ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 221 )

سپاہی لال چند پاکستانی

گھر سے نکلتے ہوئے کاندھے سے لٹکے ہوئے بیگ کو ایک سے دوسرے کندھے پر منتقل کرتے ہوئے اس نے آخری بار ایک یاسیت بھری نظر دوڑائی ماں دروازے سے لگی ہوئی تھی اسے لگا جیسے پاؤں جکڑے گئے ہیں←  مزید پڑھیے

ٹرمپ آمد بجنگ آمد

ٹرمپ آمد بجنگ آمد عظمت نواز اس سے پہلے کہ حضور قبلہ ٹرمپ ایک خوبرو دوشیزہ کے ہمراہ مقدس سر زمین پر اپنے پیر دھرتے شاہوں کے شاہ انہیں وصولنے کے لیے ہشیار باش تھے – جیسے ہی انہوں نے←  مزید پڑھیے

مبارک ہو۔ طلاق ہو گئی ۔!

یہ جولائی 2016 کی بات ہے جب میرے دوست شیخ مرید نے بھری محفل میں اعلان کردیا کہ وہ دوسری شادی کرنے والا ہے۔ اعلان سن کر ہمیں دو طرح کی فِیلنگ ہوئی ۔ پہلی یہ کہ ’’بیوی تو ایک←  مزید پڑھیے

وزیرِ اعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

وزیرِ اعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب، جنابِ سپیکر! ہندوستان کے گاوٴں جاتی عمرہ میں اباجی اور ہمارا وڈا تایا اپنا سوہنا لوہارا ترکھانا کر کے اپنی زندگی بسر کررہے تھے۔۔۔۔ دونوں بھرا ایک ہی حویلی میں رہتے تھے۔۔ وڈے←  مزید پڑھیے

اپنی ڈائری کے ورق نے رلا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ڈائری میرے سامنے کھلی تھی ، آنکھیں نم تھیں ، ضبط کے بندھن جوڑے رکھنا مشکل ہو رہا تھا ، ماضی کا ایک ایک لمحہ سامنے تھا ، وہ مسکراتا چہرہ ، روشن پیشانی اور ہونٹوں پر تبسم دل ودماغ←  مزید پڑھیے

پطرس ۔۔ایک عبقری

انیسویں صدی کئی اہم واقعات کے اندراج کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف گامزن تھی۔1898میں برٹش راج، چین سے ہانگ کانگ کو سوسالہ پٹے پر لے رہا تھا، امریکا بہادر ابھی نیٹ پریکٹس کرنے کی خاطر اسپین کے زیر تسلط←  مزید پڑھیے

ہماری بہشت ہمارا خد اہے

کیا بد بخت انسان ہے جس کو اب تک یہ پتا نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے۔۔۔ ہماری بہشت ہمارا خدا ہے۔وہ لذتیں جن میں تم خوشی محسوس کرتے ہو ، ان کے ذریعے ہم خدا کو محسوس کرتے←  مزید پڑھیے

رمضان کی تیاری

خواب میں پچھلی صدی کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کا سلسلہ جس طرح آگے بڑھ رہا تھا اس کے زمانے کے بارے میں جاننے کا تجس بامِ عروج کو چھو رہا تھا۔ میں نے پوچھا رمضان آنے والا←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (20)…..سلسلہ سوالوں کا

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

گگن کنارے اُجڑی شام

آپ کے ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرس نے فقرہ ادھورا چھوڑا،اور چہر ے پر عجیب و غریب سے تاثرات لیے زچہ بچہ سنٹر کے چھوٹے سے گھٹن زدہ کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔ رفعت کی آنکھوں سے بہتا سیال مزید گاڑھا ہو گیا۔۔۔۔۔باہر←  مزید پڑھیے

ذرا نم ہو تو۔۔۔۔۔۔

(ایک سچا واقعہ ہونے کے باعث کرداروں اور علاقوں کے نام فرضی ہیں ) پختونخوا کے ایک گاؤں میں اپریل کی اک چمکدار صبح وہ جلدی اٹھا ناشتہ کے بعد تیار ہوا اور سائیکل اٹھا کر باہر کی جانب لپکا،←  مزید پڑھیے

باچا خان کی سرزمین کا نوحہ

مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا باچا خان کی عدم تشدد کی فکر کا آسرا تھا اور اُسی مرد بے ریا کی سرزمین کے باسیوں نے ہمارا←  مزید پڑھیے

چاچا منصب

درجہ چہارم کے طالب علم تھے ہم ان دنوں، جب ہمارے ساتھ ایک حضرت امیر داد صاحب پڑھتے تھے- قضائے الہٰی سے ان کا گھرسکول کی دیواروں سے جڑا ہوا تھا -اکثر و بیشتر ہماری تشریفیں اساتذہ کی مار سے←  مزید پڑھیے

کون پارسا کون فاحشہ؟

اس نے دعوت دی، میں نے قبول کی ، وہ داعی ہو کے پارسا۔۔ میں مدعو ۔۔پھر بھی فاحشہ، جسم میرا ہی تھا، آنکھ تیری تھی ظالم، تو ناظر رہا اور پارسا، میں حاضر ہوئی ۔۔۔سو فاحشہ! محفل سجائی تو←  مزید پڑھیے

گمشدہ کتاب

نوٹ! مورخہ گیارہ مئی وزیرستان کے گمنام ترقی پسند شاعر، ادیب اور سیاست دان عارف محسود صاحب کی برسی تھی۔ میں موصوف کے ساتھ دورانِ زندگی اور بعد ازمرگ بے وفائیوں کا تذکرہ کرونگا۔ کروں نہ یاد، مگر کس طرح←  مزید پڑھیے

سابر متی کے دیس میں ،ایک دن

(عمران عاکف خان) ابتدا۔۔۔ “لوک سیواسنگھ”،احمد آباد ۔ہندوستان میں پائی جانے والی این جی اوز کی طرح ایک این جی او ہی ہے مگر اس کی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ اس کے اہداف میں اردو زبان وادب،اسلوب وبیان،فکرو←  مزید پڑھیے

قصہ حسرت

(حسن درانی) میں نے چالیس سال پہلے فتح گنج چھوڑا تو گمان میں بھی نہ تھا کہ واپس نہ آ سکوں گا۔فتح گنج لکھنو سے20 پتھر باہر ایک دیہی قصبہ ہے اوریہی وہ جگہ تھی جہاںمیں پیداہوا ۔ میرا آبائی←  مزید پڑھیے

انسانیت

۔۔۔۔۔۔۔ “انسانیت” ۔۔۔۔۔۔۔ ایک بہت خوبصورت موضوع پر چند الفاظ میں اظہار خیال حاضر خدمت ہیں۔ امید ہے کہ احباب پسند فرمائیں گے ۔ خیر اندیش: ایم اکرام الحق انسانیت کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اللہ کریم←  مزید پڑھیے

بے مہارے

ہم لوگ کتنے سادہ ہیں، ڈر اور خوف کی فاضل حد کے اندر بنی ہوئی پگڈنڈی پر ہی قدم اٹھاتے ہیں۔ کم از کم میرے نزدیک تو عام آدمی کی سمت حیات حلوے کی تھالی میں انگلی سے کھینچی ہوئی←  مزید پڑھیے

ادبی بیٹھک اور لاہوری ناشتہ

اتوار کے روز UMT یونیورسٹی لاہور میں ادبی بیٹھک کا انعقاد ہوا، جس میں پاکستان کے جانے پہچانے صحافی وسعت اللہ خان اور سندھ اکادمی بورڈ کے سابق ڈائریکٹر آغا نور محمد پٹھان دونوں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔←  مزید پڑھیے