ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 182 )

رودادِ سفر: باپ، بیٹے اور بہو ۔۔۔۔ ایڈووکیٹ محمد علی جعفری/قسط 2

“کربلا کب جائیں گے؟”،کاظمین میں دوسرا دن پورا ہوا اور سب نے ہمارے میک شفٹ سالار بھائی عدنان سے پوچھنا شروع کردیا۔کہا تو یہ گیا تھا کہ پرچم کشائی کرب و بلا میں دیکھیں گے، مگر کربلا کون سی ریاست←  مزید پڑھیے

پھٹی قمیص۔۔۔صفی سرحدی /افسانہ

اس کہانی کا آغاز طائف کی ایک یخ بستہ رات سے شروع ہوتا ہے جب گل خان کو شدید سردی میں بھی گرمی چڑھی ہوئی تھی ، کیونکہ گل خان خود کو ایک سچا مسلمان مانتا تھا اور یہی وجہ←  مزید پڑھیے

رودادِ سفر،اسیرِبغداد۔۔۔۔محمد علی جعفری/حصہ اول

بقر عید کے تیسرے دن میں حسبِ معمول اپنے تخت، بلکہ پایه تخت پر سویا رہا، ساڑھے بارہ بجے میرے دوست مجتبیٰ عرف مجی شاہ کا فون آیا، کہتا ہے کہ ،”علی یار ایک پاسپورٹ کی جگہ ہے، تم جاؤ←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 1۔۔۔۔فاروق بلوچ

میں نے ابھی اپنا انگریزی میں لکھا تحقیقی آرٹیکل انٹرنیشنل میگزین کی ویب سائٹ پر دیکھا. اچھے خاصی تعداد نے آج میرے مضمون کو اوپن کیا تھا. سوشل میڈیا پہ بھی خاصا چرچہ رہا. کمنٹس میں خاصی گرما گرمی بھی←  مزید پڑھیے

انسانوں کی جنت۔۔۔۔اسامہ ریاض

بھیڑیا چلایا ’’یہ گستاخ ہے۔ یہ ہمارے مذہب پر سوال کرتا ہے‘‘ دوسرا چلایا ’’ اِس نے جنگل سے غداری کی ہے۔ اِسے یہاں سے نکال دیا جائے ‘‘ تیسرا چلایا ’’ یہ اب سوال کرنے لگ گیا ہے۔ سوچنے←  مزید پڑھیے

بھیڑ چال۔۔۔عبدالحنان راشد

میں نے دوست کو کہا آج ہفتے کی شام ہے فلم دیکھنے چلتے ہیں، اس نے پچاس اور بندے ساتھ تیار کر لئیے۔ میں  نے کہا کام کرکے تھک گئے ہیں، دماغ کو تروتازہ کرنے اور جسم کو تازگی پہنچانے←  مزید پڑھیے

کال کوٹھڑی۔۔۔۔اسامہ ریاض

بارش کی بوندیں اب زیادہ شور برپا کر رہی تھیں۔مجھے بچپن سے ہی بارش سے محبت رہی تھی اور اب تو آسمان دیکھے بھی مہینوں ہو گئے تھے۔ آج شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ اِن دیواروں کو توڑ←  مزید پڑھیے

بک ریویو/قلندر ذات۔۔۔۔۔امجد جاوید/تبصرہ :محمدزبیر مظہر پنوار

پہلے تو میں چولستان کی آن مان شان جان معروف ادیب شاعر افسانہ نگار تمثیل نگار ڈرامہ سکرپٹ رائیٹرر Amjad Javed Sahib کو انکے ناول ( قلندر ذات 5 ) کی اشاعت پہ مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔۔ اسکے بعد←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط43

سلسلہ۔۔۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت کا اور ان کے خطوط کا … دسمبر ۱۹۹۹ ۔۔ لاہور میں ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر میرا یہ تیسرا دن تھا۔ گذشتہ رات ہم دونوں تقابلی مذہب کے بکھیڑوں میں←  مزید پڑھیے

بک ریویو/کتاب العروج، تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ۔۔۔ڈاکٹر راشد شاز

کتاب العروج یعنی تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ، مصنف: راشد شاز، کا نیا ایڈیشن منظر عام پر آگیا ہے. قیمت 700 روپئے. البتہ آن لائن خریداروں کے لیے، محدود مدت کے لیے صرف 500 روپئے میں←  مزید پڑھیے

ہارمون۔۔۔قمر سبزواری/افسانہ

ٹی وی پر نیوز چینل کا ایک مخنث سا رپورٹر ایک رنگ برنگی دھاریوں والے پھڑپھڑاتے ہوئے پرچم کے نیچے کھڑے ہجوم کے  پس منظر کے ساتھ خبر دے رہا تھا۔۔۔ ناظرین آج کا دن تاریخی اہمیت کا حامل دن←  مزید پڑھیے

جائیداد۔۔۔۔اسامہ ریاض

آج بڑے خوش لگ رہے ہو حمید خیریت تو ہے نا ۔ ہاں ہاں۔۔ یہ لو پہلے میٹھائی کھاؤ  پھر بتاتا ہوں۔ بڑے بھائی اور بھابی کا تو تمہیں پتا ہی ہے، کمبخت کہیں کے۔ ساری جائیدار اپنے نام کروانا←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط42

ایڈیٹر نوٹ:یہ اب تک کے  غیر مطبوعہ خطوط ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی مکالمہ سے محبت کی وجہ سے پہلی بار مکالمہ کے پلیٹ فارم سے پبلش کئے جارہے ہیں ۔ہم ڈاکٹر صاحب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں←  مزید پڑھیے

غدیرِ خم۔۔۔۔۔۔ محمد علی جعفری

غدیرِ خم کہ تیرے خم پہ، جانِ این و آں قُرباں! یہ دل قُرباں, مشام ِجاں, ظروفِ  تشنہ لب قُرباں، شبابِ خضر و مُلکِ جم، عجم کا ثم، ابلتا دم، متاعِ خسروی قُرباں، فریدون و جم و یزداں، تیرا مرہون←  مزید پڑھیے

کوٹھے کی سیڑھیاں۔۔۔۔۔اسامہ ریاض

فائزہ کوٹھے کی سب سے خوبصورت طوائف تھی۔ اُس کے انگ انگ میں بلا کا جادو تھا۔ اپنے  نازنخروں سے وہ دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیا کرتی تھی۔۔طاہر بھی اسی سحر میں مبتلا تھا۔ دن بھر کی کمائی←  مزید پڑھیے

کارٹون۔۔۔ مبشر علی زیدی

کسی شخص نے میرے والد کو نہ دیکھا ہو لیکن وہ ان کی تصویر بنانا چاہے تو کیسے بنائے گا؟ وہ مجھے دیکھے گا کہ میں کیسا دکھتا ہوں۔ وہ میری گفتگو سنے گا کہ میں کیا باتیں کرتا ہوں۔←  مزید پڑھیے

شہزاد کی شہزادیاں۔۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

شہزاد نے کپڑے کی آخری لاٹ کا پیٹرن کاٹا اور اس کو اسٹچنگ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر کے گھر جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ رات کے آٹھ بج چکے تھے اور بلدیہ ٹائون کی اس گارمنٹ فیکٹری سے اپنے نیو←  مزید پڑھیے

گُل فردوس۔۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

وہ مجھے ہی گھور رہی تھی۔ میں اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی لڑکھڑا گیا تھا۔ اس کی مخروطی آنکھوں میں عجب معصومیت رچی تھی۔ میں پوری محویت سے اسے دیکھتا رہا۔ انہی لمحات میں مجھے احساس ہوا، کچھ بھی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط41

حلقہ ارباب ِ ذوق: ایک مختصر تاریخ! ابتدائی نوٹ: اس مختصر مضمون کی تالیف میں درجنوں رسالے، یاداشتیں اور رسالوں میں مطبوعہ مضامین بطور ماخذمیرے رہنما رہے ہیں۔ کچھ بھی میرا اپنا نہیں ہے اس لیے کسی بات کی درستی←  مزید پڑھیے

تبدیلی۔۔۔۔۔ صبغت وائیں /افسانہ

سو برس یا اس سے کچھ اوپر ہوئے، افریقہ کے ایک دیس میں ایک نئے نوجوان کو سردار منتخب کیا گیا جس نے اپنے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ تبدیلی کا بہت شوقین ہے اور وہ افریقہ کے←  مزید پڑھیے