تتھاگت نظم (20)…..سلسلہ سوالوں کا

پیش لفظ
کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں بھی پہنچ پاؤں تو سمجھوں گا، میں سپھل ہو گیا۔ ایک گاؤں میں ایک سو لوگ بھی میری باتیں سن لیں تو میں ایک لاکھ لوگوں تک پہنچ سکوں گا۔ یہی اب میرا کام ہے ،فرض ہے ، زندگی بھر کا کرتویہ ہے۔ یہ تھا کپل وستو کے شہزادے، گوتم کا پہلا وعدہ … خود سے …اور دنیا سے۔ وہ جب اس راستے پر چلا تو چلتا ہی گیا۔اس کے ساتھ اس کا پہلا چیلا بھی تھا، جس کا نام آنند تھا۔ آنند نام کا یہ خوبرو نوجوان سانچی کے ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ تھا، لیکن جب یہ زرد لباس پہن کر بدھ کا چیلا ہو گیا تو اپنی ساری زندگی اس نے بدھ کے دستِ راست کی طرح کاٹ دی۔ یہی آنند میرا ، یعنی ستیہ پال آنند کے خاندانی نام ’’آنند‘‘ کی بیخ وبُن کی ، ابویت کی، پہلی سیڑھی کا ذوی القربیٰ تھا۔ اسی کی نسب خویشی سے میرے جسم کا ہر ذرہ عبارت ہے۔ مکالمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان نظموں کے اردو تراجم اس میں بالاقساط شائع ہو رہے ہیں۔ اردو کے غیر آگاہ قاری کے لیے یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ’’تتھا گت‘‘، عرفِ عام میں، مہاتما بدھ کا ہی لقب تھا۔ یہ پالی زبان کا لفظ ہے جو نیپال اور ہندوستان کے درمیان ترائی کے علاقے کی بولی ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ ’’ابھی آئے اور ابھی گئے‘‘۔ مہاتما بدھ گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے ویا کھیان دیتے تھے۔ بولتے بولتے ایک گاؤں سے دوسرے کی طرف چلنے لگتے اور لوگوں کی بھیڑ ان کے عقب میں چلنے لگتی۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ جب کچھ دیر سے کسی گاؤں پہنچتے تو پوچھتے کہ وہ کہاں ہیں، تو لوگ جواب دیتے۔ ’’تتھا گت‘‘، یعنی ابھی آئے تھے اور ابھی چلے گئے‘‘۔ یہی لقب ان کی ذات کے ساتھ منسوب ہو گیا۔ میں نے ’’لوک بولی‘‘ سے مستعار یہی نام اپنی نظموں کے لیے منتخب کیا۔ ستیہ پال آنند – –

تتھاگت نظم(20)
سلسلہ سوالوں کا
………………………………………..
آنند: آج مجھ کو یہ بتائیں
گوشت کھانا منع کیوں ہے؟
تتھاگت:منع میں نے کب کیا ہے؟
صرف میں نے بھکشوؤں کو یہ کہا ہے
گوشت کھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے
اور پھر جب کوئی انساں گوشت کھانے کی غرض سے
جانور کو ذبح کر دے؟ یہ تو از بر خود غلط ہے!

آنند: میں نہیں سمجھا، تتھا گت؟

تتھا گت: اور پھر ہر ایک بھکشو اپنا بھوجن خود پکاتا ہے تو اس کو
کشٹ بھی ہو گا ، سمے کا ناش بھی، پھر
یہ سمے وہ اپنی بھگتی سادھنا میں خرچ کر سکتا ہے، بھکشو
بھات ،چاول جلد پک جاتے ہیں
…ہم سب جانتے ہیں
اور روٹی سینکنی مشکل نہیں ہے
گوشت کا کٹنا، کٹانا، کاٹنا اک مرحلہ ہے
سخت مشکل!
کوئی چاقو، یا چھُری یا ایک خنجر چاہیے اس کے لیے تو!

آنند پر، تتھا گت
جنگلوں ، غاروں کے باسی لاکھوں برسوں سے
ہمیشہ گوشت ہی کھاتے رہے ہیں

تتھا گت ہاں، یقیناً….
کھیتی باڑی، دودھ کی خاطر مویشی پالنا
تو جیسے کل کی بات ہے
لیکن، اگر سوچیں
تو آدم جات کو اب گوشت کھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے

اچھا جاؤ
کل جب آؤ گے تو اپنے ساتھ کوئی
پالتو کُّتا بھی لے آنا، مگر یہ دیکھ لینا
دانت اس کے سالم و ثابت ہوں
مجھ کو اس کا جبڑا کھولنا ہے!

(۲)

آنند چھوٹا سا پِلّا ہی لایا ہوں
کہ اس کے کاٹنے کا ڈر نہیں ہے
تتھاگت آؤ، دیکھیں
اس کا جبڑا کھول سکتے ہو تو کھولو
ہاں، ذرا اب نچلے جبڑے پر نظر ڈالو …
تمہیں کیا منہ میں اس کے دونوں جانب
باقی دانتوں سے بڑا
اک دانت ایسا بھی نظر آتا ہے، جیسے
اک چھُری کی نوک ہو یا سیدھا تکلا سا کھڑا ہو ؟

آنند ہاں ، تتھا گت، یہ رہا وہ دانت !

تتھا گت جانور جو گوشت کھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں
ان کی تو بس اک یہی پہچان ہے
دو تین ایسے دانت جو قدرت سے ان کو ہی ملے ہیں
کاٹنا یا چیرنا آسان ہے ان چاقو ؤں سے ..
……….اور اب تم اپنا منہ کھولو تو بھکشو
ہاں، تمہارے پاس بھی دو دانت ایسے ہیں، مگر
یہ چیر کر یا کا ٹ کر کھانے کو ناکافی ہیں، بھکشو
وہ چرندے یا پرندے جن کو چیتے، شیر
زندہ کاٹ کر کھاتے ہیں ،وہ سب
یہ تمہارے دانت کیسے کاٹ پائیں گے
اگر چاہو بھی ان کو کاٹنا تو!

آنند تو، تتھا گت، طے ہوئی یہ بات
اپنے جنگلوں، غاروں کے پرکھے
اپنے وقتوں میں تو سارے گوشت کھاتے تھے، مگر
اب ۰ شاکا ہاری ہو گئے ہیں ۰سبزی خور ۔Vegetarian
تتھا گت کہنے کو ایسا کہا جا سکتا ہے، لیکن
یاد رکھنا
بھکشوؤں کو کو گوشت کھانے کی مناہی
اس لیے قطعاً نہیں ہے
اس کا کھانا پاپ ہے، یا کھانے والا
اک گنہ کا مرتکب ہوتا ہے، بھکشو!…………..

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *