گستاخِ رسول کون۔۔۔۔۔۔۔ سانول عباسی

قلم کو لے کے ہاتھوں میں
یہ پہروں سوچتا ہوں میں
کہ کیا لکھوں
شرم سے ڈوب جاتا ہوں
کبھی سوچا ہے نادانو
محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان تو دیکھو
خدا کے وہ مقَرّب ہیں
فرشتے سر جھکاتے ہیں
مگر روتے تھے راتوں کو
وہ سجدوں میں خدا کے سامنے کیوں گڑگڑاتے تھے!

کبھی سوچا ہے نادانو!
وہ جس نے اپنے سجدوں میں
خدا سے کچھ نہیں مانگا
سِوا امّت کی بخشش کے
ہماری بہتری چاہی
مگر ہم بےوقوفوں کی طرح اپنے ہی محسن کے
بھلا بیٹھے ہیں احساں کو
انہی کا دل دکھاتے ہیں
یہ کیسے امَّتِی ہیں ہم
انہیں بدنام کرتے ہیں(نعوذبااللہ)

بہت سے لوگ ہیں ایسے
محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم)کے نام پر
اس سروَرِکونین کے اس رحمَتُ الِّلعالمیں کے نام پر کھلواڑ کرتے ہیں
یہ اکثر وہ جتاتے ہیں
وہ ناموسِ رسالت کے ہیں شیدائی
مگر کچھ غور سے دیکھیں
تو دہشت ان کے چہروں سے ٹپکتی ہے
سجا کر اپنے چہروں پر وہ مکروہ مسکراہٹ جب
خدا کا نام لیتے ہیں
تو لگتا ہے وہ سب کو مار ڈالیں گے
کسی کی جان لینے میں کسی کو لوٹ لینے میں
کوئی تامل نہیں کرتے
عجب وحشت سی ہوتی ہے

یکا یک آج پھر اک شور سا اٹھا
فضا میں سواگواری ہر طرف اک ہو کا عالم تھا
صدا آئی
نکل آؤ کمیں گاہوں سے اپنی اب
ہوس کو گر مٹانا ہے
یہی موقع غنیمت ہے
تمہیں اب کون روکے گا
یہ موقع پھر نہیں ملنا
اٹھا لو ہاتھ میں ڈنڈے
ملے جو اسلحہ لے لو
چلو پھر آج ناموسِ رسالت پر
دکانیں لوٹ لیتے ہیں
ٹریفک روک دیتے ہیں
کوئی رکشہ کوئی گاڑی کسی کا گھر جلاتےہیں
غریبوں بےکسوں کو مار دیتے ہیں
جلا دو جو ملے تم کو
جو دل آئے وہ کر گزرو
تمہیں اب کون روکے گا

جو روکے گا
اسے گستاخ کہہ کر مار ڈالیں گے
کوئی حق کا سپاہی گر اٹھا تو ہم
اسے پھر بیچ چوراہے
سبھی کے سامنے ہی کاٹ ڈالیں گے
جو سچ کی بات کرتے ہیں
وہ جاہل ہیں وہ پاگل ہیں
یہودی کہہ کے ان کی پھر زبانیں کھینچ ڈالیں گے
جو کہتے ہیں نبی کا راستہ ہر گز نہیں ایسا
انہیں ہم بھون ڈالیں گے
انہیں عبرت بنا دیں گے

یہاں اندھے پجاری ہیں
بہت بہتات ہے ان کی
محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے فقط یہ نام لیوا ہیں
انہیں معلوم ہی کب ہے
محبت کس کو کہتے ہیں
یہ ناموسِ رسالت سے تو ہرگز ہی نہیں واقف
محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کا ہے کیا مطلب
یہ پاگل ہیں انہیں کچھ اور پاگل اب بناتے ہیں
کہ خود کو خود جلا ڈالیں

جو دل میں آئے کر ڈالو
تمہیں اب کون روکے گا
تمہیں اب کون روکے گا!

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *