• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • بک ریویو/کتاب العروج، تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ۔۔۔ڈاکٹر راشد شاز

بک ریویو/کتاب العروج، تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ۔۔۔ڈاکٹر راشد شاز

کتاب العروج یعنی تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ، مصنف: راشد شاز، کا نیا ایڈیشن منظر عام پر آگیا ہے. قیمت 700 روپئے. البتہ آن لائن خریداروں کے لیے، محدود مدت کے لیے صرف 500 روپئے میں دستیاب ہے. جلدی کیجیئے اور خصوصی رعایت کا فائدہ اٹھائیے. کتاب کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے پڑھیے نامور اسلامی مفکر، تحریک اسلامی کے گل سر سید اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان، کے وائس چانسلر پروفیسر انیس احمد کا تبصرہ.

کتاب العروج،
تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ،
ڈاکٹر راشد شاز
ناشر: ملّی پبلی کیشنز، نئی دہلی،
بھارت۔۲۵۔ صفحات: ۲۴۳۔ قیمت: ۵۰۰بھارتی روپے۔

tripako tours pakistan

”راشد شاز صاحب نے علی گڑھ یونی ورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ حاصل کی ہے۔ انھوں نے اسلامی علوم اور خصوصاً تہذیبی ترقی کے عمل کے مطالعے کا نچوڑ کتاب العروج کی شکل میں اُمت مسلمہ کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایک عرصے کے بعد ایسی تحریر سامنے آئی ہے جس میں اُردو زبان کی چاشنی اور علمی ایجاز، ہرہرجملے سے جھلکتا ہے۔ مختلف مغربی اور مسلم مصادر کی مدد سے مسلم تہذیب، خصوصاً سائنسی اور فلسفیانہ اختراعات کا تذکرہ، دو مفصل ابواب جو ۲۰۰صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں، دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مثل پیش کردیا گیا ہے۔ آخری باب جو بظاہر کتاب کا اصل مقصد نظر آتا ہے ’ایک نئی یونی ورسٹی کا منصوبہ‘ کے زیرعنوان باندھا گیا ہے۔

مصنف نے انتہائی عرق ریزی سے مسلمانوں کے علمی اور سائنسی کارناموں کا جائزہ لیاہے اور جابجا علمی تصنیفات اور آلات کی تصاویر سے کتاب کو مزین کیا ہے۔ اپنے ماضی سے غیرآگاہ جدید نسل کے مسلمان نوجوانوں کے لیے اس میں غیرمعمولی اہم لوازمہ ہے۔ مصنف نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر اس افسافے کی حقیقت بھی واضح کی ہے کہ یورپ میں جو نشاتِ ثانیہ سولہویں صدی میں واقع ہوئی، اس میں اٹلی کی تہذیب کا بڑا دخل تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اٹلی کی اپنی کوئی تہذیبی روایت نہ تھی بلکہ مسلمانوں سے ارتباط کے نتیجے میں وہاں جو علمی لوازمہ پہنچا، اور مسلمانوں کی ایجادات جو اندلس اور اٹلی کے راستے یورپ میں پہنچیں وہ اس نشاتِ ثانیہ کی اصل بنیاد تھیں۔

مصنف نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ مسلمان عظیم سائنسی روایت کے باوجود کیوں زوال کا شکار ہوئے اور اس زوال سے نکلنے کے لیے انھیں کیا کرنا ہوگا؟ مصنف کا کہنا ہے کہ تبدیلی کا انقلابی عمل ایک بہت جرأت مندانہ اقدام کا متقاضی ہے جس میں روایت پرستی سے نکل کر ایک نئے ذہن اور نقطۂ نظر کے ساتھ علم کی تدوین جدید کرنی ہوگی۔ یہ کام علمی پیوندکاری سے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مستقبل کے چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئی علمی روایت کو قائم کرنا ہوگا۔
یہ کام اسی وقت ممکن ہے جب ایک نئی یونی ورسٹی وجود میں آئے۔ مصنف کے خیال میں ماضی کی تمام کوششیں، بشمول علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، ندوۃ العلما اور دیگر مدارس کا قیام، وہ کام نہ کرسکیں جو مسلمانوں کو عروج کی طرف لے جاتا۔ مجوزہ یونی ورسٹی کا تصور لازمی طور پر ایک نہایت قابلِ قدر تصور ہے۔ مصنف نئی یونی ورسٹی کے ذریعے ان خامیوں کو دُور کرنا چاہتے ہیں جو موجودہ جامعات میں پائی جاتی ہیں، چاہے وہ دینی ہوں یا راویتی سیکولر جامعات۔

دورِ جدید میں تجدیدی کوششوں کے ضمن میں جہاں دیگر اداروں پر مصنف نے تنقیدی زاویے سے بات کی ہے، وہاں مولانا مودودیؒ کی فکر اور تجدیدی کوششوں کو صرف ایک تعارفی جملے میں بیان کیا ہے جو مولانا کے کام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ایک نئی یونی ورسٹی کی تجویز کا استقبال کرتے ہوئے، اس نوعیت کے علمی سفر سے وابستہ ایک فرد کی حیثیت سے مصنف محترم کی معلومات کے لیے چند نکات کی وضاحت ضروری ہے۔ ۱۹۶۲ء میں ادارہ معارف اسلامی کے قیام کے موقع پر مولانا مودودیؒ نے جو خطاب کیا تھا، اس میں علوم کی نئی تشکیل کا ایک نقشہ پیش کیا تھا۔ وہ شازصاحب کے تصور سے زیادہ مختلف نہ تھا۔ اسی طرح امریکا میں ۱۹۷۲ء میں مسلم ماہرین علومِ عمرانی کی تنظیم (Association of Muslim Social Scientists-AMSS) کے قیام کا محرک بھی یہی تصور تھا کہ ایک نئی روایتِ علم کی ضرورت ہے اور اس کا آغاز علومِ عمرانی کی اسلامی تدوین جدید سے کیا جانا چاہیے۔ اس تنظیم کے بانی، سیکرٹری جنرل اور بعد میں صدر کی حیثیت سے میں نے اور دیگر رفقاے کار خصوصاً پروفیسر اسماعیل راجی الفاروقی شہید نے اپنے خطابات اور مقالات میں جس تصور کو پیش کیا وہ یہی تھا کہ ایک نئی جامعہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ۱۹۸۱ء میں اسی تصور کی بنیاد پر بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد اور پھر ۱۹۸۳ء میں ملایشیا میں اسی نام سے ایک آزاد یونی ورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔

راقم الحروف کو دونوں جامعات کے تاسیسی دور میں ان کے نصابات، مقاصد اور تعلیمی حکمت عملی سے براہِ راست وابستگی کا موقع ملا اور کم از کم اس حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے شازصاحب جس تصور کی طرف متوجہ کر رہے ہیں، اس کی شروعات ان دو جامعات میں نظری اور عملی طور پر عمل میں آچکی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گذشتہ ۱۰سال کے عرصے میں سیاسی حالات کی بنا پر ان کی قیادت اور تدریسی ترجیحات کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر ان دونوں جامعات کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کمی پوری ہوسکتی ہے جس کی طرف شازصاحب نے متوجہ کیا ہے۔ یہ بیان تفصیل طلب ہے کہ ان جامعات میں نصاب بناتے وقت کیا تصور سامنے رکھا گیا کیونکہ اس کا محل یہ تبصرہ نہیں، بلکہ ایک الگ مقالہ ہی ہوسکتا ہے۔

کتاب العروج اوّل تا آخر توجہ کے ساتھ مطالعہ چاہتی ہے۔ مصنف نے قرآنی علمی سفر کو ادبی جاذبیت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کتاب کو ہرمسلم تعلیمی ادارے کے کتب خانے میں ہونا چاہیے اور علوم اسلامی کے طلبہ کے لیے اس کا مطالعہ لازمی ہونا چاہیے۔ اس کتاب کی پیش کاری جس اعلیٰ درجے کی ہے، بیان نہیں کی جاسکتی۔ دیکھ کر ہی یقین کیا جاسکتا ہے۔ دبیز آرٹ پیپر کے بڑے سائز(۲۰x۳۰/۸) کے ۲۴۴صفحات میں عروج کی داستان آلات، کتب، اور شخصیات کی تصاویر سے مزین پیش کی گئی ہے۔” (ڈاکٹر انیس احمد)

 

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *