گھٹیا افسانہ نمبر 6۔۔۔۔۔ فاروق بلوچ

لالہ اکرام کے پاس محلے کے ہر گھر کی کہانیاں ہوتی ہیں. ہم بھی رات کو اُس کی دوکان پہ چڑھ آتے. کل ہی بتا رہا تھا کہ سامنے والے ملک صاحب کی بیوی کا یار گھر سے نکلتا ہے تو بڑی بیٹی کا یار داخل ہو جاتا ہے. ہم بھی چسکے لے لے کے سنتے رہتے ہیں. مرغیوں والےگھر کی کہانیاں تو روز سننے کو ملتی ہیں. لالہ سپیشل اُن کی کہانیاں سناتا ہے. اُن کے جسمانی خدوخال سے لیکر اُن کی ٹانگوں کی فربہ اندازی کا بیان بھی لالہ پہ آکر ختم ہو جاتا ہے. کل ہی بتا رہا تھا کہ اِن لوگوں نے کچھ بھی منگوانا ہو، تیل سے لیکر تیل کے کنویں تک سبھی کچھ لالہ سے ہی منگواتے ہیں، لیکن مجال ہے جو کبھی خود پیسے ادا کئے ہوں، کوئی نہ کوئی آکر اُن کی مطلوبہ شے کی قیمت دے جاتا ہے، میں بھی وہ چیز اِن کو منگوا دیتا ہوں، ہمیں کیا بھئی، ہمیں ہماری مرضی کے پیسے مل رہے ہیں اور وہ بھی ایڈوانس…!
یہی گفتگو چل ہی رہی ہے کہ قاسم نے لالہ کی دکان کے آگے موٹرسائیکل کھڑی کی، روز سے آواز دی کہ لالہ کب تک دکان کھلی رہے گی، لالہ نے رات ایک بجے تک کی گارنٹی دی کہ موٹر-سائیکل کہیں نہیں جاتا بعد میں وہ دکان بند کرکے گھر چلا جائےگا. قاسم   پونے ایک تک پہنچنے کا عندیہ دے کر گلی کے اندھیرے میں گم ہو رہا ہے. لالہ نے بتانا شروع کر دیا کہ مرغیوں والےگھر کی چھت پہ اب بھی کوئی نہ کوئی لڑکا چڑھا ہو گا، ہو سکتا ہے یہ قاسم ہی اُن کے گھر نہ گیا ہو، لیکن ہمیں کیا ہمارا تو پرانا گاہک ہے، ہفتے میں ایک دو بار اُس کی موٹرسائیکل کا دھیان رکھنا پڑتا ہے، آج تم لوگ بیٹھے ہو ورنہ یہ تو موٹرسائیکل میرے ذمے لگا کر کنڈوم بھی یہیں سے خریدتا ہے، میں بھی پچاس والی ڈبی ڈیڑھ سو میں دیتا ہوں. لالہ معنی خیز انداز میں مسکرا رہا ہے.

قاسم میرا ماموں زاد ہے. میرا دماغ خراب ہو رہا ہے. میں   قاسم کے چھوٹے بھائی عاصم سے میسج پہ قاسم کا نمبر لیکر قاسم کو میسج کر رہا ہوں. مجھے بھی مرغیوں والے گھر کی بڑی لڑکی بہت پسند ہے، موٹی موٹی ٹانگیں میرے دل پہ چھریاں چلاتی ہیں. قاسم   کوئی جواب نہیں دے رہا اور میں اُس کو دل میں گالیاں دے رہا ہوں. کزن اتنا بھی نہیں کر سکتا کیا؟ اُس کی کونسا سگی بہن ہے. ایسا نہیں کرنا چاہیے قاسم کو، اصل میں یہ لوگ ہوتے ہی بیغیرت ہیں، بھئی تیرا کیا لگنا ہے، سوچنے کی بات ہے، میں کونسا تجھ سے چھین رہا ہوں، تیرے سامنے ہی ملوں گا، میں نے کون سا گھنٹے لگانے ہیں. مگر میرے کسی میسج کا جواب نہیں. میں بھی تسلی دیکر دل کو چپ کروا رہا ہوں. خیر بارہ بجے کے قریب قاسم کا میسج آیا ہے کہ کدھر ہو. میں نے بتایا کہ لالہ کی دکان پہ بیٹھا ہوں. وہ کہنے لگا لالہ کے گھر کے دروازے پہ پہنچ جلدی!!!!
میں نیند اور لیٹرین کا بہانہ کرکے لالہ کی دوکان سے نکل کر لالہ کے گھر کی طرف روانہ ہو چکا ہوں. دروازے کے قریب پہنچ کر قاسم مسڈ کال کے جواب میں دروازے کی اوٹ سے مجھے اندر داخلے کا اشارہ کر رہا ہے، میں حیرانگی سے لالہ کے گھر داخل ہو چکا ہوں. لالہ کی بیوی برآمدے کے ساتھ چڑھتی سیڑھیوں کی ابتدا میں کھڑی ہوئی ہے. قاسم نے مجھے اُس کی طرف اشارہ کرکے کہہ رہا کہ اوپر جاؤ. میں حیران پریشان اوپر جا رہا ہوں، لالہ کی بیوی اپنی کولہے مٹکاتی میرے سامنے اوپر کو چڑھ رہی ہے. قاسم جا چکا ہے. میں پونے ایک بجے اٹھنے لگا تو لالہ کی بیوی روکنا چاہ رہی ہے. ابھی مت جاؤ، میں اکرام کو جباری والی مٹن کڑاھی کا کہہ دیتی ہوں، وہ مزید گھنٹہ لیٹ ہو جائے گا. تم بےفکر رہو. میں ابھی تک حیران پریشان لیکن بےپناہ خوش ہوں. آنٹی نے ہر ہفتے ایک بار ملنے کا وعدہ کیا ہے.

جرمنی سے پی ایچ ڈی کرکے لوٹنے پہ سندس جبیں صاحبہ کی شان میں خوش آمدیدی ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے. ہم کوئی اکیس لوگ اول نشستوں پہ براجمان ہیں. مجھے مسلم دنیا کی قدآور شخصیات کے موضوع پر پہلا مقالہ پڑھنا ہے. جب کہ ڈاکٹر علیم الدین نے متعلقہ سیشن کا دوسرا اور آخری مقالہ پیش کرنا ہے. میرا مقالہ مقررہ وقت سے بیس منٹ قبل شروع کروا دیا گیا ہے جس کو میں نے عمدہ پیش کیا ہے. ڈاکٹر علیم نے مائیک سنبھالنے اور چند روایتی جملوں کے بعد مجھے دیکھ کر یہ کیا کہہ دیا ہے:
“آپ ابوبکر محمد الزکریا الرازی کا نام لیکر اُس کو مسلم دنیا کا عظیم طبیب کہہ رہے تھے. وہ تو مسلمان نہ تھے. بلاشبہ الرازی کو تاریخ میں عظیم ترین طبیب کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ بیشک انہوں نے تاریخ میں پہلی بار خسرہ اور چیچک کے فرق کو واضح کیا، عملِ کشید کو بہتر بنایا اور شاید تاریخ میں پہلی بار انہوں نے میڈیکل ایتھکس کا تصور متعارف کرایا۔ دنیا کی تاریخ میں جہاں بہت سے طبیبوں کا نام آتا ہے وہاں ابوبکر محمد بن زکریا رازی کا نام علم طب کے امام کی حیثیت سے لیا جاتاہے۔ ان کی سب سے مشہور کتاب حاوی اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ حاوی دراصل ایک عظیم طبی انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں انہوں نے تمام طبی سائنس کو جو متقدمین کی کوششوں سے صدیوں میں مرتب ہوئی، ایک جگہ جمع کردیا اور پھر اپنی ذاتی تحقیقات سے اس کی تکمیل کی۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ فن طب کا یہ امام مسلمان نہیں تھا بلکہ وہ کسی بھی مذہب کو نہیں مانتا تھا. وہ نہایت آزاد خیال سائنس دان تھا. وحی کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تصور کے خلاف باتیں کرتا تھا۔ جو مذہب کے سماجی استعمال کو بنی نوع انسان کے لئے ضرر رساں خیال کرتا ہو اُس کو مسلمان کہنا اسلام اور الرازی دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ الرازی کو توہین مذہب کے الزام میں سزا بھی دی گئی. اس کی کم و بیش سبھی کتابوں کو جلا دیا گیا۔ رازی جب اسلاف کی کسی بھی بات کو ماننے کے سخت خلاف تھا بلکہ وہ تحقیق کی گفتگو کرتا تھا۔ وہ منقولات کی حاکمیت کو نہیں تسلیم کرتا تھا بلکہ عقل و تجربے کو علم کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے. کہتا تھا کہ انسان کو لازم ہے کہ اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھے اور منقولات کے بجائے حقیقی واقعات پر بھروسہ کرے. الرازی نے یہ بھی کہا کہ ہم کو فلسفے اور مذہب دونوں پر تنقید کرنے کا پورا حق ہے۔ وہ معجزوں کا منکر تھا کیونکہ اُس کے مطابق معجزے قانون قدرت کی نفی کرتے ہیں اور خلاف عقل ہیں ۔ وہ مذاہب کی صداقت کا بھی چنداں قائل نہیں تھا، اُس کے مطابق مذاہب عموما حقیقتوں کو چھپاتے ہیں اور لوگوں میں نفرت اور عداوت پیدا کرتے ہیں. عدالت نے حکم جاری کیا کہ الرازی کی کتاب مصنف کے سر پر اُس وقت تک زور زور سے ماری جائے جب تک کہ کتاب یا سر دونوں میں سے کوئی ایک پھٹ نہ جائے۔ مگر بوڑھا طبیب یہ سزا برداشت کر گیا لیکن کچھ مورخوں کا خیال ہے کہ عمر کے آخری ایام میں اس کی بینائی چلے جانے کی وجہ اسی واقعے سے لگنے والی سر اور دماغ کی چوٹیں تھیں. لہذا اُس کو عظیم طبیب کہیں مگر مسلمانوں میں شمار نہ ہی کریں”.

می‍ں پروفیسر کے منہ پہ اتنے تھپڑ مار چکا ہوں کہ میرا ہاتھ دکھ رہا ہے. میں نے تھوڑا آرام کرنے کے لیے بولنا شروع کر دیا ہے
“سر مکمل اور سچی بات بتائیں”.
پروفیسر پشت پہ بندھے ہوئے ہاتھوں کی وجہ سے ہونٹوں سے بہتے خون کو صاف بھی نہیں کر سکتا. بولا کہ
“وہ میری طالبہ ہے میں اُس کو کیسے بلیک میل کر سکتا ہوں، بلکہ وہ خود آکر میرے ساتھ رات گزارنے کی بات کرتی رہی ہے”.
میں نے تھپیڑوں کی بارش کر دی ہے. سجاد اور نصیر مسلسل خاموش بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں.
“سر میں آخری بار پوچھ رہا ہوں، کہانی تفصیل سے بتا دیں”
“کوئی دوسرا سچ ہے ہی نہیں”
” اچھا زینب کو آنے دیں وہ بتاتی ہے”
“اُس کے سامنے مجھے ایسے تو مت بٹھاؤ”
میں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا. پروفیسر مسلسل بھونک رہا ہے. میں چائے کے ساتھ ساتھ جاوید کے میسج کو نپٹا رہا ہوں. وہ زینب کو لیے بس پہنچنے والا ہے. زینب نے تو آتے ہی وہ سارے میسج کالز آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ سامنے رکھ دیا. میں نے زینب کو اختیار کیا دیا تو وہ اٹھ کر پروفیسر کے خون آلود چہرے پہ تھوک کر اُسے معاف کرنا چاہتی ہے.

میں نے بابا جان کو ساری رپورٹ سُنا دی کہ کیسے غلام حسین کی بہن زینب کے معاملے کو نپٹایا ہے. بابا جان نے اِس لڑکی کے خاندان کا تعارف کروایا کیونکہ میں تو اِس لڑکی سے پہلی بار مل رہا تھا حالانکہ ہم ایک یونیورسٹی میں تین سال سے پڑھ رہے ہیں. اگلی صبح آڈیٹوریم کی آخری نشست پہ بیٹھا کانفرنس کے آغاز کا انتظار کر رہا ہوں کیونکہ ہمارے سیکشن کی حاضری یہیں آڈیٹوریم میں لگنی تھی. ہائیں! زینب اِس کانفرنس کی سٹیج سیکرٹری ہے. مزید حیرانی یہ کہ پروفیسر سفیان کو زینب نے مہمانان کی نشستوں پہ دعوت دی ہے جو سوجے ہوئے منہ سے سٹیج پہ براجمان ہے. گفتگو ہو رہی ہے. تقاریر اور مقالے پیش کیے جا رہے ہیں. دو ڈاکومنٹریاں دکھائی جا چکی ہیں. میں بار بار پروفیسر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں. میرے تھپیڑوں نے پروفیسر کے منہ کا حشر نشر کر دیا ہے. زینب اب آخری پینلسٹ کو دعوت دے رہی ہے.
“حالانکہ پروفیسر کا چہرہ الرجی کی وجہ سے خاصا سوجا ہوا ہے اور وہ کافی تکلیف میں بھی ہیں مگر وہ ہماری دعوت پہ بطور ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور شفیق استاد ہمارے درمیان موجود ہیں،  بلاتوقف پروفیسر ڈاکٹر سفیان صاحب کو سٹیج پہ آ کر موضوع پہ اظہار خیال کریں، جناب پروفیسر ڈاکٹر سفیان صاحب”.
میں. حیرانی سے زینب کے بےتاثر چہرے کو اُس شخص کے لیے ایسے الفاظ کہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جس نے اُس سے پہلی بار جنسی عمل جبراً کیا، جو گذشتہ سات ماہ سے اُس کا جنسی استحصال کر رہا ہے، جو اُس کا دو مرتبہ اسقاط حمل کروا چکا ہے اور اب ایک دوسرے پروفیسر کے بستر کی زینت بننے کو کہہ رہا ہے. اُدھر پروفیسر اپنی تقریر کا آغاز کر چکا ہے. میں زینب کی ذہنی اذیت کو سمجھنے سے قاصر ہوں. یہ کیسے ہوتا ہے؟

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *