ناول: سیتا زینب مصنف: زیب سندھی سندھی سے اُردو ترجمہ: شاہد حنائی ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی “سیتا زینب”، محترم زیب سندھی صاحب کے قلم سے سندھی زبان میں لکھی گئی ایک منفرد اور پُر تجسس تخلیق ہے۔ یہ← مزید پڑھیے
ڈھلتی شام، پھیلتی تاریکی ،شہر کا شور و غل ،طبیعت میں ایک اُداسی کی کیفیت ،دل بوجھل ،مزاجِ آوارہ بجھا بجھا سا تھا۔ رہ رہ کر ناصر کاظمی کا یہ شعر یاد آرہا تھا۔ بھری دنیا میں جی نہیں لگتا← مزید پڑھیے
ظاہر ہے اس نے جو دیکھا اور سنا، جس سے وہ گزرا یا جس سے اسے گزارا گیا، جس معاشرے کے بیچ اس نے آنکھ کھولی اور جس معاشرے نے اس کی آنکھیں کھولیں، حفیظ تبسم اِسے ہی اوراق پر← مزید پڑھیے
ادب میں تشدد کی دو قسمیں ہیں ایک مخصوص تشدد جو ایک کردار کسی دوسری شے کے ذریعے یا خود اپنے آپ کو دیتا ہے(یہ کرب وجودی ہے اس میں اختیار کا لازمہ موجود ہوتا ہے ) دوسری قسم عام← مزید پڑھیے
آغا گل بلوچستان کے مشہور افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر، ادیب اور محقق ہیں۔ انھوں نے اردو ادب میں اپنا ایک الگ مقام قائم کیا ہے۔ اور ان کی ہر تخلیق اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ ان کے مشہور← مزید پڑھیے
ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ شاعر وجودی فلسفہ کو موضوع بنا رہا ہو لیکن شعر میں کسی طرح کی پیچیدگی یا کھردرا پن نہ در آئے۔بعض جدید شعرا نے وجودی فلسفہ کو باضابطہ پڑھ کر اسے شعری← مزید پڑھیے
ارشد رضوی چونکانے والے نثّار ہیں۔ وہ دیکھے بھالے راستے سے کنّی کترا کر نئی پگڈنڈیاں ڈھونڈنے کے عادی ہیں۔ یعنی اگر کسی سیدھے راستے پر کچھ اور نہ ہوسکے تو الٹے پیر چلنا شروع کردیں گے جو انھیں دوسروں← مزید پڑھیے
ببر سنگھ نے قمیض سلوانے کے لیے بازار سے کپڑا خریدا اور درزی کے پاس لے گیا۔درزی نے کپڑا ناپا اور کہنے لگا کہ”سردار جی تہاڈا چھگا نئیں بن سکدا، کپڑا گھٹ اے “۔ ببر سنگھ بہت مایوس ہوا مگر← مزید پڑھیے
میری اس تحریر کا محرک محترم داؤد ظفر ندیم کی ایک پوسٹ بنی۔ ان کے بقول ساٹھ سال کے آس پاس عمر انتہائی خطرناک ہے۔ کیوں؟ ان کی عمر اٹھاون برس ہے۔ ان کے والد محترم 56برس کی عمر میں← مزید پڑھیے
جان مدینہ کی کتاب جینیٹک انفرنو انسانی رویے کی حیاتیاتی بنیاد کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے. انہوں نے یہ کتاب لکھتے وقت دانتے کی دی ڈیوائن کامیڈی کو بطور آرگنائزنگ فریم ورک استعمال کیا ہے ۔دی ڈیوائن کامیڈی← مزید پڑھیے
کسی کہانی کے اختتام پر ، اگر قاری کی ایک آنکھ سے نمکین پانی کا سست رو دھارا ایک سیدھی لکیر بناتا ہوا گردن تک آپہنچے اور دوسری آنکھ میں ایک آبدار موتی پلکوں کی باڑ میں کہیں اٹک جائے ← مزید پڑھیے
ہندو فسطائیت کے ماحول میں پلے بڑھے ایک مسلمان صحافی کی خود نوشت داستان نام کتاب: City on Fire: A Boyhood in Aligarh مصنف: زیاد منصور علی خان ناشر: Harper Collins. India صفحات: 297 تاریخ اشاعت: دسمبر 2023 قیمت: برطانیہ← مزید پڑھیے
اُردو سفرنامہ نگاری چُھوت چھات کی وہ بیماری ہے ،جو قرنطینہ کُجا خلا میں بھی اُڑ کر کسی شریف آدمی کو لگ سکتی ہے۔ اور ایسی کہ چنگا بھلا بندہ بیٹھے بٹھائے پروفیسرہو ہو جائے۔ پھراُسے جو دن دیہاڑے نہیں← مزید پڑھیے
پہلے تین نظمیں ملاحظہ فرمائیں:نظم‘‘ایک خواب کے تعاقب میں’’ رات آندھی چلی رات بلیوں کے رونے کی آوازیں آتی رہیں رات ایک شخص مر گیا صبح اس کی لاش شہر کے مصروف چوک میں دیر تک گرین بیلٹ پر پڑی← مزید پڑھیے
دنیا کا کوئی سفرنامہ اتنے ذوق وشوق اور اتنی عقیدت ومحبت اور اتنے وجد وحال کے ساتھ نہیں لکھا گیا ہے جتنے حج کے سفرنامے لکھے گئے ہیں۔ دنیا میں سیر وسیاحت کے بہت سے مقامات ہیں، گل وگلزار سے← مزید پڑھیے
بچپن میں افریقہ سے شناسائی صرف ایتھوپیا کے افلاس اور فاقہ زدہ خطے سے زیادہ کی نہ تھی ـ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاست کی باریکیاں کچھ سمجھ آنے لگیں تب نیلسن منڈیلا والے افریقہ← مزید پڑھیے
الحمد للّہ،اس کتاب میں شامل دوسرے حصے “فکرِ غامدی کا جائزہ” کا مطالعہ مکمل ہوا ، جس میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے غامدی صاحب اور عمار خان ناصر صاحب کے امتیازی مسائل کا خوب عمدہ انداز میں← مزید پڑھیے
کیا بارتھ نے مصنف کی موت کا نظریہ سارتر کے نظریئہ کمٹمنٹ کے رد کے طور پر پیش کیا تھا؟ بظاہر تو نہیں۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو بارتھ ضرور سارتر کا حوالہ دیتا یا کمٹمنٹ کی وجودی منطق کا ہی← مزید پڑھیے
نعیم، “اداس نسلیں” کا وہ کردار ہے جس کی آنکھوں سے بیسویں صدی کے پہلے پچاس سالوں کی کہانی، سینکڑوں ، ہزاروں لوگوں تک پہنچی۔ روشن آغا کے محل کی کشادہ راہداریوں سے ہولی بیک کے محاذ کی تنگ خندقوں← مزید پڑھیے
موت کی روایتی تعریف کچھ یوں ہے۔ حرکت قلب بند ہونے سے دماغ اور جسم کے دیگر اعضا کو خون یا آکسیجن کی سپلائی رُک جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ موت کے بعد انسان کے جسم میں زندگی← مزید پڑھیے