کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط43

سلسلہ۔۔۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت کا اور ان کے خطوط کا …

دسمبر ۱۹۹۹ ۔۔ لاہور میں ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر میرا یہ تیسرا دن تھا۔ گذشتہ رات ہم دونوں تقابلی مذہب کے بکھیڑوں میں الجھے رہے تھے۔ سونے سے پہلے میں نے ایک چبھتا ہوا جملہ جو اُن کو کہا تھا، اسے سن کر پہلے تو بہت ہنسے تھے، پھر کچھ آبدیدہ ہو گئے تھے۔میں نے صرف اتنا کہا تھا، ”مجھے علم نہیں تھا کہ آپ مجھ سے بھی زیادہ ہندو دھرم کے ویدانت Vedanta period کے فلسفہ میں یقین رکھتے ہیں۔“ جواب میں انہوں نے صرف یہی کہا تھا، ”آپ اس دروازے پر دستک دینے کی بات یاد رکھیں۔ ویدانت کے سب فلسفی، کرشنا مورتی سمیت، یہ دستک دیتے آئے ہیں۔۔۔میری  بدقسمتی یہ ہے کہ لاہور تو کیا، پورے ملک میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس سے کھل کر تبادلہ  خیالات کیا جا سکے۔“

دوسری صبح کو ہی ناشتے کے بعد آغا صاحب میری خطوط کی ایک گڈی نکال لائے۔ ربڑ کا فیتا کھولا اور پہلی بات یہ کی کہ مجھ سے پوچھا، ”آپ ان خطوط میں تحریر کردہ اپنے منشور پر اب بھی سختی سے قائم ہیں؟“ ”منشور؟“ میں نے پوچھا۔ ”ہاں،“ بولے، ”یہی کہ ادیب کا عندیہ سوائے تخلیق کرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اسے حالات ِ حاضرہ سے اپنی تخلیق کا کوئی تعلق بطور منشور پیش نہیں کرنا چاہیے۔“

میں نے عرض کیا، ”جی، اب تک ہوں، لیکن مثتثنیات میں دور قدیم کے سارے ادب کو رکھنا چاہتا ہوں۔ اس میں مہا کاویہ یعنی epics بھی آئیں گے، جیسے مہابھارت اور رامائن جو شعرا کی تخلیقات ہیں…“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کچھ ماہ پیچھے چلیں۔ یہ خط (تاریخ ندارد) شاید اگست ۱۹۹۲ عیسوی کا ہے۔ یہ ایک ایسے خط کا جواب تھا جس میں نے انہیں یہ لکھ کر ایک چٹکی لی تھی۔ ”آپ تو مہاتما بدھ کے پہلے چیلے اور میرے ہمنام آنندؔ کی طرح تجسس سے لبا لب چھلکتی ہوئی ایک پیاسی روح ہیں جو اپنی پیاس بجھانے کے لیے ہر جتن کرنے کو تیار ہے۔“

علیک سلیک کے بعد انہوں نے مجھے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ لکھتے ہیں:
’’مہاتما بدھ کا پہلا چیلا اور آپ کا ہمنام آنندؔ تو شاید آپ کے ہی کسی پچھلے جنم کا روپ تھا۔ آپ نے اپنی ہر تتھاگت نظم اسی کے حوالے سے شروع کی ہے۔ لیکن میں باہر دیکھنے کے بجائے اپنی پیاس بجھانے کے لیے اپنے اندر دیکھتا ہوں۔ مجھے اس مہاتما بدھ کی ضرورت نہیں ہے، جو مجھ سے باہر ہے۔ آپ یوں کریں پہلی میری کتاب ”دستک اس دروازے پر“ میں مشمولہ ”پانچواں دن“ غور سے پڑھیں اور پھر مجھے جواب لکھیں۔“

اس بات چیت کے حوالے سے میں نے کہا،”میرا یہ سفر تو گیان کے کھوج کی یاترا ہے، آپ سے ان دنوں میں بہت کچھ سیکھنا ہے۔“ تب میں نے انہیں بتایا کہ میں نے خود ”اند ر باہر کی نظمیں“ کے زیر عنوان پانچ چھہ نظمیں خلق کی ہیں، جن میں یہی امر ایک شعری تاثر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ان سے گزارش کی کہ ”دستک اس دروازے پر“ مجھے دیں تو انہوں نے فوراً نکال دی۔میں نے بلند آواز میں پڑھنا شروع کیا، انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، اور بستر پر تکیوں کے سہارے نیم دراز ہو گئے۔

”میں نے پچھلے دنوں ایک بہت دلچسپ کتاب پڑھی۔ اس کے لکھنے والے کا نام ہے۔ جولین جینز (Jullian Jaynes) اس نے لکھا ہے کہ آج سے کم و بیش تین ہزار سال پہلے تک ا نسان ”اند ر کی آوازوں“ سے منسلک تھا۔ جب بھی کوئی بحران نمودار ہوتا تو وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اندر سے آنے والے ”حکم“ یا ”مشورہ“کو بغور سنتا تھا اور اسے دیوتاؤں کی آواز سمجھتا تھا۔ تین ہزار برس پہلے شعور کی کارفرمائی کا آغاز ہوا تو ”اندر“ کی آوازیں آنا بند ہو گئیں اور باہر کی آوازوں نے اس پر پوری طرح قبضہ جما لیا۔۔۔۔ (جب)انسان کے دماغ کا بایاں حصہ متحرک ہو گیا اور اس نے فلسفہ اور منطق کی زبان میں شور مچا دیا۔ اتنا شور مچایا کہ اندر کی آوازیں ڈر کر دبک گئیں، مگر وہ زندہ بہر حال رہیں۔۔۔۔  اب وہ فنون ِ لطیفہ کے ذریعے اپنا اظہار کرنے لگیں۔ اسی لیے تو ہم کہتے ہیں کہ جب کوئی نظم لکھتا ہے، رقص کرتا ہے، تصویر بناتا ہے یا گاتا ہے تو اس کے اندر کی آوازیں اس ”شگاف“ میں سے اپنا اظہار کر رہی ہوتی ہیں۔ نظم کا ہر امیج، نغمہ کی تان، رقص کا ہر بھاؤ اور تصویر کا ہر خم مثل ایک شگاف کے ہے یوں سمجھو وہ ایک (Fault) ہے جس میں سے اندر کی آواز برآمد ہوتی ہے“(ص۔83-84)

یہ اقتباس ختم ہوا تو انہوں نے ایک اور اقتباس پڑھنے کے لیے کہا، کاغذ کی کترنیں شاید میری  سہولیت کے لیے ہی رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے پھرپڑھنا شروع کیا۔انہوں نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
”وہ (لفظ سے مراد ہے) ہے ہی پراسرار۔ اپنے زمانے میں ہندوؤں نے اس پر (لفظ پر) بہت کام کیا۔ مثلاً انہوں نے  واک (تخلیقی لفظ)کی بحث کو سب سے پہلے اٹھایا اور کہا کہ زبان کے وسیلے سے مادی دنیا کا حتمی علم ممکن ہے۔ واک کے سلسلے میں انہوں نے بہت دلچسپ بات یہ کہی کہ اس کی  چار پرت ہیں۔ پہلا پارا، دوسرا پسیانتی، تیسرا مدہیام، اور چوتھا وائک باری! یہ آخری پرت واک کا وہ روپ ہے جسے ہمارے مادی کان پہچانتے ہیں ورنہ واک کی پہلی تین پرتوں سے نکلنے والی آوازوں کو صرف ”اندر“ کے کان ہی سن سکتے ہیں۔“دوسری طرف مغرب میں زیادہ تر لفظ کے وائک باری روپ ہی کو اہمیت ملی ہے، حتی  کہ بیسویں صدی کے آغاز میں سوشیور Saussure نے بھی لفظ کے معاملے میں زیادہ تر متکلم لفظ کو ہی اہمیت دی۔“(ص۔88)

ایک اقتباس اور پڑھنے کے لیے کہا۔ کاغذ کی کترن رکھی ہوئی تھی۔ میں نے پھر پڑھنا شروع کیا، انہوں نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
”زبان کی تھیوری کے معاملے میں تاریخ کے اور وقت کے دو زمانی یعنی diachronicانداز کو اہمیت مل گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مغرب کے ماہرین لسانیات سنسکرت زبان سے آشنا ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سنسکرت زبان اور لاطینی رومن زبانوں میں لفظیات اور گرائمر کے اعتبار سے مماثلت تھی۔ سو انیسویں صدی کی لسانیات نے تقابلی گرائمر کے نظریے کو اپنا لیا“(ص۔90)

وہی سوال جو میں نے فون پر پوچھا تھا، دوبارہ پوچھا کہ اس کا، یعنی تقابلی گرائمر کے اصولوں کا ہندوؤں کی اس بات  سے  کیا تعلق ہے کہ لفظ مقدّم تو ہے ہی، لیکن بولتے یا لکھتے ہوئے ایک شخص ایک لمحے کے دورانیے میں جب دو یا تین لفظ بولتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے ذہن میں کیا کا ر فرما ہوتا ہے جو ہر لفظ کو mini second کے وقفے میں چار پرتوں میں بانٹتا چلا جاتا ہے؟ گویا ہاڈ ما س کا بنا ہوا آدمی نہ ہوا، ایک بے حد sophisticated تیز رفتار کمپیوٹر ہو گیا…..ڈاکٹر آغا نے اپنی آنکھیں کھول دیں، میری طرف ایسے دیکھا، جیسے میری گہرائی ماپ رہے ہوں۔ پھر ہنس پڑے، بولے، ”آپ میرا امتحان لے رہے ہیں کیا؟ آدمی کے دماغ کا وہ حصہ جو گلیشیئر کی طرح ہے اورجس کا نو بٹا دس حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور دکھائی نہیں دیتا، کیا کسی کمپیوٹر سے کم ہے؟ اگر کسی وقت یہ حصہ پوری طرح بیدار ہو جائے، تو نہ معلوم انسان کیا بن جائے۔“میں بھی ہنسا، ”خدا ہی توبن جائے گا، اور کیا؟“ ہنستے رہے، ”تتھا گت نظمیں لکھتے لکھتے آپ بھی خدا کی ہستی سے منکر ہو گئے؟“..

میں نے لقمہ دیا ”اس لفظ ”بھی“ کا جواب نہیں ہے۔“

ہنستے رہے، بولے، ”آپ مجھ سے جو کہلوانا چاہتے ہیں، وہ میں نہیں کہوں گا۔ آپ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ میں خدا کی ”ہستی“ سے تو منکر ہوں، لیکن اس کے ”ہونے“ سے نہیں۔ میری نظم ”بیکرااں وسعتوں میں!“ پڑھ لیں اور اس میں جو لفظ ”تیرے“ ہے، اس کے بارے میں سوچ کر مجھ سے بات کریں کہ وہ کون ہے۔ کیا وہ ایک Entity ہے، یا کہ Totality ہے؟ اگر وہ ایک Entity ہے تو اس کا Persona کیا ہے، اور اگروہ ایک Totality ہے تو اس کے جزو کیا ہیں؟نظم میری پڑھی ہوئی تھی، اس لیے میں نے ایک اور استفسار کیا۔

میں نے کہا، آپ نے فون پر فرمایا تھا کہ میں آپ کی نظم میں صرف ایک لفظ ”تیرے“ (جو ایک بار ہی وارد ہوا ہے) کے بارے میں یہ سوچوں کہ مدِمقابل کون ہے۔یعنی وہ کون ہے جسے شاعر یا اس کا واحد متکلّم کہتا ہے، ”تمام چہرے جو تیرے اندر سے جھانکتے ہیں، مرے ہی چہرے کی جھلکیاں ہیں۔“ اس وقت آپ کا جواب ہی کچھ مبہم تھا یا میری فہم ہی نا مکمل تھی۔ آج پھر پوچھ رہا ہوں۔پہلے تو آپ ہی بتایئے کہ اس لفظ سے آپ کی کیا مراد ہے،.۔۔۔کہنے لگے،میں نے آپ سے اس لیے پوچھا تھا کہ میں توصرف نظم گو ہوں، آپ نظم گو بھی ہیں اور نظم فہم بھی ہیں، اور قاری اساس تنقید جسے میں حرف آخر نہیں مانتا، امتزاجی تنقید کا ایک اہم جزو ضرور تسلیم کرتا ہے، اس لیے آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا، اگر آپ میرا امتحان ہی لینا چاہتے ہیں، تو میرا جواب ہے کہ وہ آفاق ہے، گیتی ہے، کائنات ہے، کون و مکاں ہے، Cosmos ہے۔…

میں خاموش ہو گیا تو بولے، ”آپ نے تو اتنی زیادہ تعداد میں لفظ گِنوا دیے، آپ ایک لفظ بھی تو کہہ سکتے تھے، جو entity اور totality دونوں کا احا طہ کرتا ہو“
میں نے کہا،”وہ لفظ میں نہیں کہوں گا کیونکہ آپ کی مراد اس لفظ کے مروّج معانی سے نہیں تھی۔ اگر میں ایشور، اللہ، خدا کہہ دیتا تو پھر اس نظم کو حمد کے قبیل سے گنے جانے میں کوئی قباحت نہیں تھی، لیکن یہ نظم حمد کی صنف ِ سخن سے نہیں ہے۔….“
بولے،”آپ نے درست کہا کہ یہ حمد نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدیہ الفاظ کااستعمال نہیں ہے، لیکن آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں اس لفظ کے استعمال سے کنّی کترا گیا ہوں۔آپ خود تو اپنی تتھاگت نظموں میں بارہا گوتم بدّھ کا یہ اپدیش دہرا چکے ہیں کہ خد ا کوئی ہستی نہیں ہے کیونکہ ہست کا براہ راست تعلق نیست سے ہے۔ یعنی اگر خدا ہست ہے تو پھر خدا نیست بھی ہے۔ لاکھوں ستارے، کہکشائیں، galaxiesپیدا ہوتی رہتی ہیں اور بلیک ہول بن کر نیست کی منزل تک پہنچتی رہتی ہیں۔ آپ مہاتما بدّھ کے یا اس کے چیلے آنندؔ کے یا خود اپنے beliefsکو مجھ پر تو مت لادیں“
میں نے کہا، ایک لمحے کے لیے اگر میں یہ مان بھی لوں کہ میں آپ کو باہمی گفتگو کے وِیوہ چکّر میں ڈال کر آپ سے کچھ منوانا چاہتا تھا، جو آپ محسوس کرتے ہیں لیکن دم رہتے ہوئے بھی اس کا اقرار نہیں کرتے، تو چلو اس بات کو یہیں رہنے دیتے ہیں، لیکن کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ یہ نظم self اور non-self کے اس رشتے میں self کی اس خواہش کے اظہار کی داستان ہے جس میں وہ non-self میں ضم ہونا چاہتا ہے؟“

بولے، آپ نے کرشنا مورتی سے لفظ non-self مستعار لے لیا ہے۔ یہ نظم micro-cosmic self کی وہ المیہ داستان ہے، جس میں وہ ایک جامد لمحے کے دورانئے میں تن ِ تنہا کھڑا ہے، رکا ہوا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس لمحے کا انت ہونا ہی اس کی بے انت سے وصال کی گھڑی ہے۔“

وہ ایک لمحہ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا، ہماری ’ہست‘ اور ’نیست‘ والی بات تو بیچ میں ہی رہ گئی۔“
بولے،”ذرا یہ کتاب مجھے پکڑائیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے، اس کا ڈسٹ کور نہیں ہے، لیکن کچھ کاپیوں میں پشت پر وہ کاغذ چسپاں ہے، جس پر میرا اندراج ہے۔ اس میں یقیناً  لفظ ”ہستی“ آیا ہے۔ لیجئے، مل گیا، میں پڑھتا ہوں.۔
”میں زندگی بھر وقفے وقفے سے یہ دستک دیتا آیا ہوں۔ اور دوسری طرف سے اس کے جواب میں کبھی تو مکمل سنّاٹا اور کبھی ایک واضح دستک مجھے بھی سُنائی دی ہے۔ ایک ایسی دستک جس کا کوئی ایک نقطہٗ ثقل نہیں ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ یہ دستک کس مقام سے آئی ہے اور کب تک آتی رہے گی۔ کبھی ایسے بھی ہوا کہ  یہ شفق کی جوالا سے پھوٹ پڑی یا شبنم کے قطرے، بادل کی قوس، سُر کے ابھار، قدموں کی چاپ یا لفظ کے نافے سے برآمد ہوئی اور کبھی اندر کے”چاہ ِ یوسف“ سے مجھے سُنائی دینے لگی۔ میرے لیے سانس لینے کا یہ وقفہ جسے عمر ِ عزیز کا نام ملا ہے، محض اس لیے ایک ثمر دار عمل ثابت ہوا کہ اس کی وساطت سے مجھے دروازے کی دوسری جانب سے اُبھرنے والی دستک کو سننے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مگر میں اس معاملے میں اکیلا نہیں ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ دروازے کے اس جانب کی دوسری ہستی اتنی رحمدل، فیّاض اور محبت کرنے والی ہے کہ اگر کوئی دستک خلوص دل کے ساتھ دے تو وہ اس کا جواب ضرور دیتی ہے، شرط صرف دستک دینے کی ہے۔“

(آج جب میں یہ سطریں ہرنڈن (ورجینیا کے ایک قصبے میں اپنے گھر میں اکیلا بیٹھا ہوا لکھ رہا ہوں، تو مجھے ایک ایک لمحہ اس دورانئے کا جس میں ڈاکٹر وزیر آغا کے گھر میں بیٹھے ہوئے ہم باتیں کر رہے تھے، یاد ہو آیا ہے۔ اب وزیر آغا اس دروازے پر دستک دینے کے بعد اسے خود ہی اپنے ہاتھوں سے کھول چکے ہیں۔ لیکن مجھے ایسے لگتا ہے، جیسے اس وقت وہ میرے پاس بیٹھے ہوں!)
”….جی“ میں نے کچھ توقف کے بعد کہا، ”میں نے لفظ ”ہستی“ کا استعمال دیکھ لیا۔لیکن میں کیا کہوں کہ میں نے تو (خیر میں تو کیا، کچھ بڑے شاعروں نے بھی) یہ لفظ ”نیست“ کے عین منفی معانی میں استعمال کیا ہے۔شاعر کہتا ہے۔

ع: نفی سے گرتی ہے اثبات ِ تراوش گویا

شاعر کہتا ہے۔

ع: عدم عدم ہے کہ آیئنہ دار ِ ہستی ہے۔

شاعر کہتا ہے۔

کیا ڈھونڈے دشت ِ گمشدگی میں مجھے کہ ہے

عنقا مرے سراغ سے دور، اور شکستہ پر

سنسکرت میں اسے ”ستت“ اور”استت“ stut & astutکہا گیا ہے، گویا ”استت“ کے سکّے کا دوسرا رخ ”ستت“ ہے، کون سا رخ چہرہ ٗ شاہی دکھاتا ہے یہ کون جانتا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں؟“

بولے، ”میں نے عرض کیا تھا کہ شرط دستک دینے کی ہے، پے در پے دستک دینے کی ہے“

(جاری ہے)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط43

  1. I have noticed you don’t monetize your page, don’t waste your traffic, you can earn additional bucks every
    month. You can use the best adsense alternative for any
    type of website (they approve all websites), for more info simply search in gooogle: boorfe’s tips monetize your website

  2. You can certainly see your expertise in the article you write.
    The world hopes for more passionate writers like you who aren’t afraid to mention how they believe.
    Always go after your heart.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *