان تھے ، بلوائیوں نے ان کے گھر کو گھیرا ہوا تھا ۔ سیدنا عثمان بن عفان نے ایک جملہ کہا اور تاریخ کی کتاب میں جیسے کسی نے نوک خنجر سے اس کو لکھ دیا اور پھر اس پر کچھ ہی دیر بعد بوڑھے عثمان کے خون نے رنگ بھر دیے اور وہ جملہ یوں امر ہو گیا کہ مٹائے نہ مٹے ، بھلائے نہ بنے :
” تم پیاسے تھے کیا میں نے تم کو یہ کنواں نہ دیا تھا ”
سیدنا عثمان نے اس روز دیوار پر آ کر کہا تھا :
أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟
میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے تشریف لائے تو رومہ کنویں کے علاوہ وہاں میٹھا پانی نہیں تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رومہ کنویں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہو گا ۔‘‘ میں نے اپنے خالص مال سے اسے خریدا ، اور آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روک رہے ہو حتیٰ کہ میں سمندری پانی پی رہا ہوں ”
لیکن بہانہ جو کے لیے یہ کلام نرم و نازک بے اثر ۔ آپ شہید کر دیے گئے ۔
وہ دن بھی یاد آ رہا کہ ایک مجلس میں رسول مکرم کو میٹھا پانی پیش کیا گیا ، معلوم ہوا کہ فلاں کے کنویں کا پانی ہے جو اسے بیچتا ہے اور بیچتا بھی بڑے نخروں کے ساتھ ہے ۔ کہ پانی بہت میٹھا اور عمدہ تھا ۔ ایک روز رسول نے اپنے اصحاب کی جانب دیکھا اور فرمایا :
(( من حفر بئر رومۃ فلہ الجنۃ۔))
البخاری ( ۲۷۷۸)
’’جو بئر رومہ کو کھودے اس کے لیے جنت ہے”
روایت میں ہے کہ مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل رومہ کا پانی لوگ خرید کر پیا کرتے تھے۔ جب مہاجرین مدینہ پہنچے تو انہیں پانی کی ضرورت پڑی۔ بنی غفار میں سے ایک شخص کے پاس میٹھے پانی کا یہ ایک کنواں تھا، جس کو رومہ کہا جاتا تھا، اور وہ ایک مشک ایک مد میں بیچتے تھے ،۔ یہ صاحب ” رومہ غفاری ” تھے جن کا تعلق بنی غفار سے تھا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:  (تبیعہا بعین فی الجنۃ۔)
کیا تم اس کو جنتی چشمے کے عوض بیچو گے؟‘‘
انہوں نے عرض کیا:
” یا رسول اللہ! میرے اور میری اولاد کے لیے اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے ”
یہ بات جب عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اسے پینتیس ہزار درہم میں خرید لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا :
” کیا مجھے بھی وہی ملے گا جو آپ نے اس شخص کے لیے فرمایا تھا؟ ”
آپ نے فرمایا :
” ہاں، ”
عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
” میں نے اس کو خرید لیا ہے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا ہے ”
پچھلے دنوں علی اکبر ناطق نامی ایک ” شخص ” ادھر آیا اور اپنے آنے کی روداد لکھی جس میں موصوف نے آ کر سرے سے ہی اس وقف کا انکار کر دیا ۔ موصوف کی شہرت ایک متعصب فرقہ پرست کی ہے جو گاہے گاہے اپنے تعصب کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
موصوف نے اس تمام تر انکار کی بنیاد اپنے عقیدے کے تعصب پر رکھی نہ کہ کوئی علمی دلیل پیش کی ۔ دعویٰ تھا کہ
” اخے یہ مدینے سے چھے کیلومیٹر دور ہے ”
” مدینے میں اتنے اتنے اور فلاں فلاں کنواں تو پہلے سے موجود تھے ”
مطلب جب یہ سب کنویں مدینے میں موجود تھے تو اس دور کے کنویں کو اتنا بے تابانہ خریدنا ، اور وقف کرنا کیوں ؟؟
مزید لکھا :
” اجی یہ وقف کہانیاں اموی دور کی گھڑی کہانیاں ہیں ”
یہ بات تو بالکل درست ہے کہ مدینے میں یہ واحد کنواں نہ تھا اس کے علاوہ بھی کنویں موجود تھے لیکن دیگر کنویں موجود ہونے سے اس بات پر استدلال کرنا کہ یہ کنواں سیدنا عثمان نے وقف نہیں کیا تھا سوائے جہالت اور بغض کے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔اسی طرح چھے کیلومیٹر والی بات بھی مبالغہ آمیز دروغ گوئی ہے کہ تب اس دور میں سڑکیں اور عمارتیں ، رکاوٹیں نہیں ہوتی تھیں ۔۔ سب کھلا میدان تھا اور تب یہ فاصلہ کم تھا ۔ لیکن اتنا بھی ہوتا تو میٹھا پانی تو انسان کی بنیادی طلب و ضرورت ہوتا ہے جس کے لیے فاصلے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔
جبکہ موصوف سیدنا عثمان کے بغض میں اپنا لکھا اگلی قسط میں بھول گئے اور اگلی قسط میں غرس کے کنویں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
“غرس کا کنواں چونکہ مدینہ سے پانچ کلومیٹر دور ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پانی روز تو نہیں لیکن اکثر منگوا کر پیتے تھے ”
سوال یہ ہے کہ اگر موصوف کے بقول مدینے میں چالیس کنوے موجود تھے تو غرس کا پانی منگوانا کیونکر تھا ؟ اندازہ کیجئے کہ موصوف سیدنا عثمان کے کنویں کو چھ کلو میٹر دور بتا کے ایسے اظہار کر رہے ہیں کہ جیسے لاہور سے اسلام آباد کا فاصلہ ہے لیکن ، دروغ گو حافظہ نباشد ، اگلی قسط میں بھول گئے اور غرس کے کنویں کو پانچ کلومیٹر بتا کے ساتھ یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پانی منگواتے تھے ۔
اتنی دور دور سے پانی منگوانا اس لئے تھا کہ خود موصوف کے بقول وہ کنویں کھاری تھے ، وہی جس کی طرف سیدنا عثمان نے شہادت سے پہلے کی تقریر میں اشارہ کیا کہ وہ ” سمندری پانی یعنی کھارا پانی پینے پر مجبور ہیں ”
پڑھ لیجیے ، موصوف لکھتے ہیں کہ :
“اس وقت مدینہ میں چالیس کنویں تھے جن کا پانی پینے کے لیے نہانے کے لیے اور کپڑے اور برتن دھونے کے لیے استعمال ہوتا تھا مگر ان کے پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہونے کے سبب ہلکا سا ترش تھا جو اہل مدینہ کے لیے فطری ہو گیا تھا جبکہ مہاجرین کو دقت پیش آ رہی تھی ۔۔ ”
جی ہاں ! موصوف کا لکھنا ہے کہ مدینہ کے سارے کنویں کھارے تھے جو مدینے والے تو پی لیتے تھے مہاجرین کو دقت ہوتی تھی ۔ سو ” غرس ” کے کنویں سے پانی رسول کریم منگوا لیا کرتے تھے ”
اصل میں بغض انسان سے عقل و فہم چھین لیتا ہے ۔ بہرحال ہم نے موصوف کی اپنی لکھی عبارتیں آپ کے سامنے رکھ دی کہ جس میں غرس کے کنویں کا پانی میٹھا بتا کر اس کو بڑا قریب دکھا رہے ہیں اور ان کے اپنے بقول مزید ” چھے کلومیٹر ” آگے دوسرا کنواں وہ سب ان کو کہانی نظر آ رہا ہے۔اسی ایک مثال سے ان کی باقی باتوں کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔
غرس کے کنویں کی کہانی موصوف نے سیدنا عثمان کے کنویں کے وقف کو اختراعی اور بنو امیہ کا تراشہ ہوا جھوٹ لکھنے کے بعد لکھی وہ “ہمارے” لڈن میاں کہا کرتے تھے نا کہ
“تم ملکوں کے نام بتاتے جاؤ میں معجزے سناتا جاؤں گا”۔
اور جب سیدنا عثمان کے کنویں کا ذکر آیا تو عقل و فہم و شعور کو الماری میں بند کر کے اس سارے واقعے کو کہانی بنا دیا
وقف کو کہانی لکھنا اور اموی دور کی روایات لکھنا بنیادی باتوں سے بھی لاعلمی کی دلیل ہے ۔ موصوف کو معلوم نہیں کہ احادیث کی بڑی بڑی کتب دور عباسی میں بھی لکھی گئی جو امویوں کے سب سے بڑے دشمن تھے ۔ اور ان کتابوں میں بھی وقف عثمان کو لکھا گیا اور تسلیم کیا گیا ۔
اچھا ان چھے کیلومیٹر کی حقیقت بھی پڑھ لیجیے ۔ آج کے جدید دور میں عمارات اور سڑکوں کے جال کے سبب بسا اوقات فاصلے دوہرے تہرے ہو جاتے ہیں ۔ اب بئر رومہ کو ہی دیکھ لیجیے اور تصور کیجیے کہ جب سیدھے راستے اور میدان تھے تب کیا اتنا ہی دور رہا ہو گا ۔۔۔؟
یہ بات درست ہے کہ یہ مدینے سے باہر فاصلے پر تھا لیکن موصوف خود تسلیم کر چکے ہیں کہ مدینے کے چالیس کنویں تھے اور سب کھارے تھے ۔ اس سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غرس کے کنویں سے پانی منگواتے ۔۔ ہم کہتے ہیں کہ بئر رومہ یقیناً مزید میٹھا ہو گا کہ اس میں ساتھ ساتھ سیدنا عثمان کی محبت بھی تو شامل ہو گئی تھی اور مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت بھی کہ جو اس کنویں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا اس کے لیے جنت ۔۔۔۔
چھوڑیں ہم اپنی زیارت کو واپس جاتے ہیں ۔
سعودی حکومت نے اس کنویں کو اور ساتھ موجود نخلستان کو ایک چاردیواری میں بند کر دیا ہے ۔ جس روز ہم گئے وہاں داخلہ بند تھا ، ممکن ہے تعمیراتی کام جاری ہو لیکن میں ماضی میں اس کنویں کو اور اس سے چلتے پانی کو پاس سے دیکھ چکا ہوں ، اسے چھو چکا ہوں اور اس سے آنکھیں بگھو چکا ہوں ۔ پچیس برس گزرتے ہیں کہ لڑکپن میں ادھر آیا تھا جب آس پاس کا علاقہ آباد نہیں تھا اور بڑا کجھوروں کا باغ اس کے گردا گرد تھا ۔ جو اب مختصر ہو چکا ہے اور تمام علاقے میں شاندار گھر بن چکے ہیں بالکل ایک پوش سوسائٹی کا منظرنامہ تھا ۔ تب تو میں باغ کے اندر تک گیا تھا اور کنویں کی منڈیر سے پانی دیکھا جو ایک پمپ سے نکالا جا رہا تھا اور ایک تالاب میں گرتا ہوا آگے کو جاری تھا ۔ تمام کنواں درختوں سے گھرا ہوا تھا۔

ہم نے اس بار دیوار سے باہر ہی کھڑے ہو کر یہ علاقہ دیکھا ، جہاں دیواروں پر کنویں اور اس سے متعلق حکومتی اقدامات کی تفصیلات درج تھیں ۔ میں کچھ حسرت سے یہ سب دیکھ رہا تھا کہ کاش پاس جاتا اور چلتے پانی پر کھڑے ہو کر سیدنا عثمان کے لیے دعائیں کرتا کہ عثمان آپ تو رسول کی محبت تھے ، دیکھیں کیسے رنگ لگے ہیں کہ محبت آج بھی باغ و بہار ہے ۔ عثمان کہ رسول نے جن کے ہاتھ کو بیت رضوان کے موقعے پر اپنا ہاتھ قرار دیا تھا ۔۔۔سب منظر جیسے تصور کی آنکھوں سے سامنے تھے ۔۔۔

پیغمبر عظیم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ارادہ کیا کہ اس برس عمرہ کیا جائے – سو اپنے اصحاب کو ساتھ لیا اور روانہ ہوئے ۔منزلوں پر منزلیں مارتے مکہ کے جوار میں پہنچے – عظیم رہبر ، آخری پیام بر ، رسول معظم کی اونٹنی قصوی ایک مقام پر بیٹھ گئی اور اس منطقے کی قسمت جاگ اٹھی ، اور اس خطہ زمین کا ذکر تا ابد کتابوں سے زبانوں اور زبانوں سے دلوں پر رقم ہو گیا ، اس میدان کو حدیبیہ کہتے تھے – یہ ایک عام سی گذر گاہ تھا اور معمولی سا مقام ، لیکن اب عالی شان ہوا اور ایسا کہ خاص الخاص ہو گیا۔

رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جب بیٹھ گئی تو آپ نے اسی مقام کو قیام گاہ کے لیے چن لیا اور ساتھیوں سے کہا کہ جانوروں کو کھول دیں ، خیموں کو گاڑ لیں اور آرام کریں –
قریش کو جب خبر ہوئی ، کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بہت سے ساتھیوں سمیت مکہ کی راہ پر ہیں ، تو وہ متفکر ہو اٹھے – ایک گروہ کو جاسوسی کے واسطے بھیجا اور ساتھ کہا کہ ہاں آتے آتے کچھ مسلمانوں کو “گرفتار ” کر لانا – مسلمان نہ ہوئے زاد راہ ہو گیا کہ “آتے آتے لے آنا” ۔۔لیکن یہ “جغادری ” خود گرفتار ہوئے ۔
رسول معظّم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ کوئی جائے اور جا کے سندیسہ مکے والوں کو دے کہ :
“بھئ ہم محض عمرے کو آئے ہیں ، بنا اسلحے کے آئے ہیں ، عمرہ کریں گے اور گھر کو جائیں گے ، کیوں ہماری راہ کھوٹی کرتے ہو ۔۔۔۔ ”
سو سفارت کے لیے قرعہ سیدنا عثمان کے نام نکلا کہ سبب یہ تھا کہ ان کے بہت اعزہ و اقارب مکے میں تھے اور صاحبِ حیثیت تھے ۔ امید تھی کہ مضبوط خاندانی پس منظر اور وجاہت مسلمانوں کی حفاظت میں معاون ہو گی ۔ لیکن اہل مکہ سدا کے نادان …سیدنا عثمان کو روک کے بیٹھ گئے کہ :
” ہاں ! نہیں کرنے دیں گے عمرہ ، جاؤ اپنے صاحب کو کہو کہ واپس جائیں ”
ادھر انتظار کہ عثمان آئیں اور حاضری کا اذن لائیں ۔ کہ مدت ہوئی مکے سے نکلے ..کب کی گذری ہجر اور ہجرت کی رات ، جب مسافر نے مکہ چھوڑا تھا اور حسرت سے تکتے ہوے چھوڑا تھا ۔ جب راہب ورقہ بن نوفل نے کہا تھا ، سیدہ خدیجہ کو کہ “کاش میں تب ہوتا جب اہل مکہ اپنی بستی کے اس جھومر کو ، اپنی بستی کی اس شان کو نکال باہر کریں گے”
تو پاس کھڑے رسول مکرمﷺ  ایک دم جیسے چونک سے گئے اور استعجاب سے پوچھا تھا :
“ہیں ۔۔۔۔۔ مکہ والے مجھے نکال دیں گے ؟”
وہ کہ جو ان کے وفات شدہ بھائی کی اولاد ، چچاؤں کی نظر کا تارا ، کبھی دادا کے دلارے ، پھوپھیوں کی ان میں جان ۔
ہوتا ہے نا کہ جب ہمارا کوئی بھائی جھولے میں معصوم بچہ چھوڑ کر رخصت ہو تو جب جب ایسا بھانجا بھتیجا سامنے آتا ہے دل کٹ کٹ جاتا ہے ۔ سو ہمارے رسول بھی اہل مکہ اور خاندان کی آنکھ کا تارا تھے ۔
پھر وہ ہوا جو کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔
آخر مگر نکلنا ہی پڑا ۔۔ابوبکر کی معیت میں مسافر رات اندھیرے نکلے اور آج برسوں بعد روشن دن میں واپس آئے۔۔سو دل میں حسرتیں تھیں کہ تڑپ تڑپ رہی تھیں ۔ ذرا تصور کیجئے نا کہ جب پردیسی پردیس سے گھر آتے ہیں ، جب پرندے لوٹ کے شام ڈھلے آتے ہیں تو گھر کے مضافات کیسے اچھے لگتے ہیں ۔
ایک ایک ذرہ خاک آنکھوں کا سرمہ لگتا ہے ..لیکن خبر آئی کہ حسرتوں کے مٹنے کا وقت ابھی نہیں آیا اور مکے والے مصر ہیں کہ ہم نہیں آنے دیں گے ۔ بھلے وہ عمرے کے لیے آئے ہیں ..خبر ملی کہ انہوں نے عثمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے ۔

رسول رحمت کو اپنے ساتھی کی گرفتاری نے تڑپا دیا ، محض ساتھی بھی تو نہ تھے ، دکھوں کی کڑی دھوپ میں سایہ بھی تو تھے ۔داماد بھی تو تھے اور داماد بھی ایسے کہ سسر کو سکھ ہی سکھ دیا ۔ایک بیٹی عقد میں دی اور فوت ہو گئی ، دوسری دی وہ بھی فوت ہو گئی تو آقا نے کہا تھا کہ :
“عثمان چالیس بیٹیاں ہوتیں یکے بعد دیگرے دیتا جاتا انکار نہ کرتا ۔۔”
جانتے ہیں کہ ایسا کن کو کہا جاتا ہے ؟
ایسے داماد کہ جو سسرال کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ، ان کی عزت کو اپنی عزت بنا لیتے ہیں ۔
خبر ملی کہ عثمان گرفتار ہو گئے ہیں تو آقا بے چین ہو اٹھے ..ایک درخت کے نیچےجا بیٹھے – اضطراب کہ چہرے کا گھیراؤ کیے ہوئے ..ہاتھ آگے بڑھایا .. ساتھی منتظر کہ دیکھیے کیا حکم جاری ہوتا ہے ….
زبان نبوت سے فرمان ہوا کہ یہ ایک ہاتھ عثمان کا ہاتھ ہے آو اس کی حفاظت کے لیے موت کی بیعت کرو ..ہائے عثمان آپ کے نصیبے کا کیا کہنا کہ آج رسول کہہ رہے ہیں کہ یہ ہاتھ آج عثمان کا ہاتھ ہوا …. پھر نبی کا ہاتھ عثمان کا ہاتھ ہو گیا اور عثمان کے ہاتھ نبی کا ہاتھ ہو گیا –
من تو شُدم تو من شُدی،
من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں،
من دیگرم تو دیگری

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply