ایک کتاب ، ایک تبصرہ/زید محسن حفید سلطان

الحمد للّہ،اس کتاب میں شامل دوسرے حصے “فکرِ غامدی کا جائزہ” کا مطالعہ مکمل ہوا ، جس میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے غامدی صاحب اور عمار خان ناصر صاحب کے امتیازی مسائل کا خوب عمدہ انداز میں تعاقب کیا اور الفاظ کی مینہ کاری میں چھپے رکیک نظریات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

سچ پوچھیے تو ہم صاحبین (غامدی و عمار صاحب) کے اندازِ تحریر کو ہزارہا سلامِ عقیدت پیش کرتے اگر وہ قرآن و سنت کی حقیقی تعبیر میں ہی جوہرِ قلم جبینِ قرطاس پر دکھاتے ، لیکن صد افسوس کہ انہوں نے بہت سے مسائل میں “وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ” کی راہ کو اپنایا اور پھر الفاظ کے پیچ و خم میں اپنے نظریات کو ایک حد تک پیچیدہ انداز میں پیش کیا ، جن کو ایک ماہر طبیب کی مانند از راہِ علاج اور از جذبۂ ہمدردی حافظ صاحب نے نہ صرف کھول کھول کر بیان فرمایا اور اس کا آسان حل قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں پیش کیا بلکہ ساتھ ہی پروانوں کی مانند اس آگ کے گرد جمع ہو جانے والے عامۃ الناس کے سامنے بھی “ھٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِیْمًا” کے آئنے میں راہِ نجات سامنے رکھ کر “فَاتَّبِعُوہ” کی صلائے عام دے دی ہے کہ اصحابِ نکتہ دان کیلئے یہ راستہ واضح بھی ہے اور آسان بھی!
اور اس راستے کے بالمقابل جس شاہراہِ نازک اور سفرِ بے مقصود پر غامدی صاحب نکل پڑے یا لوگوں کو لے چلے ہیں وہ یقیناً نظامِ افرنگی کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے لیکن وہ اسلام کی حقیقی تعبیر سے اتنا ہی بعید ہے کہ کہیں تو بُعد المشرقین کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔
اور تعبیرِ سلف اور اجماعِ امت کو چھوڑ کر متجددانہ راہ اختیار کرنے سے ایسے باطل افکار و نظریات کا مجموعہ سامنے آیا ہے جن کی بنیاد اسلام کو کلمہِ افرنگ پڑھانے یا پھر مغرب کی تہذیبِ عریاں کو جامہِ اسلام پہنانے کی کوششِ نا تمام پر رکھی گئی ہے ، جس کو بالفاظِ دیگر
“Islamization of Modrenism”
یا
“Modernization of Islam”
سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے ، جو ایسی راہ ہے جس پر گامزن افراد ہمیشہ سعیِ لا حاصل کر کے نا مراد و ناکارہ ہی لوٹتے نظر آئے ہیں یا پھر ایسی گھٹا ٹوپ اور اندھیر گھاٹیوں میں پہنچ گئے ہیں جہاں کے مسافروں کو راہیِ ملکِ عدم کا مسافر سمجھ کر دنیا بھول گئی ہے ، اور ہمیں بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ غامدی صاحب بھی اسی راہِ گداز پر بڑی بے راہ روی سے دوڑے چلے جا رہے ہیں اور اپنے حصے کا تارِ عنکبوت بُنے جا رہے ہیں اور اس سے بے خبر ہیں کہ یہ راہِ گداز نرم و ملائم نہیں بلکہ نازک و ناپائیدار ہے اور ان کا بُنا گیا تار بھی فقط ہوا کے چند جھوکوں سے تار تار ہو جانے والا ہے۔
لیکن جہاں تک عمار صاحب کا معاملہ ہے تو ویسے تو وہ ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں وہ ایک ایسی فکر سے متأثر ہوئے جس کی بنیاد ہی اساسِ دین ، یعنی سنتِ نبیِ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی سعی میں رکھی گئی ، اور آج عمار صاحب مکمل طور پر اس فکر کی ترویج و اشاعت میں شامل نہیں تو کم از کم بھی وکیلِ صفائی کی حیثیت سے اس گروہ کے ساتھ کھڑے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں ، جو یقیناً علماء کیلئے باعثِ اذیت و پریشانی ہے کہ وہ ایک ایسے نظریہ کے تحفظ میں غلطاں و پیچاں نظر آتے ہیں جو ان جیسی شخصیت کیلئے نہ ہی علمی طور پر اور نہ ہی موروثی طور پر مناسب معلوم ہوتا ہے ، اسی لئے اس کتاب میں بھی عمار صاحب کو بطورِ وکیلِ صفائی ہی پیش کیا گیا ہے ، اسی لئے ان کے مناسب مؤقف کی تائید بھی کی ہے اور قابلِ مؤاخذہ مسائل میں بطریقِ احسن مؤاخذہ بھی کیا گیا ہے۔

جس طرح حافظ صاحب کی دیگر کتب میں بھی ہرزا سرائی کے جواب میں گل افشانی کا پہلو واضح نظر آتا ہے ایسا ہی اس کتاب میں بھی ہے کہ جس میں مداہنت سے دور مفاہمت کی راہ اختیار کی گئی ہے جس کو قاریٔ کتاب بآسانی بھانپ لیتا ہے۔
جزاہ اللہ عنا وعن المسلمین خیر الجزاء

آخر میں کتاب کے اس حصے کی اشاعتِ اول پر دارِ ابی الطیب اور اس کے روحِ رواں حافظ شاہد رفیق کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے ، ساتھ ہی اشاعتِ دوم پر المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر کا بھی شکریہ ادا کرنا لازمی امر ہے ، اس کے ساتھ ساتھ استادِ محترم عبد المجید بلتستانی صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا لازمی ہے جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور کتاب کا “عرضِ ناشر” بھی عمدہ اسلوب اور خوبصورت انداز سے تحریر کیا

(کتاب کا پہلا حصہ مولانا فراہی سے متعلق ہے جو مولانا اصلاحی کے حوالے سے مؤلف کتاب سے جڑا ہوا ہے ، اس لئے پہلے وہ کتاب پڑھ کر پھر ہی اس کتاب کی طرف دوبارہ آیا جائے گا۔)

ناشران:
دار ابي الطيب
المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر

تشکرِ بسیار:
حافظ شاہد رفیق
عبدالمجيدمحمدحسين بلتستانى

Advertisements
julia rana solicitors london

مذکورہ شخصیات:
جاوید احمد غامدی
عمار خان ناصر

Facebook Comments

زید محسن حفید سلطان
ایک ادنی سا لکھاریسیک ادنی سا لکھاری جو ہمیشہ اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply