• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • کتھا چار جنموں کی،نیا روز۔وزیر آغا سیریز۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند/قسط 48

کتھا چار جنموں کی،نیا روز۔وزیر آغا سیریز۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند/قسط 48

مکتوب بتاریخ ۳ ؍مارچ ۲۰۰۴
اقتباس (ایک)
روایت کے انجذاب اور انعکاس کے بارے میں جو بات آپ نے تحریر کی ہے ، میں اس سے متفق ہوں۔ آپ کتنے ہی پڑھ لکھ کیوں نہ جائیں، باہر کے ملکوں میں رہیں اور وہاں کے ادب سے مستفید ہوں، وہاں کے ادیبوں سے برابری کی سطح پر بات چیت کریں لیکن جو بات آپ کی گھُٹی میں پڑی ہوئی ہے، وہ قائم و دائم ہے۔ مَیں تو اس سے بریّ الذمہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ آپ بھی نہیں ہو سکتے ہوں گے ۔ یہ درست ہے کہ آپ کے ہاں اس باغیانہ عزم کی ذاتی اور انفرادی صلاحیت مجھ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آپ تو کوئی موقع جانے ہی نہیں دیتے جہاں روایت سے اختلاف کی گنجائش ہو۔ بقول ایک دوست کے مَیں تو ڈبو ہوں۔ جہاں ذرا سا ڈر گیا، رضائی لے کر لیٹ گیا۔

(اقتباس دو ) مجھ میں شاید اس بات کا عنصر آپ سے کم ہے کہ جہاں دوسرے شاعر لا شکل الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہاں آپ ان کی جگہ تصاویر سے کام لیتے ہیں۔ میں بھی ایسا کرتا ہوں لیکن کم کم۔اپنی ایک نظم میں سردیوں کی ایک صبح کا نقشہ میں نے گلی میں مصروفِ کار ایک جھاڑو سے کھینچا تھا جو کوڑا بھی اکٹھا کرتا ہے اور پھر بیٹھنے والے کے لیے ایک موڑھا رکھ کر اس کے سامنے حقہ بھی تازہ کر دیتا ہے۔ بہت سے احباب کو یہ نظم سمجھ میں نہیں آئی۔

آپ نے تحریر کیا ہے کہ آپ الفاظ کوسوچتے نہیں ، دیکھتے ہیں۔۔۔ دیکھنا شاعر کے لیے شاید اس کی تیسری آنکھ کا عمل ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ ہر کسی کے پاس ہی کیا، بڑے بڑے شاعروں کے پاس بھی نہیں ہوتی۔ ؔآپ نے غالب کے ایک شعر کی مثال دی ہے۔

؎ میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا

بلبلیں سن کر مرے نالے غزلخواں ہو گئیں

آپ لکھتے ہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ غالب نے اس منظر نامےکو صرف سوچا ہے، دیکھا نہیں ہے۔ چمن ، دبستاں، بلبلیں، تو اسمائے موسوم ہیں اور ہر کسی کو ذہن میں نظر آ سکتے ہیں، لیکن نالہ استعارہ ہے یا علامت ہے۔ غالب نے ان کو صرف سوچا ہے، دیکھا نہیں ہے، یعنی اس منظر نامہ کا تصور بھی نہیں کیا کہ

(۱) غالب اونچی آواز میں روتے روتے چمن میں جا رہے ہیں
(۲) وہاں غالب کو اس حالت میں دیکھ کر گویا رونے اور گانے کا ایک دبستاں (اسکول، مدرسہ، مکتب) ہی کھل گیا ہو
(۳) کہ غالب کی دیکھا دیکھی بلبلیں بھی غزلخواں ہو گئیں۔ یعنی گریہ زاری میں شامل ہو گئیں۔

آپ پوچھتے ہیں : کیا یہ منظر نامہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس شعر میں اور اس جیسے دیگر اشعار میں شاعر کے ہاں سوچ ہی سوچ ہے ، یعنی خیال کو ایک تصویر کی صورت میں دیکھنے کا فن نہیں ہے۔ یہ شعر لکھتے ہوئے تصویر کی ان کے ذہن میں بجنسہ ایسے آئی جیسے میں نے تحریرکیا ہے ۔( یہ تین جزو اوریہ الفاظ آپ کے ہی ہیں)

اقتباس (تین) میں نے بہت پہلے آپ کے بارے میں لکھا تھا کہ آپ abstract یعنی لا صورت الفاظ کے معانی کو تصویریت سے اجاگر کرتے ہیں۔ یہ وہ تصویریں ہیں جو آپ کے ذہن میں ہی کیا، آپ کے قارئین کے لاشعور میں نسلوں سے موجود ہیں ۔ اس طرح آپ کی نظموں میں تصویریت کے میڈیم سے لا شکل کو6شکل میں بدلنے کا فن جاری و ساری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اظہاریہ کی شکل و صورت بھی آپ کے ہاں مصور کے موئے قلم سے بنائی ہوئی لگتی ہیں، قلم سے لکھی ہوئی نہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں، تو ایک بات لکھ ہی دوں۔

جو نظمیں آپ نے اپنے آبائی گاؤں  سے ہجرت کے تناظر میں لکھی تھیں، وہ بیسویں صدی کی ساٹھ یا ستر کی دہائی میں تھیں۔ تب تک فلسفیانہ رنگ و روغن سے نظموں کی پچی کاری آپ کے ہاں نہ ہونے کے برابر تھی۔اس کے بعد، یکا یک تو نہیں ، کبھی تیزی سے، اورکبھی رک رک کر، آپ کی شاعری میں یہ تصویری پہلو کم ہوتا چلا گیا اور فلسفیانہ گیان دھیان بڑھتا چلا گیا۔یا یوں کہیں کہ لفظوں میں160تصویر سازی کا عنصر کم تو ہوا، لیکن بالکل عنقا نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر آپ کی بدھ مذہب کے بارے میں تحریر کردہ نظموں میں مہاتما بدھ جب بھی ویاکھیان دیتےہیں یا آپ کے ہمنام بھکشو آنندؔ کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں، وہ تصویر سازی کرتے ہیں۔

آپ ہجرت پر لکھی ہوئی اپنی چھ سات نظموں کو ایک بار پھر پڑھیں تو آپ پر یہ سچائی عیاں ہو گی کہ تیس چالیس برس کی عمر میں لا شکل کو شکل میں بدلنے کا فن آپ کی نظموں کی نہج بھی تھا اور طور و طریق بھی ۔اب یہ آہستہ آہستہ ڈھیلا ہوتا جا رہا ہے۔ اسے گم مت ہونے دیں، رن آن لائنز کے علاوہ یہی تو دین ہے آپ کی اردو نظم کو !

دراصل نظم کی صنف کے ساتھ بھی وہی حادثہ ہوا ہے جو غزل کے ساتھ ہوا تھا، یعنی لگے بندھے تیس چالیس استعارے، کچھ غزل کی فرسودہ روایت سے مستعار لیے ہوئے اور کچھ فیض اسکول (فیض اور فراز) سے نقل کیے ہوئے ہمارے ہاتھ لگے اور ہم انہی پر قادر و شاکر بن کر بیٹھ رہے۔ لا شکل کو ــشکل میں بدلنے کے لیے پہلے شکل کو اپنے ذہن میں واضح کرنا پڑتا ہے۔ اپنا  نک سک وہیں درست کرنے کے بعد وہ پری کاغذ پر اترتی ہے

مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی ایک پنجابی نظم یہاں لکھوں جو آپ کی نظر سے نہیں گذری ہو گی۔ اس میں ہوا کے ایک ـوا ورُولےـ (گرد و غبار اُڑاتا ہوا ، گول گھومتا ہوا جھکّڑ)کی تصویر الفاظ میں اتاری گئی ہے۔

وا ورُولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وا دا اک کھڈکار ورُولا
پانڑی اُتے ناچ وکھاوندا
امبے دے اک بگ وچالے جا وڑیا

باگے دے وِچ
امباں ہیٹھیں
مخمل ورگی گھا وِچھّی سی
گھاہ نوں وچھائونا جان کے اوس نے
نیندر دی اک چّدر تانی
خواباں دی بیڑے وِچ بیٹھا
چھّلاں تے اسوار ہویا
فیر کِنے پتّن پار ہویا
فیر تکدیاں تکدیاں
چمکاں دی کھڑکار ہوئی
اوہ اکھّاں ملدا اُٹھ بیٹھا
فیر چانن دی لِشکار ہوئی
اوس اپنا آپ وِسار لیا

فیر کجھ نہ پُچھّو، کیہہ ہویا

اوہ گھُُمر پائوندا
جنگل بیلے
بڈھاں نالے
راٹاں روڑے
رسماںریتاں، تانے بانے
سب نوں گھُمّر گھیر بنائوندا
کن پڑواندا
خود نوں لیراں لیراں کردا
خورے کس ٹِبّے جا چڑھیا

ویکھو، لوکو
اج وی اس ٹِبّے دے اُتّے
دیوا گھُمر پائوندا اے
کدے بلدا ایے، کدے بُجھدا اے
کدے بُلھاں جندرے لائوندا اے
کدے پھڑ پھڑ کردا جاندا اے

یہ دیا جو آج بھی اس ٹیلے پر ہمیشہ جلتا رہتا ہے، اس 146وا ورُولے145 کی یاد میں ہے، وہ آوارہ جھکڑ جو ایک عاشق تھا اور جس نے کان پھڑوا لیےتھے۔ (معاف کریں، آنند صاحب، آپ کے لیے یہ لکھنا ضروری نہیں تھا!)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *