رحم مادر میں خود کلامی ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں سہما ہوا ہوں۔ میں پریشان ہوں۔ شاید مکمل انسان بن جانے پر میری فطری کیفیت یہی ہو؟ میں نہیں جانتا کہ آیا میں روح پا چکا ہوں یا اب تک مکمل روح پھونکے جانے کا منتظر ہوں، بلکہ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ میں روح پھونکے جانے کا منتظر ہوں یا روح پھونکے جانے کی منتظر ہوں۔ ابھی تو فقط دل نے ہی وجود پایا ہے۔ جنس کا تعین ابھی باقی ہے۔ کیا یہ قدرت کی جانب سے اشارہ ہے کہ جنس سے بالاتر مکمل انسان بننے پر، رحم مادر سے دنیا میں آنے کے بعد دل و دماغ میں سے میں نے دل ہی کو مقدم رکھنا ہے؟ 

میں سہما ہوا ہوں۔ میں پریشان ہوں۔ ہر جانب اندھیرا ہے، حرارت ہے اور نمی ہے۔ یہی سچ ہی۔ یہی حقیقت ہے۔ لیکن ایک حقیقت اور بھی ہے۔ یہ سب تو ایک کوشش ہے۔ ایک کاوش ہے۔ لیکن ایک کوشش، ایک کاوش اور بھی تو ہے۔ جانے کتنی مشکلات ہیں جو ابھی جھیلنی ہیں۔ جانے کتنے مسائل ہیں جو ابھی حل ہونے ہیں۔ سرخ، حرارت سے بھرپور، گرم مائع، یہ لہو، جو اپنی قدرت میں پانی، فولاد اور آکسیجن لیے یہاں سے وہاں دوڑ رہا ہے، میری تکمیل میں جتا پڑا ہے، جانے یہ میرے روم روم پہنچ کر مجھے میرے مکمل انجام تک پہنچا پائے گا؟ جانے یہ میری تکمیل کر پائے گا؟ جانے یہ میری ماں کے مکمل جسم میں ایک نیا جسم تخلیق کر پائے گا؟

میں پریشان ہوں۔ میں سہما ہوا ہوں۔ کیا مکمل انسانی شکل اختیار کرنے کے بعد میں ایک مکمل انسان بھی بن پاؤں گا؟ کیا باہر دنیا میں، جس کا حصہ میں بننے کو ہوں، تمام انسان انسان ہی ہیں یا فقط دوسرے جانوروں سے نسبتاً ذہین ایک اور حیوان؟ وہ لوگ جو مکمل جسم، دل اور دماغ والا جسم رکھتے ہیں، جو شعور و لاشعور رکھتے ہیں، ان تمام خوبیوں کو دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ کیا وہ تمام معاشرتی حیوان انسان کہلانے کے لائق ہیں؟

میں پریشان ہوں۔ میں سہما ہوا ہوں۔ میری تشکیل میری ماں اور میرے باپ کی اصل سے ہوئی۔ میں یقیناً اپنی ماں اور اپنے باپ کی طبیعت کا مرکب بننے کو ہوں۔ لیکن میرا ماحول میری شخصیت پر کس قدر اثر ڈالے گا؟ میں طبیعت اور تربیت میں سے کس کا اثر لے پاؤں گا؟ کیا میری طبیعت میرا میلان میری تعریف کرے گا یا میں اپنی تربیت سے پہچانا جاؤں گا؟ میری طبیعت و تربیت دونوں میرے اختیار سے باہر ہیں۔ پھر میں کیونکر اپنے اعمال کا جوابدہ رہ پاؤں گا؟ 

میں پریشان ہوں۔ میں سہما ہوا ہوں۔ نو ماہ کی اس قلیل مقید دنیا کے بعد چند دہائیوں کی ایک آزاد دنیا۔ اور پھر نوید ہے ایک اور عالم کی۔ جس عالم کے بارے میں سعیدیں ہیں، وعیدیں ہیں۔ کیا میں اس جہاں در جہاں سفر میں کامیاب ہو پاؤں گا؟ معلوم نہیں کیا کر پاؤں گا کیا کرنے سے محروم رہ جاؤں گا۔ کیا عالم لامتناہی میں سزا و جزا لازم ہے؟ کیا اگلی دنیا میں عمل اس سے اگلی دنیا میں ردعمل کا باعث ہوگا؟ اور اگر ایسا ہوگا تو نصیب کا کیا ہوگا؟ کیا نصیب کی حقیقت طے ہے؟ اور اگر وہی ہونا ہے جو لکھ دیا گیا ہے تو پھر اختیار، استحقاق اور آزادی کیسی؟ کیا پہلے سے لکھے ہوئے نصیب کے بعد بھی میں خود کو آزاد کہہ پاؤں گا؟ کیا میں اپنے رب کا جوابدہ رہ پاؤں گا؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *