کال کوٹھڑی۔۔۔۔اسامہ ریاض

بارش کی بوندیں اب زیادہ شور برپا کر رہی تھیں۔مجھے بچپن سے ہی بارش سے محبت رہی تھی اور اب تو آسمان دیکھے بھی مہینوں ہو گئے تھے۔ آج شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ اِن دیواروں کو توڑ دوں اور باہر جا کر بارش میں نہاؤں لیکن یہ کال کوٹھڑی۔۔ اب یہاں میرا دم گھٹ رہا تھا اور تبھی پھر سے   اس   بچے کے رونے کی آواز آنے لگ گئی۔
’’ایک تو یہ آواز مجھے پاگل کر دے  گئی ‘‘ یہ کہہ کر میں نے اپنی انگلیوں کو پوری شدت سے کانوں میں ٹھونس لیا لیکن میں کیا کرتا ۔ اُسی وقت مجھے بارش کی آواز بھی سننی تھی۔ مجھے بچپن سے بارش میں نہانے کا شوق تھا اور اماں ہمیشہ مجھے روکا کرتی تھیں کہ مت نہاؤ، بیمار پڑ جاؤ گے لیکن میں اُن کی ایک نہ سنتا تھا۔ اور اوپر سے ایسے سہانے موسم میں اماں کے ہاتھ کے پکوڑے مجھے اُس وقت شدت سے تڑپا رہے تھے۔

ہمارا گھر شہر سے باہر نہر کے کنارے زمینوں کے اُس پار تھا۔ زمینوں کے بیچ بڑی سی حویلی۔ باورچی خانہ گھر کے ایک کونے میں تھا۔ بارش ابھی ہو ہی رہی ہوتی تھی کہ اماں پکوڑوں کا سامان اُٹھائے باورچی خانہ کے طرف چل پڑتی تھیں اور پھر گرما گرم پکوڑے ۔
آفتاب ابھی مت اُٹھاؤ ، ابھی گرم ہیں یہ۔ تمہارا منہ جل جائے گا لیکن میں نے جلدی سے ایک پکوڑا اُٹھا کر منہ میں ڈالا ۔۔۔۔ وہ سچ میں گرم تھا اور اچانک میں اپنے خیالوں سے باہر آ گیا ۔ اوو ہو میں تو یہاں کال کوٹھڑی میں قید ہوں۔ پچھلے تین مہینوں میں میں نے اپنی زندگی کے ہر انسان کو یاد کیا تھا۔ مجھے آزادی کے معانی پہلی بار سمجھ میں آ رہے تھے۔

تین ماہ پہلے جب شہر میں کرفیو لگا تھا تب میں نے حکومت کے خلاف لکھا تھا کیونکہ میں ایک آزاد خیال ادیب ہوں اور میرا کام ہی یہ تھا کہ لوگوں کو حق کا راستہ دکھاؤں اور پھر رات سوتے ہوئے کچھ لوگ مجھے زبردستی اُٹھا کر یہاں کال کوٹھڑی میں لے آئے۔ تب سے یہیں قید ہوں ۔میں بہت باتونی ہوا کرتا تھا۔ اکیلے میں مجھے اپنے آپ سے باتیں کرنے کی بھی عادت تھی۔ لیکن پچھلے تین ماہ میں میں اپنے ساتھ ہر وہ بات کر چکا ہوں جو میں کر سکتا تھا۔ اب تو میری باتیں بھی ختم ہو گئیں ہیں۔ زندگی میں پہلی بار مجھے تنہائی سے خوف آ رہا ہے۔ اور اوپر سے یہ روز بچے کے  رونے کی آوازیں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں خوف سے یہیں مر جاوں گا۔

روز کی طرح یہ رات بھی گزر گئی۔ بارش تھم چکی ہے۔ شاید اب سورج نکل آیا ہو یا چاند۔ مجھے کیا معلوم کہ ابھی دن ہے یا رات کیونکہ یہاں تو ہر وقت اندھیرا رہتا ہے ۔ نہ دن کا پتا نہ رات کا  ۔۔۔ نہ آسمان نظر آتا ہے نہ زمین۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ آنکھ لگ گئی۔ اماں کی گود میں لیٹا وہی بچپن کی لوری  سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک سے پھر وہی رونے کی آواز۔۔۔ ’’اماں تنگ آ چکا ہوں اِس آواز سے ‘‘ لیکن اماں کہیں نہیں تھیں۔ یہاں تو بس میں اکیلا تھا لیکن رونے کی آواز مسلسل آ رہی تھی۔ تبھی مجھے لگا کوٹھڑی کے باہر کوئی ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کون ہے باہر ۔ آواز آئی ’’آفتاب میاں میں ہوں۔ کریم چچا‘‘۔ کریم چچا دل کے بہت اچھے تھے۔ وہی یہاں کوٹھڑی میں کھانا دینے آتے تھے۔ بولے سکینہ کو لینے آیا ہوں۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’کون سکینہ ‘‘ ۔ بولے یہ بچے کی ماں۔۔۔ اِسے آج صبح سزائے موت دی جائے گئی ‘‘
میرے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ۔ ’’سزائے موت ؟ ‘‘ ۔۔۔ لیکن کیوں چچا ِ ایسا کیا کیا ہے اِس نے ۔
’’مجھے تو خود نہیں معلوم بیٹا ، ویسے میں یہ بچے کے رونے کی آواز سے بہت تنگ ہوں۔ تم پڑھے لکھے ہو۔ ذرا بچے کو بہلا دو گے۔ میں کوٹھڑی کا دروازہ کھول دیتا ہوں۔ تم سکینہ کی  کوٹھڑی کے باہر بیٹھ کر بچے کو ذرا بہلا دو ‘‘ چچا بولتے چلے گئے
’’جی چچا جیسے آپ کی مرضی ‘‘ اِس سے زیادہ میں کچھ نہیں بول سکا۔

میں اُٹھ کر سکینہ کی کوٹھڑی کے باہر آ گیا ۔ دل ڈوب رہا تھا۔ اُسے چند لمحوں بعد پھانسی دی جانی تھی۔ بچے کے رونے کی آواز مسلسل میرے  کانوں کو پھاڑ رہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے زمیں لرز رہی ہو۔
میں نے بچے سے ڈرتے ڈرتے کہا ’’ چپ ہو جاؤ ۔ تم نے چڑیا دیکھی ہے کبھی ؟ ‘‘
وہ بولا ’’ وہ کیا ہوتی ہے ‘‘
میں نے اپنے حواس پر قابو پاکر تھوڑی اور ہمت کر کے کہا ’’وہی جو درخت پر بیٹھتی ہے ‘‘
وہ جھٹ بولا ’’ درخت کیا ہوتا ہے ‘‘
اب میری ہمت جواب دے رہی تھی ۔ تبھی سکینہ بولی ’’صاحب اسے کیا پتہ درخت چڑیا، روشنی سورج۔۔۔ صاحب یہ اندھیر نگری میں پیدا ہوا ہے اور بچپن سے ہی اندھیروں میں رہ رہا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس چھوٹی سی چاردیواری کے باہر ایک جہان بھی بستا ہے۔‘‘

میں پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ میں نے سکینہ سے پوچھا ’’تمہارا جرم کیا ہے ‘‘
وہ بولی ’’ صاحب یہاں غریب کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ غریب ہے۔ میں چوہدری صاحب کی زمینوں پر کام کر رہی تھی تو چوہدری کے بیٹے نے میرے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ میرے ہاتھ میں درانتی تھی۔ میں نے اُسی  سے اُس کا قتل کر دیا ۔ پولیس مجھے پکڑ کر لے گئی۔ تب میں حاملہ تھی۔ بدلے میں شوہر بھی مارا گیا۔ چھ سال ہو گئے ہیں مجھے اِس کال کوٹھڑی میں۔ سزائے موت سنائی گئی ہے مجهے۔۔۔”
اور اس کے جرم کی نوعیت جان کر میں سن بیٹھا رہ گیا کہ کیا عزت بچا کر قید و بند اور پهر موت کمانا ہی ہمارا مقدر ٹھہرتا ہے؟
میرے لفظوں نے جڑنے سے انکار کیا اور میں اسے تسلی کے دو بول تک نہیں بول سکا کہ باہر سے جیلر صاحب کی پکار سنائی دی.
“کریم دین سکینہ کو لے آؤ. پھانسی کا وقت ہونے والا ہے”
اب سکینہ کو اپنے بچے سے لپٹا دیکھ کر میں سچ مچ پتهر ہو گیا.
کریم دین   کوٹهڑی کے تالے میں چابی گهما رہا تھا۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *