گھروندا ریت کا(قسط23)۔۔۔سلمیٰ اعوان

یہ شب وروز افسانوی سے،رُومانوی سے اور گلیمرس سے بھرے پُرے تھے۔
صبح جب وہ تیار ہوکر خود کو قد آدم آئینے میں دیکھتی تو وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتی۔لباس کی خوبصورتی پر نظریں نہ ٹھہرتیں۔جوہرات کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی۔نک سک سے آراستہ اُسے اپنا آپ بعینٰہ کتابوں میں لکھی ہوئی کسی شہزادی کی مانند نظر آتا۔
جب وہ کمرے سے باہر نکلتی تو ایک حسین اور رنگیلی دنیا اُسے خوش آمدید کہنے کو تیار ملتی۔سڑکوں پر چلتے فٹ پاتھوں پر پھرتے لوگوں کودیکھ کر اُسے یاد آتا کہ ایسی ہی گاڑیوں میں تمکنت سے بیٹھی بیگمات کو کبھی وہ بہت حسرت سے دیکھا کرتی تھی اور اپنے آپ سے کہتی تھی۔
”اِنہوں نے کونسی ایسی نیکیاں کی ہیں۔ان کے کون سے ایسے کام ہیں کہ جن کے عوض اللہ نے خوش ہو کر انہیں عیش وعشرت کے سامان اور رنگ ورُوپ کی فراوانیاں عنایت کر دی ہیں۔اور ہم جیسوں نے کیا گناہ کئے ہیں؟جو سڑکوں اور ٹوٹی پھوٹی بسوں میں خوار ہونا ہمارا مقدر بنادیا۔
اس کے چھوٹے سے دماغ کی یہ چھوٹی سی بے تُکی سوچ بچپن سے ہی اُس کے ساتھ چلتی چلتی بڑی ہوئی تھی اور اس وقت اُس کے سامنے کھڑی اُس سے پوچھتی تھی اور وہ جواب میں کہتی تھی۔کیا وہ ایسی ہی نیکیاں تھیں جیسی اُس نے کی ہیں اور کر رہی ہے۔
یہ شادی جس انداز میں ہوئی تھی۔ اُس نے اُس کے اندر ڈر خوف اور احساسِ جُرم کو جنم دیا تھا۔گو اِن پُر تعیش لمحات میں یہ جذبے پوری طرح اُبھر نہ پاتے کیونکہ وہ ان دنوں ہنی مون کے لئے ہانگ کانگ آئی ہوئی تھی۔نئی دنیا اپنی تمام تر دلفریبوں کے ساتھ اس کے سامنے تھی۔راتیں حسین اور دن خوبصورت تھے۔
تاہم جب بھی اُسے گھر والوں کا خیال آتا۔جب بھی یہ سوچتی کہ وہ کیا کر بیٹھی ہے؟کلیجے پر چُھری سی چل جاتی۔دوتین بار رحمان کے سینے پر سررکھ کر بُری طرح روئی تھی۔
کبھی وہ بڑے عجیب وغریب سے خواب دیکھتی کہ جیسے وہ اپنے گھر میں ہے۔اپنے چھوٹے سے کمرے میں۔چارپائی پر ماں باپ بیٹھے ہیں۔افسردہ اور پریشان سے۔صحن میں رشتہ داروں کا ایک جمگھٹا ہوتا۔وہ ایک مجرم کی طرح سرجُھکائے اُن کے سامنے کھڑی ہوتی۔سیاہ کپڑوں میں ملبوس اُس کی دادی اُسے بالوں سے پکڑ کر کھنچتی۔بھائی چمکتی دھار والی چُھری سے اُسے ذبح کرنے اٹھتا۔ماں کی درد بھری آواز اس کے کانوں میں گونجتی۔
اِس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ہے۔
تب اُسے جھرجھری سی آجاتی۔
راتیں اوپیرا اور بیلے دیکھنے، کلچرل شوز سے لُطف اندوز ہونے اور کلبوں میں گزرتیں۔دن گھومنے پھرنے ساحل پر چہل قدمی اور مختلف لوگوں سے ملنے ملانے میں بیتا۔ یہ وہ جادوئی سحر سے بھرے ہوئے شب وروز تھے کہ جنکے رنگوں کے بارے میں وہ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی۔
اور یوں پُورے پچیس دن گذار کر وہ ایک سہ پہر تیج گاؤں کے ہوائی اڈے پر اُتری۔گھر پہنچ کر سب سے پہلا کام ثریا کو فون کرکے صورت حال سے آگاہی کا حصول تھا۔
جانے سے پہلے وہ اُس کے ذمہ یہ کام سونپ گئی تھی۔کہ وہ کبھی کبھار ہال جاکر اس کی ڈاک دیکھتی رہے۔خط کو کھولنے اور پڑھنے کی بھی تاکید کر گئی تھی۔اور یہ بھی اُسے کہہ گئی تھی کہ اگر کوئی خط جواب طلب ہوتو اُس کے بارے میں اپنی طرف سے لکھ بھیجے کہ وہ ایک وفد کے ساتھ اہم مقامات کی سیر کے لئے گئی ہوئی ہے۔
یہ جاننے پر کہ ُاس کا کوئی خط نہیں آیا۔وہ قدرے مُطمئن سی ہوگئی پرتھوڑی سی تشویش کا احساس بھی ہوا۔کیونکہ عام طور پر اُسے ایک ماہ میں اپنے بہن بھائیوں یا ماں باپ کی طرف سے تین چار خط ضرور مل جاتے تھے۔
یونیورسٹی کے بارے میں چند باتیں ہوئیں۔ثریا نے اُس کے ٹرپ کے بارے میں پُوچھا۔تھکی ہوئی آواز میں اس کا جواب تھاکہ بس ٹھیک رہا۔
اور جواباً ثریا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا۔
”کیا بات ہے؟تم تو بڑی ڈیپرس سی لگتی ہو۔دیکھو میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ اب اپنا ماضی بھُول جاؤ۔حال میں نہیں رہو گی تو تمہاری زندگی جہنم بن جائے گی۔“
وہ چُپ چاپ اُسے سنتی رہی۔پھر دھیرے سے بولی۔
اچھا ثریا ملیں گے تو باتیں ہوں گی۔
اب جانے بیٹھے بٹھائے یہ خیال اس کے دماغ میں کیکر کے درخت کی شاخوں پر لگی سولوں کی طرح کیوں چُبھنے لگاتھا کہ رحمان اپنی پہلی بیوی سے بھی ایسے ہی پیار کرتا ہوگا۔اس کے لئے بھی اُس کے انداز میں ایسا ہی والہانہ پن اور فریفتگی ہوتی ہوگی اور اگر کل کلاں اُسے کچھ ہوگیا تو وہ کسی اور کے ساتھ شادی کرے گا اور اس کے ساتھ بھی یہی سب ہوگا جواُس کے ساتھ ہورہا ہے۔
کِس قدر خوف ناک خیال تھا جس نے سرسے لیکرپاؤں تک اُسے سُلگا ڈالا۔ایک بھانبڑ مچا دیا تھا۔ جی چاہتا اُس سے پُوچھے۔پر مصیبت تو یہ تھی کہ یہ پُوچھنے کا حوصلہ کہاں سے لاتی؟وہ تو اُن لمحوں میں بھی اُس سے کُھل کر بات نہ کر پاتی جب اُس کے قریب ترین ہوتی۔وہ اکثر اصرار کرتا کہ وہ آخراتنی خاموش کیوں رہتی ہے؟کھل کرباتیں کیوں نہیں کرتی؟اور وہ ایک خفیف سی ہنسی کے ساتھ اس کے اعتراض کو ٹال دیتی۔
انہیں ڈھا کہ آئے ابھی چند دن ہی گذرے تھے۔جب رحمان کو دفتری کام کے سلسلے میں کُھلنا جانا پڑا۔ان دنوں وہ باہر نہیں جانا چاہتا تھا۔گلشن میں اُس کا نیا گھر تیار ہوچکا تھا اور وہ جلدہی وہاں شفٹ ہو نے کا خواہش مندتھا۔نجمہ کو ڈرائیونگ بھی سکھارہا تھا۔پر مجبوری تھی۔جائے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔اس نئے گھر کی آرائش کے سلسلے میں وہ اُسے ضروری ہدایات دے کر چلا گیا۔
اگلے دن جب شام کو نجمہ نئے گھر اُن سب اُمور کا جائزہ لینے کے لئے آئی کہ اُسے اِس کی آرائش وزیبائش کے لئے کیا کچھ کرنا ہے؟اس گھر کووہ پہلی مرتبہ نہیں دیکھ رہی تھی۔کئی باریہاں آچکی تھی۔اِس کے کمروں میں گھوم پھر چکی تھی۔
پر پتہ نہیں کہاں سے یہ خیال اٹھا اور اُسکے وجود کو افسردو ملُول کرتا جیسے ہرجگہ ٹھہرسا گیا۔مرنے والی نے پتہ نہیں کن ارمانوں سے بنایا ہوگا۔اُس کی کیاکیا خواہشات ہوں گی؟اُس نے کیسے کیسے خواب دیکھے ہوں گے؟اِس کی ڈیکوریشن کے لئے جانے کیا کیا منصوبے اُس کے ذہن میں ہوں گے؟کسی کے خوبصورت گھر کو دیکھ کر اُس نے یقینا اپنے آپ سے یہ کہا ہوگا۔
”نئے گھر کو میں اسی انداز میں سنواروں گی۔“
پر کیا وہ جانتی تھی کہ اس گھر میں اُسے قدم رکھنا نصیب نہ ہوگا۔اس کے خواب پل بھرمیں کانچ کے کسی برتن کی طرح چکنا چُور ہوجائیں گے۔اس کا شوہر جسے خود تک محدود رکھنے کے لئے وہ بھاگی پھرتی تھی۔اس کے بچے جنہیں اُس نے منتوں مرادوں کے بعد حاصل کیے تھے۔سب کسی اور کے پاس چلے جائیں گے۔
اُس کی آنکھیں گیلی ہوگئی تھیں۔یہ گیلی آنکھیں رفتہ رفتہ شدّت احساس سے بھیگنے لگی تھیں اور پھر وہ بیک یارڈکے کوریڈور کے پیل پائے سے چمٹی زار،زار روتی تھی۔
اور جب آنکھوں میں بہانے کے لیے کچھ باقی نہ رہا تب اُس نے روندھے ہوئے لہجے میں اپنے آپ سے کہا تھا۔
”ہم اور ہمارا تحفظ موت کے سامنے کتنا بے معنی ہے۔“
اُس کے اپنے زخم رسنے لگے تھے۔
”اللہ میں کیا بننے آئی تھی اور کیا بن بیٹھی ہوں میں کیا زندگی کے کسی موڑ پر اُن چاہنے والوں کا سامنا کر سکوں گی۔“
“یقینا نہیں۔”
اگلا ہفتہ اُس کا بہت مُصروف گذرا۔کہیں بازار کے چکر کہیں کلر ایڈوائزری سروس کے ماہرین سے مشورے، کہیں نوکروں سے مغز کھپائی۔وہ رحمان کے آنے سے پیشتر گھر پوری طرح ڈیکوریٹ کرلینا چاہتی تھی۔
اور پھر ایک شام جب شفق پھول رہی تھی۔اُس نے روپہلی غرارہ سیٹ پہن کر گیٹ پر رحمان کو نئے گھرمیں خوش آمدید کہا۔اپنے بازؤوں میں اُسے کسی قمیتی شے کی طرح سنبھالے وہ اُس کے ساتھ ساتھ ایک کمرے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی طرف چلا۔
جب وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے لیونگ رُوم میں آئے۔رحمان چونک اٹھا تھا۔چہرے کا رنگ بدل گیا اور قدم جہاں تھے وہیں جم گئے۔سامنے طاہرہ کا پوٹریٹ تازہ پُھولوں سے سجا رکھا تھا۔

ٹکٹکی باندھے وہ اُسے دیکھتا رہا اور اس کے پاس ہی خاموش اور اُداس سی وہ بھی کھڑی رہی۔
”اسے یہاں تم نے رکھا ہے۔“
”ہاں“
اُس کی آواز گلوگیر سی تھی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *