ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 179 )

گھٹیا افسانہ نمبر 7۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

کیا تم واقعی ہم جنس پرست ہو” میں ساجدہ سے ایسے ہی حیران کن سوال کی توقع کر رہا تھا. “میں بتا تو چکا ہوں” “پھر مجھ سے شادی کیوں کی؟” “میری طرف سے کبھی تمہیں محسوس ہوا کہ میں←  مزید پڑھیے

پیاس بجھتی کہاں ہے شبنم سے۔۔۔۔۔نورباف

گھاس کی پتیوں پہ شبنم ہے پیاس بجھتی نہیں ہے شبنم سے اوس کے آس میں جو رشتے ہیں نیند یا پیاس کیا کرے اُن کا دور میں پاس۔۔۔۔۔۔؟ کیسا دھوکہ ہے؟ آگہی کے نشیب میں پھیلی۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔خواب کی راس←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الربا کے خواب ناموں پر تبصرہ۔۔۔ ٹیبی شاہدہ

درویشوں کے ڈیرے سے گزرنے کا اتفاق ہوا پر میں آگے نہ بڑھ پائی اور وہیں رک گئی۔ اس مکالمے‘ اس دوستی میں کچھ ایسی خوشبو ہے کہ اس نے مجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔  زندگی کا سفر←  مزید پڑھیے

ستیہ پال آنند اور میں ۔۔۔۔ گلزار

چھٹی کے دن ستیہ پال آنند اور میں کوسموس جیبوں میں بھر کر اکثر چاند کے پیچھے والے آسمان میں جا کر کھیلا کرتے ہیں۔ سات ستارے اوپر کے ۔۔ دو نیچے رکھ کر نو پتھّر کا پِٹھّو کھیلنا ‘کِرمِچ’←  مزید پڑھیے

وکھو وکھ ۔۔۔۔۔۔اشفاق احمد/افسانہ

میں اس کو پورے انتالیس سال، گیارہ مہینے، آٹھ دن اور پانچ گھنٹے بعد ملا۔ اس کی شکل و صورت بالکل ویسی تھی جیسی پچھلی سالگرہ پر 133 تب اس نے اٹھارہ موم بتیاں بجھا کر اپنا چہرہ سرخ اورماتھا←  مزید پڑھیے

گستاخِ رسول کون۔۔۔۔۔۔۔ سانول عباسی

قلم کو لے کے ہاتھوں میں یہ پہروں سوچتا ہوں میں کہ کیا لکھوں شرم سے ڈوب جاتا ہوں کبھی سوچا ہے نادانو محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان تو دیکھو خدا کے وہ مقَرّب ہیں فرشتے سر جھکاتے←  مزید پڑھیے

اَنگارے۔۔۔۔علی آریان/افسانہ

مہتاب مناظر کی شادی پسند سے ہوئی تھی، اِس لیے اَکثر اُس کی اپنی بیوی سدرہ سے نوک جھونک چلتی رہتی تھی،   گو بیوی  اُس کی طرح زیادہ پڑھی لکھی تو نہ تھی مگر حسِ مزاح اُس میں کافی←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 6۔۔۔۔۔ فاروق بلوچ

لالہ اکرام کے پاس محلے کے ہر گھر کی کہانیاں ہوتی ہیں. ہم بھی رات کو اُس کی دوکان پہ چڑھ آتے. کل ہی بتا رہا تھا کہ سامنے والے ملک صاحب کی بیوی کا یار گھر سے نکلتا ہے←  مزید پڑھیے

گمان۔۔۔۔۔۔۔کے ایم خالد/افسانہ

وہ دونوں ابھی ایک کھوکھے سے چائے پی کر نکلے تھے۔رات کے دو بجے کا عمل تھا ۔نیند ان پر غلبہ پانے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ نیند سے چھٹکارے کے لئے دو گھنٹوں میں تقریبا ًچار بار←  مزید پڑھیے

مجھ سا مبہوت عاشق۔۔۔۔۔۔۔ رفیق سندیلوی/نظم

کیسی مخلوق تھی آگ میں اُس کا گھر تھا الاؤ کی حدّت میں موّاج لہروں کو اپنے بدن کی ملاحت میں محسوس کرتی تھی لیکن وہ اندر سے اپنے ہی پانی سے ڈرتی تھی کتنے ہی عشاق اپنی جوانی میں←  مزید پڑھیے

ہوم لیس ۔۔۔۔۔۔۔فیصل فارانی/افسانہ

دو سڑکیں ایک دوسرے کو کاٹ کر جس مقام پر جمع کا نشان بناتے ہوئے چاروں جانب نکل رہی ہیں، وہیں ایک کونے میں واقع کا فی شاپ میں وہ ایک کھڑکی کے ساتھ بیٹھا ہے، اور اُس کے سامنے←  مزید پڑھیے

تہی دست۔۔۔صبا ممتاز بانو

”زندگی تنہا رہنے سے نہیں، کسی کے ساتھ سے حسین ہوتی ہے۔“ یہ مشہور فقرہ اس نے پہلی دفعہ نہیں سنا تھا، یہ تو کئی لوگ اسے کہہ چکے تھے کہ زندگی کا مزہ اکیلے پن میں نہیں، مگر جب←  مزید پڑھیے

من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ۔۔طارق عالم ابڑو/مترجم سدرۃالمنتہٰی

ٹائم اسکوائر پر رات کے ٹھیک بارہ بجے کا وقت،بئیر بلو لیبل،جانی واکر،ٹکیلا،شیمپیئن،شی واز ریگل شراب اور فرانسیسی پرفیومز کی خوشبوء میں بسا اور پوری طرح رچا ہوا مہکے ہوئے ہیپی نیو ائیر کے ہزاروں نعرے، مئن ہیٹن کی ہائی←  مزید پڑھیے

جس نے آواز اٹھائی ہے ،اٹھایا گیا ہے۔۔۔۔مظہر حسین سید

اس قدر جبر کا ماحول بنایا گیا ہے جس نے آواز اُٹھائی ہے اُٹھایا گیا ہے میّتِ خواب پہ رونے کی اجازت بھی نہیں رونے والوں کو زبردستی ہنسایا گیا ہے سانس باقی ہے ابھی جنگ بھی جاری ہے ابھی←  مزید پڑھیے

پنچھی۔۔۔صبا ممتاز بانو

رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جارہی←  مزید پڑھیے

معاشرے کے لیے امن کیوں ضروری ہے؟ ۔۔۔ مہر ساجد شاہ

امن کے لئے آج ہمیں انفرادی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انفرادی سطح پر عدم برداشت کے خاتمے سے ہی ہم معاشرہ میں سماجی، سیاسی اور مذہبی اختلاف کے باوجود تشدد کو ختم کر سکتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

رحم مادر میں خود کلامی ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں پریشان ہوں۔ میں سہما ہوا ہوں۔ نو ماہ کی اس قلیل مقید دنیا کے بعد چند دہائیوں کی ایک آزاد دنیا۔ اور پھر نوید ہے ایک اور عالم کی۔ جس عالم کے بارے میں سعیدیں ہیں، وعیدیں ہیں۔ کیا میں اس جہاں در جہاں سفر میں کامیاب ہو پاؤں گا؟ ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،نیا روز۔وزیر آغا سیریز۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند/قسط 48

مکتوب بتاریخ ۳ ؍مارچ ۲۰۰۴ اقتباس (ایک) روایت کے انجذاب اور انعکاس کے بارے میں جو بات آپ نے تحریر کی ہے ، میں اس سے متفق ہوں۔ آپ کتنے ہی پڑھ لکھ کیوں نہ جائیں، باہر کے ملکوں میں←  مزید پڑھیے

خوف۔۔۔۔اجمل اعجاز/افسانہ

انتہائی نگہداشت کے کمرے میں موجود روشنی کے سبب اسے آنکھیں کھولنے میں دشواری محسوس ہورہی تھی، تاہم اس نے اپنی نیم وا آنکھوں کو آہستہ سے کھولا، بالکل اس طرح جیسے کوئی نومولود دنیا کو پہلی بار دیکھتا ہے۔←  مزید پڑھیے

جانور۔۔۔۔روبینہ نازلی

(اس شخص کا قصہ جس کی شکل مسخ ہو گئی تھی ) بس مناسب رفتار سے کشادہ سڑک پر دوڑی جارہی تھی ۔! کوئی مسافر سو رہا تھا تو کوئی اونگھ رہا تھا ۔! اچانک بس بری طرح لہرائی ۔←  مزید پڑھیے