ہارمون۔۔۔قمر سبزواری/افسانہ

ٹی وی پر نیوز چینل کا ایک مخنث سا رپورٹر ایک رنگ برنگی دھاریوں والے پھڑپھڑاتے ہوئے پرچم کے نیچے کھڑے ہجوم کے  پس منظر کے ساتھ خبر دے رہا تھا۔۔۔ ناظرین آج کا دن تاریخی اہمیت کا حامل دن ہے، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج عالمی تہذیب و ثقافت کے مرکز اس شہر میں ہم جنسوں کی شادی کا قانون پاس ہونے کے بعد ،لوگ جوش و جذبے سے بے قابو ہو کر سڑکوں پر جمع ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ناظرین ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ہم جنس پرستی کوئی نفسیاتی بیماری، کوئی جسمانی عارضہ، کوئی گناہ یا کوئی جرم بھی نہیں ہے، اور اب تو یہ آپ کا قانونی حق ہے۔۔۔ یہ تو ہارمونز کا فیصلہ ہے مجھے کہنے دیں کہ یہ آپکا پیدائشی حق ہے۔ اپنی زندگی جیئیں، گھٹ گھٹ کر اپنے آپ کو مار کر نہ جیئیں۔۔۔۔۔

اُس نے صوفے میں دھنسے دھنسے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کروٹ بدلی اور میوٹ کا بٹن دبا تے ہوئے ریموٹ ایک طرف پھینک کر، سر صوفے کی پشت پر ٹکا کر، چھت پر لگے مکڑی کے جالے لپٹے پنکھے کو گھورنے لگا، جو اس پرانی عمارت کے اس درمیانے درجے کے اپارٹمنٹ میں ایئر کنڈیشنر کے لگنے کے بعد بہت سالوں سے بے مقصد لٹک رہا تھا۔۔۔ جیسے اُس کے ماضی کے چند برس بھی مکڑی کے جالے کی طرح کہیں لپٹے رہ گئے تھے۔۔۔

اُس کے گھورتے گھورتے پنکھا ریل گاڑی کے پہیے کی طرح دھیرے دھیرے گردش کرنے لگا اور اُس کی خرر خرر کی آواز سے کمرے کا منظر پندرہ سولہ برس پہلے وہاں سے ہزاروں میل دور کے ایک مضافاتی علاقے کے چھوٹے سے گھر کے کمرے میں تبدیل ہو گیا۔

سکول سے گھر آتے ہوئے اُس کے ذہن میں استاد جی کی باتیں دوبارہ گونجنے لگیں تھیں، گدھے، نالائق، صرف تین صفحے دیئے تھے اور وہ بھی یاد نہیں ہوئے تجھ سے ،استاد جی تین تو صرف آپ نے دیئے تھے ریاضی کی پوری مشق اور قاری صاحب نے پوری سورہ یاسین زبانی۔۔۔۔۔۔ ، چپ ناہنجار تُو ہے ہی سُست، یا تو تیرے دماغ میں بھوسا بھرا ہوا ہے یا پھر تُو ہڈ حرام ہو گیا ہے اور اسے استعمال ہی نہیں  کرتا،

اور جو فضول کام ہیں وہ تو تُو بہت خوب کر لیتا ہے۔۔۔ ڈرائینگیں کر کے رنگ ایسے بھرے گا جیسے بہت بڑا پینٹر ہے، اپنا نام ایسے ایسے انداز سے لکھے گا جیسے صادقین اسی کا باپ تھا ،استاد جی نے آخری جملہ لڑکوں کی طرف منہ کر کے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔جس پر پورا کلاس روم صادقین سے ناواقفیت کے باوجود قہقہوں سے گونج اُٹھا تھا، چل ہاتھ نکال ۔۔۔اور استاد جی نے سولہ بید گن کر اُس کے ہاتھوں پر برسائے ، مار کھاتے ہی وہ ہمیشہ کی طرح لیٹرین کی طرف بھاگاتھا ، پتہ نہیں کیوں جب اُسے کوئی چوٹ لگتی تھی یا وہ پریشان ہوتا تو اُس کے پیٹ میں ایک مروڑ سا اٹھتا تھا اور اُسے بے بس ہو کر فورا رفع حاجت کے لئے جانا پڑتا ، کچی لیٹرین میں فضلے کے ڈھیر اور اس پر بھنبھناتی سینکڑوں مکھیوں کو گھورنے اور دیواروں سے باتیں کر کر کے رو نے کے بعد جب وہ وآپس آیا تو پورا پیریڈ اپنے ہاتھ بغلوں میں دبائے عجیب و غریب بے تکی باتیں سوچتا رہا تھا ۔۔۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے اس بات کو تین چار گھنٹے گزر چکے تھے اُسے ہاتھوں پر بید لگنے کا درد کم ہو گیا تھا لیکن اُس کے دل و دماغ پر اُس وقت سے وہی عجیب سی کیفیت چھائی ہوئی تھی جو اکثر ایسے مواقع پر اُسے گھیر لیتی تھی ۔۔۔ اُس کے سر کے اندر جیسے پیلی پیلی سی دھند بھری ہوئی  ہو اور دل و دماغ میں پیدا ہونے والا ہر خیال ، ہر سوال ہر غصہ اور انتقام اُس دھند کے اندر کسی کثیف سی دلدل میں دھنستا جاتا ہو۔

گھر میں داخل ہوتے ہی روزانہ کی طرح ماں نے آگے بڑھ کر اُس سے بستہ تھام لیا ، وہ کپڑے بدل کے آیا تو چٹائی پر کھانا چنا ہوا تھا پنکھے کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے نیچے بیٹھ کر اُس نے کھانا شروع کیا تو ماں پاس بیٹھ کر کبھی اُس کے شانے اور کبھی گھٹنے پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی ، ماں پاس ہوتی تو وہ دھند اور دلدل پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتی تھی شاید اس کا اپنا جسم ہی اُسے جذب کر لیتا تھا یا شاید وہ دھواں بن کر ہوا میں اُڑ جاتی تھی۔

کھانا کھا کر وہ وہیں پنکھے کے نیچے چٹائی  پر لیٹ گیا ، وہ اکثر اُلٹا لیٹتا تھا۔ ابا ابھی گھر نہیں آئے تھے اس لئے اُس کی ماں برتن رسوئی میں رکھ کر وآپس آ کر اُس کے پاس بیٹھ کر اُس سے سکول کی باتیں سننے کے ساتھ ساتھ شام کے کھانے کے لئے چاول صاف کرنے لگی وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اُس کی کمر پر ہاتھ پھیرتی یا کوئی بات سمجھاتے ہوئے پیٹھ پر پیار سے چپت لگا کر مل دیتی ۔۔۔ ماں جب پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی تو اُسے بہت اچھا لگتا تھا وہ نیند میں ڈوبنے سے پہلے سوچ رہا تھا ابا ایسا کیوں نہیں کرتے انھوں نے تو کبھی مجھے دلاسہ بھی نہیں دیا۔۔۔

نجانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی تھی ۔۔۔۔اچانک کسی برتن کے گرنے کے شور سے اُس کی نیند ٹوٹ گئی، اُس کا منہ تکیے میں چھپا ہوا اور آنکھیں بند تھیں لیکن کانوں کو ابا کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ابا تھکے ہارے کام سے گھر واپس آئے تھے اور کسی بات پر غصے میں آ کر پانی کا گلاس اماں کے دے مارا تھا اور اب کہہ رہے تھے،خود تو جاہل ہو ہی اسے بھی تباہ کر رہی ہو یہ تمھارے پیار کا ہی نتیجہ ہے، اس پر سختی کیوں نہیں کرتی ہو، کبھی سوچا ہے کہ اس کا اٹھنا بیٹھنا اور سونا جاگنا ابھی تک بچوں جیسا کیوں ہے ، ساتویں میں پڑھتا ہے اور لگتا ہے ابھی تیسری جماعت کا بچہ ہے سویا دیکھو کیسے ہے جیسے کوئی ہیجڑا ادائیں دکھا رہا ہو ، کچھ پیدائشی زنخے ہوتے ہیں یہ اپنی عادتوں سے بنے گا ۔۔۔۔

ابھی بچہ ہی تو ہے، اور آپ اسے گھر سے باہر گلی محلے کے بچوں کے ساتھ بھی تو زیادہ کھیلنے پھرنے نہیں دیتے کہ ان جیسا جاہل نہ ہو جائے نہ اُسے خود باہر جاتے ہوئے ساتھ ساتھ رکھتے ہیں پھر کیسے تیز طرار ہو تا، اس عمر میں لڑکے بالے قابو میں ہی نہیں آتے اور میرا بیٹا تو ماشاء اللہ لاکھوں میں ایک ہے ، بڑا ہو گا تو دیکھنا کیسا سمجھدار اور کیسا گبرو جوان بنے گا میرا بیٹا ۔

ماں نے حسب دستور پلو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے اُس کی وکالت کر دی تھی ۔۔

بڑا ہو گا تو کون سا تیر مارے گا، یہ مرد کے بچوں کی دنیا ہے اور خاص کر ہمارا علاقہ ۔۔۔۔ پتہ ہے کیسا کیسا نشئی، جواری اور خناس رہتا ہے یہاں پر لیکن ایک بار میں اپنی شیر والی نظر سے آنکھ میں آنکھ ڈال کے دیکھوں تو مجال ہے جو کوئی دوبارہ نظر اٹھائے ۔لڑکوں کو دلیراور جی دار ہونا چاہئے ، لڑکیوں کی طرح بھولا بھالا اور معصوم نہیں۔

وہ کانپتے دل کے ساتھ کافی دیر وہیں ساکت پڑا رہاتھا اُس کی آنکھوں کے سامنے اپنے کلاس روم کا منظر گھومنے لگا تھا وہ ڈیسک کے اوپر ناچ رہا ہے اور سب لڑکے تالیاں بجا بجا کر ہنس رہے ہیں کچھ دیر بعد وہ چٹائی سے ایسے اٹھا جیسے اُس نے کچھ سنا ہی نہ ہو اور لیٹرین میں گھس گیا تھا ، لیٹرین اُس کے لئے جیسے ایک جائے پناہ تھی، جیسے وہ اُس کا گھر بلکہ اُس کا بھیتر اُس کا من تھا، یہاں وہ خود سے باتیں کرتا ، دیر تک روتا ، جھاڑو سے تنکے توڑ توڑ کر پاؤں کے ناخن میں گھسیڑتا اور زمین پر لکیریں لگاتا رہتا ، لیٹرین میں اُسے کوئی آواز نہیں دیتا تھا، کوئی غصہ نہیں کرتا تھا، کوئی اُس کے جسم اُس کی حرکات و سکنات کا جائزہ نہیں لیتا تھا۔۔۔اگر کوئی بات ہوتی بھی تو کم از کم اتنی دیر رک جاتی تھی جتنی دیر وہ لیٹرین میں پناہ لیے ہوتا ۔ وہاں سے نکل کر برآمدے میں پڑا بستہ سائیکل کے پیچھے رکھتا ہوا وہ سیدھا ٹیوشن کے لئے نکل گیا ۔ اماں اچھی تھی لیکن ابا سے ڈرتی تھی، روتی تھی۔

اُس کا دل چاہتا تھا کوئی ایسا ہو جو ماسٹر جی کی طرح بہت پڑھا لکھا ہو، اور ابا کی طرح بہت غصے والا اور بہادر ہو، لیکن وہ اُس کا دوست ہو وہ اس کی جگہ استاد جی سے بات کرے، ابا سے لڑے۔۔ پیلی دھند نے پھر اُسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔

سائیکل چلاتے ہوئے وہ بار بار اپنے ذہن میں اپنے وجود، اپنے اٹھنے بیٹھنے کے انداز اور اپنے چہرے کا تصور کرنے لگا تھا کبھی اُسے اپنا آپ ایک سخت مزاج لمبے تڑنگے لڑکے کے روپ میں نظر آتا اور کبھی ایک شرماتے لجاتے سہمے ہوئے ہیجڑا نما بچے کا جو بار بار اپنی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر اپنی قمیض درست کر رہا ہوتا ۔

ٹیوشن والے ماسٹر جی کے پاس بیٹھا ہوا وہ سوچنے لگا کاش ٹیوشن کا ٹائم کبھی ختم نہ ہو یا پھر اس کے بعد کہیں اور جانا پڑا کرے، اُسے کاموں کے ختم ہونے سے نفرت سی ہو گئی تھی کیوںکہ ہر کام کے ختم ہونے پر گھر جانا پڑتا تھا اور گھر جانے سے اُسے وحشت ہوتی تھی، ہاں جب ابا کام کے سلسلے میں دو تین دن کے لئے شہر سے باہر ہوتے تھے تو وہ گھر میں بہت خوش رہتا تھا۔

جب وہ ٹو شن سے گھر کی طرف نکلا تو اُس کے سر سے ساری دھند غائب ہو چکی تھی، کہیں سے شام کی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا تو اُسے سائیکل چلانا بہت اچھا لگا اُس نے منہ ہوا کی طرف کر کے ایک دو لمحوں کے لئے آنکھیں بند کیں اور ایسے محسوس کرنے لگا تھا جیسے ہوا میں اُڑ رہا ہو لیکن ہوش اس وقت آیا جب اُس کا منہ زمین پر جا لگا ، وہ ایک لڑکے سے ٹکرا گیا تھا لڑکے نے اٹھتے ہی اُسے دو تھپڑ لگائے اور اُس کا گریبان مروڑ کر پکڑ لیا، کیوں اوئے ممی ڈیڈی سائیکل کی گدی لے کے سونے کا بہت شوق ہے ، میرے ساتھ سوئے گا؟ پہلی بار تھوڑا بہت اچھلے گا لیکن پھر خود بھاگا بھاگا آیا کرے گا۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔

جب وہ گھر پہنچا تو ابا برآمدے سے گزر رہے تھے، اس کے منہ پر لگی دھول مٹی دیکھ کر طنزیہ انداز میں ہنسے اور کمرے میں چلے گئے اُسے لگا وہ اُس کے نہیں بلکہ اُس لڑکے کے ابا تھے جس نے اُسے مارا تھا۔۔۔ وہ دھند میں لپٹا لیٹرین میں داخل ہو گیا تھا ۔

وہ طرح طرح کے خواب دیکھا کرتا تھا، اُڑنے والی مشین بنانے کے، بہت سے غبارے خرید کر اُن سے شمعیں باندھ کر رات کو چھوڑ دینے کے ، بہت سے دوست بنا کر اُن کے ساتھ بہت دور دور گھومنے جانے کے، اسے ڈرائنگ اور خطاطی کرنے کا بھی شوق تھا وہ ایک ہی نام ۔۔۔ عام طور پر اپنے نام کو ہی مختلف انداز میں لکھا کرتا اور اکثر پھولوں اور پتوں کی تصویریں بناتا رہتا تھا۔۔ اُسے کبھی کبھی خود پر غصہ بھی آتا کہ ابا اُسے ایک سخت سا مرد بنتا دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ ہر وقت کھیل کود اور خوشی و مزے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔

ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ محلے کے لڑکوں میں اٹھے بیٹھے گا اور بالکل ایسا بنے گا جیسا کہ ابا چاہتے تھے، اب وہ سکول یا ٹوٹشن آتے جاتے اور آدھی چھٹی کے وقت سکول کے احاطے میں مختلف لڑکوں کے چلنے، اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کے انداز یا آواز کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیتا رہتا، کسی کی آواز اُسے بھاری اور مردانہ لگتی تو وہ اُس کی طرح بولنے کی کوشش کرتا، کوئی ٹانگیں کھول کر پائنچے اُٹھا کر بازو پھیلا کر کسی فلم کے ولن کی طرح بیٹھتا تو وہ کن اکھیوں سے اُس کو دیکھتا رہتا اور پھر اُسی طرح بیٹھنے کی کوشش کرتا لیکن اتنی دیر میں اُسے یاد آتا کہ وہ بھاری آواز میں بولنا تو بھول ہی گیا ہے اور اُس نے اپنے من میں ابھی خود سے جو بات کی تھی وہ تو اپنی اصل آواز میں ہی کر دی تھی۔۔۔ اچانک سکول کی گھنٹی بجتی اور وہ ہڑبڑا کلاس روم کی طرف بھاگتا اور وہاں پہنچ کر اُسے یاد آتا کہ وہ تو اُس انداز میں چل کر آیا ہی نہیں جس کا اُس نے ارادہ کیا تھا اور یہ کیا وہ تو پھر اُسی طرح بیٹھا ہے جیسے وہ روزانہ بیٹھا کرتا تھا حالانکہ ابھی ابھی تو اُس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بازو پھیلا کر ، ٹانگیں کھول کر اور پائنچے اُٹھا کر بیٹھے گا۔ بعض اوقات وہ سوچتے سوچتے چونک کر استاد جی کی طرف دیکھتا تو وہ اُسے حیرت سے گھور رہے ہوتے تھے۔

ایک دن اُسے سکول کے میدان میں ایک لڑکا نظر آیا تھا جو ایک ہاتھ پیٹ کے برابر ہوا میں لٹکا کر کمر کو خفیف سا بل دے کر چل رہا تھا وہ اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑا تھا اُس لڑکے کی کمر دوسرے لڑکوں سے پتلی تھی اور اُس میں لچک بھی زیادہ تھی، ہاتھ سفید سفید اور نازک سے تھے اور انگلیاں لمبی اور پتلی، اُس نے آگے جا کر غور سے اُس کے چہرے کا جائزہ لیا   لیکن چہرہ بالکل عام لڑکوں جیسا تھا وہ بے چین ہو کر تیز تیز قدموں سے واپس سکول کے اندر چلا گیا اور لیٹرین میں جاکر قمیض اٹھا کر اپنی کمر کو ہلا ہلا کر دیکھنے لگا تھا کبھی اُس کو اپنی کمر پتلی لگتی تھی کبھی موٹی اور کبھی بالکل ٹھیک، اُس نے اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کا جائزہ لیا اور تھوڑی دیر کے لئے قدرے مطمئن سا ہو کر کلاس روم کی طرف چلا گیا تھا۔

ان دنوں اُس کی جماعت کے لڑکے چھٹی کے بعد کچھ دیر سکول کے سامنے ہی میدان میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے ایک دن وہ بھی وہاں رک گیا اور اپنے ایک ہم جماعت کے ساتھ کھیل میں شامل ہو گیا پہلے بیٹنگ دوسری ٹیم کے حصے میں آئی اور اُسے سلپ پر کھڑا کیا گیا گیند تیزی سے آئی وہ ابھی ہاتھوں کا پیالہ بنا کر جھک ہی رہا تھا کہ گیند اُس کی ٹانگوں سے نکل کر باونڈری پر جا پہنچی تھی ایک دو لڑکوں نے اوووووہ ہ ہ ہ ہ کی آواز بلند کی اُسے پسینہ آ گیا اور وہ اگلی بار کے لئے مزید چوکنا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد گیند اُس کے دائیں گھٹنے کے پاس سے گولی کی طرح گزری وہ فقط ہلکی سی جنبش کھا کر خالی ہاتھ ہوا میں اُٹھا کر رہ گیا تھا، اس نے محسوس کیا کہ آنکھوں سے منظر دیکھنے اور ہاتھوں سے رد عمل ظاہر کرنے کے درمیان اُسے بہت دیر لگتی تھی جبکہ باقی لڑکوں کے ہاتھ پاؤں جیسے خود بخود فوری رد عمل ظاہر کرتے تھے۔۔ میرے اندر کوئی خرابی ہے ۔۔۔۔ اُسے سوچ میں پڑا دیکھ کر ، سب لڑکے اُس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ، اُس کے ساتھ کھڑا لڑکا بولا ، بیٹا تو بٹیرے پکڑا کر گیند پکڑنا تیرے بس کا کام نہیں ہے ، بس آج سے تیرا نام بٹیرا ہو گیا ، سب لڑکے ہنسنے لگے تھے، وہ دو چار قدم پیچھے سرک گیا تا کہ باقی لڑکوں کو اُس کے آنسو نظر نہ ائیں۔۔۔۔ کچھ دیر میں فیلڈ میں تبدیلی کر کے اُسے دور دیوار کے پاس کھڑا کر دیا گیاتھا تا کہ دور سے سب کو دیکھ دیکھ کر وہ کھیل کو تھوڑا سمجھ بھی لے۔۔۔ اچانک ایک لڑکے نے زور دار شاٹ لگائی گیند ہوا میں بہت اوپر تک بلند ہوئی اور ۔۔۔ بد قسمتی سے گیند سیدھی اُسی کی طرف آ رہی تھی گیند کے گرنے سے پہلے کے چند ثانیوں میں وہ بار بار اپنے تصور میں اپنی سخت سے مزاج والے لمبے تڑنگے لڑکے والی تصویر کو لاتا لیکن اگلے ہی لمحے اُس کے ابا کی آواز اُس کے کانوں میں گونجتی اور ایک معصوم سا ڈرا سہما ہوا مخنث سا لڑکا اُس کے انکھوں کے سامنے آ جاتا ۔۔۔ گیند اُس کے ہاتھوں کو چھو کر زمین پر گری اور تیزی سے دوسری طرف نکل گئی تھی وہ گھبرا کر اُس کے پیچھے بھاگا وہ پہلے بھی یہی محسوس کیا کرتا تھا لیکن اُس دن اُسے یقین ہو گیا کہ گھٹنوں سے اوپر اُس کا جسم بھاری اور عورتوں کی طرح الٹی صراحی جیسا ہے اور گھٹنے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں وہ تیزی سے نہیں بھاگ پا رہا تھا۔۔۔ گیند کے ساتھ ساتھ وہ بھی میدان سے باہر نکلا اور بستہ اُٹھا کر ایک طرف چل پڑا تھا اُسے بہت دکھ ہو رہا تھا کہ اُس نے کرکٹ کھیلنے کی خواہش کیوں کی اور کیوں فضول سے جسم اور فضول سی شخصیت والا ہو کے دوسرے اچھے اچھے لڑکوں جیسا بننے چلا تھا۔

وہ پیلی پیلی دھند میں لپٹا ہوا گھر کی طرف چل پڑا تھا۔

ایک دن سکول سے آتے ہوئے اس نے اپنے ایک نئے دوست جو اُسے بہت اچھا لگتا تھا سے دبے دبے انداز میں کہاتھامیں کچھ دیر تم سے تھوڑا آگے چلتا ہوں تم غور سے دیکھ کر بتانا میں کیسے چلتا اور کیسا لگتا ہوں ۔دوست کو اسکی بات کی جیسے سمجھ نہ آئی ، وہ ہنسنے لگا تھا ارے یار کیا کہہ رہا ہے کیا دیکھوں، کیا مجھے پیچھے سے اپنی پیٹھ دکھا رہا ہے، وہ جھینپ گیا تھا۔ لیکن بات بنانے کے لئے اُس نے جواب دیا نہیں یار میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ میں ابھی تک لڑکا ہی ہوں یا مرد بن گیا ہوں ، اُس کا دوست ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا اور وہ گلی میں ارد گرد دیکھنے لگاتھا کہ کہیں کوئی اور تو انھیں نہیں دیکھ رہا، کچھ دیر بعد دوست نے رازدارانہ انداز میں اُس کے کان میں کہا، اگر اس بات کا پتہ لگانا ہے تو تجھے ایک طریقہ بتاتا ہوں ، پتہ بھی چل جائے گا اور تجھے اتنا مزا آئے گا کہ مجھے دعائیں بھی دے گا۔

نسخہ سن کر پہلے تو اُسے ڈر لگا تھا لیکن پھر لڑکے کے مذاق اُڑانے پر وہ بہت حیران ہوا کہ اتنا آسان طریقہ اور وہ بھی بالکل مفت اُسے خود کیوں پتہ نہ تھا، اُسے خود پر غصہ آنے لگا تھا کہ شاید ابا ٹھیک ہی کہتے تھے اگر میری عادات بھی مردوں جیسی ہوتیں تو میرا دھیان خود بخود اس طریقے کی طرف جاتا ، اُسی سہ پہر ٹو شن جانے سے پہلے جب نہاتے ہوئے اس نے اپنے نئے دوست کے بتائے ہوئے طریقے سے خود کو سہلانا شروع کیا تو اس کی سسکاری نکل گئی تھی اُسے لگا تھا جیسے وہ سائیکل پر ہے ، اور ہوا میں اڑا جا رہا ہے، اس نے جسم کے مزے سے زیادہ اس احساس کے مزے کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں کہ وہ مرد ہے۔۔۔ اچانک بہت قریب سے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی، اس نے آنکھیں کھولیں تو خوف سے لرز گیا تھا ، ابا غسل خانے کے پردے کے ساتھ سے گزر کر لیٹرین کی طرف جا رہے تھے۔ سارا مزا خوف اور شرمندگی میں بدل گیا تھا، اُس نے جلدی جلدی ہاتھوں سے صابن کا جھاگ صاف کیا، کپڑے پہنے اور ٹو شن چلا گیا تھا۔

اب اس کا دل ہر روز ، ہر وقت نہانے کو چاہتا تھا، لیکن غسل خانے کی طرف دیکھتے ہی وہ اپنا ارادہ بدل دیتا۔

ایک دن ٹیوشن والے ماسٹر جی نے اُس سے اکثر کھویا کھویا اور اداس رہنے کی وجہ پوچھی تھی تو اُس نے انھیں دھند اور دلدل کے بارے میں بتایا تھا، وہ اُس کو اِس تکلیف سے نجات کا طریقہ بتانے کا وعدہ کرتے ہوئے اس کے سر اور کمر پر ہاتھ پھیرنے لگے، اُسے بہت سکون ملا تھا جیسے اُس دن ماں نہیں بلکہ ابا نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا ہو۔ ماسٹر جی نے دوسرے دن سب بچوں کے جانے کے بعد اُسے پاس بٹھایا اور اس کی ہتھیلی غور سے دیکھتے ہوئے بولے تھے ، ہوں ، تمھاری چوری تو پکڑی گئی ۔۔۔۔ وہ سہم گیا تھا۔۔ لیکن ماسٹر جی میں نے تو صرف ایک بار۔۔۔ ماسٹر جی نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا، ڈرو نہیں یہ تو سب مرد کرتے ہیں ، ہم بھی کرتے ہیں۔۔۔لیکن تمہاری بات اور ہے، کیوں ماسٹر جی میری بات اور کیوں ہے کیا میں مرد نہیں ہوں۔۔۔ ماسٹر جی ہنس پڑے تھے، ابھی تم چھوٹے ہو اگر تم اکیلے میں کرو گے تو بہت نقصان ہو سکتا ہے اس لئے ہم تمہاری مدد کریں گے۔

اس کا دل ڈر رہا تھا، وہ جانتا تھا کہ کچھ بہت غلط ہو رہا ہے، لیکن چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہ بول سکا۔ اذیت ڈر سے زیادہ تھی اور ویسے بھی کسی بھی بات پر نہ کرتے ہوئے اور خاص طور پر اپنے سے بڑے کسی مرد کے سامنے نہ کرتے ہوئے اُس کی زبان بند ہو جاتی تھی اور ٹانگیں کانپنے لگتیں تھیں۔۔۔ اور پھر جب ماسٹر جی اُسے خود اسی طریقہ سے سکون دینے لگے جیسے اُس کے دوست نے بتایا تھا تو اُس کا ڈر قدرے کم ہو گیا تھا، ماسٹر جی اسے سینے سے لگاتے، اس کے ہونٹ اور گال چومتے اور اس کی گردن پر انگلیاں پھیرتے تو وہ آنکھیں موند لیتا ۔

ان چند راتوں کو وہ اپنی چارپائی پر ٹانگیں کھول کر بازو پھیلا کر سیدھا سویا تھا۔

کچھ دن بعد ماسٹر جی نے اُسے ایک نئے طریقے کے بارے میں بتایا جو اُسے بالکل بھی اچھا نہ لگا تھا لیکن وہ اب انھیں کسی قیمت پر ناراض نہیں کر سکتا تھا، بادل نخواستہ وہ اُن کے کہنے پر چٹائی پر لیٹ گیا، کچھ دیر بعد جب ماسٹر جی اٹھے تو اُس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا، اُس کو خود کے بارے میں ایک بار پھر یقین ہو گیا تھا کہ وہ کچھ مختلف ہے ۔

وہ نم آلود آنکھوں سے انھیں دیکھتا ہوا گھر چلا گیا تھا دوسرے دن وہ نہ سکول گیا تھا نہ ٹویشن لیکن تیسرے دن وہ پھر وہیں لیٹا ہوا تھا اور پھر جیسے یہ معمول بن گیا ، وہ روزانہ اپنے آپ کو ٹوکتا، خود سے لڑتا لیکن روک نہ پاتاتھا ۔

تب اُس کے سر میں دھند بہت کم آتی تھی اور دلدل بھی جیسے خشک ہو رہی تھی لیکن اب وہ اٹھے بیٹھتے چلتے پھرتے ایسے محسوس کرتا تھا جیسے اُس کی پیٹھ گیلی ہو، جیسے اُس کے کپڑوں پر کوئی دھبہ لگا ہوا ہو جیسے اس کے جسم پر کوئی اشتہار چسپاں تھا، وہ اکثر مڑ کر دیکھتا، کسی اوٹ میں جا کر جسم کو چاروں طرف سے دیکھتا، کبھی بھی کچھ بھی نہ ہوتا لیکن پھر بھی وہ ہمیشہ محسوس کرتا جیسے کچھ لگا ہوا تھا۔

جیسے گوند سے کوئی اشتہار چسپاں ہو۔

وہ ابا سے ہار گیا تھا، اب اُسے ابا کی ساری باتیں سچی لگتیں اور سب نظریں با معنی معلوم ہوتیں تھیں۔ ایک دن وہ اپنے تصور میں اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا کہ اچانک وہ چونک اٹھا ، وہ دوسرا لڑکا کہاں گیا ، وہ بے باک ، مضبوط اور دلیر سا لڑکا کہاں تھا ۔۔۔۔۔

ابا سے نظریں چرانے کے لئے پہلے اُس نے گھر چھوڑا ، پھر شہر اور

آج پندرہ برس بعد وہ امریکہ میں مقیم تھا اور اپنے نئے پارٹنر کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھا۔ وہ صوفے سے اٹھا اور دیوار پر لگی ماں کی تصویر کے فریم کو اتار کر اس پر انگلیاں پھیرنے لگا۔۔۔

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *