وزیرِ اعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

وزیرِ اعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب،
جنابِ سپیکر!
ہندوستان کے گاوٴں جاتی عمرہ میں اباجی اور ہمارا وڈا تایا اپنا سوہنا لوہارا ترکھانا کر کے اپنی زندگی بسر کررہے تھے۔۔۔۔ دونوں بھرا ایک ہی حویلی میں رہتے تھے۔۔ وڈے تائے نے دُدھ، مکھن، لسی، گھیو وغیرہ واسطے سوہنی گھبرو جوان گائے رکھی ہوئی تھی۔۔ دونوں بھائیوں کے کل ملا کے اس وقت کوئی تین چار بچے تھے، یہ بچے مل کر اس گائے کا دودھ پیتے اسی سے کھیلتے، اسے نہلاتے اور ساتھ ساتھ یہ ملی نغمہ کورس کی صورت میں گاتے کہ۔۔۔
اس تائے کی گائے تلے،ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں!
سب بچوں میں اس وقت بھی بڑا اتفاق تھا جس کی وجہ سے ہمارے بزرگوں نے ہماری ہر چیز کا نام اتفاق رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سن سنتالی کے بعد جنابِ سپیکر، ہندوستان والے جاتی عمرا سے ابا جی یہ سوچ کر ہجرت کر کے پاکستان آئے کہ اب اودر ائی جا کے کوئی لوھارا ترکھانا کرتے ہیں۔۔۔ ابا جی ہجرت کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ رجز بھی پڑھتے جاتے کہ۔۔۔۔۔
چل ابیا چل اوتھے چلئے جتھے سارے انھے۔۔۔۔۔۔

اور ہم نے ان کے پڑھے ہوئے اس شعر کو ان کی زندگی میں ہی سچ ثابت کر دکھایا۔۔ بہرحال، جنابِ سپیکر، جس سیکل پرہجرت کر کے ابا جی پاکستان پہنچے اللہ کے فضل سے انہوں نے اسی سیکل پر لچھے وٹنے کا کام شروع کر دیا۔۔۔۔۔لچھے وٹتے وٹتے ہم دونوں بھائی بھی وٹے گئے ،اوہ میرا مطلب ہے کہ ہماری پیدائش کا وقوعہ پیش آگیا___جب ہم نے ہوش سنبھالا تو ہمیں بھی ابا جی نے اپنے ساتھ کام پر لگا لیا۔۔۔میں سیکل کے سجے پاسے جب کہ شباز پائن کھبے پاسے ہوتے تھے_ پہلے ہوتا یوں تھا کہ جب ابا جی لچھے وٹتے تو لچھوں سے شیرا نکلتا جو کہ ضائع ہوجاتا تھا لیکن ہم دونوں بھائیوں نے ابا جی کے ساتھ رلنے کے بعد جدید حکمتِ عملی اپنائی جس سے شیرے کے ضائع ہونے کا عمل یکسر رک گیا۔

جنابِ سپیکر،!
میں قوم کو ان حقائق سے آگاہ کرنا چاہتاہوں کہ ہم نے قوم کے وسیع تر مفاد میں ایسے کون سے اقدامات اُٹھائے کہ شیرا ضائع ہونے سے بچنا شروع ہو گیا۔۔۔ میں نے اور شباز پائن نے دو گھیو سے بھرے وڈے پیپے لیز پر خریدے، پہلے تو جنابِ سپیکر ہم دونوں نے دو دیہاڑے گھٹ اک مہینہ، دبا کے گھیو والے پراٹھوں کے بخیے ادھیڑے جب پیپے ہمارے دماغ کی طرح بالکل ویلے ہوگئے تو ہم نے وہ پیپے ابا جی کے لچھوں والے سیکل کے سجے کھبے لمکا دئیے۔۔۔میں اور شباز پائن پہلے ای سجے کھبے تھے اب ہم نے پیپے بھی لمکا لئے۔۔۔ لچھے وٹتے ہوئے لچھوں کا شیرا ان پیپوں میں گرتا اور ہم جمع شدہ شیرا اکھٹا کر کے وڈے پڑولے میں ذخیرہ کرتے جاتے۔۔ یہاں میں بتاتا چلوں کہ ہم پیپوں کا کثیر المقاصد استعمال کیا کرتے تھے وہ ایسے کہ انہی پیپوں کی مدد سے میں اور شباز پائن سحری میں پیپے وجا وجا کر روزے داروں کو جگا کر مشترکہ ثوابِ دارین حاصل کیا کرتے تھے۔ عید آتی تو سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں کٹھے ہوتے، میں لوگوں کو سحری میں جگانے کے پیسے کٹھے کرتا، شباز پائن مزید پیپے کٹھے کرتے اور ابا جی سردی کی وجہ سے گھر میں ویسے ای کَٹھے ہو جاتے۔۔۔

جنابِ سپیکر یہاں میں وڈے پڑولے کی وضاحت کر دوں، وڈا پڑولہ اباجی جاتی عمرہ سے ساتھ ہی لائے تھے، وڈا پڑولہ ابا جی اور وڈے تایا جی نے گاوٴں کے کسانوں کی داتریاں، چوہے رمبے، سادا رمبے، کہیاں، ان کہیاں، کُہاڑیاں، ترینگلاں و کھُرپا جات جیسے مسلح ہتھیار وغیرہ مینوفیکچر کر کے آنا آنا جوڑ کر خریدا تھا۔۔۔ آپ کو کیا بتاوٴں ،جنابِ سپیکر ابا جی کے بیان کے مطابق بعضے کسان اتنے اونتر جانے تھے کہ اگر ابا جی ان سے ہتھیار بنانے کے عوض آنا دو آنا مانگ لیتے تو وہ اگوں سے ابا جی کو آنے کڈ کے وخا دیتے تھے۔۔ اور کئی بمب جوگے صرف آنے ای کڈ کے وخانے کو کافی نہ سمجھتے ۔۔۔۔ ہیں جی جنابِ سپیکر!!!

لیکن ابا جی کو اپنے کام سے عشق تھا، انہوں نے لوگوں کی باتوں کی پروا کئے بغیر دن رات کام کیا اور ایک پوری انڈسٹری کھڑی کر دی۔۔۔ اس ضمن میں ابا جی فرماتے ہوتے تھے کہ۔۔۔۔۔
عشق لوہارا تازہ رہندا
تے پانویں داڑھی ہو جے بگی
ایوان کے اندر سے کچھ آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ ہمیں کھرپے، رمبے، کلہاڑیوں وغیرہ کی تو سمجھ رل گئی ہے البتہ ٹرائینگل کی وضاحت کی جائے۔۔۔ تو جناب سپیکر! میری آپ کے توسط سے فاضل ممبران کی خدمت میں عرض ہے کہ آرمی چیف، چیف جسٹس اور صدرِ مملکت والی ٹرائینگل تو اب قصۂ پارینہ بن چکی۔۔۔ یہ لفظ ترینگل ہے جس کی وضاحت کے لئے میں فاضل سپیکر اور معزز ایوان کو انگریزی فلم آئرن مین دیکھنے کی سفارش کروں گا جس میں فلم کے ہیرو آئرن مین نے اسی طرح کی ترینگل اپنے ہاتھ پر دستانے کی طراں چڑھائی ہوتی ہے۔۔

یہ ساری ملومات مجھے گوجرانوالا سے تعلق رکھنے والے میرے ایک ایم این اے خرم دستگیر نے فراہم کی ہیں وہ ای پوری نون میں سے کلا اکلوتا ایم این اے ہے جو سارا دن کتابیں پڑھتا، انگریزی فلمیں ویختا اور رج کے کڑاہی گوشت کھاتا رہتا ہے۔۔ ویلا نہ ہووے تے !!! میں ایک مرتبہ اس کو وارننگ وی دے چکا ہوں کہ پڑھے لِخے بندے کا نون لیگ میں کیا کام؟ مجھے ای ویخ لیں جنابِ سپیکر، آپ مجھ سے بشک نیاں لے لیں یا سوں چکا لیں کہ میں نے بی اے تھرڈ ڈویژن کرنے کے بعد کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا ہو کبھی ، ہاتھ لگانا تو دور کی بات کبھی کسی کتاب کو دیکھا تک ہو۔۔۔۔ ہیں جی!!! لیکن نیک بخت شباز پائن کہتے ہیں کہ اک پڑیا لخیا بندا وی ہونا چاہئے پھسی ہوئی انگریزی کڈنے کے کام آ جاتا ہے، جس طرح جنابِ سپیکر آپ کو یاد ہوگا کہ چائنا میں ان کے صدر سے بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ میری انگریزی یوں پھس گئی جس طراں سردیوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ، گوجرہ کے درمیان گنے والی ٹرالیاں پھستی ہیں، تو اس موقعے پر شباز پائن نے میری پھسی انگریزی کڈائی تھی۔۔ اس وقوعے کے بعد ہم نے اپنی جماعت میں صرف ایک پڑھے لخے بندے کی منظوری دی۔۔۔

پڑولے کی ایڈوانس جسٹیفیکیشن جنابِ سپیکر میں نے اس لئے دے دی کہ اپوزیشن پڑولے کو بھی سر پے نہ اٹھا لے جسے ابا جی ہندوستان سے پہلے ای آپنے سر پر اٹھا کے لائے تھے۔۔۔وہ تو ہمیں ضیاء دور اور اس کے بعد والے ادوار میں معلوم ہوا کہ ترقی کے لئے صرف پڑولے اٹھانا کافی نہیں۔۔۔ ہیں جی !!! خیر پڑولے کا ذکر تو جملۂ معترضہ کے طور پر آگیا تو میں بتا رہا تھا کہ اس پڑولے میں جمع شدہ شیرا کٹھا کر کر کے تو ہم نے شوگر ملیں بنائی ہیں۔۔ اور ان شوگر ملوں سے پانامہ میں شور والی کومپنیاں بنائی ہیں جن کا آج کل شور مچا ہوا ہے۔۔۔۔ المختصر جنابِ سپیکر! میرا قوم کے نام یہی پیغام ہے کہ محنت کر حسد نہ کر، جلنے والے کا منہ کالا۔۔۔ توں لنگھ جا ساڈی خیر اے۔۔۔۔۔۔اور جنابِ سپیکر
“مُودی لاکھ برا چاہے تو کیا ہو تا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے!!!

Avatar
سہیل کوروٹانہ
مردانہ حسن و وجاہت کے پیکر اور ادبی ذوق کے حامل سہیل کے تیار کردہ جہاز فضا میں اونچا اڑتے ہیں، مگر انکے خیالات کی پرواز ان جہازوں سے بھی اونچی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *